Showing posts with label Housing Project. Show all posts
Showing posts with label Housing Project. Show all posts

Monday, November 22, 2021

Housing the Housing Sector!

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

ہاؤسنگ: سعی لاحاصل

متحدہ مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی عنایت اللہ خان نے جس اہم مسئلے کی جانب قانون ساز ایوان کے ذریعے خیبرپختونخوا حکومت کی توجہ مبذول کروائی ہے وہ مکانات کی کمی ہے اُور اِس بات کو صوبائی حکومت بھی تسلیم کرتی ہے کہ اگرچہ خیبرپختونخوا حکومت گھروں کی تعمیر کے متعدد منصوبے شروع کئے ہوئے ہے لیکن صوبے میں مجموعی طور پر سات لاکھ سے نو لاکھ (قریب ایک ملین) گھروں کی کمی ہے۔ ہاؤسنگ کے صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد علی خان صوبائی اسمبلی ایوان کو (ستمبر دوہزار اکیس) میں مطلع کر چکے ہیں کہ رہائشی مکانات کی کمی سے نمٹنے کے لئے حکومت اپنے وسائل میں رہتے ہوئے اقدامات کر رہی ہے لیکن اُن کی جانب سے ایوان کو دی جانے والی یقین دہانی پر حزب اختلاف کی جماعتوں کو زیادہ اطمینان نہیں اُور وہ صوبائی حکومت سے اِس مسئلے میں 2 طرح کے اُور فوری اقدامات (کوئیک ایکشن) کے خواہاں ہیں۔

حزب اختلاف چاہتی ہے کہ ہر ضلع کی سطح پر گھروں کی کمی کے بارے میں اعدادوشمار مرتب کر کے حکمت عملی وضع کی جائے کیونکہ جب حکومت زیادہ بڑے پیمانے پر گھروں کی کمی پورا کرنے کے لئے منصوبے بناتی ہے تو اِس سے دو طرح کی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک تو لاگت زیادہ ہونے کی وجہ سے منصوبوں کو آئندہ مالی سالوں کی ترقیاتی حکمت عملیوں کے لئے اُٹھا رکھا جاتا ہے اُور محکمہ خزانہ سے سفارشات طلب کی جاتی ہیں‘ جو صوبائی محصولات (ٹیکسوں) میں اضافے کی تجویز دیتی ہے اُور نئے ٹیکس کسی بھی صورت ناقابل قبول نہیں ہو سکتے کیونکہ عام آدمی (ہم عوام) پہلے ہی مہنگائی کے سبب کم ہوتی قوت ِخرید کی وجہ سے پریشان ہیں اُور عوام کو نئی پریشانی میں مبتلا کرنا منطقی نہیں۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ حکومت جب بڑے پیمانے پر گھروں کی تعمیر کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ فیصلہ شہری آبادی کے قریب کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے دیہی و مضافاتی علاقوں سے شہروں کی جانب نقل مکانی کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے یعنی جس رجحان کی حکومت کو خود حوصلہ شکنی کرنی چاہئے لیکن وہ غیرمحسوس انداز میں خود اِس بات کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ لوگ شہروں کی جانب نقل مکانی کریں۔ یہ پہلو بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے مالی وسائل کی فراہمی وفاقی حکومت کی مہربانی سے مشروط ہے اُور گزشتہ کئی دہائیوں سے صوبائی آئینی حقوق کی ادائیگی نہیں ہو رہی‘ جس کے لئے جدوجہد میں ماضی کی طرح موجودہ صوبائی حکومت بھی مصلحتوں سے کام لے رہی ہے کیونکہ سیاسی حکومتوں کی مجبوریوں میں یہ بات بھی شامل ہوتی ہے کہ انہیں وفاق سے اپنے تعلقات بنائے رکھنے ہوتے ہیں بلکہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ وفاق ہی کی حمایت سے صوبائی حکومت قائم و برقرار رہتی ہے۔

رہائشگاہوں کی تعمیر کے لئے بڑے پیمانے پر سوچنے اُور اقدامات کرنے سے بہتر ہے کہ ضلعی وسائل (مقامی آمدنی) اُور اضلاع کی ترقی کے لئے مختص وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحات کا تعین کیا جائے اُور اِس سلسلے میں سب سے بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہر کام صوبائی حکومت اپنے ذمے لینے کی بجائے بلدیاتی اداروں کو قائم کرے‘ اُنہیں مضبوط بنائے اُور ترقی کے عمل میں بلدیاتی اداروں کی سطح پر ہونے والی مشاورت یا غوروخوض سے کام لے۔ عمومی مشاہدہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے نامزد منتخب اُمیدوار جب صوبائی اُور قومی سطح پر اپنے اپنے انتخابی حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں تو وہ علاقائی مسائل سے زیادہ قومی سیاست (سیاسی مفادات) سے متعلق سوچ بچار میں اپنی توانائیاں زیادہ خرچ کر رہے ہوتے ہیں اُور یہی وہ مرحلہ فکر ہے‘ جسے سیاست کا منفی پہلو قرار دیتے ہوئے بلدیاتی اداروں کو غیرسیاسی رکھنے کی حمایت کی جاتی ہے لیکن شاید شعور کی موجودہ سطح پر ایسا کرنا ممکن نہیں۔

خیبرپختونخوا قانون ساز ایوان میں ’ہاؤسنگ کی ضروریات‘ کمی اُور اِس سے جڑے دیگر مسائل‘ کئی مرتبہ زیرغور آ چکے ہیں اُور ہر موقع پر حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے جس ایک نکتے پر بطور خاص زور دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ”صوبائی حکومت زراعت کے لئے زیراستعمال اُور قابل کاشت اراضی پر رہائشی بستیاں آباد کرنے کی اجازت نہ دے۔“ اُور اِس تجویز و معاملے سے خود حکومتی اراکین بھی اتفاق کرتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ رہائشی ضروریات اِس قدر زیادہ ہیں اُور بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے اِن کی طلب میں اِس قدر تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے کہ حکومت زرعی اراضی پر نئی رہائشی بستیوں کے قیام کو روکنا چاہے بھی تو نہیں روک سکتی کیونکہ اِس کے لئے متعلقہ اداروں سے اجازت کے لئے اُس وقت رابطہ کیا جاتا ہے جب یہ بستیاں تقریباً آباد ہو چکی ہوتی ہیں۔ قانون شکنی کے اِس انداز کی پشت پناہی کرنے والے کون ہیں اُور اِس میں عوام کے منتخب نمائندوں اُور اِنتخابی حلقوں کی سیاست کا کس قدر عمل دخل ہے‘ یہ بیان کرنے کی قطعی ضرورت نہیں کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ کس طرح قانون بااثر طبقات اُور عوام سے الگ الگ معاملہ کرتا ہے اُور جب تک قانون کی ’یکساں بلاامتیاز اُور بنا مصلحت حکمرانی‘ عملاً قائم نہیں ہو گی اُس وقت تک ہاؤسنگ کی ضروریات اُور زرعی اراضی کا تحفظ ہی نہیں بلکہ دیگر بحران کی صورت اختیار کئے سماجی مسائل بھی حل نہیں ہوں گے‘ بھلے کتنی ہی زبانی و کلامی کوشش کر لی جائے۔ ”وہ جس کی تاب و توانائی کا جواب نہیں .... ابھی وہ سعی جنوں خیز کامیاب نہیں (مجاز)۔“

....





Wednesday, March 23, 2016

Mar2016: Hopes & Disappointments about Regi!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اُمید و یاس: ریگی ماڈل ٹاؤن
درخت امن‘ خوشحالی اور زندگی کی علامت ہیں‘ جنہیں اُن کے تعمیروترقی کا استعارہ قرار دیتے ہوئے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خان خٹک نے روایت شکنی اور غیرمعمولی جرأت و بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ماضی کے حکمرانوں کی طرح جنگلات کے عالمی دن (اکیس مارچ) کے موقع پر وزیراعلیٰ نے نہ صرف خود بلکہ اپنی سیاسی جماعت کے سربراہ عمران خان کے ہمراہ ایک ایسا خطرہ مول لیا‘ جس کا ایک عرصے تک تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے اور پشاور میں امن و امان کی صورتحال کی بہتری کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ وزیراعلیٰ جیسی اہم شخصیت ایسے علاقے کا دورہ کرنے گئی جو ’نوگو ایریا‘ سمجھا جاتا رہا ہے۔ وہ اگر چاہتے تو کسی ’سرکاری عمارت یا اپنی رہائشگاہ‘ کے سبزہ زار میں بھی رسمی طور پر ایک درخت لگا کر اُس شجرکاری مہم کا افتتاح کرسکتے تھے‘ جس میں رواں سال دس لاکھ جبکہ پانچ سالہ حکمت عملی کے تحت ایک کروڑ سے زائد درخت لگائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ کے ہمراہ دیگر اہم شخصیات اور اِس موقع پر موجود نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے ایک ایسی اجاڑ زمین میں پودے لگائے جہاں اِس قسم کی سرگرمیوں کے انعقاد کا تصور تک نہیں کیا جاسکتا تھا اُور اہم شخصیات تو درکنار مسلح پولیس اہلکار بھی دن دیہاڑے جانے سے کتراتے تھے۔ یہ بات وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں بھی کہی اُور اِس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ایک دہائی سے قانونی کاروائیوں کے باعث سردخانے کی نذر ’ریگی (للمہ) ماڈل ٹاؤن‘ نامی ایک معیاری و ضروری ’جدید سہولیات سے آراستہ رہائشی منصوبے‘ کو مکمل کی جائے گا اور اِس اراضی پر ملکیت کا دعویٰ رکھنے والے مقامی افراد کی رضامندی حاصل کی جائے گی۔‘‘

ریگی ماڈل ٹاؤن نہایت ہی خطرناک‘ پیچیدہ اور دیرینہ تنازعہ ہے‘ یوں محسوس ہوتا ہے کہ اِس معاملے کو جتنا سلجھانے کی کوشش کی جاتی ہے یہ اتنا ہی الجھتا چلا جا رہا ہے اور یقینی امر ہے کہ اگر صوبائی حکومت اِس منصوبے کی تکمیل میں دلچسپی لے گی تو مخالفت کرنے والے عناصر کی تسلی و تشفی ممکن ہے۔ یاد رہے کہ 25 برس قبل (سال 1991ء میں) شروع ہونے والا ’ریگی ماڈل ٹاؤن‘ منصوبہ 27 ہزار سے زائد مکانات پر مشتمل ہوگا لیکن چونکہ ’پشاور کے ترقیاتی ادارے (پی ڈی اے)‘ نے منصوبے کے اراضی کی حصول (خریداری) میں خاطرخواہ احتیاط و دردمندی کا مظاہرہ نہیں کیا‘ اِس لئے کئی فریق اِس بنجر زمین کی ملکیت کے اچانک دعویدار بن کر سامنے آگئے اور انہوں نے بھاری رقومات (معاوضے) کامطالبہ شروع کردیا۔ المیہ ہے کہ غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے دو دہائیوں سے زائد التوأ کا شکار رہنے والے اِس منصوبے کی تکمیل پر لاگت کا تخمینہ کئی ہزار گنا بڑھ چکا ہے۔ تصور کیجئے کہ جو منصوبہ صرف 7 ارب روپے سے مکمل ہو سکتا تھا اب اُس کی تکمیل کے لئے 35ارب روپے درکار ہوں گے!
پشاور کی آواز (Peshawar Voice) کے نام سے سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ ’ٹویٹر‘ پر ’ریگی ماڈل ٹاؤن‘ منصوبے کیجانب فیصلہ سازوں کی توجہ مبذول کرانے کی ایک ’خصوصی مہم‘ @Regi_Model_Town کے ہینڈلر سے جاری ہے اور اِس مہم کی حمایت یا اِس میں سرگرمی سے حصہ لینے والے اراکین کی تعداد (بائیس مارچ دوہزار سولہ دوپہر دو بجے تک) 1769 تک پہنچ چکی ہے۔ اِس گروپ کی جانب سے 217 افراد کے دستخطوں سے 2 سال قبل ایک ’کھلا خط‘ بنام عمران خان‘ اسد عمر‘ وزیراعلیٰ پرویز خٹک اُور وزیر بلدیات عنایت اللہ کے نام شائع کیا گیا جس کا یک نکاتی مطالبہ یہ تھا کہ ’’گرین اینڈ کلین پشاور‘‘ نامی مہم میں ’ریگی ٹاؤن شپ‘ کو بھی شامل کی جائے۔‘‘ تنظیم کی جانب سے صوبائی حکومت کی توجہ اِس امر کی جانب بھی مبذول کرائی گئی کہ ’ریگی منصوبے‘ پر کروڑوں روپے خرچ ہوچکے ہیں‘ جن سرکاری ملازمین کو چھت فراہم کرنے اور گنجان آباد پشاور میں رہائش کا مسئلہ حل کرنے کے لئے ایک معیاری منصوبہ تشکیل دیا گیا‘ اُس کے خالق عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہے اور اب تک پانچ حکومتیں اِس منصوبے کی تباہی خاموش تماشائی بن کر دیکھ چکی ہیں لہٰذا موجودہ صوبائی حکومت پشاور کے اِس سب سے بڑے اُور منفرد رہائشی منصوبے کی تکمیل کو عملاً ممکن بنائے۔ یقیناًسماجی رابطہ کاری کے ذریعے اپنی آواز حکمرانوں تک پہنچانے والوں کی کوششیں رنگ لائی ہیں اور اُنہیں اکیس مارچ کی تقریب و اعلانات سے راحت کا احساس ہو رہا ہوگا لیکن یہ مسئلہ چٹکی بجاتے حل ہونے والا نہیں کیونکہ جس وقت عمران خان اور پرویز خٹک سمیت اہم شخصیات ریگی کی مٹی میں درخت لگا کر پشاور کی ترقی‘ سرسبزی وشادابی کی دعائیں مانگ رہے تھے عین اُن لمحات میں چند کلومیٹر کے فاصلے پر خیبرایجنسی کی تحصیل جمرود کے ’’غنڈئ چھوٹا نہار‘‘ نامی مقام پر قبائلی عمائدین بشمول اراکین قومی اسمبلی (الحاج شاہ جی اور باز گل آفریدی) جمع ہوئے اُور کوکی خیل قبیلے کے اِن عمائدین نے ریگی ماڈل ٹاؤن کی تکمیل کے حوالے سے صوبائی حکومت کے بیانات و تقریب کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے دھمکی بھی دی کہ ’’اگر صوبائی حکومت نے ماورائے عدالت (متنازعہ) ’ریگی ماڈل ٹاؤن‘ کو بنانے کی کوشش کی تو نہ صرف تعمیراتی و ترقیاتی کام روکا جائے گا بلکہ پاک افغان (جمرود) شاہراہ بھی ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دی جائے گی!‘‘ ضرورت نپے تلے اقدامات کے ساتھ قبائلی روایات کو سمجھتے ہوئے جرگہ کی صورت متعلقہ قبائلی عمائدین کے ساتھ مل بیٹھ کر مسئلہ حل کرنے کی ہے تاہم اِس حکمت عملی کی کامیابی کے صوبائی حکومت کو بطور فریق سامنے آنا ہوگا۔ بہت سا وقت ضائع ہوچکا ہے اور ریگی ماڈل ٹاؤن کو ایک ماڈل بنا کر تحریک انصاف کی قیادت اپنے اُس انتخابی وعدے کی تکمیل میں ایک اہم سنگ میل عبور کر سکتی ہے جو پشاور میں رہائشی وسائل میں اضافے اور متعلقہ مسائل کے حل کے سلسلے میں اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ ’’اُمیدویاس کی رت آتی جاتی رہتی ہے۔۔۔مگر یقین کا موسم نہیں بدلتا ہے!‘‘


The future of Regi Model Town still not clear as CM KP Pervez Khattak promised to resume the development work