Sunday, December 3, 2017

TRANSLATION ... Anarchy by Dr. Farrukh Saleem

Anarchy
بدنظمی!
بے لگام سیاسی افراتفری‘ نراج‘ بے حکومتی اور طوائف الملوکی ایک ایسے حکمرانی کے دور کا کہا جاتا ہے جس میں ’قانونی حکومت کا تعطل ہو جائے۔ ریاستی اِداروں کی حکمرانی کمزور ہو‘ تو ایسی صورت حال سے ’بدنظمی (انارکی)‘ جنم لیتی ہے۔ پاکستان بھی آج ایک ایسے ہی دور سے گزر رہا ہے‘ آخر کیوں؟ اِس سوال کا جواب یہ ہے کہ ریاست کی عمل داری کمزور پڑ گئی ہے۔ عمل داری کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حکومت طاقت کے استعمال‘ احکامات دینے‘ کسی قسم کے حالات سے نمٹنے کے لئے فیصلے کرنے اور ریاستی حکم نہ ماننے والوں سے معاملہ کرنے میں طاقت کا استعمال کرتی ہے۔‘‘ نوازشریف پاکستان کے فی الحقیقت (باالفعل) وزیراعظم ہیں جبکہ شاہد خاقان عباسی ’حسب قانون‘ وزیراعظم اُور شہباز شریف (یا شاید مریم نواز) آئندہ وزیراعظم بننے کے متمنی (اُمیدوار) ہیں۔ پاکستان میں اختیارات کس کے پاس ہیں؟ پاکستان میں کون ہے جو احکامات صادر کرے؟ پاکستان سے متعلق فیصلے کون کر رہا ہے؟ کیا فی الحقیقت یا حسب قانون یا وزارت عظمیٰ کے متمنی اختیارات رکھتے ہیں؟

فی الحقیقت وزیراعظم نے اپنے سیاسی مفادات کے لئے ریاستی اداروں کو ایک دوسرے کے مدمقابل لا کھڑا کیا ہے۔ فوج بمقابلہ احتجاجی مظاہرین۔ عدلیہ بمقابلہ پارلیمینٹ۔ عدلیہ بمقابلہ فوج۔ حسب قانون وزیراعظم (شاہد خاقان عباسی) سمجھتے ہیں کہ نوازشریف کے پاس وزارت عظمیٰ کے اختیارات رہنے چاہیءں اور اصل اختیارات اُنہی کو حاصل رہنے چاہیءں۔ یہی سوچ حسب قانون وفاقی کابینہ کے اراکین کی بھی ہے جو پاکستان کی وزارت عظمیٰ اور فیصلوں کااختیار عملاً شریف خاندان کو سونپ چکے ہیں۔ نتیجہ ’بدنظمی‘ کی صورت سب کے سامنے ہے۔

پاکستان کو کنٹرول کرنے والے اداروں پر ایک نظر ڈالیں۔ 22 فروری کو سپرئم کورٹ (عدالت عظمیٰ) نے اٹھارنی جنرل آف پاکستان کو کہا کہ ’’نیب کا انتقال ہو چکا ہے۔‘‘ وفاقی وزارت خزانہ ’ایف بی آر‘ نے حال ہی میں ایوان بالا (سینیٹ) کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس میں ایک رپورٹ جمع کروائی ہے‘ جس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ کرپشن اُور نااہلی ’ایف بی آر‘ کی رگوں میں سرایت کر چکے ہیں۔

دس نومبر کے روز‘ عدالت نے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے سابق چیئرمین ظفرحجازی کی ایک درخواست مسترد کی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ظفر حجازی نے نوازشریف سے متعلق چوہدری شوگر ملز کے ایک معاملے میں دستاویزات میں ردوبدل نہیں کیا۔

اٹھائیس اکتوبر کو 23 سینیٹرز نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور اُنہوں نے ’اسٹیٹ بینک آف پاکستان‘ کے نئے گورنر کی تعیناتی پر اظہار تشویش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ گورنر اسٹیٹ بینک کی تعیناتی میں قانونی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ سپرئم کورٹ آف پاکستان کے مطابق ’’مقدمے کی سماعت کے دوران ریاستی اہم اداروں کا تعاون جن میں نیب‘ الیکشن کمشن‘ ایف بی آر‘ اسٹیٹ بینک‘ نیشنل بینک‘ انٹلی جنس بیورو شامل ہیں ریاست کی بجائے شخصیات کے مفادات کے محافظ ثابت ہوئے۔‘‘

پاکستان کی پولیس پر نظر کریں۔ اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں پاکستان پولیس دنیا کی 10بڑی پولیس فورس ہے جس کے اراکین کی تعداد تین لاکھ اٹھاسی ہزار سے زیادہ ہے۔ گذشتہ چار برس کے دوران سات سو ارب روپے پولیس کے محکمے پر خرچ کئے جا چکے ہیں لیکن اگر برسرزمین تبدیلی دیکھیں تو سوائے ہر پولیس اہلکار کو سال میں ایک مرتبہ یونیفارم اور تنخواہیں ملنے کے سوأ کچھ حاصل نہیں ہوسکا۔ ہماری پولیس فورس کے پاس موجود ربڑ کی تمام گولیوں کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ سندھ پولیس کے پاس ایسی بکتربند گاڑیاں ہیں جن پر اسلحے کا اثر ہوتا ہے۔ پولیس کی تربیت کا خاطرخواہ بندوبست نہیں۔ جرائم سے نمٹنے کے لئے آلات اور دیگر سہولیات دستیاب نہیں ہیں اور 700 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں!

داخلی طور پر پاکستان ایک ایسی صورتحال سے گزر رہا ہے جس میں حکومت کا اختیار کمزور ہے اور بیرونی طور پر پاکستان کے ایسے دشمن ہیں جو پاکستان کے خلاف سازشوں کی منصوبہ بندی اور دہشت گرد کاروائیوں کی پشت پناہی کرنے پر اربوں خرچ کر رہے ہیں۔ داخلی طور پر بدنظمی کا فائدہ ملک کے خلاف سازش کرنے والے عناصر اور بیرونی طاقتیں اٹھا رہی ہیں۔ ہم داخلی طور پر کمزور ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بیرونی طاقتیں اِس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک میں انتشار و بدنظمی میں اضافہ کر رہی ہیں۔

براڈفورڈ (Bradford) یونیورسٹی کے پروفیسر شام گریگورے (Prof. Sham Gregory) نے ’ملک میں استحکام کے لئے پاک فوج کے کردار‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ ’’پاکستان کی فوج ایک عرصے سے مضبوط ادارہ ہے اور پاکستان کا صرف یہی ایک ادارہ اپنی کارکردگی کا درست مظاہرہ کر رہا ہے۔ پاکستان کے دشمن ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ خفیہ اداروں کی کارکردگی اور طریقۂ کار کے حوالے سے امریکہ کے تحقیقی ادارے ’سٹراٹ فور (Stratfor)‘ کے مطابق ’’اگر پاکستان ایک قوم بننے کا خواہشمند ہے تو اِس کے بنیادی ادارے فوج کو مضبوط بنانا ہوگا جب تک فوج ملک سے وفادار اور متحد و منظم رہے گی اُس وقت پاکستان کے خلاف کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔‘‘ اگر منظم فوج کے ساتھ سول ریاستی اداروں کی بات کی جائے تو ہمیں پاکستان کے سیاسی کلچر کو تبدیل کرنا ہوگا جس پر موروثی سوچ اور حاکمیت رکھنے والوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔ ہمیں اپنے طرز حکمرانی کا نظام (ماڈل) بھی تبدیل کرنا ہوگا اور سخت گیر و بلاامتیاز ادارہ جاتی کارکردگی کا احتساب لاگو کرنا ہوگا۔ 

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Friday, December 1, 2017

Dec 01: The footpath of the prophet (PBUH), need to be follow too.

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
سیرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سلسلۂ عالیہ قادریہ حسنیہ کے سرتاج خانوادہ سے تعلق رکھنے والی پشاور کی معروف روحانی‘ علمی اور سیاسی شخصیت‘ پیرطریقت سیّد محمد امیر شاہ قادری گیلانی (مولوی جی) رحمۃ اللہ علیہ بالعموم اور ماہ ’ربیع الاوّل‘ کے دوران بالخصوص ’رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘ کی سیرت کے اُن پہلوؤں کے بارے میں وعظ فرماتے جن کا تعلق روزمرہ معمولات سے ہوتا۔ خلاصۂ درس و تلقین یہی رہتا کہ کسی طرح خاتم النبین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے والہانہ عشق کے اصول اور عملی تقاضوں کی یاد دہانی کی جائے۔ یاداشت پر بھروسہ کرتے ہوئے مولوی جیؒ (1920ء سے 2004ء) سے تحصیل شدہ ’سیرت‘ کے اُن واقعات کا اقتباس پیش ہے جنہیں اگر عملاً مدنظر رکھا جائے تو زندگی و آخرت میں سرخروی اور کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔

شعب ابی طالب میں تین سالہ محصوری کے دوران قریش کی کوشش رہی کہ مسلمانوں تک کھانے پینے کی کوئی چیز نہ پہنچے۔ 

مکہ میں غلہ (اشیائے خوردونوش) یمامہ سے آتا تھا۔ یمامہ کے رئیس ’’ثمامہ بن اثال (بنی حنیفہ)‘‘ نے ایسا انتظام کیا کہ یمامہ کے غلے کا ایک دانہ بھی شعب ابی طالب (مسلمانوں) تک نہ پہنچ سکے۔ ہجرت کے بعد ثمامہ گرفتار ہوا‘ اُور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پیش کیاگیا۔ (بحوالہ صحیح بخاری کتاب المغازی سترواں باب حدیث نمبر 4372) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے ایک ستون سے باندھ دیا جائے۔ ثمامہ نے بڑی لجاجت سے کہا: ’’اگر مجھے قتل کیا جائے گا تو یہ غلط نہیں ہوگا‘ بلاشبہ میں اِسی سزا کا مستحق ہوں۔ اگر احسان کیا جائے تو یہ ایک شکر گزار پر احسان ہوگا اُور فدیہ کے بدلے میری رہائی ہوسکتی ہے‘ تو میں فدیہ اَداکرنے کے لئے بھی تیار ہوں۔‘‘ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور آپ مسجد نبوی تشریف لے گئے۔ دوسرے دن بھی زیرحراست ثمامہ نے پھر یہی بات کی لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکوت اختیار فرمایا۔ تیسرے دن التجا پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ ’’اسے آزاد کردو۔‘‘ ثمامہ کو اپنی اسلام دشمنی‘ ظلم اورزیادتی کا اچھی طرح علم تھا۔ اسے بڑی سخت سزا کا اندیشہ تھا لیکن خلاف توقع رہائی سے اسے حیرت ہوئی اور وہ اس لطف وکرم اورعفو ودرگزر سے بڑا متاثر ہوا۔ اُس نے اسلام قبول کیا اورگریہ کناں ہوکر حضور علیہ الصلوۃ التسلیم کی خدمت میں عرض کی ’’یا رسول اللہ! آج سے پہلے مجھ سے بڑھ کرآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دشمن کوئی نہیں تھا لیکن اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بڑھ کر مجھے کوئی اورمحبوب نہیں ہے۔ اسلام کو میں بدترین مذہب سمجھتا تھا لیکن آج یہ میرے نزدیک بہترین دین ہے۔ مجھے مدینہ سے سخت نفرت تھی لیکن آج اس سے زیادہ پسندیدہ شہر میرے نزدیک کوئی اور نہیں ہے۔‘‘ 

اِسلام قبول کرنے کے بعدحضرت ثمامہ رضی اللہ عنہ مکہ معظمہ گئے تو قریش نے انہیں لعن طعن کیا اورکہا: ’’شاید تیری عقل ٹھکانے نہیں رہی۔‘‘ ثمامہ نے یہ سنا تو بڑے غضب ناک ہوئے اُورکہا اچھا یہ بات ہے تو سنو! خدا کی قسم‘ اب رسول اللہ کی اجازت کے بغیر غلہ کا ایک دانہ بھی یمامہ سے یہاں نہیں آئے گا۔ انہوں نے مکہ والوں کو غلہ کی ترسیل روک دی جس سے مکہ میں غلے کا کال پڑگیا۔ اہل قریش نے ایک وفد سرکار دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا‘ اُور گزارش کی کہ سب مرد و زن‘ بچے بوڑھے دانے دانے کو ترس گئے ہیں۔ آپ مہربانی فرمائیں اُور ثمامہ کوغلے کی حسب سابق ترسیل کا حکم دیں۔ حضور رحمت عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اِن کی درخواست قبول فرمالی اورثمامہ کو بندش اٹھانے کا حکم دیا۔‘‘ 

پہلی بات کیا آج ہم اپنے کردار سے دوسروں کو اسلام کی دعوت دے سکتے ہیں؟ 

دوسری بات مسلمان ملک و معاشرہ کسی غیرمسلم ملک کی کسی ایسی درخواست کو قبول کرسکتا ہے‘ جس کی وجہ سے غیرمسلم بچے بوڑھے اور خواتین متاثر ہو رہے ہوں؟ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ عملی پہلو کہ جس میں ایک دشمن سے سلوک کا ذکر ہے‘ تو کیا ہم اپنی عملی زندگیوں میں دوسروں کے لئے کم سے کم اِس قدر ’رحم‘ محسوس کرتے ہیں کہ اُن کی غلطیوں کو معاف کریں؟ 

آج (بارہ ربیع الاوّل) کی مبارک ’سعد ساعتوں‘ میں خود سے عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ سیرت کے اُن واقعات کا بھی اپنی زندگی پر اطلاق کریں گے‘ جو رہتی دنیا تک زندہ حقیقت ہیں۔ ’’پھر گڈریوں کو لعل دے‘ جاں پتھروں میں ڈال دے ۔۔۔ حاوی ہوں مستقبل پہ ہم: ماضی سا ہم کو حال دے ۔۔۔ دعویٰ ہے تیری چاہ کا: اِس اُمت گمراہ کا ۔۔۔ تیرے سوا کوئی نہیں یا رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ مظفروارثی۔
۔