Sunday, April 7, 2019

Dear Prime Minister by Dr Farrukh Saleem

Dear Prime Minister
گرامی قدر وزیراعظم کے نام!
پاکستان کی سیاسی قیادت اقتصادی مسائل کی شدت کا خاطرخواہ احساس نہیں کر رہی۔ اِس لئے وزیراعظم عمران خان‘ نواز شریف اور آصف علی زرداری صاحبان کی خدمت میں مؤدبانہ اور دل کی اتہاہ گہرائیوں سے التماس ہے کہ سیاست میں ایک دوسرے کو زچ کرنے کی بجائے پاکستان کے مستقبل اور مفادات کے بارے میں بھی سوچیں۔ گذشتہ برس‘ عام انتخابات (جولائی 2018ء) میں 3 کروڑ 70 لاکھ پاکستانیوں نے اپنا حق خودارادیت استعمال کیا اُور آج یہ سبھی ووٹر اور باقی ماندہ پاکستان کی عوام کو انتہائی سخت معاشی حالات کا سامنا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان کی موجودہ 95فیصد آبادی مہنگائی سے متاثرہ ہے اور اِس کے لئے بنیادی ضروریات کا حصول بھی مشکل ہو گیا ہے۔

گرامئ قدر وزیراعظم صاحب‘ پاکستان میں نجی شعبہ سونے کے انڈے دے رہا ہے اُور انہی پر ملک کا انحصار ہے لیکن نجی کاروباری اداروں کے لئے ماحول سازگار نہیں۔

گذشتہ ہفتے کی بات ہے جب میں اپنے ایک دوست کے ہمراہ بڑے ہوٹل گیا۔ ہوٹل کا منیجر ہمارے پاس آیا اُور اپنی بڑھتی ہوئی کاروباری مشکلات کا رونا رونے لگا۔ اُس کا کہنا تھا کہ گذشتہ 10کے دوران اُن کی آمدن سات لاکھ روپے یومیہ سے کم ہو کر تین لاکھ روپے یومیہ ہو چکی ہے۔ اِسی ہوٹل کے ایک ویٹر نے بتایا کہ اُسے گاہگوں کی جانب سے بطور انعام (tip) ملنے والی رقم 1100 روپے سے کم ہو کر 500 روپے رہ گئی ہے۔
سڑک کنارے ’تکہ شاپ‘ کے مالک شیخ صاحب بھی فریادی نکلے۔ اُنہوں نے بتایا کہ 1998ء سے کاروبار کر رہے ہیں لیکن موجودہ حالات جیسی مندی کبھی بھی دیکھنے میں نہیں آئی اُور اُن کی یومیہ کل فروخت جو پہلے 75 ہزار روپے ہوا کرتی تھی اب کم ہو کر 25 ہزار روپے رہ چکی ہے لیکن وہ اپنے ملازمین کی تعداد کم نہیں کرسکتا کیونکہ اِن میں بعض عرصہ 20 سال سے اُن کے ساتھ ہیں۔

میرے ایک پروگرام کے پروڈیوسر جو کہ ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں‘ اُن کی ملازمت ختم ہو چکی ہے اور اب وہ گزربسر کے لئے ٹیکسی چلا کر گزارہ کر رہے ہیں۔ اِس پر ستم یہ کہ گذشتہ ماہ اُس نے مجھے بتایا کہ اُس کے پاس کوئی دوسری صورت نہیں رہی لیکن وہ اپنے گھر کے گیس کا بل اَدا کرے یا بچوں کی فیسیں! مجھے اُس کے متفکر چہرے پر آنسوؤں کی قطاریں دکھائی دے رہی تھیں۔ چند دن پہلے کی بات ہے میں ایک خاتون پروگرام اینکر سے ملا‘ جس کی ملازمت ابھی جاری ہے۔ اُنہوں نے بھی یہی کہا کہ گیس کے بل اور بچوں کی سکول فیسیں ادا کرنے میں اُنہیں مشکلات کا سامنا ہے۔

ایک سال قبل 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ میں گزارہ ہو جایا کرتا تھا۔ دو روز قبل میں نے اپنے کیمرہ مین سے اُس کے گیس بل سے متعلق پوچھا تو اُس نے کہا کہ 15 ہزار روپے آیا ہے۔ یہ بل اُس کی ماہانہ آمدنی سے پندرہ فیصد زیادہ تھا۔ علاؤہ ازیں اُسے دیگر ضروریات کے لئے بھی اپنی تنخواہ کا پندرہ فیصد اُور گھر کا کرایہ ادا کرنے کے لئے 30 فیصد درکار تھا۔ اِن تمام ادائیگیوں کے بعد اُس کے پاس 20 ہزار روپے رہ جاتے تھے‘ جن سے اُسے پورا مہینہ گھر کے اخراجات‘ بچوں کی فیسیں‘ اُن کے یونیفارم اُور دیگر ضروریات پوری کرنا ہوتی تھیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ سال 2013ء میں زیرگردش نوٹوں کی تعداد 1.9 کھرب روپے تھی جو بڑھ کر 4.6 کھرب روپے ہو چکی ہے۔ اِس افراط زر کا مطلب ہے کہ عام آدمی کی مالی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے اور جن لوگوں کے پاس سرمایہ ہے اُنہوں نے ہاتھ روک رکھا ہے۔ کاروباری طبقات غیریقینی کا شکار ہیں۔ کوئی سرمایہ کاری نہیں کرنا چاہتا۔ ہمارے وزیراعظم سینکڑوں لوگوں کے لئے ’شیلٹر ہومز‘ بنا رہے ہیں جبکہ کاروباری ادارے ہزاروں کی تعداد میں ملازمین کا بوجھ کم رہی ہیں۔

گردشی قرض بھی لائق توجہ ہے‘ جو 1.6 کھرب روپے جیسی بلند سطح کو چھو رہا ہے۔ یہ ایک ایسا بم ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ اِس گردشی قرضے کا بوجھ 2 کروڑ 30لاکھ بجلی کے صارفین کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے یعنی بجلی کے ہر صارف کو اوسطاً 70 ہزار روپے ادا کرنا پڑیں گے۔ ملک کی خام پیداوار (GDP) میں کمی کا مطلب ہے کہ مزید 11 لاکھ افراد بے روزگار ہوں گے۔ 41 لاکھ افراد خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے یعنی غربت بڑھے گی اور سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ تو خرابئ حالات کا ابھی آغاز ہے۔ ملک کے جملہ سیاسی فیصلہ سازوں سے التماس ہے کہ وہ کاروباری طبقات کی مشکلات کا احساس کریں‘ سازگار کاروباری ماحول اُور ترقی کے مواقعوں میں اضافہ کریں اُور سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کو بچائیں۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)

Apr07: Who should be declare PROUD of PESHAWAR?

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
فخر پشاور !؟

پشاور سے ’دِلی محبت‘ کا اِظہار ’عمل‘ سے بھی ہونا چاہئے اُور اِسی ’’عملی اِظہار‘‘ کے لئے ضلعی حکومت (سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ) نے سماجی‘ علمی و اَدبی شعبوں میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والوں کی ’بذریعہ اِعزازات‘ حوصلہ اَفزائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اِس سلسلے میں باقاعدہ تقریب کا اِنعقاد ’2 مئی 2019ء‘ کی ’سہ پہر 3 بجے‘ نشترہال میں منعقد ہوگی اُور کسی بھی شعبے میں ’حسن کارکردگی‘ کا مظاہرہ کرنے والے ’اہل پشاور‘کو مطلع کیا گیا ہے کہ وہ ’’12 اَپریل‘‘ تک اپنی درخواستیں ’ڈسٹرکٹ سپورٹس آفس‘ کو پہنچا دیں۔ اِس سلسلے میں تعلیم‘ صحت‘ ویمن ایمپاورمنٹ‘ ادب و فنون لطیفہ‘ آرٹ‘ موسیقی‘ یوتھ ڈویلپمنٹ‘ کھیل‘ تاریخ و ثقافت‘ آثارقدیمہ‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی‘ زراعت اُور تجارت سمیت کئی دیگر شعبوں میں غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے زندہ یا فوت شدگان کو ’فخر پشاور ایوارڈ‘ دیا جائے گا۔

ناقابل یقین منطق اُور تعجب خیز طریقۂ کار یہ ہے کہ ’’پشاور کے لئے خود کو وقف کرنے والوں کو تحریری درخواست دینا پڑے گی کہ ’’جناب ضلع ناظم صاحب‘ مؤدبانہ گزارش ہے کہ فدوی نے اپنی تمام زندگی پشاور کے لئے وقف کئے رکھی اُور متمنی ہے کہ اِن خدمات کے عوض اِسے ’فخر پشاور ایوارڈ‘ سے نوازہ جائے! عین نوازش ہو گی۔‘‘ پشاور کے ساتھ اِس سے ’’گھناؤنا اُور سنجیدہ مذاق‘‘ کوئی دوسرا ممکن ہی نہیں کہ زمینی حقائق سے لاعلم ضلعی حکومت اَندھیرے میں تیر چلاتے ہوئے جلدبازی میں ’فخر پشاور‘ جیسے اعزازات کی ’بندر بانٹ‘ کرے۔ اندیشہ ہے کہ افسرشاہی (بیوروکریسی)کے من پسند افراد کی فہرست میں چند نام منتخب ضلعی نمائندوں کے شامل کر کے ایک اچھے خاصے مقصد کو دفن کر دیا جائے گا اور پھر وہ ساری زندگی اپنے نام کے ساتھ ’فخر پشاور‘ لکھنے والوں سے کوئی نہیں پوچھ سکے گا کہ وہ کس بنیاد پر ’قابل فخر (رشک)‘ قرار پائے ہیں۔ تاریخ میں ایسے حکمرانوں کا ذکر مذاق کے طور پر درج ملتا ہے‘ جنہوں نے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے لیکر عوام کی خدمت کا حق اَدا نہیں کیا۔ مٹی کی محبت ’آشفتہ سری‘ چاہتی ہے۔ کوئی بھی ادنیٰ سے ادنیٰ اور اعلیٰ سے اعلیٰ مقصد بھی ’بناء قربانی‘ حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ پشاور کے لئے کارہائے نمایاں سرانجام دینے کی واحد کسوٹی (پیمانہ اُور اصول) یہ ہونا چاہئے کہ ’’پشاور کے لئے اپنے ذاتی و سیاسی مفاد کی قربانی کس نے دی اُور یہ قربانی کتنی بڑی تھی!‘‘ علاؤہ ازیں اعزازات کی بارش کرنے کی بجائے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے صرف ایک ہی شخص کو ’اعزاز کے لئے سزاوار‘ قراد دینا چاہئے۔ اصولی طور پر (زیادہ بہتر تو یہی ہوتا کہ) درخواستیں طلب کرنے کی بجائے ضلعی حکومت خود اِس بات کی کھوج کرتی کہ رواں برس ’’فخر پشاور اعزاز‘‘ کے لئے مستحق کون ہے‘ کہاں ہے اور اُس کا تعلق خدمات کے کس شعبے سے ہے۔ اعزاز دینے کے لئے ’کم سے کم معیار‘ بھی مقرر ہونا چاہئے۔ جنوب مشرق ایشیاء کے قدیم ترین اور زندہ تاریخی شہر سے منسوب ’فخر پشاور‘ جیسا معتبر نام متقاضی ہے کہ دیگر اعزازات کی طرح اِس کی ساکھ (عزت افزائی) میں اضافہ کیا جائے اور یہ اعزاز کسی بھی زاویئے سے ’اعزاز کی توہین‘ قرار نہ پائے۔

زندگی کو وفا شعار کرو
دل و جاں کیا جہاں نثار کرو
جو نچھاوڑ ہوئے پشاور پر
ایسے احباب کا شمار کرو

ضلعی حکومت کے منتخب و غیرمنتخب فیصلہ سازوں کو غوروفکر کی دعوت ہے کہ وہ عام یا ضمنی انتخابات جیسے مواقعوں پر پوسٹروں‘ بینروں اُور دیگر تشہیری مواد کے ذریعے خودساختہ ’فخر پشاور‘ شخصیات کو بھی ’اظہار وجوہ‘ کے نوٹسیز جاری کریں اُور اِس بات پر پابندی عائد ہونی چاہئے کہ ذرائع ابلاغ ہوں یا اخبارات و جرائد‘ ہر خاص و عام خاطر جمع رکھے کہ ’’اپنا خرچا اُور اپنا چرچا‘‘ نامی حکمت عملی کے تحت کوئی بھی شخص ’فخر پشاور‘ یا ’بابائے پشاور‘ نہیں بن سکتا‘ جب تک کہ اُس کی باقاعدہ منظوری‘ توثیق و تائید (سند) ضلعی حکومت کی جانب سے نہیں مل جاتی۔ عجیب مذاق ہے کہ جس کا دل چاہے پشاور کے وسائل اور اِس کے نام کو استعمال کر لیتا ہے حتیٰ کہ پشاور کے اثاثے (در و دیواروں) پر بھی اُنہی کا حق مسلمہ ہے‘ جو مالی استطاعت اور سیاسی اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ 

ضلعی حکمرانوں کو اِس بات کا بھی سختی سے نوٹس لینا چاہئے کہ فصیل شہر اُور دروازوں پر لگے پوسٹروں سمیت ہر قسم کی سیاسی و غیرسیاسی ’وال چاکنگ‘ پر پابندی عائد کی جائے۔ پشاور کو خوبصورت بنانے کا عزم اپنی جگہ لیکن ضلعی حکومت ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے پشاور کو ’آلودہ‘ کرنے والوں سے عملاً نمٹ سکتی ہے! عام آدمی (ہم عوام) حیرت زدہ ہیں کہ آج تک پشاور کا کوئی ایک بھی دیرینہ مسئلہ حل نہیں ہو سکا ہے جیسا کہ تجاوزات! ہر دور حکومت میں پہلے سے زیادہ بڑھ چڑھ کر تجاوزات کے خلاف مہمات شروع کی جاتی ہیں‘ جن کے نتائج گلی گلی اور محلے محلے بکھرے دکھائی دیتے ہیں۔ کاروباری و رہائشی علاقوں میں تمیز تیزی سے ختم ہو رہی ہے لیکن اِس خلاف ورزی پر بھی قانون حرکت میں نہیں آ رہا۔ کثیرالمنزلہ عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں‘ جن میں پارکنگ اور دیگر حفاظتی انتظامات کا اہتمام نہیں کیا جاتا لیکن اِس سلسلے میں بھی ضلعی حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے! ملاوٹ شدہ اشیاء کی بھرمار بھی پشاور کا مسئلہ ہے‘ جس کے موجودہ حکمرانوں سے حل ہونے کی اُمید نہیں رہی! وقت ہے کہ دوسروں کے لئے بلکہ ضلعی حکومت اپنے لئے لائحہ عمل تشکیل دے۔ 

پشاور پر حکمرانی کرنے والوں کی کمی نہیں عوام کو خدام کی تلاش ہے۔ پہلا ’خادم پشاور‘ کون ہوگا؟ شہر و مضافاتی علاقوں میں پینٹر (خطاط) حضرات اُور پینافلیکس بنانے والوں کو ہدایات جاری کی جا سکتی ہیں کہ وہ غیرضروری طور پر ناموں کے ساتھ القابات کا اضافہ کرنے سے گریز کریں اور اگر کسی نے پشاور کی درودیواروں پر وال چاکنگ پر عائد پابندی کا عملاً مذاق اڑایا تو ایسے افراد کے خلاف بلاامتیاز سخت گیر کاروائی کی جائے گی۔ 

’فخر پشاور‘ کا اِعزاز ’ضلعی ناظم‘ کو ملنا چاہئے؟ کیا وہ خود کو ایسے کسی اعزاز کا مستحق سمجھتے ہیں؟ اگر نہیں تو (اب بھی دیر نہیں ہوئی اُور) ژرف نگاہی سے دیکھا جانا چاہئیکہ ’’پشاور سے محبت کے عملی اِظہار و کردار کی اِصلاح کیونکر (کیسے) ممکن بنائی جا سکتی ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://epaper.dailyaaj.com.pk/index.php?city=peshawar&page=20&date=2019-04-07