Monday, June 15, 2020

OVER PRICED SUGAR: The Nexus of Govt, Mafia and Court

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
گھاٹے کا سودا
وفاقی کابینہ اجلاس (اکیس مئی) نے ’شوگر کمیشن رپورٹ‘ منظرعام پر لانے کی منظوری دی جس سے قبل کسی بھی اِدارے اُور چینی ساز صنعتوں کو تحقیقات پر اِس قدر اعتراضات نہ ہوئے کہ وہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے۔ پھر اِس دوسرا مرحلے پر جبکہ تحقیقاتی رپورٹ صیغہ راز میں نہ رکھنے کا فیصلہ ہوا تو اِس پر شوگر ملز مالکان خاموش رہے کیونکہ وہ ماضی میں بھی اِس قسم کی تحقیقات سے نمٹ چکے تھے اُور یہ بات صرف صنعتکار ہی نہیں بلکہ عام پاکستانی بھی جانتا ہے کہ سرمایہ داروں اُور صنعتکاروں کے خلاف اِس قسم کی تحقیقات ہر دور حکومت میں ہوتی رہتی ہیں لیکن اوّل تو یہ تحقیقات اِس انداز سے کی جاتی ہیں کہ اِس میں فائدہ اُٹھانے والے فریق (نجی کاروباری طبقات کا) فائدہ ہو اُور دوسرا اِس قسم کی رپورٹیں خفیہ رکھی جاتی ہیں جن کے صفحات میں کیا لکھا ہوتا ہے اِس بارے میں عام آدمی (ہم عوام) کو زیادہ معلومات نہیں ہو سکتیں اُور تیسرا تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نامزد اداروں کے خلاف کاروائی نہ کرنا بھی ایک معمول ہے لیکن تحریک انصاف ماضی کی حکومتوں سے قطعی مختلف ثابت ہوئی۔ ملک میں چینی کی قلت‘ قیمت میں اضافے اُور حکومت کی جانب سے شوگر ملوں کو دی جانے والی سبسڈی کے بارے میں تحقیقات کروائی گئیں اُور یہ بنا سیاسی دباو ¿ اپنے مقررہ وقت (تین ماہ میں) مکمل ہوئیں۔ مذکورہ تحقیقات کی روشنی میں سامنے آنے والی جملہ سفارشات منظرعام پر ہیں تو کیا کیونکہ سزا و جزا دیکھنے میں نہیں آ رہی؟

چینی تحقیقاتی کمیشن کی سفارشات سے متعلق 7 جون کے روز فیصلہ ہوا کہ اِنہیں قومی احتساب بیورو کے حوالے کیا جائے گا تاکہ جو شوگر ملیں دروغ گوئی سے اربوں روپے بطور سبسڈی وصول کرتی رہی ہیں‘ جنہیں ناجائز منافع خوری کی عادت پڑ چکی ہے‘ جن کی ٹیکس چوری اُور غیرقانونی کاروباری دھندوں سے ہر خاص و عام کسی نہ کسی صورت آگاہ ہے لیکن ابھی بدعنوانی کے الزامات کے تحت قانون کے مطابق کاروائی شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ شوگرملز مالکان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا اُور نہ صرف ممکنہ کاروائی اُور مزید بدنامی کا راستہ روک لیا بلکہ اُس پورے تحقیقاتی عمل کو ہی دفن کر دیا ہے‘ جس کے ذریعے سے پہلی مرتبہ یہ اُمید ہو چلی تھی کہ چینی کی آڑ میں عوام کو لوٹنے والوں کا اِحتساب ہوگا اُور بات صرف چینی تک محدود نہیں رہے گی۔ یہ بھی توقع تھی کہ عوام کو چینی جیسی بنیادی اُور ضروری جنس اِس کی اصل قیمت پر ملنا شروع ہو گی لیکن عدالت نے یہاں دخل اندازی کر کے اپنی طرف سے قیمت مقرر کر دی جو عدالت کا اختیار ہی نہیں اُور نہ ہی تحقیقاتی رپورٹ سے مطابقت رکھتا ہے۔ اِس مضحکہ خیز صورتحال نے ’خراب طرز حکمرانی‘ کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے کہ ایک تو حکومت اپنے فیصلوں کو صیغہ ¿ راز میں نہیں رکھ پائی جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے شوگرملز مالکان نے جو ہر مرتبہ حکومت سے ریلیف حاصل کیا کرتے تھے اُور دوسرا اِس مرتبہ اگر حکومت کچھ کرنا چاہتی ہے تو عدالت شوگرملز کے لئے بطور نجات دہندہ سامنے آئی ہے۔ اگر کسی عام آدمی کے خلاف قانونی کاروائی کرنا ہوتی ہے تو اُسے کان کان خبر بھی نہیں ہوتی اُور نامعلوم افراد اُسے اُٹھا لے جاتے ہیں جبکہ (اربوں روپے کی بدعنوانی کے پچاس سالہ دور سے متعلق) شوگر ملز کے معاملے میں حکومت‘ احتساب کا عمل‘ قانون نافذ کرنے والے ادارے اُور عدالت نے کسی نہ کسی مرحلے پر سہولت کاری کر رہے ہیں! اصولاً عدالت کو درخواست واپس کر دینا چاہئے تھا اُور اِس کے لئے ”ایگزیکٹو معاملات میں مداخلت نہ کرنا“ اپنی جگہ مضبوط و کافی دلیل تھی۔

شوگر مل مالکان کی درخواست کے جواب میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کچھ سوالات اٹھائے اُور پھر خود ہی اِن سوالات کا جواب بھی کہیں واضح تو کہیں لیکن ’اَن کہے‘ اَنداز میں دیا ہے۔ شوگر انکوائری کمیشن کی تحقیقاتی رپورٹ میں صنعتی اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام لگایا گیا جس کی وجہ سے پاکستان میں چینی کی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ دیکھنے میں آ رہا تھا بلکہ شوگر ملز نے قیمتوں کے تعین کو بھی عملاً اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ اگرچہ عدالت نے 10 دن کے لئے حکم امتناعی جاری کیا لیکن یہ 10دن گویا 10سال جیسا ریلیف دینا ہے کیونکہ اِس دوران کروڑوں روپے فیس وصول کرنے والے وکیل نہ صرف اپنی قانونی مہارت دکھائیں گے بلکہ پس پردہ معاملات بھی طے پانے کے لئے دس دن کی مہلت بہت ہے۔ جن شوگر ملز مالکان کو کم سے کم 29 ارب روپے لی گئی سبسڈی واپس کرنے سے بچانی ہے اگر وہ دس پندرہ ارب خرچ بھی کر دیں اُور سبسڈی لینے کے سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے چینی کی قیمتوں کے تعین کا اپنا اختیار بھی برقرار رکھیں تو یہ قطعی گھاٹے کا سودا نہیں ہوگا۔ خسارہ اگر کسی کا ہوا ہے اُور ہو رہا ہے تو وہ ہم عوام ہیں‘ جن کی نظروں میں حکومت‘ قومی احتساب بیورو‘ خفیہ اُور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ساتھ عدالت بھی ایک ہی صف میں صنعتکاروں کے شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ یقینا یہ درست تاثر نہیں اُور نہ ہی ایک اسلامی اُور جمہوری مملکت کے شایان ہے!

شوگر ملز نے عدالت کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ 70 روپے فی کلوگرام چینی فروخت کریں گے جبکہ شوگر کمیشن کی رپورٹ میں چینی بنانے اُور اُس کی نقل و حمل (منڈیوں کو فراہمی پر اُٹھنے والے اخراجات کے بعد فی کلوگرام چینی کی قیمت 30 سے 40 روپے کے درمیان معلوم ہوتی ہے اگر بہت زیادہ منافع بھی دیا جائے تو اضافی 10 روپے کے ساتھ 50 روپے فی کلوگرام چینی ہونی چاہئے اُور سال 2019ءمیں چینی اِسی قیمت پر فروخت ہوتی تھی تو اب کیوں نہیں؟

معلوم ہوتا ہے کہ انکوائری کمیشن کے خلاف پوری چینی کی صنعت جملہ ہتھیاروں یعنی نوٹوں سے بھری بوریوں کے منہ کھول کر میدان میں اُتر آئی ہے۔ تنازعہ کا بنیادی نکتہ وفاقی حکومت کا منظور کردہ 2017کا قانون ہے جس کے تحت آئینی مینڈیٹ اور تحقیقات کے لئے فیڈرل کمیشن آف انکوائری کے بارے میں اعتراض اُٹھایا گیا ہے۔ شوگر انڈسٹری کا دعویٰ ہے کہ کمیشن نے اُن معاملات میں دخل اندازی کی جو درحقیقت صوبوں کے ایگزیکٹو اور قانون سازی سے متعلق اختیارات ہیں۔

غورطلب ہے اعتراض کا نکتہ کیا ہے اُور یہ نہیں کہا جا رہا کہ جو کچھ تحقیقاتی کمیشن نے لکھا ہے وہ غلط ہے لیکن یہ کہا جا رہا ہے کہ تحقیقات کرنے کا اختیار نہیں تھا! شروع دن سے تشنگی محسوس ہو رہی ہے اُور واضح ہے کہ کمیشن کی 324صفحات پر مشتمل رپورٹ میں ابھی بہت سارے نکات اُور پہلوو ¿ں کو شامل نہیں کیا گیا جو شامل ہونے چاہیئں اُور اگر عدالت عوام کے حق میں ہوتی تو اُن سبھی پہلوو ¿ں پر بھی تحقیقات کا حکم صادر کر سکتی تھی۔ بہرحال شوگر تحقیقاتی کمیشن نے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کر دی ہے اُور تجویز کیا ہے کہ وہ شوگر ملز مالکان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے لیکن یہ کاروائی کون کرے گا اُور کیسے ممکن ہوگی‘ یہ بات وثوق سے نہیں کہی جا سکتی!؟
............
Clipping from Daily Aaj - June 15, 2020
Editorial Page - Daily Aaj - June 15, 2020

Sunday, June 14, 2020

Wonders of Peshawar: Beju Di Qabar

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام
پراسرار پشاور: بیجو دی قبر!
جنوب مشرق ایشیا کے قدیم ترین اُور زندہ تاریخی شہر ’پشاور‘ کے کئی ایک ایسے اسرار اُور ابواب ہیں‘ جن سے بالخصوص نئی نسل تو کیا یہاں کے قدیمی باشندے بھی شناسا نہیں اُور اِنہی میں سے ایک ’درانی قبرستان‘ ہے‘ جہاں کم سے کم 2 قدیمی مساجد آج بھی نسبتاً بہتر حالت میں موجود ہیں جبکہ شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والوں کے مزارات کی شان و شوکت اگرچہ ویسی نہیں رہی لیکن اُن کی باقیات کو دیکھ کر تصور کیا جاسکتا تھا کہ وہ ایک وقت میں کس قدر خوبصورت رہی ہوں گے اُور قبرستان و اِس سے ملحقہ علاقہ کس قدر اہم رہا ہو گا۔

معروف تاریخ داں ڈاکٹر احمد حسن دانی نے اپنی کتاب ”پشاور: ہسٹوریکل سٹی آف دی فرنٹیئر (Peshawar: Historical City of the Frontier) میں درانی قبرستان کا ذکر کیا ہے۔ اُن نے لکھا کہ ”درانیوں کے قبرستان میں اینٹوں سے بنی ہوئی 2 مساجد ہیں۔ ایک مسجد بزرگ دین شیخ حبیبؒ کے مزار کے پاس ہے جو حافظ مراد نے 1725ءمیں تعمیر کروائی تھی۔ اِس مسجد کی خاص بات فن تعمیر ہے جو یہاں پہلے سے موجود مساجد سے مختلف اُور زیادہ محنت و خوبصورتی کا مظہر ہے۔ دوسری مسجد 1796ءمیں شیخ ایواز (Shaikh Iwaz) نے درانیوں کے دور حکومت ہی میں تعمیر کروائی تھی۔ ذہن نشین رہے کہ درانی سلطنت کا آغاز 1747ءمیں ہوا تھا اُور یہ 1826ءتک جاری رہا تھا جن کے بانی احمد شاہ درانی تھے۔ اُنہوں نے جون 1747ءمیں نادر خان افشر کو قندھار (افغانستان) میںشکست دے کر سلطنت قائم کی۔ یہ سلطنت اِس قدر تیزی سے پھیلی کہ ایک ہی سال اِس کا ایک سرا بلوچستان (پاکستان) سے لیکر غزنی‘ کابل اُور پشاور تک پھیل گیا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ درانی قبرستان پشاور میں موجودہ شاہی قبروں کے کتبے اُور اُن پر لگی سنگ مرمر و دیگر پتھروں کی سلیں تک اکھاڑ (چوری) لی گئیں۔ اِس سلسلے میں سردار محمد ایوب خان کی قبر سب سے نمایاں خسارہ ہے‘ جو معروف میوند کی جنگ کے فاتح تھے اُور اُنہیں پشاور لا کر آسودہ ¿ خاک کیا گیا۔ کون جانتا تھا کہ دنیا کے چند بہادر ترین فوجیوں میں شمار ہونے والے اِس سپاہ سالار کی قبر کبھی خستگی کی یوں تصویر پیش کرے گی۔ مقام فکر ہے کہ ہمارے بچوں کے ہیرو فلمی اداکار بن چکے ہیں‘ جبکہ اُنہیں تاریخ سے لگاو ¿ نہیں رہا اُور اگر ذرائع ابلاغ (بلخصوص اخبارات) تاریخ کے بیان کو مستقل موضوع بنائیں تو ممکن ہے کہ تاریخ (ماضی) سے ٹوٹا ہوا رشتہ بحال ہو جائے۔

درانی قبرستان کے ایک حصے میں ’بیجو دی قبر‘ کے نام سے مشہور ایک مقبرہ اپنی تعمیرکے لحاظ سے انتہائی سادہ لیکن اپنی مثال آپ ہے۔ محبت کی اِس لازوال کہانی کا آغاز 1772ءسے ہوا جب تیمور شاہ درانی افغانستان کا بادشاہ تھا۔ وہ اُس بہادر سپاہی کا فرزند تھا جس نے مرہٹوں کے خلاف برصغیر میں جنگ جیتی تھی۔ سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی درانی بادشاہوں کی طرح تیمور شاہ پشاور کا رخ کرتا کیونکہ اُن دنوں افغانستان میں سردی کی شدت زیادہ ہوا کرتی تھی اُور آج بھی پاکستان کی نسبت کابل کی آب و ہوا موسم سرما میں زیادہ شدید ہوتی ہے۔ 

1780ءمیں تیمور شاہ پشاور آیا تو یہ معمولی بات نہیں تھی بلکہ بادشاہوں کے پشاور آنے کے موقع پر سینکڑوں ہاتھیوں اُور گھوڑوں پر مشتمل قافلے پوری شان و شوکت سے وارد ہوا کرتے تھے اُور اُس دور کی چند محفوظ تصاویر میں دیکھنے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب بادشاہوں کے قافلے پشاور پہنچتے تھے تو اِس شہر کا ماحول کس قدر تبدیل ہو جایا کرتا تھا اُور پشاور کے بازاروں اُور راستوں کو سجانے کی وجہ سے یہاں کی رونقوں (گہما گہمی) میں کس قدر اضافہ دیکھنے میں آتا تھا۔ تیمور شاہ اپنی تمام بیویوں کے ساتھ پشاور پہنچا۔ ملکہ ¿ اول چونکہ حسب و نسب سے شاہی تھی اُس کی دوسری بیوی محترمہ بی بی جان تھی جو خوبصورت ہونے کے ساتھ انتہا درجے کی ذہین خاتون تھیں اُور یہی وجہ تھی کہ تیمور شاہ اُن سے امور سلطنت کے بارے مشورہ لیا کرتا تھا جبکہ اِس کی وجہ سے شاہی خاندان کے دیگر افراد بی بھی جان سے حسد کرتے تھے۔ تیمور شاہ کی پہلی بیوی کی نسبت دوسری بیوی (بی بی جان) سے زیادہ محبت بھی عداوت کا ایک سبب تھی اُور یوں بی بی جان کو شربت میں تھوڑا تھوڑا کر کے زہر دیا جانے لگا‘ جس سے وہ کمزور ہوتی چلی گئی اُور بالآخر اِسی زہرخوری (مرض) کی وجہ سے اُس کی موت ہو گئی۔ جب تیمور شاہ کو بی بی جان کی خراب ہوتی طبیعت کا علم ہوا تو اُس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ تیمور شاہ جو کہ شاہی باغ میں قیام کرتا تھا اُور شاہی باغ ہی میں بی بی جان کی موت بھی ہوئی تھی تو اُن سے محبت کی یادگار کے طور پر اُن کا مزار (شہر کے جنوب میں) ’وزیرباغ‘ کے قریب بنوایا۔ 

تیمور شاہ بہت غمزدہ تھا اُور وہ طویل عرصے اِس غم میں امور سلطنت سے الگ بھی رہا تاہم بعد میں وقت کے ساتھ قافلے آگے بڑھ گئے۔ 

شاہی عشق کی جو لازوال داستان پشاور میں اختتام پذیر ہوئی تھی اُس کی یادگار (مزار) قائم ہونے کے بعد بھی شاہی خاندان کے افراد کی بی بی جان مرحومہ سے حسد و عداوت ختم نہ ہوئی اُور اُنہوں نے بی بی جان کو بیجو (بندریا) کے نام سے مشہور کر دیا کہ مذکورہ مزار میں کوئی انسان نہیں بلکہ ایک بندریا کی قبر ہے اُور چونکہ یہ منظم انداز میں اُڑائی گئی افواہ تھی‘ اِس لئے صرف پشاور ہی نہیں بلکہ پوری سلطنت میں پھیلا دی گئی اُور تاریخ میں بھی اِس کا زیادہ تذکرہ (چرچا) درج ہونے نہیں دیا گیا۔ بی بی جان سے متعلق اگرچہ تاریخ خاموش ہے لیکن اُن کے اوصاف بشمول ذہانت کا تذکرہ سینہ بہ سینہ چلا آ رہا ہے لیکن اُس کی مثالیں اُور واقعات کا تفصیلاً و مستند ذکر موجود نہیں اُور یہی وجہ ہے کہ عہد حاضر کے بہت سے نامور تاریخ داں بھی ’بی بی جان‘ کو ’فرضی کہانی‘ ہی سمجھتے ہیں۔ 

بی بی جان ایک حقیقت تھی اُور پشاور کے درخشاں ماضی اُور یہاں کی تاریخ کا روشن باب اُور حوالہ ہے۔ ضرورت ہے کہ اہل پشاور اپنے بچوں کو وہ سبھی قصے کہانیاں سنائیں‘ جو اُن کے آبائی شہر کے ماضی سے متعلق ہیں اُور انہیں اِن مقامات کی سیر کے لئے بھی لے جائیں۔ بی بی جان مرحومہ کا اہل پشاور پر اتنا حق تو ہے کہ اُس کی قبر پر ایک عدد فاتحہ کے لئے حاضری دیا کریں یا کم سے کم سے وہاں سے گزرتے ہوئے اُسے یاد کر لیا کریں۔

یہی مرحلہ  فکر دعوت دیتا ہے کہ اہل پشاور آثار قدیمہ کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہوئے اِس بات کا احساس کیا جائے کہ آثار قدیمہ کی اہمیت‘ اِس کی آئینی حفاظت اُور اِن کے ساتھ سماجی طور پر زندگی بسر کرنے کا مفہوم اپنی ذات میں کیا ہے اُور اِس سے کیا کچھ ذمہ داریاں جڑی ہوئی ہیں۔ 

یہی مرحلہ  فکر متقاضی ہے کہ ’پشاور شناسی‘ عام کی جائے۔ 
اغیار کی لکھی ہوئی تاریخ یا تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششیں صرف اُسی صورت ناکام ہو سکتی ہیں جبکہ حکومت اُور حکومتی ادارے اپنا کردار ادا کریں۔ 

اہل پشاور بالخصوص اندرون شہر اُور شہر کے اُن حصوں میں رہنے والوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تاریخ کے بھولے بسرے واقعات کے بارے بھی اپنی معلومات درست کریں۔ یہ کہانیاں صرف واقعات نہیں بلکہ پشاور کی تاریخ کا جز ہیں‘ یہاں کے رہنے والوں کے محبت بھرے مزاج کی عکاس ہیں۔ یہاں پلنے والی حسد و عداوات کا بیان بھی ہیں‘ جنہیں انسانی رشتے داریوں کے تناظر میں سمجھنا اُور بیان کرنا قطعی مشکل نہیں۔ بی بی جان کی قبر توجہ چاہتی ہے کہ اِسے بحال کیا جائے۔ پشاور سراپا محبت اُور محبت کرنے والوں کا مسکن رہا ہے۔ یہاں محبت کی ایک نشانی (مقبرہ بی بی جان المعروف بیجو دی قبر) الفت و حسد سے متعلق بیان اُور تاریخ پشاور کی تمہید کے طور پر ازبر‘ پیش اُور دستاویز (محفوظ) ہونی چاہئے۔
........
Daily Aaj Editorial Page June 14, 2020 

Clipping from Daily Aaj  - 14 June 2020