Friday, May 1, 2015

May 2015 TRANSLATION Is the sun answer


Is the sun the answer
شمسی توانائی: ایک حل
پاکستان میں توانائی کے بحران کا موسم گرما میں سب سے زیادہ ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ صنعتیں بھی بجلی نہ ہونے کی وجہ سے متاثر ہوتی ہیں۔ برقی رو کے طویل تعطل پر احتجاج بھی کوئی نئی بات نہیں اور اخبارات میں ایسی خبریں تو اب شہ سرخیوں کے ساتھ شائع بھی نہیں ہوتیں کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف اگر کسی شہر میں صارفین یا صنعتی مزدور احتجاج کر رہے ہوں۔ سوال یہ ہے کہ توانائی کے اس بحران کا کوئی ایسا فوری حل بھی موجود ہے جس سے حالات پر قابو پایا جا سکے جبکہ پن بجلی کے چھوٹے بڑے منصوبے یا تیل وگیس سے بجلی کے پیداواری منصوبوں کے قائم کرنے میں سالہا سال کا عرصہ اور کثیر سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے۔

توانائی کی سب سے زیادہ ضرورت صنعتی شعبے کو ہے جس سے لاکھوں ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے اور اگر حکومت صنعتوں کی مالی سرپرستی کرے تو ہر ایک صنعت اپنی ضروریات کے مطابق بجلی کے پیداواری یونٹس لگا سکتی ہے جس سے مرکزی پیداواری نظام (نیشنل گرڈ) پر بجلی کی طلب کا بوجھ کم ہو سکتا ہے لیکن اس قسم کی حکمت عملی اور سوچ میں تبدیلی اپنی جگہ ایک بڑا کام ہے جس کے کرنے کے لئے نہ صرف سیاسی قیادت کا رضامند ہونا ضروری ہے بلکہ صنعتکاروں اور چھوٹے پیمانے پر گھریلو صنعتوں کو قائل کرنا آسان نہیں ہوگا کیونکہ ہمارے ہاں ٹیکنالوجی کی طرف رغبت اُور اِس کے استعمال کے فائدوں سے زیادہ نقصانات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

جب ہم بجلی تیل یا مائع گیس سے پیدا کر رہے ہوتے ہیں جو کہ ایک درآمد ہونے والا ایندھن ہے تو اس کی قیمت مستقل نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں بھی ردوبدل آتا رہتا ہے اور یہ بات گھریلو صارفین کے لئے قابل برداشت نہیں ہوتی کہ بجلی کی قیمت تیل کے نرخوں کے اتارچڑھاؤ سے جڑ جائے۔ پھر یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ جب بجلی خام تیل یا مائع گیس یا کوئلے سے بنائی جاتی ہے تو اس سے ماحول کے لئے خطرناک قسم کی گیسیں خارج ہوتی ہیں جس کی وجہ سے فضائی آلودگی میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر ہم نسبتاً کم قیمت بجلی کی پیداوار فضائی آلودگی کی قیمت پر حاصل کرنے کو آسان سمجھ رہے ہیں تو یہ ہماری بھول ہے کیونکہ ماحول کی تباہی سے زیادہ بڑی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے‘ جیسا کہ حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ ایک ہوائی بگولے نے خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں اور قبائلی علاقوں میں زندگی کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ بجلی کی پیداواری لاگت اور نقصانات اگرچہ زیادہ ہیں لیکن ہماری صنعتیں اور حکومتیں اس کے متبادل ذرائع پر توجہ نہیں دے رہیں جس پر ابتدأ میں تو لاگت زیادہ آتی ہے لیکن ماحول دوستی اور لمبے عرصے کی سرمایہ کاری جیسے دیگر کئی ایک محرکات کو دیکھا جائے تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں۔ متبادل توانائی کے ذرائع میں شمسی توانائی اور ہوا کی طاقت (پن چکیوں) سے بجلی کے پیداواری وسیع امکانات موجود ہیں۔

پاکستان میں شمسی توانائی کے ’کلو واٹ‘ منصوبے چھوٹے پیمانے پر بھی نصب ہیں لیکن اِنہیں ’میگاواٹ‘ میں ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ اب تک حکومت اور صارفین کی جانب سے جو ملا جلا رجحان سامنے آیا ہے اُس میں مخالفت کی بڑی وجہ اِس ٹیکنالوجی سے خاطرخواہ واقفیت اور اس کی بعدازفروخت دیکھ بھال (مینٹیننس) کا ہے اور یہ دونوں باتیں ایسی نہیں کہ جن کا مقامی طور پر بندوبست نہ کیا جا سکے۔ ضرورت صرف اور صرف اس بات کا فیصلہ کرنے کی ہے کہ اگر ہمیں توانائی بحران سے نمٹنا ہے تو اس کے لئے ہمارے پاس کیا کچھ وسائل و امکانات موجود ہیں اور اُن سے چھوٹے یا بڑے پیمانے پر کس حد تک استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع کو وسعت دینے کے لئے میں تحقیق کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے اگر ہم اپنی جامعات میں توانائی ہی کو موضوع بنا دیں تو کوئی وجہ نہیں ہونہار طلباء و طالبات ایسے کئی دیگر وسائل بھی کھوج نکالیں جو مقامی دستیاب اشیاء سے بنائے گئے ہوں اور جن کی قیمت بھی کم ہو۔

خوش آئند ہے کہ پاکستان اپنا پہلا 100 میگاواٹ کا ’آن گرڈ‘ شمسی پاور پلانٹ نصب کرچکا ہے جس نے کام بھی شروع کردیا ہے۔ اِس منصوبے پر کام کا آغاز 2013ء میں ہوا تھا جو قائد اعظم سولر پاور پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی (کیو اے سولر) نے سرانجام دیا اور یہ منصوبہ حکومت پنجاب کی ملکیت ہے۔ اِس منصوبے کے لئے پنجاب کی صوبائی حکومت نے 25فیصد مالی وسائل فراہم کئے تھے جبکہ باقی 75فیصد مالی وسائل ’پنجاب بینک‘ سے قرض لے کر پورا کئے گئے اور یہ رقم بجلی کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے آئندہ 10برس میں ادا کی جائے گی یعنی دس سال بعد شمسی توانائی کے اِس منصوبے پر خرچ کئے جانے والی تمام رقم وصول ہو جائے گی بلکہ یہ منصوبہ آئندہ بیس برس تک بجلی بھی فراہم کرتا رہے گا اور اِسی قسم کے مزید دو بجلی کے پیداواری منصوبے لگائے جا سکیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ جب پنجاب حکومت ایک سو میگا واٹ شمسی توانائی کا پیداواری منصوبہ شروع کرنے جا رہی تھی تو اُس کے پاس ایسا کرنے کا زیادہ تجربہ نہیں تھا اور نہ ہی اُنہیں غیرملکی تکنیکی امداد حاصل تھی اِس لئے بہت سی مشکلات پیش آئیں لیکن بہرکیف یہ ہدف حاصل کرلیا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ ہماری صنعتیں سالانہ اوسطاً 3 ہزار 500 ایسے گھنٹے ضائع کردیتی ہیں جبکہ سورج اُن کے سروں پر چمک رہا ہوتا ہے اور اُس کی شعاؤں سے بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک سنہرا موقع ہے جس کا سب سے زیادہ فائدہ صنعتیں اُٹھا سکتی ہیں۔ پنجاب حکومت نے بڑے پیمانے پر شمسی توانائی سے بجلی حاصل کرنے کا ہدف حاصل کرکے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے اور اگر سیاسی مخالفت یا صوبائی تعصب جیسی عمومی منفی رجحانات آڑے نہ آئیں تو اِس عملی مثال کا مشاہدہ کرکے دیگر صوبے بھی یکساں مستفید ہو سکتے ہیں۔

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: اسد نجیب۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

May2015: Tribal Reforms another Promise!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
قبائلی علاقے اِصلاحات: خواب یا حقیقت
وفاقی حکومت کے زیرغور قبائلی علاقوں میں کثیرالجہتی اِصلاحات (ریفارمز) ہیں‘ جن میں سرفہرست امن و امان (سیکورٹی) کی صورتحال میں بہتری‘ ملک کے دیگر حصوں کی طرح قبائلی علاقوں میں انصاف کے دائرۂ کار کی توسیع‘ مؤثر و بلاامتیاز اُور فوری انصاف کی فراہمی‘ قبائلی علاقوں کے انتظامی معاملات کی فعالیت میں اضافہ‘ طرز حکمرانی میں شفافیت اور انتظامی معاملات پر حکومت کی دسترس (گرفت) بڑھانے کے لئے کئی ایک اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ اِس سلسلے میں ’مفکرین و دانشوروں‘ پر مبنی ’قبائلی علاقوں سے متعلق اصلاحات وضع کرنے والی کمیٹی‘ نے اپنی سفارشات حکومت کے حوالے کر دی ہیں اُور توقع کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ۔۔۔ ’’اگر اِن اصلاحات کو عملی طور پر نافذ کر دیا جاتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ قبائلی علاقوں میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے ساتھ اُس اقتصادی ترقی کا دور بھی شروع ہو جائے جس کا ایک عرصے سے انتظار ہے!‘‘ لیکن سب سے اہم‘ کلیدی اور بنیادی سوال ’قبائلی علاقوں کی حیثیت‘ ڈھانچے میں تبدیلی‘ اور وہاں پر رائج امتیازی قواعد ’فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز (ایف سی آر)‘ کو یکسر تبدیل کرنے کا ہے لیکن افسوس کہ وضع کی جانے والی اصلاحات میں اِن دونوں پہلوؤں کو لائق توجہ نہیں سمجھا گیا۔ جن دانشوروں نے سرکاری خرچ پر ہونے والے اجلاسوں میں غوروخوض کا عمل مکمل کیا اُن کی پہلی کوشش یہی دکھائی دی کہ قبائلی علاقوں کی الگ‘ امتیازی و منفرد حیثیت کو ’جوں کا توں‘ برقرار رکھا جائے۔ قبائلی علاقے پاکستان کا حصّہ تو ہیں لیکن انہیں ملک کے دیگر بندوبستی علاقوں کے رہنے والوں کی طرح مساوی حقوق نہ دیئے جائیں۔ انہیں ساتھ گنتے ہوئے بھی الگ سمجھا جائے‘ الگ رکھا جائے اور اِن سے الگ معاملہ کیاجائے۔ دوسری اہم بات ’ایف سی آر‘ قواعد کی ہے کہ جن چند ظالمانہ شقوں کو ’نرم‘ کرنے پر اِتفاق سامنے آیا ہے (وہ ایسی نئی یا انوکھی بات بھی نہیں) لیکن اِس بات کا کوئی ’منطقی جواز اُور ضرورت‘ سرے سے موجود ہی نہیں کہ ’اَیف سی آرز‘ کو باقی رکھاجائے۔ کیا یہ بات مبنی برانصاف معلوم ہوتی ہے کہ ایک ہی ملک میں رہنے والوں کو دو الگ الگ طریقوں سے اِنصاف تک رسائی کا حق دیا جائے؟

قبائلی اصلاحات کمیٹی کے چیئرمین اعجاز احمد قریشی نے حتمی رپورٹ گورنر خیبرپختونخوا سردار مہتاب احمد خان کے حوالے کر دی ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ ’’اب جو بھی کرنا ہے حکومت نے کرنا ہے۔‘‘ یاد رہے کہ ماضی میں اِسی قسم کی 2عدد ’پرمغز تجاویز و شفارشات‘ پر مبنی ’ضخیم رپورٹیں‘ تیار کی گئیں جن میں سے ایک معروف قانون داں لطیف آفریدی اور دوسری جسٹس ریٹائرڈ میاں محمد اجمل نے دیگر اراکین کی مشاورت (اِن پٹ) کے ساتھ تیار کیا لیکن اُن الفاظ پر بھی تمام تر اُمیدوں اُور زبانی دعوؤں کے باوجود عمل درآمد نہ ہوسکا!

تازہ ترین وضع کردہ اصلاحات کے مطابق قبائلی علاقوں کے لئے ایک ایسی سیکورٹی فورس بنائی جائے جس کے 500 اہلکار ہر ایک قبائلی علاقے میں تعینات کئے جائیں جبکہ اِسی ’خصوصی لیویز فورس‘ کے 200 اہلکار ہر ایک فرنٹیئر ریجن (ایف آرز) میں بھی الگ سے تعینات کئے جائیں گے۔ اِس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ’خصوصی (مستعد) لیویز فورس‘ کو جدید ترین ہتھیاروں اور تربیت سے لیس کیا جائے۔ شاید ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ قبائلی علاقوں کے برسرزمین حقائق کا ادراک کیا گیا ہے اور سیکورٹی صورتحال کے لئے اِس بات کو ضروری سمجھا گیا ہے کہ ایک نئی لیویز فورس تشکیل دی جائے۔ یہ تصور نیا نہیں بلکہ ماضی میں پیش کیا جا چکا ہے اور اِس کا مسودہ منظوری کے لئے مرحلہ وار مسافت طے کرتے ہوئے اُس وقت کے صدر پاکستان آصف علی زرداری کی میز تک جا پہنچا جو مزید فائلوں نیچے دب کر دم توڑ چکا ہے! المیہ رہا ہے کہ ہم فیصلے تو کرتے ہیں لیکن بروقت اقدامات کو ضروری نہیں سمجھتے۔ ہمارے حکمران اصلاحات و اقدامات کا ’کریڈٹ‘ لینے کے لئے ذرائع ابلاغ میں تشہیری مہمات پر عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ خرچ کرتے ہیں لیکن اُن کی کم عملی‘ کوتاہی‘ ذاتی مفادات کے گرد گھومتی ترجیحات‘ سستی و کاہلی‘ سیاسی تفکرات آڑے آتی ہیں وہ حساس معاملات کی نزاکت کو نہیں سمجھتے اور یہی وجہ ہے کہ ہر چند برس بعد قبائلی علاقوں میں ایک فوجی کاروائی کی ضرورت پیش آتی ہے جس میں سینکڑوں فوجی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں! فیصلہ سازی جب سیاست دانوں کو سونپی جاتی ہے تو اب تک یہی حاصل رہا ہے کہ وہ ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرتے اور نہ ہی اُن کی وجہ سے پوری قوم کو نقصان اور خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے اُس کے لئے اُنہیں ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے! پانچ سال حکومت میں رہنا کوئی کمال نہیں تھا لیکن پانچ سال تک مسلط رہ کر پورے سیاسی و انتظامی نظام کو مفاد پرستی اور لین دین کے اصولوں پر چلانے سے جن خرابیوں نے جنم لیا‘ اُن کا ذکر بھی تو ہونا چاہئے؟ حقیقت تو یہی ہے کہ وفاق قبائلی علاقوں کے رہنے والوں کو بندوبستی علاقوں کے مساوی نہ تو حقوق دینا چاہتا ہے اور نہ ہی اُن کی کسمپرسی‘ غلامی و محکومی‘ غربت و ناخواندگی‘ بے ہنری و بے توقیری کا ذلت بھرا دور اِس لمحۂ موجود میں ختم کرنے کا خواہاں ہے۔ قبائلی علاقے کسی ’فائرنگ رینج‘ جیسے ہیں جہاں جس کا دل چاہتا ہے نشانہ بازی کی مشق کرنے جا پہنچتا ہے حالانکہ اصلاحات کوئی ایسا پیچیدہ عمل نہیں کہ اِس کے لئے کروڑوں روپے خرچ کر کے رپورٹیں تیار کی جائیں اور ہر رپورٹ کے بعد ایک نئی دوسری رپورٹ کی ضرورت محسوس کی جائے۔ آخر یہ کس قسم کی اصلاحات ہیں کہ جن میں قبائلیوں کے بنیادی حقوق اور اُنہیں پاکستان کے آئین کے مطابق انصاف تک رسائی کا حق حاصل نہیں؟ تجویز کیا گیا ہے کہ ’فاٹا ٹربیونل‘ کے اراکین کی تعداد میں اضافہ کرکے 4 کردی جائے اور اِس ٹریبونل کی سربراہی ’ہائی کورٹ‘ میں اپنی مدت ملازمت پوری کرنے والے کسی (ریٹائر) جج کو سونپی جائے۔ اگر انصاف ریٹائرڈ ہونے والے جج ہی نے کرنا ہے تو یہ کام وہ بندوبستی علاقے میں کیوں نہیں کرتا کہ جو شخص عمر کے تقاضے اور جسمانی کمزوریوں کی وجہ سے عدالتی نظام کے لئے مزید مفید نہ سمجھا جائے اُسے قبائلیوں پر مسلط کر دیا جائے اور یہ سمجھا جائے کہ وہ بہتر انصاف فراہم کرے گا! یہ بھی خودفریبی اور خام خیالی ہے کہ جس ملک میں جرائم کا فیصلہ عدالتیں سالہا سال نہ کرسکتی ہوں وہاں کیونکر ممکن ہوگا کہ ’قبائلی علاقوں کے ٹریبونلز‘ 60 اور 90دن میں بالترتیب ’کریمینل اور سول مقدمات‘ کا فیصلہ کر پائیں گے! کیا نئی اصلاحات کے ذریعے طالبان طرز کی عدالتیں قائم کی جائیں گی جو کھڑے کھڑے فیصلے سنایا کریں گی؟

اصلاحات کے مطابق ہر قبائلی علاقے میں 20سے 25اراکین پر مشتمل ’ایجنسی کونسل‘ ہوگی‘ جس کی تشکیل آبادی کے تناسب سے ہوگی جبکہ فرنٹیئر ریجنز (ایف آر) کے علاقوں میں 9سے 11 اراکین پر مشتمل ’ایجنسی کونسلز‘ ہوں گی۔ ملاحظہ کیجئے کہ بالغ رائے دہی کی بجائے اراکین کا انتخاب قبائلی رسم و رواج کے مطابق کیا جائے گا۔ اس کے علاؤہ منتخب نمائندے اور 4ٹیکنوکریٹ بھی اِس کونسل کا حصہ ہوں گے۔ پہلے 2برس پولیٹیکل ایجنٹس اور ایف آرز کے ڈپٹی کمشنرز ’ایجنسی کونسل‘ کے اجلاس کی صدارت کریں گے جبکہ منتخب اراکین ایک وائس چیئرمین بنائیں گے جو قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کاموں سے متعلق ترجیحات کا تعین اور فیصلے کریں گے۔ ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح افسرشاہی قبائلیوں پر اپنی حکمرانی کو مضبوط کرنے کی خواہشمند ہے! کس طرح ایک نظام کی بجائے اُن پر مختلف قسم کا ظالمانہ نظام مسلط کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ قبائلی ہوں یا بندوبستی‘ عوام سے بھیڑبکریوں کی طرح معاملہ کرنے سے بہتری نہیں آئے گی۔ درخشاں مستقبل کے لئے ضروری ہے کہ حکمراں تصورات رکھنے والی افسرشاہی اور اصلاح و خدمت کی بجائے حکمرانی کو اپنا پیدائشی حق سمجھنے والی حکمراں خاندان اپنے فکروعمل میں تبدیلی لائیں!