Saturday, January 28, 2023

Motorways: the unsafe journey experiences.

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

موٹرویز : سہولیات و حفاظت کا معیار

پاکستان میں موٹروے سال 1997ءمیں متعارف ہوئی‘ جس کے بعد سے اِس کی توسیع جاری ہے۔ فی الوقت کثیر رویہ ’موٹرویز (شاہراہیں)‘ 2 ہزار 816 کلومیٹر طویل ہیں جبکہ 1 ہزار 213 کلومیٹر توسیعی منصوبے زیرغور یا زیرتعمیر ہیں۔ یہی موٹروے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کا بھی حصہ ہے جو چین کی سرحد (درہ خنجراب) سے شروع ہو کر گوادر (بندرگاہ) تک تجارتی راہداری ہے۔ پاکستان میں کل 16موٹرویز کا خاکہ تیار کیا گیا جن میں سے 11 کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد اِنہیں فعال کر دیا گیا ہے۔ موٹروے کے ہر حصے (سیکشن) کو انگریزی زبان کے حرف ’ایم (M)‘ سے شناخت کیا جاتا ہے جبکہ ’ایم‘ کے ساتھ کسی عدد (نمبر) کا اضافہ اُس کی انفرادیت کو ظاہر کرتا ہے جیسا کہ پشاور سے اسلام آباد (155 کلومیٹر) طویل موٹروے کو ’ایم ون (M-1)‘ کہا جاتا ہے اُور یہ سال 2007ءسے فعال ہے۔

موٹروے کا ذکر کرتے ہوئے سب سے پہلے ’ہائی وے سیفٹی ٹرانسپورٹیشن انجینئرنگ‘ کو دیکھا جاتا ہے جو کسی بھی شاہراہ یا موٹر وے کا سب سے اہم پہلو ہوتا ہے کیونکہ اگر بناوٹ میں نقص نہ ہو تو ٹریفک حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں بنا رکاوٹ اُور تیزرفتار سفر کے لئے موٹرویز کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے لیکن ’ہائی ویز‘ کو درپیش ’سیفٹی چیلنجز‘ خاطرخواہ توجہ سے حل نہیں کئے گئے۔ اِس منظرنامے سے متعلق یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ موٹروےز کے ساتھ حفاظتی امور سے جڑے مسائل (سیفٹی چیلنجز) کی ایک نئی جہت سامنے آئی ہے۔ موٹرویز کے سیفٹی مینجمنٹ کا تقاضا یہ ہے کہ حرکت کی رفتار برقرار رکھتے ہوئے حفاظتی مسائل کو زیادہ محتاط طریقے سے حل کیا جائے۔ موٹروے ہو یا کوئی عمومی شاہراہ‘ جن مقامات پر عموماً ٹریفک حادثات ہوتے ہیں‘ اُنہیں ”حادثاتی بلیک سپاٹس“ کہا جاتا ہے۔ یہ ’بلیک سپاٹس‘ تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے تخلیق پاتے ہیں جبکہ اِن کے دیگر محرکات (وجوہات) میں ڈرائیونگ میں مہارت کی کمی‘ ٹریفک قواعد سے متعلق خواندگی کی کمی‘ تیزرفتاری اُور بے صبری کا عمومی قومی رجحان‘ ٹریفک سائن بورڈز کی کمی‘ جیومیٹرک ڈیزائن کے مسائل اور پیدل چلنے والوں یا موٹرویز کے اردگرد کھیتوں سے مال مویشوں اُور جانوروں کا موٹرویز عبور کرنا جو اِس کے نامناسب ڈیزائن کا عکاس ہے چند ایسے پہلو ہیں‘ جنہیں خاطرخواہ توجہ حاصل نہیں اُور اگرچہ صارفین اِن کے بارے میں متعلقہ شعبوں کو شکایات درج کرواتے بھی ہیں لیکن غلطیوں کی اصلاح بہت ہی کم دیکھنے میں آتی ہے اُور پُرخطر موٹرویز پر سفری سلسلہ سالہا سال سے جاری ہے۔ انسانی جان کی اہمیت کا احساس فیصلہ سازی کی جس سطح پر ہونا چاہئے وہ دیکھنے میں نہیں آ رہا اُور یہی وجہ ہے کہ ایسے عوامل موجود ہیں جو آئے روز موٹرویز پر ہونے والے حادثات یا حادثات سے بال بال بچنے میں براہ راست یا بالواسطہ کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ اِن عوامل میں موسمیاتی تبدیلیاں اُور ماحولیاتی اثرات جیسا کہ دھند‘ سموگ وغیرہ کا بھی کافی عمل دخل ہے۔ اب تک کے موٹرویز تجربے یعنی عمومی مشاہدے اُور تجزئیات کو یکجا کیا جائے تو معلوم ہوتا کہ موٹرویز پر حادثات کی بڑی وجہ لاپرواہی سے گاڑی چلانا (2 فیصد)‘ تیز رفتاری (25 فیصد)‘ ٹائر پھٹنے سے حادثات (23فیصد)‘ بریک فیل ہونا (18فیصد) اور موٹرویز کو پیدل عبور کرنے کی کوشش میں (9فیصد) حادثات ہوئے ہیں۔ یہ اعدادوشمار سالہا سال سے کم و بیش ایک جیسے ہی ہیں جبکہ ضرورت یہ ہے کہ موٹروے سے استفادہ کرنے والے مسافروں کی آرا بھی اِس میں شامل ہونی چاہئے کہ خوش قسمتی سے زندہ بچ جانے والے موٹرویز کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اُور اُن کا سفری تجربہ کیسا رہا یا بار بار سفر کرنے میں اُنہیں کون کون سے ایک جیسے مسائل و مشکلات سے واسطہ پڑتا ہے یا مسائل و مشکلات اُن کی نظروں سے گزرتے ہیں؟ موٹرویز قومی اثاثہ ہیں جنہیں بہتر سے بہتر بنانے کے ساتھ اِن کے انتظامی امور (مینجمنٹ) میں وقت کے ساتھ اصلاحات ضروری ہیں تاکہ مسافروں کو معیاری سہولیات میسر آئیں۔ اُنہیں اپنی حفاظت کا احساس ہو۔ اِس مقصد کے لئے رہنمائی کا مناسب ”ٹریفک گائیڈنس اینڈ کنٹرول سسٹم“ ہونا چاہئے تاکہ گاڑیوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ جن دیہی یا شہری علاقوں کے آس پاس سے موٹرویز گزرتی ہے وہاں کے رہنے والے کسی نہ کسی مجبوری کی وجہ سے موٹروے پیدل عبور کرنے جیسا خطرہ مول لیتے ہیں جبکہ ایسے خطرات کو انڈر پاسیز بنا کر کم یا ختم کیا جا سکتا ہے۔ گاڑیوں بالخصوص پبلک ٹرانسپورٹ کو حد رفتار کا لحاظ پاس رکھنے کے لئے اُن کی رفتار ایک ٹول پلازے سے دوسرے ٹول پلازے تک دیکھی جانی چاہئے اُور پبلک ٹرانسپورٹ کے جو ڈرائیور تیزرفتار یا گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کریں اُنہیں سخت جرمانے ہونے چاہیئں۔ ٹائر پھٹنے کی وجہ سے ہونے والے حادثات کی روک تھام ’ٹائر چیکنگ گیج‘ اُور بریک فیل ہونے کی صورت حادثے سے بچنے کی تربیت کے لئے ذرائع ابلاغ (پرنٹ‘ الیکٹرانک میڈیا اُور سوشل میڈیا) کے ذریعے آگاہی مہمات چلائی جانی چاہیئں۔ شاہراؤں پر سفر محفوظ اُور قابل محظوظ بنانے کے لئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

موٹرویز اُور گرینڈ ٹرنک (جی ٹی) روڈ سے سفر کرنے میں دو بنیادی فرق ہیں۔ سب سے پہلا اُور نمایاں اُور انتہائی اہم فرق یہ ہے کہ موٹرویز پر ’جی ٹی روڈ‘ کے مقابلے فی گاڑی زیادہ ’ٹول ٹیکس‘ وصول کیا جاتا ہے۔ دوسرا فرق موٹرویز پر بنائے گئے قیام و طعام کے مقامات (ریسٹ ایریاز) میں خدمات کی قیمت نسبتاً زیادہ وصول کی جاتی ہے جبکہ تیسری عمومی شکایت قیام و طعام کے مقامات (ریسٹ ایریاز) میں بنائے گئے ’عوامی واش رومز‘ کی خراب حالت اُور صفائی کا انتہائی ناقص انتظام سے متعلق ہے۔ موٹرویز کو پیدل عبور کرنے کی کوشش عمومی حادثات کا باعث بنتی ہے جس میں انسانوں یا جانوروں کو بچانے کی کوشش میں جانی و مالی نقصانات معمول کی بات ہیں۔ ایسی کسی ہنگامی صورت میں اگر موٹرویز کے متعلقہ شعبے کو بذریعہ ”ہیلپ لائن فون نمبر 130“ اطلاع دی جائے تو یہ بات یقینی نہیں ہوتی کہ فوری مدد پہنچے گی۔ اگر ہنگامی حالات میں کی گئی کسی فون کال کو کئی منٹ تک انتظار کروانے کے بعد جواب دیا جائے تو اِس سے ’ہنگامی حالت (ایمرجنسی)‘ میں مدد کا تصور مجروح ہوتا ہے۔ موٹرویز پر سفر کا تجربہ مسافروں کے لئے کتنا شاندار اُور پُرخطر ہے اِس حوالے سے اگر تحقیق کی جائے تو موٹروے سے زیادہ محفوظ اُور ماحول دوست آمدورفت کا تصور تیز رفتار ریل گاڑی (بلٹ ٹرین) کا سامنے آئے گا جو کئی ہمسایہ ممالک میں انتہائی ترقی یافتہ اُور زیرزمین سرنگوں کی شکل میں فعال ملتا ہے۔

....


Sunday, January 1, 2023

Yearender Sports in 2022

 تحریک .... آل یاسین

کھیل کھلاڑی اُور کامیابیاں

کھیل کے میدان میں سال 2022ءکے دوران سمیٹی گئیں کامیابیوں پر نظر کی جائے تو سرفہرست کامیابی ’نوح دستگیر بٹ‘ کا وہ گولڈ میڈل تھا جو اُنہوں نے ”کامن ویلتھ گیمز“ کے دوران 405 کلوگرام وزن اُٹھا کر حاصل کیا۔ یہ اعزاز اِس لئے بھی اہم ہے کہ یہ پاکستان کے لئے پہلا طلائی تمغہ ہے۔ ویٹ لفٹنگ (وزن اُٹھانے میں) پاکستان کے کئی ویٹ لفٹرز نے نام کمایا ہے لیکن ’نوح دستگیر بٹ کا 405 کلوگرام وزن اٹھانا انتہائی غیرمعمولی کارنامہ ہے۔ پاکستان کے لئے سال کی دوسری اہم و نمایاں کامیابی ارشد ندیم کا کامن ویلتھ گیمز میں ’جیولن تھرو ایونٹ‘ میں گولڈ میڈل جینا تھا۔ انہوں نے 90.18 میٹر دور جیولن پھینک کر سونے کا تمغہ اپنے نام کیا اُور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ارشد ندیم نے ایتھلیٹکس میں پاکستان کی جانب سے پہلا طلائی تمغہ جیت کر ایک تاریخ رقم کردی ہے جس پر یقینا پاکستان کے فیصلہ سازوں کی نظر ہوگی اُور آئندہ کامن ویلتھ گیمز (2026ئ) میں یکساں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کے لئے تیاریاں کی جائیں گی۔ پاکستان کے لئے تیسری کامیابی کا تعلق بھی کامن ویلتھ گیمز ہی سے ہے جس کے کشتی (پہلوانی) میں حصہ لینے والے پاکستانی پہلوانوں نے اپنی طاقت اور مہارت سے 4 تمغے جیتے۔ انعام‘ زمان انور اور شریف طاہر نے بالترتیب 86کلوگرام‘ 125کلوگرام اور 74کلوگرام کیٹیگریز میں چاندی کے تمغے جیتے جبکہ عنایت اللہ نے 65کلوگرام کیٹیگری میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ کشتی (پہلوانی) میں پاکستانی کھلاڑی زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں اُور یقینا یہ پہلو بھی کھیلوں سے متعلق قومی فیصلہ سازوں کے پیش نظر ہوگا۔ 

کرکٹ کی دنیا میں سال دوہزاربائیس کے دوران پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فائنل میں جگہ بنائی تو اِس پر پوری قوم مسرور تھی۔ آسٹریلیا میں ہونے والے ٹی ٹوئٹنی ورلڈ کپ (ٹورنامنٹ) میں پاکستان کی کارکردگی کرشماتی رہی جس کا جادو فائنل میں نہ چل سکا لیکن برطانیہ سے فائنل ہارنے کے باوجود پاکستان ٹیم نے اپنی محنت کے لئے داد وصول کی۔ یقینی طور پر اپنے مکمل اعتماد اُور جذبے کے ساتھ کھیل سے شائقین کرکٹ بے حد خوشی اُور محظوظ ہوئے۔

پاکستان کے لئے سال دوہزار بائیس کی پانچویں کامیابی ’احسن رمضان‘ کے نام رہی جنہوں نے سنوکر نامی کھیل میں ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ سولہ سالہ احسن رضا ’آئی بی ایس ایف ورلڈ سنوکر ٹائٹل‘ جیتنے والے کم عمر ترین پاکستانی بن گئے ہیں۔ انہوں نے تجربہ کار ایرانی کیوئسٹ عامر سرکوش کو شکست دے کر ٹائٹل جیتا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے پاکستان کا چوتھا آئی بی ایس ایف ورلڈ سنوکر ٹائٹل بھی اپنے نام کیا۔ پاکستان کے لئے چھٹی کامیابی کا تعلق کرکٹ کے ایشیا کپ مقابلے سے ہے جس میں پاکستانی ٹیم فائنل تک پہنچی۔ یوں ٹیم گرین مینز ٹیم سپر فور راؤنڈ میں کامیابی کے بعد ایشیا کپ 2022ءکے فائنل میں پہنچی اُور اگرچہ فائنل میں سری لنکا سے مقابلہ ہار گئی لیکن پاکستانی کھلاڑیوں کا فائنل تک پہنچنے کا سفر کافی متاثر کن رہا۔

 پاکستان کو ساتویں کامیابی شاہ حسین شاہ نے دلوائی جنہوں نے جوڈو میں میڈل جیتا۔ شاہ حسین شاہ حالیہ کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لئے تمغہ جیتنے والے پہلے کھلاڑی تھے جس کے بعد ایونٹ میں دیگر پاکستانی ایتھلیٹس نے کامیابیاں حاصل کیں۔ شاہ حسین شاہ نے جوڈو ایونٹ کے مردوں کے 90کلوگرام مقابلے میں جنوبی افریقہ کے تھامس لسزلو بریٹن باخ کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ آٹھویں نمبر پر ہنزہ گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ’باکسر‘ العلومی کریم رہے جنہوں نے ’بنٹم ویٹ مقابلے‘ میں انڈین مکسڈ مارشل آرٹس ٹائٹل حاصل کیا۔ دبئی میں دسویں میٹرکس فائٹ نائٹ (ایم ایف این) ایونٹ کے پہلے راؤنڈ میں بھارت کے دھرو چودھری کو ناک آؤٹ کرنے کے بعد العلومی کریم نے بینٹم ویٹ چیمپیئن شپ جیتی۔

 سال دوہزار بائیس کی نویں اُور سب سے زیادہ پڑھی‘ دیکھی اُور سنی جانے والی خبر کرکٹ کے میدان سے تھی جس میں پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم نے بھارت کو شکست دی۔ پاکستان کی ویمنز کرکٹ ٹیم نے سلہٹ میں جاری ویمنز ایشیا کپ میں روایتی حریف بھارت کو شکست دی۔ ندا ڈار کی آل راؤنڈ کارکردگی کی بدولت پاکستان ویمنز نے تیرہ رنز سے تاریخی فتح حاصل کی۔ سال دوہزاربائیس کی دسویں خوشخبری کا تعلق ماضی سے زیادہ مستقبل سے ہے۔

 پاکستان کی فٹ بال کا عالمی مرحلے میں واپس آنا انتہائی اہم پیشرفت ہے۔ تقریبا تین سال بعد پاکستان کی مینز فٹ بال ٹیم بالآخر بین الاقوامی سرکٹ میں واپس آگئی ہے کیونکہ اس نے نیپال کے خلاف ایک دوستانہ میچ کھیلا اُور اگرچہ پاکستان وہ میچ نہیں جیت سکا لیکن اِس عالمی مقابلے کی بدولت پاکستان عالمی فٹ بال کی سرگرمیوں کو دوبارہ شروع کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اِسی طرح پاکستان کی خواتین فٹ بال ٹیم نے ساؤتھ ایشین فٹ بال فیڈریشن (SAFF) مقابلوں کے ویمنز کپ میں مالدیپ کے خلاف سات صفر سے تاریخی فتح حاصل کی۔

....