Saturday, December 25, 2021

The Damage by Damage Control Measures

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

.... نہ جانے محبت کا انجام کیا ہے!

اُنیس دسمبر دوہزار اکیس: خیبرپختونخوا کے 17اضلاع کی 63 تحصیلوں میں مقامی حکومتوں کے قیام کے سلسلے میں انتخابات کے پہلے مرحلے میں 47 تحصیلوں کے سرکاری نتائج کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) نے سترہ جبکہ تحریک انصاف نے بارہ تحصیلوں میں ’چیئرمین شپ‘ کی نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ تحریک کے لئے شکست کا صدمہ ’تحصیل پشاور‘ میں ناکامی کی وجہ سے زیادہ محسوس ہو رہا ہے جہاں حاجی زبیر علی (جے یو آئی ف) کو باسٹھ ہزار تین سو اٹھاسی جبکہ رضوان بنگش (تحریک انصاف) کو پچاس ہزار چھ سو اُنسٹھ ووٹ ملے اگرچہ 6 پولنگ مراکز پر تشدد کاروائیوں (نقص امن) کے باعث الیکشن کمیشن نے انتخابی نتیجے کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن گیارہ ہزار سے زائد ووٹوں کی فیصلہ برتری سے جمعیت کی انتخابی کامیابی شک و شبے سے بالاتر یقینی ہے۔ پشاور کی باقی ماندہ چھ تحصیل چیئرمین کی نشستوں میں سے جے یو آئی (ف) نے چار نشستیں جبکہ پی ٹی آئی اور اے این پی نے ایک‘ ایک نشست جیتیں جبکہ آزاد حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے والوں نے سات تحصیلوں کی چیئرمین شپ حاصل کی۔ مجموعی طور پر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے تحصیل کونسل چیئرمین کی چھ‘ مسلم لیگ (ن) نے تین‘ جماعت اسلامی‘ پیپلز پارٹی اور تحریک اصلاحات پاکستان نے ایک‘ ایک نشست جیتی۔

بیس دسمبر دوہزاراکیس: وزیر اعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں امیدواروں کے غلط انتخاب کو تحریک انصاف کی خراب کارکردگی کی ”بنیادی وجہ“ قرار دیا اُور کہا کہ پہلے مرحلے میں غلطیاں کیں اور اس کی قیمت ادا کی۔ دوسرے مرحلے اور ملک بھر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے لئے حکمت عملی کی نگرانی خود کروں گا۔ 

چوبیس دسمبر دوہزار اکیس: وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں اہلیت کے برعکس خاندانوں میں ٹکٹ دیئے جانے کی شکایات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تحریک انصاف کی ملک بھر میں تنظیموں تحلیل کرنے کا اعلان کیا۔ وفاقی وزیراطلاعات و نشریات کے بقول ”اگر تحریک انصاف کی سیاست متاثر ہوتی ہے تو دراصل یہ پاکستان کی سیاست متاثر ہونے کے مترادف ہوگا۔ اُنہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اُور کہا کہ پی ٹی آئی خاندانی سیاست والی جماعت نہیں۔

اُمید یہی ہے کہ بلدیاتی انتخابات کی بھٹی سے گزرنے کے بعد ’تحریک انصاف‘ زیادہ چمک دمک اُور کارکنوں کے حمایت کے سبب زیادہ پروقار و پراعتماد انداز سے دوسرے انتخابی مرحلے میں اُن سیاسی مخالفین کا سامنا کرے گی جن میں بہت کم نظریاتی ہیں اُور یہی بات تحریک انصاف کو عصری جماعتوں سے ممتاز بناتی ہے کہ شروع دن سے کا نعرہ ’موروثیت اُور مفادات‘ سے پاک سیاست کا رہا ہے تاہم اِس خواب کو عملی جامہ پہنانا آسان نہیں اُور یہی وجہ ہے کہ جماعت کی قیادت سے بار بار ’عالمانہ غلطیاں‘ سرزد ہو رہی ہیں لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ تحریک اپنی غلطیوں کو تسلیم کر رہی ہے اُور مرکزی قیادت کا کھلے دل سے حقیقت و شکست کو تسلیم کرنا بھی اِس اَمر کی عکاسی کرتا ہے کہ تحریک واحد ایسی جماعت ہے جس میں 1: ’خوداحتسابی‘ عملاً زندہ ہے اُور 2: تحریک خاندانی (موروثی) سیاست کو اپنے نظریئے کی موت سمجھتی ہے۔ اگر خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے نتائج کی تہہ میں دیکھا جائے تو بال کی کھال اُتارنے سے معلوم ہوتا ہے کہ 1: تنظیمیں تحلیل کرنا مرض کا علاج نہیں ہے کیونکہ پارٹی ٹکٹ تنظیموں کی سفارشات پر نہیں دیئے گئے تھے۔ 2: تنظیمیں تحلیل کرنے کا یہ وقت انتہائی نامناسب ہے کیونکہ تحریک انصاف کی تاریخ رہی ہے کہ جب کبھی بھی اِس کے جماعتی انتخابات ہوئے اُس سے کئی دھڑوں نے جنم لیا اُور وہ سبھی کردار جو پہلے ہی پارٹی کی فیصلہ سازی کو ہائی جیک کر چکے ہیں اگر دوبارہ تنظیم سازی بھی کی گئی تو اُنہی کے ہم خیال منتخب ہو جائیں گے۔ 3: توانائی‘ وقت اُور دیگر وسائل تنظیم سازی کی نذر کرنے کی بجائے اگر تحریک ِانصاف ”آن لائن رکن سازی مہم“ کا آغاز کرے تو اِس کے زیادہ مفید نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ 4: وزیراعظم سٹیزن پورٹل کی طرز پر ’کارکن پورٹل‘ کا آغاز کیا جائے جس کے ذریعے پارٹی کے کارکن کسی انتخابی حلقے یا اپنے حلقوں سے منتخب ہوئے یا متعلقہ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی اُور سینیٹرز کی کارکردگی کے بارے خیالات و شکایات کا اندراج کر سکیں۔ شاید بنی گالہ کے سامنے منتخب اراکین اسمبلی کی کارکردگی کا یہ پہلو پیش نہیں کیا گیا کہ تحریک کی نامزدگی حاصل کر کے اُور غیرمقامی ہونے کے باوجود جو اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں اُور سینیٹ تک پہنچے ہیں‘ وہ اپنے متعلقہ حلقوں کو خاطرخواہ اہمیت اُور توجہ نہیں دے رہے۔ اِس سلسلے میں پشاور شہر کے چودہ صوبائی اُور پانچ قومی اسمبلی کے حلقوں کی مثال پیش کی جاسکتی ہے جس میں تحریک انصاف کو بالترتیب گیارہ اُور پانچ کا بلند ترین تناسب حاصل ہے لیکن اِس کے باوجود بھی اراکین اسمبلی بالخصوص وفاقی و صوبائی کابینہ کے اراکین اُور کارکنوں کے درمیان روابط مستحکم و مربوط نہیں ہیں۔ خیبرپختونخوا کی سیاسی تاریخ میں تحریک ِانصاف کا جواب تلاش کرنے والوں کو اگر کوئی جواب مل سکتا ہے تو وہ بھی تحریک ِانصاف ہی ہوگا لیکن اِس سیاسی متبادل کو نظریاتی متبادل بنانے کے لئے اُن سبھی کمزور پہلوو¿ں پر غور کرنا ہوگا جو حالیہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں شکست کا باعث بنے۔

جمہوریت کی بنیاد انتخابات اُور انتخابات کا مقصد حزب اختلاف اُور حزب اقتدار کی صورت ’چیک اینڈ بیلنس‘ کا نظام قائم کرنا ہوتا ہے۔ اگر تحصیل پشاور سمیت خیبرپختونخوا کی اکثر تحصیلوں پر ’حزب اختلاف‘ کی جماعتیں کامیاب ہوئی ہیں تو یہ نتیجہ اِس لحاظ سے باعث ِخیروبرکت ہے کہ مقامی حکومتوں کو مالی وسائل کی فراہمی اُور اِن کی کارکردگی پر صوبائی حکومت کڑی نظر رکھے گی اُور کسی بے قاعدگی کو جماعتی مصلحت کی وجہ سے درگزر نہیں کیا جائے گا۔ اِسی طرح حزب اختلاف پر مبنی مقامی حکومت (بلدیاتی نظام) بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے دانستہ غلطیوں (تجاہل عارفانہ) سے ہر ممکنہ حد تک گریز کرے گی تاکہ حزب اقتدار کے ہاتھ اُس کی کوئی کمزوری نہ لگے۔ جمہوریت کا دوسرا نام ایک ایسا نظام ہے جس میں عام آدمی (ہم عوام) کی زندگی میں آسانیاں پیدا ہوں اُور اگر آسانیاں ہی مطلوب و مقصود ہیں تو پھر اِس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کون جیتا اُور کون ہارا البتہ انتخابی کارکردگی کو متاثر کرنے والے صرف عوامل ہی نہیں بلکہ اُن عناصر (نادان و مفادپرست ساتھیوں) کی نشاندہی اُور احتساب بھی ضروری ہے‘ جنہوں نے تحریک پر پشت سے وار کیا ہے۔ ”نہ جانے محبت کا انجام کیا ہے .... میں اب ہر تسلی سے گھبرا رہا ہوں (اِحسان دانش)۔“

....


Friday, December 17, 2021

LG Polls: The world of consciousness!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی : اِرتقا کا شعور

شاعر سیاسچدیو نے کہا تھا ”پہلے ہوتا اگر شعور اِتنا .... شیشہ¿ دل نہ ہوتا چور اِتنا۔“ شعور کی منازل لاشعوری طور پر طے ہونا ممکن نہیں ہوتیں بلکہ اِس کے لئے دل و جان لگا کر بے لوث محنت کرنا پڑتی ہے اُور ہمارے ہاں سیاست اُور بالخصوص اِنتخابی سیاست کا مسئلہ یہ ہے کہ اِس میں ماضی کے واقعات یا اِداروں کی کارکردگی کا اِحتساب نہیں ہوتا اُور یوں ہر انتخاب کے بعد وہ تمام غلطیاں دہرائی جاتی ہیں‘ جن کی وجہ سے سیاست و انتخابات دونوں ’ناکام تجربات‘ ثابت ہو رہے ہیں اُور اِن سے مسائل کا حل نہیں بلکہ مسائل کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پہلا منظرنامہ: بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں اُمیدواروں اُور سیاسی جماعتوں کی ’تشہیری مہمات‘ سے پشاور کے گلی کوچے اُور بازار سجے ہوئے ہیں۔ ’الیکشن کمیشن‘ کی جانب سے تشہیری مواد سے متعلق وضع کردہ قواعد کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے علاو¿ہ اشتہارات آویزاں کرنے کے لئے جس بھیڑ چال کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے اُس سے عام انتخابات کی روح اُور پشاور کی خوبصورتی دونوں متاثر ہیں۔ لائق توجہ ہے کہ وہ بلدیاتی اُمیدوار جو اپنی تشہیر پر لاکھوں روپے خرچ کرنے کی مالی سکت رکھتے ہیں اُور وہ بلدیاتی اُمیدوار جو تشہیر کا جواب تشہیر سے نہیں دے سکتے دونوں کے درمیان ہونے والا انتخابی مقابلہ کس طرح برابری کی بنیاد پر ہو سکتا ہے اُور کس طرح بلدیاتی انتخابات کے جاری مراحل کو منصفانہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ ایک طرف سیاسی جماعتیں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہیں اُور پیسہ پانی کی طرح بے قدری سے بہایا جا رہا ہے لیکن دوسری طرف ایک عام انتخابی اُمیدوار جو اپنے حلقے کی خدمت کرنے کا جذبہ بھی رکھتا ہے اُور چاہتا ہے کہ متعلقہ شہر یا علاقے کی خدمت کا حق ادا کرے لیکن اُسے اپنا پیغام انفرادی حیثیت میں گھر گھر پہنچانے کی سہولت میسر نہیں۔ عام اِنتخابات کی ”شفافیت“ کے لئے ضروری تھا کہ الیکشن کمیشن ’بے لگام تشہیری مہمات‘ کا نوٹس لیتا۔ 

دوسرا منظرنامہ: پشاور میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں ہونے والے ”تشہیری بے قاعدگیوں“ کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ محکمہ¿ آثار قدیمہ کو بھی اِس بے قاعدگی کا نوٹس لینا چاہئے کہ انتخابی اُمیدوار اپنے پیغامات یا سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی منشورات و اعلانات آویزاں کرنے کے لئے فصیل شہر اُور پشاور کے دروازوں کا استعمال کر رہی ہیں جبکہ آثار قدیمہ کے قوانین و قواعد کے مطابق کوئی بھی شخص یا اِدارہ اپنے اعلانات فصیل شہر یا پشاور کے دروازوں پر آویزاں نہیں کر سکتا۔ ذہن نشین رہے کہ پشاور صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ جنوب مشرق ایشیا کا قدیم ترین اُور زندہ تاریخی شہر ہے جہاں زندگی کے آثار 539 قبل مسیح سے ملتے ہیں اُور تاریخ دانوں کا بھی اِس بات پر اتفاق ہے کہ پشاور سے قبل قائم ہونے والے شہر اب کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں لیکن یہ شہر ڈھائی ہزار سال سے زائد عرصے سے آباد ہے۔ مختلف ادوار میں پشاور کو حملہ آوروں اُور جرائم پیشہ عناصر سے محفوظ رکھنے کے لئے یہاں 16 دروازے قائم کئے گئے تھے جن کے نقوش وقت کے ساتھ مٹتے چلے گئے لیکن پشاور کی تاریخی حیثیت کا ادارک کرتے ہوئے اِن دروازوں کو عجلت میں دوبارہ تعمیر کیا گیا اُور اب یہ سبھی دروازے انتخابی اُمیدواروں کی تشہیر کے لئے استعمال ہو رہے ہیں۔ اگر متعلقہ بلدیاتی ادارہ اِس بات کا نوٹس نہیں لے رہا تو آثار قدیمہ کو اِس جانب توجہ دلانی چاہئے۔ جن انتخابی اُمیدواروں کو پشاور کی تاریخی و سیاحتی حیثیت کا علم یا ادراک نہیں اُور وہ اِس کے عملی تقاضوں کو نبھانے کا شعور نہیں رکھتے‘ اُن سے کس طرح اِس بات کی اُمید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ پشاور کو اُجاگر کرنے یا اِس دیرینہ مسائل کے حل میں کافی و کامیاب ثابت ہوں گے!؟

تیسرا منظرنامہ: بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں پر اُٹھنے والے اخراجات یعنی صرف ’قیمت (price-tag)‘ ہی باعث تشویش نہیں بلکہ ضلع پشاور میں بلدیاتی انتخابات کی پولنگ کے لئے 2 روز کے لئے تعلیمی سرگرمیاں بھی معطل رہیں گی یعنی 2 روز (اٹھارہ اُور اُنیس دسمبر دوہزاراکیس) پشاور سمیت 9 اضلاع میں صرف اِس وجہ سے نجی و سرکاری تعلیمی ادارے بند رہیں گے کیونکہ بالخصوص سرکاری سکولوں کی عمارت اُور وسائل کو ’پولنگ مراکز‘ کے لئے استعمال کیا جائے گا اُور اِس سلسلے میں جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں کو ”عوام کے (وسیع تر) مفاد میں بند کیا جا رہا ہے۔“ سمجھ سے بالاتر ہے کہ تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنا ”عوام کا وسیع ترمفاد“ کس طرح ہو سکتا ہے! عوامی مفاد تو یہ ہے کہ تعلیم کا سلسلہ بلاتعطل جاری رہے۔ کورونا وبا کی وجہ سے ہونے والا تعلیمی حرج پورا کیا جائے اُور اِس مقصد کے لئے نہ صرف تعطیل کے روز بھی تعلیمی اِدارے کھلے رکھے جائیں بلکہ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی پر انحصار کرتے ہوئے آن لائن تدریسی وسائل کا زیادہ سے زیادہ استفادہ عام ہونا چاہئے کیونکہ آج کے دور میں اگر کسی ایک چیز کی اہمیت ہے تو وہ علم اُور خواندگی (عوامی شعور میں اضافہ) ہے جبکہ یہ دونوں امور عوامی نمائندوں کی ترجیحات میں سرفہرست ہونے چاہیئں۔ قومی و صوبائی فیصلہ سازوں کے لئے جاپان کی مثال پیش ِخدمت ہے جہاں ایک مرحلے پر جب کورونا وبا کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں کو دنیا کے دیگر ممالک کی طرح بند کرنے کی تجویز پیش کی گئی تو اگست دوہزار اکیس میں وفاقی وزیر تعلیم کوئچی ہاگودا (Koichi Hagiuda) نے تعلیمی ادارے کسی بھی صورت بند نہ کرنے اِعلان کیا اُور کہا کہ ”حکومت کسی بھی درجے کے تعلیمی اِدارے (ثانوی‘ بنیادی اُور ہائی سکولز) بند نہیں کرے گی بلکہ وبا کا مقابلہ حفاظتی انتظامات سے کیا جائے گا۔“ اِس سے قبل جب جاپان میں ایک جوہری بجلی گھر سے خارج ہونے والی تابکاری سے متاثرہ علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی کی تو حکومت نے کھیلوں کے میدان (فٹ بال گراؤنڈز) کو سکولوں میں تبدیل کر دیا تاکہ ہنگامی حالات کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیوں کا حرج نہ ہو۔ دنیا نے دیکھا کہ جاپان نے عوامی شعور میں اضافے اُور قواعدوضوابط (SOPs) پر سختی سے عمل درآمد کے ذریعے کورونا وبا پر قابو پایا اُور اپنی اِس کوشش میں وہ کامیاب رہے۔ اگر عوام کی نمائندگی کے لئے خود کو ’اہل‘ سمجھنے اُور اپنے آپ کو سماجی خدمات کے لئے رضاکارانہ طور پر پیش کرنے والے صرف اِس ایک بات کا فیصلہ کر لیں کہ وہ آئندہ کسی بھی صورت تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر ہونے نہیں دیں گے اُور مصمم ارادے کے ساتھ عہد کریں کہ اپنی سیاسی و انتخابی سرگرمیوں کو تعلیمی بندوبست اُور معمولات پر اثرانداز نہیں ہونے دیں گے تو اِس کے ثمرات معاشرے میں شعور اُور احساس ذمہ داری (civic-sense) کی صورت پھیلتے چلیں جائیں گے۔ اِس مرحلہ¿ فکر پر عام آدمی کو بھی مطالبہ کرنا چاہئے اُور اِس بات پر احتجاج ضروری ہے کہ سیاسی یا انتخابی سرگرمیوں کے لئے تعلیمی اداروں کی بندش نامنظور ہے تو سیاسی جماعتیں اُور آزاد اُمیدوار اِس ترمیم و اصلاح کو اپنے اپنے انتخابی منشور کا جز بنا لیں گے۔ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر اصلاح و تبدیلی کے لئے مالی وسائل (ترقیاتی فنڈز) درکار ہوں بلکہ بہت سارے کام عوامی شعور میں اضافے سے بھی عملاً ممکن بنائے جا سکتے ہیں۔ ”اِسی میں ذات کا ادراک‘ اِرتقا کا شعور .... مری نظر میں محبت ہے‘ انتہاءکا شعور (شاہد فیروز)۔“

....