Showing posts with label HMC. Show all posts
Showing posts with label HMC. Show all posts

Wednesday, November 15, 2017

Nov 2017: Medical Management & Governance in KP exposed

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
’بے حسی‘ بمقابلہ ’بے بسی‘
پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں تین ماہ تک تعینات رہنے والے جعلی ڈاکٹر کا معاملہ نہ صرف صوبائی حکومت بلکہ ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیموں کے لئے ’دردسر‘ بنا ہوا ہے‘ جو الگ الگ مطالبہ کر چکے ہیں کہ مذکورہ سرکاری علاج گاہ سمیت خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں علاج معالجہ یا اِس سے متعلق مشاورت اُور فیصلہ سازی کرنے والوں کی تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال ہونی چاہئے لیکن آخر یہ کام (کارِدارد) کون کرے گا؟ جن فیصلہ سازوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھاری تنخواہوں اور مراعات کے عوض ڈاکٹروں کی تعیناتیاں (خدمات سے استفادہ) اور ہسپتالوں کے دیگر انتظامی امور طے کریں‘ وہی اگر مطالبہ کر رہے ہیں توکس سے!؟ کیا یہ ذمہ داری عوام کی ہے کہ وہ سرکاری ہسپتالوں کے مالیاتی (فنانشیل) امور اُور کارکردگی (پرفارمنس) کا الگ الگ جائزہ (آڈٹ) کریں؟ عوام ہی متاثرین بھی ہیں‘ قصوروار اور ذمہ دار بھی کہ وہ معالجین اور معاون طبی و غیر طبی عملے کی تعلیمی و دیگر اسناد کا جائزہ لیں؟؟

’جعلی ڈاکٹر‘ کا انکشاف اور اِس سے متعلق عوامی حلقوں میں تشویش کا آغاز ’بیس اکتوبر‘ کے روز اُس وقت ہوا‘ جب ’حیات آباد میڈیکل کمپلیکس‘ ہسپتال پشاور کی انتظامیہ نے پولیس میں رپورٹ (ایف آئی آر) کرائی کہ ’قدرت اللہ شاہ سکنہ بنوں‘ نامی ایک شخص ’جعلی ڈاکٹر‘ کے طور پر تعینات رہا ہے لیکن ابتدائی تفتیشی رپورٹ (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ‘ ایف آئی آر) درج ہونے کے فوراً بعد بھی پولیس مذکورہ جعل ساز کو گرفتار نہیں کر سکی جس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پولیس کی نظر میں قدرت اللہ شاہ واحد ایسا ڈاکٹر نہیں جس نے سرکاری اداروں میں بھرتیوں اُور تعیناتیوں کے نظام میں پائی جانے والی خامیوں‘ کمزوریوں یا خرابیوں (سقم) کا فائدہ اُٹھایا ہے۔ جب تک ڈاکٹروں سمیت ہر سرکاری ملازم کے کوائف اور اسناد کی جانچ نہیں ہو جاتی‘ اُس وقت یہ بات وثوق (دعوے) سے نہیں کہی جا سکے گی کہ ’قدرت اللہ شاہ‘ ہی ایسا واحد ’قومی مجرم‘ ہے جو سرکاری وسائل لوٹتا رہا‘ جو انسانی جانوں سے کھیلتا رہا اُور یہ کھیل کسی دُور دراز ضلع (دیہی علاقے) میں نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی ناک کے نیچے پشاور میں عرصہ تین ماہ تک جاری رہا! کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ وہ عرصہ تین ماہ نہیں بلکہ دو سال سے اعلیٰ عہدے پر تعینات رہا۔

معمہ تاحال حل نہیں ہو سکا کہ ’قدرت اللہ شاہ‘ کون تھا‘ کیا تھا اور اُسے زمین نگل گئی یا آسمان؟ اِس سلسلے میں ’حیات آباد میڈیکل کمپلیکس‘ کے ڈاکٹر شہزاد اکبر کا بیان ’آن دی ریکارڈ‘ ہے کہ ۔۔۔ ’’بطور مبصر (آبزرور)‘ زیرتربیت میڈیکل ڈاکٹر (ٹرینی میڈیکل آفیسر ٹی ایم اُو) مذکورہ جعل ساز کی تعیناتی ’ہسپتال میں ڈاکٹروں کو علاج معالجے کی نجی سہولیات فراہم کرنے کی حکمت عملی ’’ہسپیٹل بیسڈ کلینک‘‘ پروگرام کے تحت ہوئی اور اُس کی تعیناتی متعلقہ شعبے (فیکلٹی) کے نگران ’ڈاکٹر نور وزیر‘ نے کی تھی۔‘‘ وہ ایک جعلی ڈاکٹر تھا‘ جسے ایک بڑے سرکاری ہسپتال کے وسائل استعمال کرنے کی اجازت دینے سے قبل خاطرخواہ تحقیق سے کام نہ لینے والے نگران (ڈاکٹر وزیر) بھی یکساں ’شریک جرم‘ ہیں بلکہ ڈاکٹر وزیر کی کارکردگی پر نگاہ رکھنے والے محکمۂ صحت خیبرپختونخوا کے فیصلہ سازوں کو بھی سزا ملنی چاہئے کہ جنہوں نے اپنی آنکھیں بند رکھیں اُور ہسپتال کے معاملات کو اِس حد تک ’فرد واحد‘ کے سپرد کئے رکھا تھا کہ وہ سیاہ و سفید کا مالک بن کر جو چاہے کرتا رہا لیکن اُس کی جعل سازی‘ نااہلی اور کام چوری پر گرفت نہ کی جاسکی! خرابی نظام کی ہے‘ جس میں شخصیات بااختیار ہیں۔ خیبرپختونخوا میں تبدیلی لانے کی دعویدار صوبائی حکومت کے دامن پر لگنے والا یہ داغ (قدرت اللہ شاہ) قطعی معمولی نہیں جس نے محکمۂ صحت کے پورے انتظامی ڈھانچے پر کئی سوال کھڑے کر دیئے ہیں! کون سا حکومتی اہلکار کس عہدے کے لئے اہل ہے‘ اِس کی جانچ پڑتال ہونی چاہئے لیکن یہ تحقیق (بات) صرف نچلے درجے کے ملازمین سے نہیں بلکہ وزیر‘ سیکرٹری اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کے دفاتر سے شروع ہونی چاہئے اور اگرچہ (جعل ساز) ’قدرت اللہ شاہ‘ کے بارے میں سبھی حقائق سامنے نہیں آئے لیکن گندگی کو قالین کے نیچے چھپانے (رازداری سے معاملہ کرنے) کی بجائے صوبائی حکومت عوام شفافیت (سنجیدگی) سے کام لے کیونکہ یہ معاملہ قطعی طور پر سطحی نہیں۔ 

ایک غلطی کا ازالہ دوسری غلطی نہیں ہو سکتی!

قدرت اللہ شاہ (جعلی ڈاکٹر) کے منظرعام پر آنے کا واقعہ بھی کافی دلچسپ اور اتفاقی امر ہے۔ 17 اکتوبر (دوہزارسترہ) کے روز حیات آباد میڈیکل کمپلیکس ہسپتال (پشاور) کے ’شعبۂ امراض قلب‘ میں بطور تربیتی رجسٹرار کام کرنے والے ایک ڈاکٹر نے ہسپتال کے میڈیکل وارڈ کا دورہ کیا جہاں اُن کے کسی عزیز کو علاج معالجے کے لئے لایا گیا تھا۔ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر سے مریض کی حالت اور بیماری کے بارے میں تبادلۂ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر کو شک ہوا کہ وہ غلط بیانی سے کام لے رہا ہے۔ اِس بات کی تحریری اطلاع ہسپتال انتظامیہ کو بطور شکایت دی گئی‘ جس کے بعد حسب روایت معاملہ رفع دفع کرنے کے لئے ’تین رکنی‘ تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی تاہم معاملہ ’ینگ ڈاکٹروں‘ کے ہتھے چڑھ گیا‘ جو بقول صوبائی حکومت سیاسی عزائم رکھتے ہیں! جعلی ڈاکٹر معاملے کی چھان بین کے دوران مزید حیران کن تفصیلات منظرعام پر آتی چلی گئیں۔ 

تحقیقاتی کمیٹی کو ’تین بنیادی‘ کام کرنا تھے۔ 1: قدرت اللہ شاہ کو کس نے تعینات (بھرتی) کیا؟ 2: اگر وہ بطور ’ٹرینی میڈیکل آفیسر‘ تعینات تھا تو کیا اِس عرصے میں اُس نے ماہانہ تنخواہ اور دیگر مالی مراعات بھی لیں؟ اُور 3: کیا وہ اپنی تعیناتی کے دوران مریضوں کا علاج معالجہ بھی کرتا رہا؟ ’’میڈیکل اے یونٹ‘‘ کے نگران ڈاکٹر نور وزیر کہ جنہوں نے جعل ساز کو تعینات کیا‘ کو اُن کے عہدے سے الگ نہیں کیا گیا جنہوں نے اپنی بے گناہی (معصومیت) کا یقین دلاتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی کو بتایا کہ ’’چند ماہ قبل دو ڈاکٹر اُن کے پاس آئے‘ جن میں سے ایک ’ہاؤس جاب‘ کے لئے درخواست گزار تھا اور ایسا عموماً و معمول کے مطابق ہوتا ہے‘ جس پر اُنہوں نے بیک وقت آنے والے دونوں ڈاکٹروں کو اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے تعینات کر دیا‘ جن میں سے ایک اپنی ’ہاؤس جاب‘ مکمل کرنے کے بعد چلا گیا لیکن جعل ساز (قدرت اللہ شاہ) مقیم رہا۔‘‘ حقیقت حال یہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں صرف مریضوں ہی کا ہجوم نہیں رہتا بلکہ یہاں فی مریض مطلوبہ تعداد سے کم ڈاکٹروں کی وجہ سے ہر وقت ’ہنگامی حالت‘ نافذ رہتی ہے۔ ہلاگلہ کے ماحول میں اگر کسی جعل ساز نے ہسپتال کے انتظامی معاملات میں خامیوں کا فائدہ اُٹھایا تو اُن امور کی اصلاح (سدباب) بھی ضروری ہے۔

تلخ حقیقت یہ ہے کہ سینیئر و جونیئر ڈاکٹر ہوں یا ہسپتال کے امور اور محکمۂ صحت کی انتظامیہ سبھی فیصلہ ساز ایک دوسرے کی کارکردگی پر نہ تو اعتماد کرتے ہیں اور نہ ہی اِن کی نظر میں کلیدی و عمومی عہدوں پر ’’اہل‘‘ افراد تعینات ہیں! 

دوہزار پندرہ میں میٹرک کا امتحان پاس کرنے والے جعلی ڈاکٹر (قدرت اللہ شاہ) کے بارے میں یہ بھی انکشاف اپنی جگہ ’آن دی ریکارڈ‘ ہے کہ اُس کی کم سے کم تین ماہ تعیناتی اور سرکاری وسائل و رہائش گاہ سے استفادہ ایک سینیئر ڈاکٹر کی پشت پناہی سے ممکن ہوئی۔ یہ امر بھی تشویش کا باعث ہے کہ بطور ’’سینیئر‘ ٹی ایم اُو‘‘ تعینات رہنے والا جعلی ڈاکٹر (قدرت اللہ شاہ) خواتین ڈاکٹروں کو ہراساں بھی کرتا رہا اُور نجانے کتنے ہی ’قدرت اللہ شاہ‘ (جعلی ڈاکٹر) اب بھی عام آدمی (ہم عوام) کی جانوں سے کھیلنے اور سرکاری وسائل کی لوٹ مار میں مصروف ہوں گے! 

شاید یہی وجہ ہے کہ صحت کا نظام پر اعتماد اُور اِسے درست (اصلاح) کرنے کی بجائے (بے حس) سیاست دان اِس بات کو زیادہ آسان (موزوں) سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے اور عزیزواقارب کے علاج معالجے کے لئے بیرون ملک سہولیات سے استفادہ کریں۔ مسئلہ تو (بے بس) عام آدمی (ہم عوام) کا ہے جس کی جان و مال کو لاحق خطرات کا شمار ممکن نہیں۔ آخر اِس ملک کا عام آدمی (بیچارہ) کرے تو کیا کرے اُور جائے تو جائے کہاں؟
۔

Tuesday, October 27, 2015

Oct2015: Fact not to be ignored

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
غورطلب حقائق!
نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این اے ایچ) کے مطابق ناران کے راستوں پر برف کی 4فٹ تہہ ہٹا دی گئی ہے تاہم اندرون ناران کی سڑکوں پر پھنسے ہوئے سیاحوں کی وجہ بے ہنگم ٹریفک اور سڑک کنارے کھڑی (پارک کی گئیں) گاڑیاں ہیں‘ جنہیں ہٹائے بناء معمول کے مطابق آمدورفت کی روانی ممکن نہیں بنائی جا سکتی۔ قابل ذکر ہے کہ ناران میں پچاس غیرملکی سیاح بھی چند فٹ برف کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں اور انتظامیہ کے مطابق غیرملکی سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ غیرملکی سیاح حیران ہوں گے کہ اگر ناران میں پہلی مرتبہ برفباری نہیں ہو رہی اُور محکمۂ موسمیات نے مطلع (خبردار) بھی کر رکھا تھا تو پھر حکومتی اداروں نے ایک ایسے سیاحتی مقام تک رسائی اور آمدورفت کو بحال کیوں نہیں رکھا‘ جہاں صرف کم و بیش پانچ ہزار سیاحوں کا نہیں بلکہ مقامی آبادی کی ضروریات کا بھی انحصار ہے!

پاک فوج کے ادارے ’ایف ڈبلیو اُو‘ نے برف ہٹانے کے سلسلے میں سب سے پہلے اپنی ذمہ داری محسوس کی اور بٹہ کنڈی سے ناران تک سڑک کا حصہ صاف کیا‘ تاہم سوال یہ ہے کہ اِس صورتحال میں ’قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے ’پی ڈی ایم اے‘ کا کردار کیا ہے؟ پی ڈی ایم اے کے نگران عامر آفاق کا کہنا ہے کہ ’’ہمارے پاس بھاری مشینری نہیں اور ہم قدرتی آفات کی صورت دیگر اداروں سے کورآرڈینشن (رابطہ کاری) کی ذمہ داری نبھاتے ہیں!‘‘ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے سیاحتی امور امجد آفریدی کے بقول صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے لیکن کیا ’ناران زدگان‘ کی فریادیں اور انتظامات پر غور نہیں ہونا چاہئے؟ اگر جملہ سیاحتی مقامات پر الگ ایف ایم ریڈیو‘ شمسی توانائی اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ سے منسلک کلوزسرکٹ ٹیلی ویژن نصب ہوتے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ ناران کی چند فٹ برف اتنی بڑی خبر بنتی۔ سیاحتی مقامات کی سیر کے لئے جانے والوں کی رہنمائی کس کی ذمہ داری ہے؟ محکمۂ موسمیات کی پیشگوئیوں سے سیاحوں کو مطلع کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟

ڈی پی اُو مانسہرہ نجیب الرحمن کی منطق ملاحظہ کیجئے جن کا کہنا ہے کہ ’’محرم الحرام کی تین چھٹیوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں سیاح ناران پہنچے جہاں پارکنگ گنجائش سے زیادہ ہونے کی وجہ سے سڑک کا استعمال کیا گیا۔ سیاحوں نے تین قطاروں میں گاڑیاں کھڑی کیں جس سے وہ پھنس کر رہ گئے۔ جہاں تک موسمی حالات کا تعلق ہے تو عموماً اس قسم کی شدید برفباری ماہ دسمبر میں ہوتی ہے۔ یہ ایک قدرتی آفت ہے اور ذرائع ابلاغ نے اِس مسئلے کو جس قدر اُچھالا ہے‘ درحقیقت یہ اُتنا بڑا نہیں۔ محکمہ پولیس اور انتظامیہ برفانی تودہ میں پھنسے ہوئے پندرہ مزدوروں کو نکالنے میں بھی مصروف تھی جن میں ایک ہلاک ہوا جبکہ باقی کو زندہ بچا لیا گیا۔ یوں بیک وقت دو الگ الگ محاذوں پر توجہ ہونے کی وجہ سے سیاحوں کو شکایت رہی‘ جس کا ازالہ کیا جارہا ہے۔‘‘ لیکن یخ بستہ رات اور پورا دن کھلے آسمان تلے بسر کرنے والے چھبیس اکتوبر کی سہ پہر تک پھنسے ہوئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ آئندہ چوبیس سے چھتیس گھنٹے برفباری اور بارش کا سلسلہ جاری رہے گا! علاقے میں سردی کی شدید لہر‘ مزید برفباری‘ پانچ کلومیٹر لمبی گاڑیوں کی قطار‘ پیٹرول اور ڈیزل دستیاب نہ ہو‘ ہوٹل مالکان نے ناجائز منافع خوری کے لئے رہائشی سہولیات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہو اور اشیائے خوردونوش الگ سے مہنگی کر دی ہوں‘ بیشتر علاقوں میں موبائل فون رابطہ کاری بھی معطل ہو تو کیا یہ معمول کی صورتحال ہے؟ مہذب ملک ہوتا تو سیاحت کے وزیرومشیر اور معاونین معطل ہو چکے ہوتے لیکن چونکہ عام لوگ پریشانی و اذیت سے گزر رہے ہیں‘ اِس لئے حکام کے لب ولہجے سے تشویش عیاں نہیں!
سیکورٹی خدشات کی موجودگی میں ’محرم الحرام‘ کا پہلا عشرہ مجموعی طور پر پرامن انداز میں گزرا۔ دس روز میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات میں جیکب آباد سندھ کے ایک ماتمی جلوس پر ہوا حملہ شدید ترین تھا‘ جس سے متاثرہ تشویشناک حالت والے زخمیوں کو کراچی منتقل کرنا پڑا کیونکہ علاقائی و ضلعی سطح علاج معالجے کی سہولیات ناکافی تھیں۔ ہسپتالوں کی عمارتیں موجود لیکن ڈاکٹرز اور ادویات دستیاب نہیں تھیں۔ 26 اکتوبر کے روز آغا خان ہسپتال میں زیرعلاج اِس دھماکے کی ایک زخمی بچی دم توڑ گئی جس سے مرنے والوں کی تعداد 28 ہو گئی جبکہ اس حملے کے 38 زخمیوں میں سے 8کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ صوبہ سندھ کے اِس واقعہ کو دیکھتے ہوئے خیبرپختونخوا میں صحت کی سہولیات کا بھی جائزہ لینا چاہئے کیونکہ جب تک دیہی علاقوں اور اضلاع کی سطح پر ہسپتالوں کا نیٹ ورک وسیع‘ مستعد و فعال نہیں بنا دیئے جاتے‘ ضلعی اور مرکزی ہسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ برقرار رہے گا‘ بالخصوص کسی ہنگامی صورتحال میں زیادہ بڑے پیمانے پر جانی نقصانات کا اندیشہ موجود ہے اور رہے گا۔ محکمۂ صحت کے فیصلہ سازوں سے التجا ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور کے ہسپتالوں پر توجہ مرکوز رکھنے کی بجائے ’فرصت کے چند لمحات‘ میں دیہی و بالائی پہاڑی علاقوں کے بارے میں بھی سوچیں کیونکہ غورطلب حقائق میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ جب تک کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوتا‘ روایت رہی ہے کہ حکومت اور متعلقہ شعبوں کے ذمہ دار اُس جانب توجہ نہیں کرتے۔ سردست صحت کے ذمہ داروں کی کارکردگی سے حاصل ’خوش خبری‘ یہ ہے کہ ’’حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور میں شام کے اوقات میں ’سرجیکل اور گائنی سمیت 9 شعبوں‘ میں ’اُو پی ڈی‘ کا آغاز 26اکتوبر کی ’اَبرآلود صبح‘ کر دیا گیا ہے‘‘ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اِس سرکاری ہسپتال میں ’’تیسری مرتبہ‘‘ ہونے والا یہ تجریہ کس حد تک کامیاب ثابت ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں اِسی قسم کی کوششیں اس لئے ناکام ہوئیں کیونکہ ڈاکٹر شام کے اوقات میں اپنے نجی کلینک چلاتے ہیں اور اُن کی ترجیح ’ذاتی کاروبار‘ رہے جو محض مریضوں کے معائنے کی حد تک محدود نہیں بلکہ ان کے ساتھ تجزیہ گاہوں اور ادویات فروشی کے کاروبار بھی جڑے ہوئے ہیں‘ جن کا حجم کروڑوں روپے ماہانہ ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجیکی معیاری و ہمہ وقت سہولیات کی فراہمی محض نیک نیتی یا خواہشات کے ذریعے ممکن نہیں۔ مریضوں سے پہلے ڈاکٹروں کی اُس اکثریت کا علاج ضروری ہے‘ جو ذاتی مفادات کے سامنے قواعد و ضوابط حتیٰ کہ انسانی جان کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دیتے۔ مادی دنیا کی ضروریات اپنی جگہ لیکن مسیحاؤں کو ضمیر کی عدالت میں اپنے کردار کا محاسبہ کرنا چاہئے۔ ایسا نہیں کہ ہمارے ہاں انواع و اقسام نے امراض نے مستقل ڈیرے جما رکھے ہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ مرض کی تشخیص اور علاج کے درمیان دانستہ طور پر اتنا طول رکھا گیا ہے کہ جب تک مریض کسی ڈاکٹر کے نجی کلینک سے رجوع نہ کرے‘ اُسے نہ تو تسلی ہوتی ہے اور نہ ہی شفایابی۔ خوداحتسابی سے کام لیتے ہوئے کم آمدنی والے طبقات کی مشکلات و پریشانیوں کے بارے میں صرف ڈاکٹروں ہی کو نہیں بلکہ صوبائی حکومت کو بھی دردمندی کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا‘ تاکہ اُن سے وابستہ توقعات پوری ہو سکیں۔
Tourism & Health,how badly both are ignored