Wednesday, October 12, 2016

Oct2016: The journey within!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سری لنکا: سفر در سفر!


قومیں چھلانگیں لگا کر نہیں بلکہ قدم قدم سفر کرتے ہوئے ترقی کی راہ میں حائل لالچ و حرص پر مبنی بدعنوان و امن دشمن رکاوٹوں کو عبور کرتی چلی جاتی ہیں۔ سری لنکا ایسی ہی ایک عمدہ مثال ہے جس کے ہاں ’بدھ مت‘ کی تعلیمات پر عمل کرنے والوں میں ’احترام انسانیت‘ اور ’انسانی جان کی حرمت‘ پر مبنی بنیادی تصورات کا خاکہ ’مضبوط عمل‘ سے جڑا دکھائی دیتا ہے۔ یاد رہے کہ بدھ مت ایک مذہب اور فلسفہ ہے جس میں مختلف روایات‘ عقائد اور طرزعمل کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ اِن تعلیمات میں زیادہ تر ’’سدھارتا گوتم‘‘ سے منسوب ہیں‘ جنہوں نے مشکلات سے نجات حاصل کرنا‘ نروانہ کو حاصل کرنا اور جسم کو تکلیف و عملی زندگی کی مشکلات سے الگ رکھنے کے بارے سکھایا۔ بدھ مت کی اکثریت رکھنے والے ’سری لنکا‘ کا امن و امان کے چیلنجز سے نمٹنے میں ’بدھ مت کی تعلیمات‘ کا مرکزی کردار تھا اُور آج بھی ہے۔ ہر سال دس اکتوبر کے روز ’سری لنکا فوج‘ کا دن منایا جاتا ہے‘ رواں برس 67ویں سالگرہ کے موقع پر حسب سابق سادگی اختیار کی گئی۔ بتایا گیا کہ ’سری لنکا‘ کی دفاعی صلاحیت کے بارے ’نمودونمائش‘ کرنے کی بجائے ماضی کی طرح اِس مرتبہ بھی مختلف مذاہب کے ماننے والوں کی مختلف عبادت گاہوں میں دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔ 

سری لنکا کی مذہبی رواداری اور آزادی ایسے روشن ابواب ہیں‘ جن پر نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے اُن ممالک کی بھی نظریں جمی ہوئیں ہیں‘ جنہیں پاکستان کی طرح دہشت گردی سے نمٹنے میں خاطرخواہ کامیابی نہیں مل پا رہی۔ سری لنکا کی ’فوجی قوت‘ کا انتظامی ڈھانچہ سیاسی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا‘ لیکن قومی معاملات میں اِس کی سیاسی مداخلت بلاجواز نہیں تھی‘ کیونکہ بناء قیام امن کسی بھی حکمت عملی کی کامیابی کی گنجائش نہیں رہتی۔ سری لنکا فوج نے اپنے حجم اُور صلاحیت سے زیادہ بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اگر ہم سال دوہزار دس کے اَعدادوشمار پر بھروسہ کریں تو سری لنکا فوج کی افرادی قوت ’دو لاکھ حاضر سروس (کل وقتی)‘ اُور 20 سے 40 ہزار جز وقتی تربیت یافتہ ملازمین کے علاؤہ اٹھارہ ہزار ’نیشنل گارڈز‘ ہیں جنہوں نے مل کر 1983ء سے 2009ء تک ’خانہ جنگی‘ کا مقابلہ کیا۔ 25 سال‘ 9 ماہ‘ 3 ہفتے اور 4 دن کی خانہ جنگی کے بعد سری لنکا کی فوج نے ’تامل ٹائیگرز (لبریشن آف تامل ای لیم)‘ نامی مسلح دھڑے کو شکست دی جو اِس ’جزیرے‘ کے شمال اُور مغربی علاقوں میں مراکز بنائے ہوئے تھا اور غیرملکی مالی و تکنیکی اور حربی تعاون کے بل بوتے پر ملک گیر دہشت گرد کاروائیوں کے لئے ذمہ دار تھا۔ کم سے کم پچیس سال تک کی مسلسل لڑائی کے بعد اصلاحاتی دور (فیز) میں سری لنکا کے عوام‘ ماحول اور اِقتصادیات نے ’بڑی مشکلات‘ جھیلیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سری لنکا کا ماضی جو بھی رہا ہو سردست سنہالیز (Sinhalese) اُور تامل (Tamil) کہلانے والے 2 سری لنکن اقوام نے عزم کر رکھا ہے کہ وہ ’’مل کر‘‘تعمیرنو اُور ’ایک نئے زیادہ خوشحال و ترقی یافتہ سری لنکا‘ کی تشکیل کریں گی۔


ایبٹ آباد اور مانسہرہ کے تین ’نجی تعلیمی اداروں (ماڈرن ایج پبلک سکول اینڈ کالج‘ ماڈرن سکول سسٹم اُور مانسہرہ پبلک سکول)‘ سے تعلق رکھنے 8 طلباء و طالبات (ورشہ علی‘ خدیجہ ماہ رخ اعوان‘ طیبہ خان‘ حیدر سلطان‘ حبیب اللہ‘ قاضی میر عالم ضیاء‘ وجاہت شفقت اُور نعیم حماد) سمیت 4 اساتذہ پر مبنی وفد نے ’چار سے گیارہ اکتوبر‘ سری لنکا حکومت کی میزبانی و رہنمائی میں تین صوبوں کا دورہ کیا اور اپنی اپنی یاداشتوں میں یہ بات بھی محفوظ کی کہ سری لنکا میں تین بنیادی کام ’قومی عادت‘ کا درجہ رکھتے ہیں۔ 1: ایک تو کسی شخص کی سیاسی وابستگی کے بارے سوال نہیں کیا جاتا۔ 2: کسی بھی شخص کے مذہبی عقائد کے بارے نہ تو تشویش کا اظہار کیا جاتا ہے اور نہ ہی اُس سے مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ 

قومی سطح پر عوام و خواص میں یہ عادت (خوبی) کسی بھی طرح معمولی نہیں کہ ایک دوسرے کی رنگ نسل پیشے مالی یا مذہبی حیثیت کے تعلق سے نہیں بلکہ انسان ہونے کے تعلق سے احترام کرتے ہیں۔ 3: جسمانی کمزوری یا عیب کی وجہ سے کسی کا بھی مذاق نہ اُڑایا جائے۔ درحقیقت انسان کی توہین اُس کے خالق و مالک پر اُنگلی اُٹھانا ہوتا ہے۔ 

اُمید ہے کہ سری لنکا کا دورہ کرنے والے ’طلباء و طالبات‘ اِن اصولوں کا اطلاق اپنی عملی زندگیوں میں کریں گے۔ پاکستان حکومت کے ذمہ داروں سے درخواست ہے کہ وہ غیرملکی دورہ کرنے کی مالی طور پر سکت نہ رکھنے والے اور بالخصوص سرکاری تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم بچوں اور اساتذہ کو بھی ’یوتھ ایکسچینج پروگرامز‘ کا حصہ بنائیں۔ ’سری لنکا‘ سے بہت کچھ ایسا بھی بذریعہ براہ راست مشاہدہ بھی سیکھا جا سکتا ہے‘ جس سے ہمارے طلباء و طالبات شعور کی سیڑھی پر ایک منزل بلند ہوں۔ گیارہ اکتوبر کی شب ’بندرانائیکے انٹرنیشنل ائرپورٹ‘ کولمبو سے لاہور (پاکستان) کے لئے پرواز سے چند گھنٹے قبل ہمیشہ مسکرانے والے ’سری لنکا‘ کے لئے نیک تمناؤں کے ساتھ دُعا (ayubowan) ہے کہ پاکستان کا یہ دوست ملک ہمیشہ مسکراتا رہے‘ پھلتا پھولتا اُور ترقی کے سفر در سفر میں آگے بڑھتے رہے۔




Friday, October 7, 2016

Oct2016: Graveyard for Christians

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قبرستان: ایک ضرورت!

مسیحی براداری سے تعلق رکھنے والے ایک قاری نے خیبرپختونخوا حکومت کی توجہ ’مسیحی قبرستان‘ کی جانب سے مبذول کراتے ہوئے ایک سطر میں یہ قابل غور بات بھی لکھی کہ ’’اگرچہ اَقلیتوں میں مسیحی براداری کی اَکثریت غریب طبقات سے تعلق رکھتی ہے اور تعلیم کی وجہ سے سرکاری و نجی ملازمتوں میں مسیحی براداری کا تناسب بھی بڑھا ہے لیکن صوبائی حکومت اگر چاہے تو کم مالی وسائل رکھنے والے اقلیتی افراد کا معاشی و مالی سہارا (سپورٹ) بن کر ملک کے دیگر حصوں کے لئے روشن مثال قائم کر سکتی ہے۔‘‘ مختصر برقی مکتوب (اِی میل) کے لب و لہجے میں کہیں تلخی‘ کہیں شرینی اور کہیں محتاط رہنے کے باوجود گلے شکوے درج ہیں۔ مسیحی قبرستان الگ کیوں ہونے چاہیءں جبکہ مسیحی بھی اپنے مردوں کی مسلمانوں کی طرح تدفین کرتے ہیں اور بیرون ملک رہنے والوں کی قبریں کیا مسلم قبرستان میں ہوتی ہیں؟ 

قبرستانوں کا مذہبی تشخص کیا معنی رکھتا ہے اور کیا یہ برقرار رہنا چاہئے؟ قبرستانوں کے لئے اراضی اگر سرکاری وسائل سے خریدی جاتی ہے تو پھر اِس پر سب کا مساوی حق کیوں نہیں ہے؟ مسلم اور اقلیتی قبرستانوں کو اکھٹا بھی تو کیا جا سکتا ہے جیسا کہ کسی قبرستان کا ایک حصہ چاردیواری یا واضح علامات کے ذریعے مسیحی برادری کے لئے مخصوص ہونے میں کیا امر مانع ہے۔ جہاں تک مسیحی یا اقلیتی برادری کی مالی سرپرستی (ماہانہ وظیفہ) مقرر کرنے کی بات ہے تو اِس میں ایک سے زیادہ ’سپورٹ پروگرام‘ موجود ہیں جو وفاقی و صوبائی حکومتوں کے تعاون سے چلائے جاتے ہیں اور اِن میں اقلیتوں سے کوئی تعصب یا امتیاز نہیں برتا جاتا لیکن باوجود اِس کے اگر ضرورت محسوس کی جا رہی ہے اور ریاست کے پاس مالی وسائل کی بھی کمی نہیں تو وہ عوام کی بہبود اور بالخصوص ایک ایسی براداری کے اراکین کو بنیادی سہولیات و ضروریات کی فراہمی کے بعد ’’احسان‘‘ بھی تو کیا جا سکتا ہے جو مبینہ طور پر ’باوجود کوشش‘ بھی ایک مسلم اکثریتی معاشرے میں یکساں بنیادوں پر رہن سہن یا ملازمتی مواقع نہیں رکھتے۔



خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی طرح پشاور کے گردونواح میں قبرستان کے لئے اراضی خرید کر مختص کرنا قطعی مشکل نہیں۔ اِس مقصد کے لئے حکومت کی ملکیتی اراضی کا کوئی خاص‘ الگ حصہ بھی مختص کیا جاسکتا ہے اور اگر یہ کام منصوبہ بندی کے ذریعے کیا جائے تو مسیحی برادری کے لئے رہائشی بستی بھی بنائی جاسکتی ہے جہاں اُن کے مکانات اُور قرب و جوار میں متصل قبرستان‘ گرجا گھر اور دیگر ضروریات موجود ہوں۔ ایسی کسی بستی کی حفاظت بھی زیادہ آسان ہوگی اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے پوری آزادی کے ساتھ وہاں اپنی عبادات و مذہبی رسومات ادا کرسکیں گے۔ جہاں تک پشاور کے موجودہ قبرستانوں کا احوال ہے تو تجاوزات کی وجہ سے قبرستان خود مسلمانوں کے لئے سکڑ گئے ہیں تو مسیحی براداری کو یہ گلہ نہیں کرنا چاہئے کہ اُن کے لئے قبرستان کی اَراضی کم پڑ گئی ہے بلکہ صورتحال تو یہ ہے کہ جہاں کبھی قبریں ہوا کرتی تھیں اب وہاں قطار در قطار مکانات بن گئے ہیں‘ فرق صرف اتنا ہے کہ قبروں کی جگہ بننے والے مکانات میں رہنے والوں کو ’زندہ‘ شمار کیا جاتا ہے! 

قبرستانوں کی اراضی انتخابی سیاست کرنے والوں نے اپنے حامیوں میں تقسیم کی‘ منافع بھی کمایا اور اب ہر عام انتخاب میں ووٹ بھی اُنہی کے نام ہوتے ہیں! پشاور کے آباواجداد کی آخری آرامگاہوں کا نام و نشان مٹانے والے منتخب ہوکر اپنی کامیابی کا جشن مناتے ہوئے شاید سوچ بھی نہ رہے ہوں کہ اُنہوں نے کس قدر خسارے کا سودا کیا ہے۔ قبرستانوں میں گلیاں‘ نالیاں‘ ٹیوب ویل اور سرکاری سکول بنانے والوں کے ناموں کی تختیاں ’ملزمان کی نشاندہی‘ کرتی ہیں‘ اے کاش کہ پشاور کے رہنے والوں کو اِس کا احساس ہو جائے!



پشاور کی مسیحی براداری کی جانب سے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ ’’جب کبھی بھی کوئی نئی قبر کھودی جاتی ہے تو اُس مقام پر پہلے سے دفن رہے انسانی مردے کی ہڈیاں برآمد ہوتی ہیں۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ پشاور میں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والوں کی آبادی ’30 ہزار‘ کے لگ بھگ ہے جن کے لئے 2قبرستان مخصوص ہیں۔ ایک گورا قبرستان چھاؤنی کی حدود میں شہر کے رہنے والوں کے لئے فاصلے پر ہے اور دوسرا قبرستان ’وزیرباغ‘ سے ملحقہ ہے جہاں قبروں کے لئے مزید گنجائش باقی نہیں رہی۔ 9 کنال پر پھیلے ’گورا قبرستان‘ اور 14 کنال رقبے پر ’وزیرباغ‘ کے مسیحی قبرستان کا عالم یہ ہے کہ ہر ایک قبر کم سے کم چار یا پانچ مرتبہ تدفین کے لئے استعمال ہو چکی ہے۔ 

مسیحی برادری کی اکثریت کا تعلق کم آمدنی والے طبقات سے ہے جو صاحب ثروت مسلمانوں کی طرح‘ اپنی مدد آپ کے تحت قبرستان کے لئے اراضی خریدنے کی مالی سکت نہیں رکھتے اور انہوں نے یہ بات پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے گوش گزار بھی کی‘ جنہوں نے ’کمال مہارت‘ سے معاملہ ضلعی حکومت کو سونپتے ہوئے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن چونکہ ضلعی حکومت کے پاس اِس قدر مالی وسائل نہیں کہ وہ کسی ایک اقلیت یا برادری کے لئے کروڑوں روپے کا ترقیاتی منصوبہ مکمل کر سکے‘ اِس لئے مرکز نگاہ صوبائی حکومت ہی ہے جس کی توجہ مبذول اگر نہیں ہوگی‘ تو اِس ضرورت کا پائیدار فوری اور ممکنہ حل ممکن نہیں۔ اُمید کی جاتی ہے کہ سال دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کی تیاریوں میں غوروخوض کرتے ہوئے صوبائی حکومت مسیحی اقلیتی براداری کے جائز مطالبے پر کان دھرے گی اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں کے لئے قبرستانوں کی مختص اراضی پر قبضہ کرنے والے اُس ’’سیاسی مافیا‘‘ سے بھی نمٹا جائے گا‘ جو سرکاری زمین کا استعمال کرتے ہوئے اندرون و مضافاتی پشاور کے انتخابی حلقوں میں اپنا اثرورسوخ (مقبولیت کے حلقے) بنائے ہوئے ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔