Wednesday, March 28, 2018

Mar 2018: The PTI vs PTI in District Abbottabad

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تحریک اِنصاف بمقابلہ تحریک اِنصاف
خیبرپختونخوا کی تاریخ میں سب سے زیادہ اُور دنیا کی بہترین قانون سازی کس کے دور حکومت میں ہوئی؟ سرکاری سرپرستی میں اِدارہ جاتی اِصلاحات‘ بے مثل و بے مثال ترقیاتی ترجیحات اُور صحت و تعلیم جیسے شعبوں کی بہتری کے لئے سب سے زیادہ سالانہ مالی وسائل کس سیاسی جماعت نے مختص کئے؟ لیکن قومی و صوبائی سطح پر مختلف محاذوں پر ڈٹ کر مالی و انتظامی ’بدعنوانیوں‘ کا مقابلہ کرنے والی ’پاکستان تحریک انصاف‘ کی قیادت سے ’تنظیمی ڈھانچے‘ کی مضبوطی جیسا اہم پہلو مسلسل نظرانداز رہا ہے جس کی وجہ سے خیبرپختونخوا کے کسی بھی ضلع میں تحریک کی صفوں میں ’مثالی نظم وضبط‘ دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وجہ رہی ہے کہ تحریک انصاف کے ’اچھے (تعمیری) کاموں کا گلی گلی چرچا نہیں ہو سکا جبکہ سیاسی مخالفین تحریک انصاف کی صفوں میں پائے جانے والے اِختلافات کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ اِس سلسلے میں سب سے ’عمدہ مثال‘ ضلع ایبٹ آباد کی دی جاسکتی ہے جہاں ’جولائی دوہزارپندرہ‘ میں ہوئے بلدیاتی اِنتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے کے باوجود بھی تحریک انصاف اب تک ’ضلعی حکومت‘ بنانے میں ناکام رہی ہے اُور بنی گالہ سے نامزد ضلعی ناظم (علی خان جدون) کے خلاف تحریک کے اپنے ہی کارکنوں کی بغاوت کے سبب معاملہ الیکشن کمیشن سے ہوتے ہوئے عدالت اُور عدالت سے ہوتے ہوئے دوبارہ الیکشن کمیشن جا پہنچا‘ جہاں ’پارٹی ڈسپلن‘ کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ’ڈی سیٹ‘ کردیا گیا اُور اِس سارے قضیے میں قیمتی دو برس ضائع ہوگئے۔ 

منحرف اَراکین کی ضلعی اسمبلی رکنیت ختم ہونے کے بعد تین نشستوں پر رواں ماہ (مارچ دوہزاراٹھارہ) ضمنی انتخاب ہوا تو (ایبٹ آباد کے شہری علاقوں پر مشتمل دو نشستوں پر) تحریک انصاف کے نامزد اُمیدواروں نے کامیابی حاصل کرکے ثابت کردیا کہ ’باوجود اِختلافات اور داخلی سازشوں کے‘ اب بھی‘ ہزارہ ڈویژن کے صدر مقام اور طول و عرض میں تحریک انصاف ہی کا سکہ چلتا ہے۔‘ لیکن منظرنامہ تبدیل نہ ہوا۔ آج بھی ضلع ایبٹ آباد میں ’تحریک اِنصاف بمقابلہ تحریک اِنصاف‘ دکھائی دیتی ہے!

چھبیس مارچ کے روز عمران خان نے ’رکن سازی مہم‘ کے سلسلے میں ایبٹ آباد کا ایک روزہ مختصر دورہ کیا اُور اِس موقع پر دو الگ الگ مقامات پر‘ کارکنوں کے دو الگ دھڑوں کی جانب سے لگائے گئے ’رکن سازی کیمپوں‘ میں خطاب کرتے ہوئے ’نظم و ضبط‘ کی اہمیت پر زور دیا۔ ’’موقع‘ محل اُور وقت‘ باتوں اور تلقین کا نہیں رہا بلکہ فیصلہ کن کردار ادا کرنے کا ہے۔ عمران خان کے پاس ’اصلاح احوال‘ کے دو راستے (آپشنز) اب بھی موجودہ ہیں۔ پہلا آپشن یہ کہ وہ اپنے ’ایبٹ آباد‘ دورے کو اِس بات سے مشروط کر دیتے کہ جب تک پارٹی کے مقامی رہنما اور کارکن بناء ’پارٹی کی مرکزی یا صوبائی مداخلت‘ اپنے اختلافات (رنجشیں) آپس میں مل بیٹھ کر ختم نہیں کر لیتے اُس وقت تک وہ ایبٹ آباد کا دورہ نہیں کریں گے‘ تب تک رکن سازی مہم ملتوی کی جاسکتی تھی لیکن عمران خان نے دو الگ الگ مقامات پر الگ الگ کیمپوں میں شرکت اور ایک ہی شہر میں چند گز کے فاصلے پر اپنی ہی جماعت کے کارکنوں کے الگ الگ اجتماعات سے خطاب کرکے درحقیقت یہ تاثر دیا ہے کہ اُنہیں (بشمول تحریک کی مرکزی قیادت) کو ایبٹ آباد میں ’دھڑے بندیوں‘ سے کوئی فرق نہیں پڑتا حالانکہ ’فرق پڑتا ہے۔‘ 

آئندہ عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں (نامزدگیوں) کو بھی تنظیمی نظم و ضبط سے مشروط کیا جا سکتا ہے۔ عمران خان کے پاس دوسرا آپشن ہے کہ اگر مقامی رہنما اور کارکن اختلافات ختم کرنے میں ’باوجود کوشش‘ بھی (کسی ڈیڈ لائن تک) کامیاب نہیں ہوتے تو پھر بلحاظ پارٹی سربراہ ’ایگزیکٹو آرڈر‘ سے وہ دونوں دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر آنے کا حکم دیں۔ جس دھڑے کے رہنما اور کارکن حکم عدولی کریں‘ اُن کی ’بنیادی پارٹی رکنیت‘ معطل کر دی جائے تاوقتیکہ وہ (توبہ تائب ہو کر) پارٹی کے نظم و ضبط پر سرتسلیم خم نہیں کر لیتے یوں مسئلہ چٹکی بجاتے حل ہو سکتا ہے لیکن عمران خان نے اِن دونوں اور دیگر ممکنہ طریقوں (آپشنز) کو درخوراعتناء (لائق توجہ یا قابل عمل) نہیں سمجھا! جس سے اُن بے لوث کارکنوں کی بڑی تعداد میں مایوسی پائی جاتی ہے‘ جو تحریک انصاف کو تبدیلی کا علمبردار سمجھتے ہیں اور تحریک انصاف ’نئے پاکستان کی تشکیل‘ کے لئے اُن کی اُمیدوں کا مرکز ہے۔ ضلع ایبٹ آباد کے شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں طور پر دھڑے بندیوں میں تقسیم ’تحریک انصاف‘ کو اگر کوئی بچا سکتا ہے تو وہ خود تحریک انصاف ہی ہے جو موجودہ ’کمزور ترین تنظیمی ڈھانچے‘ کے ساتھ اگر عام انتخابات میں حصہ لیتی ہے تو اِس کا ووٹ بینک تقسیم ہو جائے گا اور اِس حقیقت کا دانستہ انکار کرنا خود فریبی کی انتہاء ہوگی۔

ٹوئیٹر (twitter) (سوشل میڈیا اکاؤنٹ @peshavar) کے ذریعے ’پانچ سوالات‘ پوچھے گئے تاکہ اِس نتیجے پر پہنچا جائے کہ ایبٹ آباد اور اندرون و بیرون ملک مقیم ’تحریک انصاف‘ کے کارکن‘ تجزیہ کار اور فیصلہ ساز اِس صورتحال (منظرنامے) کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں! 

پہلا سوال: مضبوط تنظیمی ڈھانچہ ہی کسی سیاسی جماعت کی انتخابی و سیاسی کامیابی کی ضمانت اُور اثاثہ ہوتا ہے؟ 92 فیصد نے کہا ’ہاں‘ جبکہ 8 فیصد نے ’نہیں‘ میں جواب دیا۔ 

دوسرا سوال: پاکستان تحریک انصاف ضلع ایبٹ آباد کے داخلی اختلافات اور تنظیمی کمزوریوں کا بنیادی محرک کیا ہے؟ 25فیصد نے نسل پرستی‘ 25 فیصد نے سرمایہ دارانہ آمرانہ سوچ‘ 38فیصد نے بنی گالہ کی عدم دلچپسی اور 12 فیصد نے کہا کہ اُنہیں ایبٹ آباد کے تنظیمی ڈھانچے میں اختلافات اور اِس کی شدت کے بارے میں حقائق معلوم نہیں۔ 

تیسرا سوال کارکنوں کے باہمی اختلافات سے سیاسی فائدہ اُٹھانے والی سیاسی جماعت سے متعلق تھا تو 75 فیصد کارکنوں نے کہا کہ ’مسلم لیگ نواز‘ اُور ’17 فیصد‘ نے کہا کہ پیپلزپارٹی تحریک انصاف کی تنظیمی کمزوریوں (خلاء) کا فائدہ اُٹھا رہی ہے جبکہ ’8 فیصد‘ نے کہا کہ اُنہیں برسرزمین حقائق کا علم نہیں۔ 

چوتھا سوال دھڑے بندیوں کے ’رُکن سازی مہم‘ پر منفی اَثرات سے متعلق پوچھا گیا جس کے جواب میں ’13فیصد‘ نے اِسے ’جاری رکن سازی مہم‘ کے لئے خطرہ قرار دیا۔ 60فیصد نے کہا اِس سے فرق نہیں پڑے گا جبکہ 27فیصد نے کسی بھی قسم کی رائے دینے سے معذرت کی۔ 

پانچواں اور آخری سوال آئندہ عام انتخابات سے متعلق تھا جس سے قبل ’تحریک انصاف‘ ضلع ایبٹ آباد کے کارکنوں کی دھڑے بندیاں بہرصورت ختم ہونی چاہیءں؟ اِس سوال کا جواب (حسب توقع) بالکل واضح سامنے آیا۔ ’92 فیصد‘ کارکنوں نے تائید کی کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل ’دھڑے بندیاں ’بہرصورت‘ ختم ہونی چاہیئں۔‘ 

اِصلاحاتی منشور کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں اعدادوشمار بھلے ہی ’تحریک انصاف‘ کے حق میں ہوں لیکن اگر ایبٹ آباد سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع کی تنظیموں میں در آئی خرابی اور غیردانشمند خیرخواہ اپنے قول و فعل کی حسب ضرورت اصلاح کرتے ہوئے اپنے اپنے مؤقف سے رجوع نہیں کرتے‘ اپنی ذات اُور اَنا کی قربانی نہیں دیتے تو اِس سے ’تحریک اِنصاف‘ کی صفوں میں پایا جانے والا انتشار‘ خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی (آئندہ انتخابی کامیابیوں) پر حاوی و طاری رہے گا۔
۔

http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2018-03-28

Mar 2018: The case of Village Majohan of UC Nambal, Abbottabad

مہمان کالم
مجہوہاں: محروم توجہ!
یونین کونسل نمبل کا گاؤں ’مجہوہاں (Majohan)‘ موجودہ انتخابی حلقہ بندیوں کے مطابق صوبائی اسمبلی کے حلقہ ’PK-45‘ اور قومی اسمبلی کے حلقہ ’NA-17‘ کا حصہ ہے۔ عام انتخابات کے دوران ’مجوہاں‘ کے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر قریب چھ ہزار ووٹ پول ہوتے ہیں جبکہ گاؤں کی مجموعی آبادی بارہ ہزار نفوس سے زیادہ ہے۔ خیبرپختونخوا کے اِس گاؤں کے رہنے والوں کو معمولی علاج معالجے کے لئے متصل ’آزاد کشمیر‘ جانا پڑتا ہے۔ 

ہنگامی حالات میں کسی مریض کو ’مجہوہاں‘ سے ’مظفرآباد (کشمیر) تک ’خصوصی گاڑی (اسپیشل ٹرانسپورٹ)‘ میں ہسپتال منتقل کرنا پڑتا ہے جس کا یک طرفہ کم سے کم کرایہ تین ہزار روپے ہے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ نمبل میں ہسپتال چھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے لیکن وہاں علاج کی سہولیات معیاری نہیں اور نمبل ہسپتال پہنچنے والے اکثر مریضوں کو مظفرآباد ’ریفر‘ کر دیا جاتا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ مقامی اَفراد ڈاکٹروں کے اِس مشورے سے قبل ہی مظفرآباد کا رُخ کرتے ہیں تاکہ پہلے نمبل اور بعدازاں مظفرآباد جانے سے بہتر ہے کہ خود ہی مظفرآباد کی راہ لی جائے۔

فوج کی ’ایف ایف یونٹ‘ سے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لینے والے ’’عظیم خان عباسی‘‘ المعروف ’فوجی‘ گاؤں مجہوہاں کے سماجی کارکن ہیں جن کی اہلیہ ’شرین بی بی‘ حالیہ بلدیاتی انتخابات میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی خاتون کونسلر کے طور پر الگ شناخت رکھتی ہیں۔ دو بیٹوں (عثمان و احسان) اور بیٹی (فروا عظیم عباسی) کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داریاں نبھاتے دونوں میاں بیوی ’مجہوہاں‘ کے مسائل کے حل کے لئے اکثر ایبٹ آباد میں درخواست گزار پائے جاتے ہیں۔ اہل گاؤں کی غربت اور مسائل کی شدت سے بے چین یہ دونوں نفوس انتہائی حساس ہیں اُور ہر اُس در پر دستک دینے میں عار محسوس نہیں کرتے‘ جہاں سے اجتماعی بہبود کے منصوبوں کے لئے کچھ ملنے کی اُمید ہو۔ 

منتخب اراکین اسمبلی کی توجہ انتخابی وعدوں کو ایفاء کرنے کی جانب مبذول کروانے کی ہر کوشش اگرچہ (ابتک) رائیگاں گئی ہے لیکن آئندہ عام انتخابات کے قریب آنے پر اہل مجہوہاں پراُمید ہیں کہ تحریک انصاف کی قیادت میں صوبائی حکومت اپنی آئینی مدت کے آخری چند ماہ کے دوران ’یونین کونسل نمبل‘ اور بالخصوص ’مجہوہاں‘ کے لئے ’خصوصی ترقیاتی پیکج‘ کا اعلان کرے گی۔ 

مجہوہاں کے جذباتی نوجوان تحریک انصاف سے ہزار اختلافات کے باوجود بھی اِس کا حصہ ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ اُن غیرمتزلزل اور غیرمشروط سیاسی حمایت کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

اُمیدوں کا سفر ’’مجہوہاں سے ایبٹ آباد‘‘ تک مسلسل ہے۔ قریب تین گھنٹے کی اِس سفری مسافت طے کرنے کے لئے دو گاڑیاں تبدیل کرنی پڑتی ہیں اُور یک طرفہ ’ڈھائی سو روپے‘ کرایہ (نقد) اَدا کرنا پڑتا ہے۔ ’مجہوہاں‘ میں پینے کے صاف پانی کی قلت‘ سڑکوں کی خراب حالت‘ طالبات کے لئے مڈل و ہائی سکول‘ طلباء کے لئے کمپیوٹر اور فنی تعلیم کی درسگاہ اُور علاج معالجے کی سہولت نہ ہونے جیسے مسائل حل طلب ہیں! تصور کیجئے کہ بالائی ایبٹ آباد کی ’’8 یونین کونسلوں‘‘ پر مشتمل ’سرکل بکوٹ‘ پسماندگی کی تصویر ہے! حال ہی میں یونین کونسل ’’کرلی (Kurli)‘‘ میں خیبرپختونخوا حکومت نے ’ڈسپنسری‘ قائم کرنے کی اصولی منظوری دی ہے جبکہ (ویلیج کونسل) ’کرلی‘ کی آبادی ’مجہوہاں‘ سے کم ہے لیکن اعلیٰ ظرف اہل مجہوہاں سمجھتے ہیں کہ ’’اگرچہ حق تلفی ہوئی ہے جس کی تلافی ممکن ہے۔‘‘ عظیم عباسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’مجہوہاں کا حق تھا کہ اُسے ڈسپنسری دی جاتی لیکن یہ حق کسی دوسرے کی حق تلفی یا ترجیح کی صورت نہیں چاہئے۔‘‘ افسوس کا مقام ہے کہ یونین کونسل نمبل سمیت سرکل بکوٹ کے درجنوں ایسے دیہات جن میں مجہوہاں سے متصل ’ترہیٹی (گاؤں) بھی شامل ہے جہاں علاج معالجے کی بنیادی تو کیا ابتدائی سہولیات تک میسر نہیں اور اہل علاقہ معمولی بیماریوں کے لئے جمع پونجی کا بڑا حصہ مجبوراً خرچ کر رہے ہیں۔ عظیم عباسی ایک کھلے دل کے انسان ہیں جو اپنے گاؤں (مجہوہاں) میں ڈسپنسری کے لئے دوڑ دھوپ کرتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ اُن کے گاؤں سے زیادہ مستحق دیہی علاقوں کی ضروریات کا سروے کیا جائے اور ترقی کا عمل مربوط کیا جائے جس سے مقامی افراد کی محرومیاں ختم ہوں نہ کہ ترقیاتی عمل سے محرومیوں میں اضافہ ہو۔ 

سرکل بکوٹ میں شاہراؤں کا ’نیٹ ورک‘ مثالی نہیں بالخصوص دور دراز دیہات نظر انداز ہیں جہاں علاج معالجے کی سہولیات کا دائرہ وسیع ہونا چاہئے۔ قابل ذکر ہے کہ ’مجہوہاں‘ پاکستان تحریک انصاف کا گڑھ ہے۔ 

’مئی دوہزار تیرہ‘ کے عام انتخابات میں مجہوہاں سے پاکستان تحریک انصاف کے نامزد اُمیدواروں ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون اور عبدالرحمان عباسی کامیاب رہے۔ بعدازاں ضمنی انتخاب کے موقع پر بھی تحریک انصاف ہی کے نامزد ’علی اصغر خان‘ کو مسلم لیگ نواز کے ’فرید خان‘ نامزد اُمیدوار فرید خان پر ترجیح دی گئی۔ علی اصغر غیر مقامی تھے اِس لئے مجموعی طور پر ’ضمنی انتخابی معرکہ‘ نہ جیت سکے لیکن مجہوہاں گاؤں کی تحریک انصاف کے ساتھ وفاداریوں میں کوئی فرق نہ آیا۔ حسب سابق ضمنی انتخاب میں بھی ’اِہل مجہوہاں‘ کی اکثریت نے ’تحریک انصاف‘ ہی کے حق میں ووٹ دے کر عمران خان سے اپنی دلی محبت کا عملی ثبوت دیا لیکن اَفسوس کہ توقعات کے برعکس ’مجہوہاں کی خاطرخواہ قدر نہیں کی گئی!‘

ضلع ایبٹ آباد میں ’تحریک انصاف‘ کا تنظیمی ڈھانچہ باہمی اختلافات کی وجہ سے کمزور ہے۔ چھبیس مارچ (دوہزار اٹھارہ) کے روز چیئرمین عمران خان نے ’رکن سازی مہم‘ کے سلسلے میں ایبٹ آباد کا ایک روزہ مختصر دورہ کیا اور اِس موقع پر کارکنوں کے دو الگ الگ اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے باہمی اختلافات ختم کرنے کی تلقین فرمائی لیکن اگر وہ اپنی موجودگی کے باوجود بھی کارکنوں کے اختلافات ختم نہیں کر سکے تو پھر اُن کی عدم موجودگی میں کیونکر ممکن ہوگا کہ کارکن زیادہ بڑے مقصد کے لئے باہم شیروشکر ہو جائیں۔ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت (بنی گالہ) کو سمجھنا ہوگا کہ صوبائی حکومت ضلع ایبٹ آباد کے بالائی علاقوں میں حسب ضرورت تعمیروترقی اور سہولیات کی فراہمی نہیں کر پائی ہے۔ 

بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے لیکن قابل افسوس بات یہ ہے کہ بالائی ایبٹ آباد کے بہت سے ایسے دیہی علاقے ہیں جہاں بہتری کے لئے عملی کوشش دیکھنے میں نہیں آئیں۔ 

’اہل مجہوہاں‘ سمیت سرکل بکوٹ کی جنت نظیر وادیوں میں رہنے والے ’تحریک انصاف‘ کے کارکنوں کو جہاں ’مضبوط تنظیمی ڈھانچے‘ کی ضرورت ہے وہیں صحت و تعلیم‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور رابطہ شاہراؤں کی تعمیر و توسیع سے اِس علاقے کی قسمت بدلی جا سکتی ہے۔ سیاحت کے وسیع اِمکانات سے مالامال بالائی ایبٹ آباد کے دیہی علاقے ’ترقیاتی توجہ‘ کے مستحق ہیں۔ ’’زندگی ہم سے تو اِس درجہ تغافل نہ برت ۔۔۔ ہم بھی شامل تھے‘ ترے چاہنے والوں میں کبھی (سلمان اختر)۔‘‘
۔۔
http://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2018-03-28