Tuesday, July 7, 2015

Jul2015: Future concerns of Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اندیشہ ہائے دور دراز
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد نے خبر دی ہے کہ رواں برس (دو ہزار پندرہ) کے دوران اب تک 27 بچوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو چکی ہے۔ چھ جولائی کو سامنے آنے والا کیس میرا کچوری کے علاقے میں سامنے آیا ہے جو پشاور کا ایک مضافاتی علاقہ ہے جہاں اٹھارہ ماہ کے ابوبکر کو لاحق پراسرار بیماری کا علاج کرتے ہوئے ڈاکٹروں نے جب خون کا نمونہ پولیو تصدیق کے لئے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صحت کے قومی مرکز کو ارسال کیا گیا تو جانچ کے بعد تصدیق ہوگئی ہے کہ مذکورہ بچہ پولیو وائرس سے متاثر ہے۔ یاد رہے کہ پشاور میں پولیو وائرس کا یہ ساتواں جبکہ خیبرپختونخوا میں ظاہر ہونے والے پولیو کا گیارہواں شکار ہے! انسداد پولیو کی جنگ ہارنے کی بڑی وجہ ’امن و امان‘ کی غیریقینی صورتحال ہے۔

یہ حقیقت کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے لیکن سچ تو یہ ہے کہ قبائلی علاقوں کی طرح پشاور کے مضافات میں آج بھی عسکریت پسندوں کا راج ہے‘ جہاں گھر گھر پولیو مہمات صرف کاغذی طور پر مکمل کی جاتی ہیں اور طبی عملہ ایسے تمام علاقوں میں نہیں جاتا جو رنگ روڈ یا قبائلی علاقوں سے متصل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اگر کسی علاقے میں پولیو سے متاثر ایک بچہ پایا جائے تو اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے وہاں اوسطاً مزید دس بچوں میں پولیو وائرس موجود ہوگا! چونکہ ہمارے ہاں نہ تو ایسے علاقوں میں رہنے والے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی ادویات دی جاتی ہیں اور نہ ہی بڑے پیمانے پر بچوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کے لئے تجزیئے کرائے جاتے ہیں‘ اِس لئے ایک مرحلے پر ’پشاور کو پولیو فری‘ قرار دے کر جس خوشی اُور فخر کا اظہار کیا گیا وہ پائیدار ثابت نہین ہوسکا ہے۔ یہ امر بھی لائق توجہ رہے کہ انسداد پولیو مہمات میں حصہ لینے والے طبی عملے کو دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اُن کے گھروں پر دھمکی آمیز خطوط ارسال کئے جاتے ہیں کہ اگر انہوں نے خود کو انسداد پولیو کی مہمات سے الگ نہ کیا تو بال بچوں سمیت قتل کر دیئے جائیں گے۔

پشاور کا گنجان آباد شہری علاقے سیٹھی ٹاؤن ٗکے رہائشی کامران الیاس (سابق ڈسپنسر‘ لیڈی ریڈنگ ہسپتال) کی ایک مثال دی جاسکتی ہے‘ جنہیں اپنے علاقے میں انسداد پولیو کی وکالت‘ مقررہ طبی عملے کی مدد اور ایک جوش و جذبے کے ساتھ گھر گھر جا کر پولیو قطرے پلانے میں جوش و خروش سے حصہ لینے پر اِس قدر دھمکیاں دی گئیں کہ اُنہوں نے گذشتہ ماہ بہ امر مجبوری سرکاری ملازمت سے علیحدگی (ریٹائرمنٹ) لے لی اور بیوی بچوں کے ساتھ پشاور چھوڑ کر ہی چلے گئے۔ اپنے خلاف دھمکی آمیز خطوط اور ٹیلی فونز کالز کے بارے میں اُنہوں نے تھانہ پہاڑی میں ’ایف آئی آر‘ بھی درج کروائی‘ لیکن یہ حربہ بجائے کارگر ثابت ہونے کے اُنہیں پہلے سے زیادہ سخت گیر لہجے میں دھمکیاں ملنے لگیں‘ حتیٰ کہ ’ایف آئی آر‘ کے اندراج کے بعد ابھی گھر بھی نہیں پہنچ پائے تھے کہ اُنہیں پولیس سے رجوع کرنے کی غلطی کے الگ سے سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں ملنے لگیں! یہ ایک ایسی صورتحال ہے کہ جس پر جس قدر افسوس اُور تشویش کا اظہار کیا جائے کم ہے۔ جانی و مالی نقصانات کی دھمکی کیا ہوتی ہے اور اِس کے کسی خاندان پر کس قدر منفی نفسیاتی اثرات مرتب ہوتے ہیں یہ دکھ صرف اور صرف وہی بہتر جانتے ہیں جن پر گزر رہی ہوتی ہے۔ اپنا گھر‘ اجداد کا قبرستان‘ دوست اقارب‘ کاروبار‘ سماجی رابطے اور معاشرت کو بے سروسامانی کی حالت میں چھوڑ کر کسی انجان دیس پناہ لینے والوں کے دل پر کیا گزرتی ہے یہ اُن کا رب ہی زیادہ بہتر جانتا ہے! کتنی سسکیاں‘ کتنی آہیں اور کتنے ہی آنسو اپنے آبائی شہر کے لئے اِس طرح بہہ چکے ہیں جن کی اہمیت کا احساس نہیں کیا گیا اور رائیگاں چلے گئے!

قانون نافذ کرنے والوں کی موجودگی سے زیادہ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ مضافاتی علاقوں میں حکومت کی رٹ چیلنج کرنے والی منظم قوتوں کا راج جب اُور پشاور کے جس حصے میں چاہے کاروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اِن قوتوں کے پاس نہ تو معلومات کی کمی ہے اور نہ ہی یونین کونسلوں اور محلوں کی سطح پر فعال وغیرفعال اراکین کی کمی ہے۔ خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت کی اگر صورتحال یہ ہے تو دور دراز اضلاع کے برسرزمین حقائق بارے اندازہ لگانا مشکل نہیں! امن وامان کی صورتحال میں واضح بہتری کے باوجود منظم جرائم پیشہ عناصر سمیت عسکریت پسندوں کی ایسی نپی تلی کاروائیاں اُس اعتماد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ساکھ بحال کرنے کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ ہیں‘ جس کی بحالی کے لئے محکمۂ پولیس کے فرض شناس اہلکار محدود و ناکافی وسائل کے باوجود‘ کوششیں کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن چونکہ مسئلے کی جڑ یعنی اُس بنیادی محرک کا خاتمہ ترجیحات کا حصہ نہیں‘ اِس لئے اندیشہ ہے کہ جاری دوڑ دھوپ کے خاطرخواہ نتائج برآمد نہ ہوں یقیناًعام آدمی کو جان و مال کے تحفظ کا عملی طور پر احساس دلانے کے لئے قانون نافذ کرنے والے جملہ اداروں کو زیادہ مستعدی و فرض شناسی کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ دشمن شاطر ہونے کے ساتھ شہری و دیہی علاقوں میں تہہ در تہہ سرایت کر چکا ہے لیکن کچھ توجہ انتہاء پسندی پھیلانے والوں پر بھی مرکوز کرنا پڑے گی جن کی ارتقائی شکل ’عسکریت پسند‘ کہلاتی ہے اور اِن کے سہولت کار یا کالعدم قرار دی گئی مسلح تنظیمیں پہلے سے زیادہ منظم اور فعال دکھائی دے رہی ہیں! کہیں اِس کی وجہ ’پولیس ذرائع کے مطابق‘ وہ بااثر سیاسی افراد تو نہیں‘ جو کسی نہ کسی صورت ہمیشہ اقتدار میں رہنے کے لئے سیاست میں سرمایہ کاری کرتے ہیں؟

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی‘ قربانیاں اور اِس بظاہر تبدیل امن و امان کے منظرنامے میں جو ایک طبقہ سب سے زیادہ پریشان حال‘ اپنے گھر‘ ملازمت یا کاروبار کی حد تک محصور و محدود اُور مجبور دکھائی دیتا ہے اُن افراد پر مشتمل ہے جو معاشرے کے لئے کسی نہ کسی صورت ’کارآمد‘ ہیں۔ پھولوں کا شہر اُور امن کے گہوارے پشاور کی سردست حقیقت یہ ہے کہ یہاں کے رہنے والے صاحب ثروت افراد سے بھتے کا مطالبہ کرنے والے افغانستان کے موبائل فون نمبروں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ فون نمبر ’انٹرنیشنل رومنگ‘ کی سہولت کے باعث نہ صرف خریدے بلکہ ان سے استفادہ بھی کیا جاسکتا ہے۔ پشاور کے تین اطراف میں پھیلے قبائلی علاقوں میں ایسے مقامات بھی ہیں جہاں افغانستان کے موبائل فون سگنلز موصول کرکے پاکستان میں جرائم و تخریب کاری کے دھندے کو قائم و دائم رکھا گیا ہے۔ بھتے کی ادائیگی نہ کرنے والوں کو ڈرانے کے لئے اُن کی رہائشگاہوں یا دفاتر کے باہر بم دھماکے ماضی کی طرح آج بھی ہو رہے ہیں لیکن انتہائی تعلیم یافتہ‘ جرائم کی باریکیوں کے آگاہ اور جدید ترین مواصلاتی ٹیکنالوجی سے لیس ’پولیس‘ ہونے کے باوجود ایسے افراد تک اگر رسائی نہیں ہو پا رہی تو ضرورت اِس امر کی ہے کہ اجتماعی یا انفرادی طور پر معاشرے کے لئے خطرہ بننے والوں سے نمٹنے کے لئے غیرروائتی طریقۂ کار اختیار کیا جائے‘ بصورت دیگر چوہے اور بلی کے کارٹون (ٹام اینڈ جیری) کی طرح ایک سے بڑھ کر ایک کہانی سے لطف اندوز ہونے والوں پر بھی افتاد پڑ سکتی ہے۔’’آئے ہے بیکسئ عشق پہ رونا غالب۔۔۔کس کے گھر جائے گا‘ سیلاب بلا‘ میرے بعد!‘‘

Monday, July 6, 2015

Jul2015: RTI & Self accountability

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اپنا گریباں چاک
جان لیجئے کہ وفاق کی سطح پر ’معلومات تک رسائی‘ کا قانون جو سال 2014ء میں تیار کرنے کے بعد ایوان بالا (سینٹ) کے سامنے غور کے لئے پیش کیا گیا تاحال منظور نہیں کیا جاسکا! اِس سلسلے میں تین جولائی کو وفاقی حکومت کی جانب سے سینیٹ کی اُس ’سٹینڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن و براڈکاسٹنگ‘ کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ کابینہ کے آئندہ اجلاس میں ’رائٹ ٹو انفارمیشن بل 2014ء‘ منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا چونکہ اس قسم کی یقین دہانی پہلی مرتبہ نہیں کرائی جا رہی اِسی لئے سینیٹ کی مذکورہ ’اسٹینڈنگ کمیٹی‘ کے سربراہ سینیٹر کامل علی آغا اور دیگر اراکین اس بات پر شدید قسم کے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں کہ شفاف طرز حکمرانی کے قیام کے لئے قانون کی منظوری میں غیرضروری تاخیر کی جا رہی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فرحت اللہ بابر ماہر قانون داں ہیں اور اِس مسودۂ قانون کی منظوری کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے علاؤہ رائے عامہ ہموار کرنے میں بھی پیش پیش ہیں‘ جن کا کہنا ہے کہ ’’سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے یہ بل 15جولائی 2014ء کو منظور کر دیا تھا لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ وفاقی وزارت اطلاعات نے اِسے 17 نومبر 2014ء کو ہوئے کابینہ کے اجلاس میں پیش نہیں کیا جہاں سے اِس کی منظوری ہونے کے بعد اسے پارلیمنٹ کے سامنے بطور حکومتی بل پیش ہونا ہے جو ایک آئینی تقاضا (طریقۂ کار) ہے۔یہ مسودۂ قانون عرصہ دو برس سے التوأ کا شکار ہے‘ جس کی کوئی منطق سمجھ نہیں آ رہی۔‘‘ ملاحظہ کیجئے کہ جنہیں دنیا جہان کی ہر منطق سمجھ آتی ہے اُنہیں یہ سیدھی سادی منطق سمجھ نہیں آ رہی کہ کوئی ’اپنا گریباں چاک‘ کرنا کیوں چاہے گا!

جہاں تک شفاف طرز حکمرانی کی اصولی بات ہے تو اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا ہے جس میں شامل ہر وزیر اور مشیر ’تعصبات سے بالاتر حکمرانی‘ کے قیام کی خواہش رکھتا ہے۔ لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو چاہے وہ موجودہ حکومت ہو یا ماضی کی سیاسی و آمرانہ حکومتیں ہر دور میں اِس بات کی کوششیں ہوتی رہی کہ عام آدمی کو اُن خاص باتوں کا علم نہ ہوسکے جو اقتدار و اختیار کا استعمال کرتے ہوئے ’دن کی تاریکیوں اور رات کے اجالوں میں‘ طے کی جاتی ہیں۔ اِس مرحلۂ فکر پر یہ بات سمجھ لیجئے کہ بُرائی کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ اس میں مبتلا شخص بھی اِس سے نفرت کا اظہار کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص غرور و تکبر میں مبتلا ہے‘ تو وہ اپنے قول سے ہمیشہ اِس کی مخالفت میں وعظ و نصیحت کرتا ہوا دکھائی دے گا۔ اسی طرح اگر کوئی اعلیٰ و ادنی حکومتی اہلکار رشوت لیتا ہے تو وہ اِس حرام کام کا سب سے بڑا مخالف دکھائی دے گا۔ ہم قسمیہ جھوٹ بولتے ہیں اور بیک وقت جھوٹ سے نفرت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ ہم محض اپنے فائدے کے لئے ظالم کی مدد کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں امانت و دیانت کے معیار مشکوک ہیں۔ ہم نے کرنسی نوٹوں پر تحریر تو کر دیا ہے کہ ’رزق حلال عین عبادت ہے‘ لیکن کتنے ہیں جو کرنسی نوٹ کی پشت پر لکھی ہوئی اِس عبارت اور سگریٹ کی ڈبی پر لکھے ہوئے اُس خطرے کو سنجیدگی سے لیتے ہیں‘ جس کا تعلق آخرت و دنیا کی زندگی میں کامیابی یا ناکامی سے ہے۔ ہم ’ملک خدا‘ میں ’خدا کا نظام‘ نافذ نہیں کرسکے اور سوائے اللہ کے بتائے ہوئے دیگر ہر ایک طرز حکمرانی کے اصولوں کو آزما آزما کر اُس غلطی کو دُہرا رہے ہیں جس کے ’منفی نتائج‘ ہر شعبہ ہائے زندگی میں دیکھے جا سکتے ہیں!

اسلام کے بتائے ہوئے طرز حکمرانی میں کوئی بھی شخص حاکم وقت سے کھڑے ہوکر پوچھ سکتا ہے کہ اُس کے تن پر کپڑے کہاں سے آئے اور یہی وہ احتساب ہے جس سے خوفزدہ اسلام دشمن طاقتوں نے ایسے حکمرانوں کو مسلط کر رکھا ہے جو ہمیں اسلام کو عبادات کی حد تک محدود اور قبول کرنے کی مشورہ دیتے ہیں۔ عالم کفر نہیں چاہتا کہ اسلام کا بطور طرز حکمرانی نفاذ ہو۔

اللہ کی حاکمیت پر یقین ہونا اور ملک خدا میں اللہ سبحانہ کی حاکمیت نافذ کرنا دو الگ الگ (متضاد) باتیں ہیں اور دونوں کے الگ الگ عملی تقاضے بھی ہیں۔ مغربی دنیا کو ایک ایسا اسلام تو قبول ہے جس میں ریاست کے فیصلوں اور وسائل پر شاہی خاندان نسل در نسل ’قابض‘ ہو لیکن اُسے نہ تو خلافت اور نہ ہی شوریٰ جیسے انقلابی طرز حکمرانی کے نظریات پسند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کے استحکام کے نام پر اُس نظام کو جاری و ساری رکھنے کے لئے اربوں ڈالر کی امداد دی جاتی ہے‘ جس میں شفافیت اور احتساب آئین کی شقوں میں تو کہیں نہ کہیں موجود ہوتا ہے لیکن اس پر عمل درآمد کرنے کی اختیار بھی خود حکمرانوں ہی کے پاس ہوتا ہے!

تصور کیجئے ایک ایسے نظام کا جس نے کم و بیش چودہ سو برس قبل نہ صرف حکمراں اور عام آدمی کو قانون کی نظر میں ایک قرار دیا بلکہ ’معلومات تک رسائی‘ کا تصور بھی متعارف کرایا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 8جون632ء کو دنیا سے پردہ فرماتے ہیں اور اپنی اکسٹھ یا باسٹھ برس کی زندگی میں تجارت اور محنت مزدوری پر مبنی معاشرت کی مثالیں اپنی ذات کی صورت کچھ اِس طرح پیش کرتے ہیں کہ مخالف بھی اُن کے صادق و امین ہونے کی گواہی دے اُٹھیں تو کیا صرف یہی ایک معجزہ کافی نہیں؟

آج ہم اِس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وفاقی حکومت ’فریڈم آف انفارمیشن آرڈیننس 2002ء‘ کی جگہ ’رائٹ ٹو انفارمیشن بل 2014ء‘ منظور کرے جس کے تحت حکومتی امور و فیصلہ سازی میں رازداری کا غالب عنصر ختم ہو جائے گا اور کسی حکومتی ادارے یا اہلکار کے بارے میں معلومات فراہم نہ کرنا یا معلومات کو ضائع کرنا ایک جرم تصور ہوگا۔ یہاں تک کہ حکومت کی انتہائی خفیہ دستاویزات کو بھی عرصہ 20برس کے بعد عام آدمی دیکھ سکے گا۔

طرز حکمرانی اور مالی و انتظامی امور میں شفافیت کے لئے فیصلہ سازی اور حکومتی کارکردگی کے بارے میں ہرقسم کی ’معلومات تک رسائی‘ سے کم از کم جمہوریت کا ثمر عام آدمی تک پہنچ سکتا ہے لیکن یہ قانون اگر کابینہ کی منظوری سے لاگو ہو بھی جاتا ہے تو کسی بھی صورت اُس طرز حکمرانی کا نعم البدل نہیں ہوسکتا‘ جس میں حکمراں اِس تصور ہی سے کانپ اُٹھتے تھے کہ اُن کی ریاست میں انسان تو کیا اگر کوئی جانور بھی پیاسا مر گیا‘ تو اِس کے لئے انہیں رب تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہونا پڑے گا! جس ملک کی ساٹھ فیصد آبادی کو ایک وقت کا کھانا میسر آنے کی اُمید نہ ہو‘ جہاں کی اکثریت پینے کے صاف پانی سے محروم ہو‘ جہاں حکومت ساٹھ لاکھ سے زائد بچوں کے لئے تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کی آئینی ذمہ داری ادا نہ کر رہی ہو‘ وہاں محض معلومات پر منحصر کسی قانون سے زیادہ توقعات وابستہ کرنا ’خودفریبی‘ ہوگی۔’’اب تو ہوتا ہے ہر قدم پہ گماں۔۔۔ ہم یہ کیسا قدم اُٹھانے لگے!‘‘