Monday, December 4, 2017

Dec 2017: Sixth International Hindko Conference, unique opportunity!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تہذیب ’زبان‘ کی!

آٹھ دسمبر قریب ہے‘ جب ایک اُور سنگ میل عبور ہو جائے گا۔ پشاور میں ’عالمی ہندکو کانفرنس‘ کے مندوبین (خیر نال آئیو) کی آمد کا سلسلہ جاری ہے جو ایک دوسرے سے مبارکبادوں کا تبادلہ اُور اپنے مقالات بعنوان ’’ہندآریائی تے پاکستانی زباناں دی ترقی دے ذریعے قومی یک جہتی دا حصول‘‘ کے ذریعے اِس عزم کے اظہار کی تیاریاں کئے بیٹھے ہیں کہ ’چھٹی مرتبہ‘ منعقد ہونے والا ’عالمی اِجتماع‘ تو اِک نکتۂ آغاز‘ اک جذبہ اور جذبے کا اظہار ہے کہ ۔۔۔ ’’بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے۔‘‘ 

خوش آمدید‘ اے عاشقان ہندکو‘ جنوب مشرق ایشیاء کا زندہ تاریخی شہر ’پشاور‘ آپ کی تشریف آوری سے مسرور اُور دعاگو ہے کہ ہندکو زبان کی طرح پشاور سے بھی آپ کا ’دلی تعلق‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتا چلا جائے گا یقیناً(ایک تیر دو شکار) ’چھٹی عالمی ہندکو کانفرنس‘ کے ذریعے ’پشاور شناسی‘ کا ہدف بھی حاصل ہو جائے گا کہ ’اہل محبت پشاور سے اپنے عہد کی تجدید کر لیں۔‘ 

تین روزہ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز (آٹھ دسمبر‘ پہلے روز کی پہلی نشست) کے لئے ’گورنر خیبرپختونخوا اِقبال ظفر جھگڑا‘ مدعو ہیں‘ جو ’گندھارا ہندکو بورڈ و اکیڈمی‘ کے صدر دفتر‘ یونیورسٹی ٹاؤن میں منعقد ہوگی اُور اِس کے لئے ’اَحمد علی سائیں ہال‘ سمیت پوری عمارت کو سجایا گیا ہے۔ ’آٹھ‘ اور ’نو دسمبر’ کی نشستیں چنار روڈ‘ آبدرہ‘ یونیورسٹی ٹاؤن پشاور جبکہ دس دسمبر کی اختتامی نشست کے لئے ’آرکائیوز لائبریری ہال‘ نزد عجائب گھر‘ پشاور کا انتخاب کیا گیا ہے‘ جس کے الیکٹرانک اور شائع شدہ دعوت ناموں کی تقسیم اور شرکاء کو فرداً فرداً یاد دہانی کا عمل وقت سے قبل مکمل کرنے سے عیاں ہے کہ ’ہندکو عالمی کانفرنس‘ گپ شپ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ موضوع کا احاطہ کرنے والی سنجیدہ کوشش ہے‘ جس سے نئی نسل نہ صرف ہندکو زبان و ادب بلکہ اِس پورے خطے کے بارے میں بھی بہت کچھ سیکھے گی۔ اُمید ہے پاکستان کا نجی الیکٹرانک میڈیا اِس اہم کانفرنس اور اِس کے غیرملکی‘ ملکی اور مقامی مندوبین کو خاطرخواہ توجہ دے گا۔ خلوص و لگن سے کانفرنس کی تیاریاں اور اِسے عملاً ممکن بنانے والے جملہ منتظمین مبارکباد کے مستحق ہیں‘ جنہیں دیکھ کر ’گندھارا تہذیب‘ بالخصوص ہندکو زبان اور پشاور شہر‘ کو صرف اِک نیا تعارف‘ ہی نہیں بلکہ مقصد بھی میسر ہے۔ قبلہ سیّد محمد اَمیرشاہ قادری گیلانی (مولوی جیؒ ) کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ ’چراغ سے چراغ جلنے کا سلسلہ باوجود مخالفت و رکاوٹوں کے بھی جاری و ساری ہے‘ رہے گا۔

اِنسانی معاشرے کے اِرتقاء کی کہانی کھلے آسمان تلے رات بسر کرنے سے ہوئی‘ تو گردوپیش میں ہر شے پر تعجب سے زیادہ تفکر سے کام لینا پڑا‘ اور مجھے کہنے دیجئے کہ یہی ضرورت قدرے مشکل (قدرے پیچیدہ) انداز میں آج بھی ’پیش و درپیش‘ ہے۔ موسم کی سختیوں سے بچنے کے لئے درختوں پر ٹھکانہ جب مسئلے کا پائیدار حل ثابت نہ ہوا‘ تو غار کی دریافت اور اِس میں رہنے کو ترجیح دی گئی جو زیادہ زیادہ آرام دہ اور پرسکون تجربہ ثابت ہوا۔ تجربات سے زندگی آگے بڑھتی رہی۔ غاروں سے شروع ہونے والی انسانی تہذیب کے اَن گنت نقوش آج بھی دیواروں پر ثبت ملتے ہیں‘ جن کے ذریعے واقعات اور کہانیاں بیان کی جاتی تھیں تاکہ دوسروں تک پیغام پہنچ سکے۔ الفاظ نہیں تھے لیکن آواز (صوت) موجود تھی اور اِسی صلاحیت کے سہارے بات چیت کا آغاز ہوا جو آواز کے اُتارچڑھاؤ پر مبنی تھی جنہیں ’الفاظ‘ کہا جا سکتا ہے کہ آج بھی ایسی آوازیں اپنا وجود اُور معنی رکھتی ہیں‘ جو درحقیقت انسان کے ساتھ اُس کے زمین پر پہلے دن سے ہمراہ ہیں۔ معروف آوازوں کے متواتر دُہرانے سے الفاظ وجود میں آئے جن کی آج کی طرح اُس وقت بھی ادائیگی ’’رابطہ کاری‘‘ کا بنیادی اور سب سے اہم ذریعہ تھی۔ اِسی کے ذریعے انسانوں نے اپنے ’ہم زمین‘ انسانوں کے محسوسات کو سمجھنا اُور انہیں دوسروں تک پہنچانا شروع کیا لیکن کیسی بدقسمتی ہے کہ آوازوں سے بننے والے الفاظ اور الفاظ سے تشکیل پانے والی زبانوں نے ہمیں ایک دوسرے سے قریب لانے کی بجائے ایک دوسرے سے دور دھکیل دیا ہے۔ ہمیں مانوس کرنے کی بجائے اجنبی بنا دیا ہے۔ 

اقوام کی ترقی کا راز اگر غوروفکر‘ تحریر و تحقیق اور قول و بیاں میں پنہاں ہے تو تدبر کرنے والوں کو سب کچھ مل جاتا ہے‘ جس کی بنیاد پر وہ ’ترقی یافتہ‘ کہلاتے ہیں لیکن زبانوں کی نقل اُور اُن میں سمانے کی کوشش کرنے والوں کے ہاتھ آنے والی ’ترقی پذیری‘ میں ناپائیداری نمایاں ہے۔ حضرت انسان کی ذات و صفات میں وسعت اور بالخصوص یہ وصف رکھا گیا ہے کہ یہ کسی ایک زبان میں نہیں بلکہ زبانیں اِس میں سما جائیں لیکن ایسا عملاً نہ ہوسکا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ’گندھارا ہندکو بورڈ‘ کے ذریعے مجھ جیسے بہت سے بھٹکے ہوؤں کو کم سے کم یہ تو معلوم ہو ہی چکا ہے کہ وہ بھٹک گئے ہیں۔ اُنہیں اپنی منزل کا نشان مل چکا ہے اور یقیناًایک اکثریت ایسی بھی ہوگی‘ جس نے اپنے شعوری اور معنوی وجود کو تلاش کر لیا ہو۔

روزمرہ تجربات سے اِنسانوں نے جو کچھ بھی سیکھا‘ اُس کا لب لباب زبانیں اور اُن کے لہجے ہیں۔ اِنہی سے محبتیں پھیلیں۔ تعلقات استوار ہوئے۔ ایک دوسرے پر بھروسہ ہونے لگا۔ آوازیں پہچان بنیں لیکن الفاظ‘ بولیاں‘ لہجے اور اِن کے معانی انسانی معاشرے کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنے۔ 

مقدس صحیفے اُور ہدایت کے لئے بھیجا جانے والا نور‘ ہمراہ ’سراج منیر‘ بھی الفاظ تھے‘ جنہوں نے انسانی معاشرے میں پائے جانے والے اُس فلسفے کی بھی تکمیل کر دی‘ جو منتشر تھا۔ اُن علوم و فنون کو بھی معراج بخشی جن سے متعلق ابہام و بے یقینی جیسے تاثرات عام تھے۔ انسانی حیات و بقاء کے منشور کو کتابی شکل میں مکمل پیش کرنے کے لئے بھی الفاظ اور زبان کا انتخاب اِس بات کا گواہی دے رہا ہے کہ انسانی زندگی کا ہر لمحہ اور اِس ہر لمحے میں ہر لفظ ایک بیش قیمت جنس ہے‘ جس کی حقیقت کی پہچان اور قدردانی کی جانب متوجہ کرتے ہوئے امیرالمومنین اِمام علی ابن ابیطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کا ارشاد گرامی رہنما ہے کہ ’’میں الفاظ کے معانی نہیں جانتا تھا تو اُن کا بادشاہ تھا لیکن اِن کے بارے میں علم نے مجھے اِن کا غلام بنا دیا ہے!‘‘ یعنی انسانی معاشرے کی امتیاز خصوصیت ہی یہ ہے کہ اِس میں ہر لفظ اور سوچ کے ساتھ ایک ’احتیاط‘ جڑی ہے! زبان کی شناخت‘ درحقیقت اپنی ذات کی شناخت ہے جس کے درست استعمال سے زندگی کو شعور اور معنویت مل سکتی ہے۔ 

’گندھارا ہندکو بورڈ‘ نے نہ صرف مجھے ’جھنجوڑا‘ اور مجھے میری مادری زبان سے کی حقیقت و ضرورت سے آشنا کیا بلکہ اِس ’’تحریک‘‘ سے مجھ پر یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ ہر لفظ معلوم ہونے کا یہ قطعی مطلب نہیں ہوتا کہ اُس کا استعمال بھی کیا جائے بلکہ الفاظ سے استفادہ‘ اُور اُن کے انتخاب کا سلیقہ ہی سے انسانی معاشرے کا حسن‘ انسانی معاشرے کی تہذیب تخلیق پاتی ہے۔ 
’’سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب ’زبان‘ کی ۔۔۔ 
ورنہ تو ’زباں‘ آگ لگانے کے لئے ہے!‘‘
۔

Sunday, December 3, 2017

Dec 2017: Security lapses are damaging!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
غفلت کا انجام!
خیبرپختونخوا میں زراعت سے متعلق (ڈپلومہ) تعلیم و تربیت فراہم کرنے والے اِدارے ’ایگری کلچر انسٹی ٹیوٹ‘ پر یکم دسمبر (بارہ ربیع الاوّل) کی صبح (قریب پونے نو بجے) ہوئے دہشت گرد حملے میں اگرچہ جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں لیکن اگر پشاور پولیس کا ’ردعمل (ریسپانس ٹائم)‘ صرف ’چار منٹ‘ نہ ہوتا تو دہشت گرد زیادہ بڑے پیمانے پر خون خرابہ کرنے کی منصوبہ بندی کئے ہوئے تھے جس کا ثبوت اُن کے قبضے سے برآمد ہونے والی (خودکش) بارودی جیکٹس‘ دستی بم (ہینڈگرنیڈ) اور خودکار اسلحہ کی بڑی مقدار ہے‘ جسے استعمال کرنے کی اُنہیں مہلت نہ مل سکی! 

دہشت گرد دوہزار چودہ میں ’آرمی پبلک سکول‘ پر ہوئے حملے کی تاریخ دہرانا چاہتے تھے اور اِس مرتبہ اُنہوں نے نسبتاً کمزور سیکورٹی انتظامات رکھنے والے ’زرعی تربیتی مرکز‘ کا انتخاب کیا‘ جہاں ہاسٹل میں قیام پذیر سینکڑوں طلباء کی سیکورٹی پر صرف ایک چوکیدار تعینات تھا۔ اِس حملے نے جہاں سیکورٹی اداروں کی مستعدی اور پشاور پولیس کی مہارت کو ثابت کیا ہے وہیں دہشت گردوں کی منصوبہ بندی بھی خوفناک حد تک جامع دکھائی دی‘ جنہوں نے نہ صرف مقامی فیشن کے مطابق (سفید رنگ کے شٹل کاک) برقعوں کا استعمال کیا بلکہ آٹو رکشا جیسی ایک عمومی سواری کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچے اور دوران سفر سیکورٹی اداروں کی نظروں سے اوجھل رہے۔ اگر ’زرعی تربیتی مرکز‘ پر ہوئے حملے کی وجوہات کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ ’’نا مناسب سیکیورٹی انتظامات‘‘ تھے اور صرف ’زرعی تربیتی مرکز‘ ہی نہیں بلکہ پشاور یونیورسٹی اُور دیگر ملحقہ جامعات سمیت جہاں کہیں بھی طلباء و طالبات کو رہائشی (ہاسٹل) سہولیات فراہم کی جاتی ہیں‘ وہاں سیکورٹی کے خاطرخواہ انتظامات دیکھنے میں نہیں آتے۔ دہشت گردوں نے دوسری مرتبہ تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانے کی بڑی کوشش کی ہے تو اِسے سنجیدگی سے لیتے ہوئے آخری کوشش بنا دینا چاہئے۔

’زرعی تربیتی مرکز‘ ایک آسان ہدف تھا‘ لیکن دہشت گردوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ پشاور سے کامرہ اور کراچی تک ہوائی پٹیوں (ائربیسیس)‘ ہوائی اڈوں جیسی حساس تنصیبات‘ حتیٰ کہ فوج کے صدر دفتر (جی ایچ کیو) انتہائی سیکورٹی رکھنے والے مشکل اہداف کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں اور اِن سبھی اہداف کے پیچھے ’سہولت کار‘ ہوتے ہیں‘ جو اہداف کے انتخاب سے حملے کی منصوبہ بندی کے بارے میں ’ہوم ورک‘ مکمل کرتے ہیں۔ ’زرعی تربیتی مرکز‘ پشاور کا حملہ بھی سہولت کاروں کی کامیابی ہے جو تاحال پکڑے نہیں جا سکے لیکن یہ معلوم ہوچکا ہے کہ حملہ آور افغانستان میں مسلسل ’ویڈیو رابطہ‘ قائم رکھے ہوئے تھے۔ پشاور پولیس کا مؤقف ہے کہ حملہ آور برقع پوش تھے لیکن اگر وہ برقعہ پوش نہ بھی ہوتے تو اُن کے لئے ’زرعی تربیتی مرکز‘ میں داخل ہونا مشکل نہیں تھا کیونکہ وہ ’خودکش مشن‘ پر تھے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے خفیہ ادارے کہاں ہیں اور انہیں کیوں اِس قسم کے حملے کی پیشگی اطلاع نہیں ہوسکی۔ 

’زرعی تربیتی مرکز‘ پر ہوئے حملے سے نمٹنے میں پشاور پولیس کے اعلیٰ و ادنیٰ اہلکاروں نے اپنی جان لگا دی اور فوج کی کمک آنے سے قبل انہوں نے دہشت گردوں کو اِس حد تک مصروف رکھا کہ وہ باوجود خواہش بھی کامیاب نہ ہو سکے لیکن جس انداز میں دہشت گرد واقعات پے در پے رونما ہو رہے ہیں بالخصوص کچھ عرصے سے بلوچستان ہدف بنا ہوا ہے اُسے مدنظر رکھتے ہوئے سہولت کاروں کے خلاف کاروائی کرنے کے ساتھ ایک سے زیادہ خفیہ اداروں (انٹلی جنس) اہلکاروں کو باہم مربوط اُور اُن کے کارکردگی بہتر بنانے کے لئے ’پورے نظام پر نظرثانی‘ کرنا ہوگی کیونکہ اِس ایک (انٹلی جنس) شعبے میں غفلت کے مسلسل ارتکاب کی وجہ سے دہشت گردوں کو وار کرنے کا ہر بار موقع مل رہا ہے۔

پاک فوج کی جانب سے ’زرعی تربیتی مرکز‘ پشاور میں ہوئے حملہ آوروں کی کمان کرنے والوں سے متعلق معلومات کا تبادلہ افغانستان سے کرنا اپنی جگہ اہم و ضروری ہے لیکن جب تک پاک فوج سرحد پار افغانستان میں موجودہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو فوری نشانہ بنانے جیسے ردعمل کا مظاہرہ نہیں کرے گی اور اِس سلسلے میں ’ڈرون حملہ آور اور ڈرون جاسوس طیاروں‘ کو پاک افغان سرحدی اور بالخصوص افغانستان کے اُن علاقوں میں کاروائی (ایکشن) کرنے جیسا اختیار نہیں دیا جائے گا‘ اُس وقت تک دہشت گرد حملوں کا سلسلہ جاری رہنے پر تعجب کا اظہار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ دہشت گرد مستقل ٹھکانوں کا استعمال نہیں کرتے اِس لئے موبائل فون لوکیشن پر اگر فوری رسپانس نہ کیا جائے تو بعدازاں حملہ آوروں کے ’کمان مرکز‘ تک رسائی ممکن نہیں رہتی! فی الوقت افغانستان میں صرف تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد ہی نہیں بلکہ جماعت الاحرار‘ داعش اور ساتھ ہی بلوچ عکسریت پسند بھی موجود ہیں اور یقیناًمزید کئی حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہوں گے یا کئے بیٹھے ہوں گے جبکہ افغانستان خود بھی اِس حقیقت کو تسلیم کر چکا ہے کہ دہشت گرد افغان علاقوں میں موجود ہیں لیکن اُن تک افغان حکومت یا افغان سیکورٹی اداروں کی رسائی نہیں! 

افغانستان میں حالیہ چند مہینوں میں ہوئے ڈرون حملے لائق توجہ ہیں‘ جن سے بچنے کے لئے عین ممکن ہے کہ دہشت گرد پاکستان کے قبائلی علاقوں کا رُخ کریں اور ایسی صورتحال زیادہ تشویشناک ہو سکتی ہے کیونکہ قبائلی علاقوں کی جداگانہ امتیازی حیثیت تاحال حل طلب ہے جسے باوجود ضرورت کے بھی ملک کی سیاسی و عسکری قیادت تبدیل کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتی۔ افغان مہاجرین کی واپسی‘ انہیں پاک افغان سرحدی علاقوں میں کیمپوں تک محدود رکھنے اور پاکستان میں صرف اور صرف ’پری پیڈ‘ موبائل فون کنکشنز کے بناء کوئی دوسرا پائیدار حل نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں مل کر دہشت گردی سے نمٹنے کا مؤثر حل نکال سکتے ہیں لیکن اِن دو‘ برادر‘ ہمسایہ‘ مسلمان ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے اور افغان سرزمین اور وہاں کے وسائل پاکستان کے خلاف استعمال کرنے والی طاقتوں میں بھارت پیش پیش ہے‘ تو مزید غفلت اور خاموش تماشائی بننے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

پاکستان کی داخلی سیکورٹی بالخصوص خیبرپختونخوا کے صدر مقام پشاور کے لئے ’سیف سٹی پراجیکٹ‘ اور اِسے محفوظ بنانے کے لئے سیکورٹی اداروں کی افرادی قوت اور جدید تکنیکی وسائل میں اضافہ بھی اَشد ضروری ہے۔ آدھی شاباش کی مستحق پشاور پولیس نے اپنے حصے کا ایک کام تو پورا کردیا لیکن ابھی آدھا کام تو باقی ہے!
۔