Sunday, May 31, 2020

COLUMN: Heatwave & Corona in Pakistan

شبیرحسین امام
گرمی کی لہر
پاکستان کے کئی حصوں میں ’گرمی کی لہر‘ سے متعلق اطلاعات آ رہی ہیں‘ جس میں وقت کے ساتھ شدت اُور اِس سے معمولات زندگی جو پہلے ہی کورونا وائرس کی سبب معطل ہیں‘ مزید خراب ہونے کے اندیشے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ہر سال کی طرح اِس مرتبہ ’مئی‘ کے مہینے کے دوران ملک کے میدانی اُور ساحلی علاقوں میں گرمی کی شدت بڑھی ہے اُور اِس غیرمتوقع اضافے کے پیش نظر محکمہ ¿ موسمیات نے کئی اقدامات تجویز کئے ہیں‘ جن کی تفصیلات اُن کی ویب سائٹ سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

بنیادی بات یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کا عمل جاری ہے‘ جس کی زد میں پاکستان جیسے زرعی ملک کے لئے ایسے اقدامات اشد ضروری ہیں‘ جن سے زرعی شعبے کو بچایا جا سکے۔ تصور کیجئے کہ ایک طرف کورونا وبا کی وجہ سے حکومتی فیصلہ سازی اُور محکمہ ¿ صحت کے وسائل دباو ¿ کا شکار ہیں تو دوسری طرف اگر ’گرمی کی شدت اُور شدید لہر‘ بھی آبادی کے لحاظ سے ملک کے بڑے شہروں اُور بالخصوص زرعی علاقوں کو متاثر کرتی ہے تو اِس سے کس قدر مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ حکومتی اداروں کے لئے پہلے ہی ’ٹڈی دل‘ سے نمٹنا ممکن نہیں ہو رہا جبکہ کورونا اُور گرمی کی لہر جیسے مسائل الگ سے بحران میں اضافے کا باعث اُور توجہ طلب ہیں۔ یادش بخیر سال 2015ءمیں آئی گرمی کی لہر کے باعث 1 ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں تھیں اُور تب سے حکومتی و نجی فلاحی اداروں کا معمول ہے کہ وہ ممکنہ متاثر ہونے والے شہری و دیہی علاقوں میں موسم گرما کی آمد سے قبل ’ہیٹ ویو (heat-wave)‘ سے نمٹنے کے لئے امدادی سرگرمیاں کی تیاریاں رکھتے ہیں۔

رواں برس (دوہزاربیس) گرمی کی لہر بارے حکومتی سطح پر غوروخوض زیادہ دیکھنے میں نہیں آ رہا کیونکہ فیصلہ سازوں کی توجہ اُور وسائل کورونا وبا کی جانب ہے‘ جس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں غیرمعمولی اضافے کی نوعیت یہ ہے کہ ملک کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں علاج گاہیں مریضوں سے بھر گئی ہیں۔ یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے اُور ایک المیے کی نشاندہی ہے کہ گرمی کی لہر سے نمٹنے کی اِس سال تیاریاں نہ ہونے کے برابر ہیں اُور اِس بارے میں اگر کہیں سے کوئی نکتہ یا بات سننے میں آتی بھی ہے تو وہ محکمہ ¿ موسمیات کے ذرائع ہیں۔

ماضی کی طرح ذرائع ابلاغ کی توجہ بھی کورونا وبا پر مرکوز ہونے کی وجہ سے گرمی کی لہر تجزیہ کاروں کے لئے زیادہ پریشانی کا باعث نہیں اُور یہی وجہ ہے کہ وفاقی‘ صوبائی اُور مقامی حکومتیں گرمی کی لہر کا سامنا کرنے کی خاطرخواہ تیاری نہیں رکھتیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) بھی شاید اُس وقت تک حرکت میں نہیں آئے گی جب تک (خدانخواستہ) سینکڑوں ہلاکتیں فیصلہ سازوں کے ضمیر کو جھنجوڑ نہ دیں! حقیقت حال یہ ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں جیسی حقیقت‘ اِس کے منفی اثرات اُور بالخصوص انسانی جان کی اہمیت بارے زیادہ غوروخوض نہیں کیا جاتا یا پھر اُس وقت تک اِن موضوعات پر فیصلہ ساز سوچنا اُور بولنا گوارہ نہیں کرتے جب تک حالات قابو سے باہر ہونے کے قریب نہ پہنچ جائیں۔ اگر گرمی کی لہر بڑھتے ہوئے اُس درجہ حرارت پر پہنچ جائے جہاں ہزاروں غریب اِس سے متاثر ہونے لگیں اُور بڑے پیمانے پر کسی ممکنہ تباہی نظر آنے لگے تو فیصلہ سازوں کے اجلاس طلب کر لئے جائیں گے!

سمجھنا ہوگا کہ کورونا وبا کی طرح ’گرمی کی لہر‘ بھی یکساں خطرناک ہے اُور اگر اِس سے بچنے کے لئے مناسب احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو ہیٹ اسٹروک ہو جاتا ہے‘ جو ایک جان لیوا صورتحال ہوتی ہے۔ موجودہ حالات میں جبکہ سرکاری علاج گاہوں کے دروازے کورونا وبا کے علاو ¿ہ دیگر بیماریوں کے لئے بند ہیں‘ اگر گرمی کی شدت اُور اِس کے لہر کی صورت پھیلنے کے امکان کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو عالمگیر وبا کی صورت ایک اُور بحران پھیل سکتا ہے۔ سال 2015ءمیں بڑے شہروں میں ٹھنڈے پانی کی سبیلیں لگائی گئیں تھیں جو ’ہیٹ ویو‘ کا مقابلہ کرنے کا سستا‘ آسان اُور درست طریقہ ہے۔ فیصلہ سازوں کو صرف انسان ہی نہیں بلکہ مال برداری و دیگر مقاصد کے لئے استعمال ہونے والے مال مویشیوں (جانوروں) کے بارے میں بھی سوچنا چاہئے جنہیں گرمی کی شدت سے بچانے کے لئے پانی اُور سائے کا بندوبست ہونا چاہئے۔ ماہرین تجویز کر رہے ہیں کہ گرمی کی شدت والے ملک کے میدانی علاقوں میں رہنے والے غیرضروری طور پر اپنے گھروں یا کام کاج کی جگہوں سے باہر نہ نکلیں۔ کسی ضرورت کے تحت پیدل یا کسی ذریعے سے سفر کرنا بھی پڑے تو سر‘ گردن اُور چہرے کو ڈھانپ کر رکھا جائے۔ چھتری یا بھیگے ہوئے رومال کا استعمال معمولات کا حصہ ہونا چاہئے۔

کافی مقدار میں پانی یا دیگر مشروبات کا استعمال ’ہیٹ ویو‘ سے بچانے میں معاون ہو سکتا ہے۔

ہیٹ ویو کی یقینی روک تھام کے لئے حکومتی سطح پر سنجیدہ اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ سماجی و فلاحی (نجی) اِداروں کو شریک سفر کرنے کی ضرورت ہے۔ محکمہ ¿ موسمیات نے ممکنہ انتہائی گرم علاقوں (hot-spots) کی نشاندہی کر دی ہے‘ ایسے تمام میدانی علاقوں میں نقل و حرکت کم سے کم رکھنے اُور پبلک مقامات پر پینے کے صاف (فلٹرشدہ) پانی کی فراہمی ممکن بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات وقت کی ضرورت ہے۔ سایہ دار بس اڈے اُور بس سٹاپ (انتظارگاہیں) بھی کارآمد ہو سکتی ہیں‘ جہاں حسب ضرورت‘ آگ برساتے سورج سے پناہ لی جا سکے۔ اِس سلسلے میں بنیادی ذمہ داری مقامی حکومتوں کو سونپ دینی چاہئے۔ ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچا جائے اُور سیاسی و انتخابی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر دیکھا جائے تو فعال بلدیاتی ادارے ہی گرمی کی شدید لہر اُور وبائی امراض جیسی صورتحال میں کارآمد ہو سکتے ہیں جنہیں ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کے ذریعے ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
............
Editorial Page of Daily Aaj May 31, 2020
Clipping from Editorial Page of Daily Aaj - May 31, 2020

COLUMN: Demolition of al-Baqi

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
عالمی دن: جنت البقیع
اَٹھارہ لاکھ مربع کلومیٹر پر پھیلی ’سلطنت عثمانیہ‘ کا قیام سال 1299ءسے اِختتام 1923ءتک کے واقعات‘ بنیادی مقاصد اُور ہدف یہ تھا کہ ’مسلم اُمہ‘ کے مقدس ترین مقامات مسجد الحرام (مکہ مکرمہ) اُور مسجد نبوی شریف (مدینہ منورہ) کو پوری مسلم اُمت کی ملکیت اُور عبادات کی طرح اسلام کے سیاسی نظام کا بھی مرکز (قبلہ) ہوں۔ متحدہ مسلم اُمہ کی کوشش و مقصد کے لئے جدوجہد‘ پہلے مرحلے میں مکہ و مدینہ پر حکمرانی اُور انتظامی معاملات اپنے ہاتھ میں لئے گئے اُور عثمانی خلفاءنے سال 1818ءسے 1860ءکے درمیان مقامات مقدسہ بشمول مسجد نبوی کی تعمیروتوسیع اُور تزئین و آرائش کا کام مکمل کیا۔ یہ وہ ’سنہرا دور‘ تھا جب مسلمان ممالک کی اکثریت متحد اُور مسلمانوں کے خلاف کسی دوسرے مذہب کو آنکھ اُٹھانے کی جرا ¿ت نہ تھی لیکن مسلم اُمہ کا یہ اتحاد زیادہ دنوں برقرار نہ رہ سکا اُور تاریخ میں وہ سبھی واقعات (سازشیں) تفصیلاً ذکر ہیں کہ کس طرح مغربی طاقتوں نے عرب سرزمین پر اسرائیل کی ریاست قائم کرنے کے لئے مسلم ممالک کے اتحاد (خلافت عثمانیہ) کا خاتمہ کیا اُور مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات پر سیاسی و انتظامی حکمرانی ایسے حکمرانوں کو سونپ دی گئی‘ جن کے لئے اقتدار ہی پہلی اُور آخری ترجیح ہے۔ بہرحال خلافت عثمانیہ کا ذکر صرف تاریخ کی کتب تک محدود ہو کر رہ گیا جبکہ ’حجاز‘ کہلانے والی سرزمین ’سعودی عرب‘ کے نام سے ایک نئے ملک (بادشاہت) کے طور پر اُبھری۔

خلافت عثمانیہ کے عروج و زوال کا محرک کوئی ایک سازش نہیں تھی بلکہ اِس کے کئی داخلی و خارجی عوامل اُور بالخصوص مسلمانوں کے خلاف بیرونی سازشوں کے علاو ¿ہ دیگر محرکات بھی تھے‘ جن کے چند پہلو ماہ  رمضان المبارک سے پاکستان میں نشر ہونے والے ترک ڈرامے ’دیریلیش ارطغرل (Dirilis: Ertugrul)‘ میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اِن تاریخی حقائق کے کئی حیران کن اُور تکلیف دہ پہلوو ں میں شامل ہے کہ سلطنت عثمانیہ کا خاتمہ کرنے کے بعد (1925-26ءمیں) مدینہ منورہ کے تاریخی قبرستان ’جنت البقیع‘ میں موجود اصحابہ کرام‘ تابعین‘ تبع تابعین‘ اُمہات المومنین اُور اہل بیت اطہار رضوان اللہ اجمعین کے مزارات کو ایک فقہی رائے کی بنیاد پر مسمار کر دیا گیا۔ جن مزارات کی نشانیاں تک نہیں چھوڑی گئیں اُن میں امیرالمومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ (تیسرے خلیفہ راشد) کے مزار سے لیکر دختر رسول حضرت بی بی فاطمة الزہرا طاہرہ سلام اللہ علیہا کے روضے جیسے مقدسات شامل تھے اُور یوں جنت البقیع میں موجود قبریں دور سے دیکھنے پر مٹی کے ڈھیر اُور ٹیلے دکھائی دینے لگے‘ جہاں چھوٹے بڑے پتھروں میں چھپی قبروں کی باقیات تلاش کرنے والے زائرین کو ایک خاص حد سے آگے جانے نہیں دیا جاتا۔ اِس اقدام سے اختلاف کرنے والے مسلمانوں کے 90 برس سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد بھی زخم ہرے ہیں اُور ہر سال عالمی سطح پر ”8 شوال المکرم“ کا دن ”یوم انہدام جنت البقیع“ کے طور پر منانے والے مطالبہ کر رہے ہیں کہ .... ”جنت البقیع‘ میں موجود زیارات مقدسہ کو اُن کی اَصل حالت و جگہ پر بحال کیا جائے۔“

مدینہ منورہ شریف کا ”بقیع“ نامی قبرستان کی موجودہ حالت اُور اِس مقام کے قبل اسلام و بعد اسلام (ماضی و حال کی) تاریخی اہمیت اگر کچھ ہے تو وہ کیا ہے؟ مسلمان بھلے ہی خاموش ہوں لیکن تاریخ نہیں بلکہ درجنوں کتب کے اُوراق میں ایک جیسے واقعات اُور حوالے تحریر ملتے ہیں جیسا کہ حضرت نوح علیہ السلام کے پڑپوتے عملاق کی اولاد نے مدینہ منورہ شریف آباد کیا‘ پر زراعت کے لئے زمین ہموار کی۔ درخت اُگائے۔ رہائشگاہیں اُور قلعے تعمیر کئے گئے۔ وقت کے ساتھ جب اِنسانی آبادی میں اضافہ ہوا۔ قبائل تشکیل پائے تو مدینہ منورہ شریف نہ صرف کاشتکاروں اُور شہ زوروں کا مرکز رہا بلکہ یہ اہم تجارتی گزرگاہ بھی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اُور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھی یہاں وارد ہوئے۔ کچھ نے یہیں قیام کر لیا اُور کچھ کنعان یا دیگر علاقوں کی طرف چلے گئے۔ ولادت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب ایک ہزار سال قبل مدینہ منورہ شریف کے رہنے والے اِس بات (پیشگوئی) سے باخبر تھے کہ یہ شہر اللہ تعالیٰ کے آخری نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مسکن قرار پائے گا۔ اِس سلسلے میں ’تبع حمیری‘ نامی بادشاہ کا تذکرہ بطور خاص ملتا ہے جو بڑی فوج کے علاو ہ کم و بیش چار ہزار کی تعداد میں علماءاُور حکماءبطور مشیر رکھتا تھا۔ ایک موقع پر جب مدینہ منورہ شریف کے کسی رہنے والے نے تبع بادشاہ کے اہل خانہ سے بدسلوکی کی تو اُس نے مجرم کی سرکوبی کے مدینہ کو تاراج کرنے کا فیصلہ کیا اُور اِس ارادے سے مدینہ کے باہر آ کر پڑاو ¿ ڈالا۔ اہل مدینہ کے علماءنے بادشاہ (تبع) سے ملاقات کی اُور مدینہ کے فضائل و مناقب کی تفصیلات کے ساتھ یہ پیشگوئی بھی اُس کے گوش گزار کی کہ یہ شہر ختمی مرتبت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مسکن ہوگا۔ یہ سننا تھا کہ اُس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ اُس نے حملے کا ارادہ ترک کیا اُور روز قیامت اپنی شفاعت کی تمنا کے لئے ایک تحریر (خط) لکھا۔ یہ خط اُس کی پشت در پشت منتقل ہوتے‘ 90 واسطوں کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خط کو دیکھ کر مسکرائے‘ درخواست قبول فرمائی اُور 3 مرتبہ ارشاد فرمایا ’مرحبا باخ الصالح۔‘ اِسی شہر مدینہ کا ایک مختصر حصہ “جنت البقیع“ کہلاتا ہے۔

لغت کے مطابق ”بقیع“ اُس علاقے کو کہتے ہیں جہاں بڑی تعداد میں درخت پائے جائیں گویا بقیع زمانہ قدیم (قبل اسلام) یہاں کثرت سے درخت ہوا کرتے تھے۔ ’بقیع‘ کو ’بقیع الغرقد‘ یعنی کانٹے دار جھاڑیوں کا علاقہ بھی کہتے ہیں چونکہ ایک وقت میں یہاں ’عوسج‘ نامی کانٹے دار پودے پائے جاتے تھے لہٰذا روزمرہ بول چال میں اِسے ’بقیع الغرقد‘ کہا جانے لگا۔ عرب قبائل ’بقیع‘ کا لفظ کسی گنبد یا اُٹھی ہوئی (بلند) جگہ کے لئے بھی استعمال کرتے۔ تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعثت کے تیرہویں سال مکہ مکرمہ سے ہجرت فرمائی۔ تب سے ’یثرب‘ عرف عام میں مدینہ اُور بطور خاص مدینہ منورہ شریف کہلایا جانے لگا کیونکہ اِس عزت مآب خاص شہر کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص دعا فرمائی (ترجمہ) ”بارالہا‘ اِس شہر کو محبوب قرار دے‘ (بالکل) اُسی طرح جیسا کہ تو نے مکہ مکرمہ کی محبت ہمارے دلوں میں ڈال رکھی ہے۔ یہاں کے دانے پانی (اَجناس) میں برکت عطا فرما اُور اِس شہر کو (تاقیامت) بیماریوں اُور آفات و بلیات سے محفوظ رکھ۔“
........
Editorial Page of Daily Aaj Peshawar Abbottabad  - May 31, 2020 - Sunday

Clipping from Editorial Page of Daily Aaj Peshawar Islamabad Abbottabad  - May 31, 2020