Tuesday, June 23, 2020

Remembering Allama Talib Johari

موت العالم‘ موت العالم
معروف مذہبی شخصیت علامہ طالب جوہری کے انتقال پر صرف مذہبی حلقے اُور اہل تشیع ہی نہیں بلکہ اہل علم و ادب بھی اُداس‘ مغموم اُور سوگوار ہیں کیونکہ اُنہوں نے کمال محنت سے علم کے سمندر (قرآن کریم) سے ایسے نایاب موتی تلاش کئے‘ جن کی بدولت علوم قرآن کو سمجھنے کے ساتھ عوام و خواص کو قرآن کریم کی روشنی میں عقائد و دینی اصلاحات بارے رائے قائم میں آسانی رہی اُور یہی وجہ تھی کہ اُنہیں اتحاد بین المسلمین کا داعی قرار دیا جاتا تھا۔ گزشتہ چند برس سے علیل رہنے اُور کمزوری کے باعث اُنہوں نے مجالس اُور اجتماعی عبادات میں شرکت کم کر دی تھی اُور اِس عرصے کے دوران کم سے کم تین مرتبہ اُن کے انتقال کی خبریں زیرگردش رہیں کیونکہ وہ جسمانی طور پر اِس حد تک نحیف ہو چکے تھے کہ زیادہ بات چیت بھی نہیں کرتے تھے اُور سارا وقت یاد الٰہی میں مشغول رہتے۔ بائیس جون کی شب رات ایک بجکر ایک منٹ پر جب اُن کے انتقال کی خبر موصول ہوئی تو جوہری خانوادہ سے تعلق رکھنے والی محترمہ نسرین پرویز نے واٹس ایپ پر صوتی پیغام دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ موبائل اُور لینڈ لائن فون مصروف ہونے کی وجہ سے اِس ’خبرِ غم‘ کی تصدیق نہیں ہو رہی تاہم چند ہی منٹ بعد انچولی سے مختصر دورانئے کی 2 ویڈیوز موصول ہوئیں جنہیں دیکھ کر تصدیق ہو گئی کہ علامہ طالب جوہری بارگاہ ¿ اہل بیت اطہار میں منتقل ہو چکے ہیں۔ وہ 10 جون سے ایک نجی ہسپتال میں زیرعلاج تھے اُور چھاتی کے امراض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اُنہیں آخری چند روز مصنوعی آلات (وینٹی لیٹر) کے ذریعے سانس دی جا رہی تاہم اِس مرتبہ وہ جانبر نہ ہو سکے۔ (انا للہ و انا علیہ راجعون)۔

کراچی میں قیام کے دوران تین مرتبہ عشرہ محرم الحرام کے دوران علامہ طالب جوہری اُور آیت اللہ سیّد عقیل الغروی (بھارت) کی مجالس سننے کا اتفاق ہوا‘ جہاں شیعہ سنی کی تمیز نہیں ہوتی۔ ہر مکتبہ ¿ فکر اُور بودوباش سے تعلق رکھنے والے کئی کئی گھنٹے قبل فرش عزا پر جا بیٹھتے تاکہ وہ علامہ کا قریب سے دیدار بھی کر سکیں۔ اہل کراچی (شیعہ و سنی) کی اُن سے محبت اُور عقیدت کے رشتے الگ الگ نہیں بلکہ وہ ایک ہی سکے کے دو رخ تھے اُور یہی وجہ تھی کہ وہ کبھی بھی متنازعہ نہیں رہے۔ انتہائی نوعیت کے فروعی اُور اختلافی مسائل کے بارے میں بھی اُن کے بیان قرآن کی آیات سے مدلل و مزین ہوتے‘ جو اُن کے قوی حافظے اُور وسیع مطالعے کی دلیل تھی۔ اسلامی موضوعات اُور ادیان کے تقابلی جائزے کے علاو ¿ہ بطور تاریخ داں‘ شاعر اُور فلسفی اُن کی تصانیف تحقیق و بیان کا شاہکار ہیں کہ اُنہیں پڑھتے ہوئے کانوں میں اُن کے مخصوص طرز خطاب کی گونج محسوس ہوتی ہے اُور یہ صرف اُنہی کا خاصہ رہا کہ وہ تحریر (نثر) کو بھی کلام جیسی خوبیاں سے مرصع کر دیا کرتے تھے اُور یوں کتاب پڑھنے والے کو الفاظ کے سننے جیسا گمان ہونے لگتا۔

علامہ طالب جوہری کا تعلق اُس علمی ادبی گھرانے سے تھا۔ آپ کے والد گرامی مولانا مصطفیٰ جوہری کا شمار بھی جید علمائے کرام میں ہوتا تھا جن کے ہاں طالب جوہری کی پیدائش (27 اگست 1939ئ) پٹنہ (بھارت) میں ہوئی اُور علوم کی منتقلی کا ابتدائی سلسلہ گھر ہی سے شروع ہوا۔ اِس کے بعد 10 برس تک نجف اشرف (عراق) میں آیت اللہ العظمی سیّد ابو القاسم الخوئی کی زیرنگرانی دینی و دنیاوی علوم حاصل کرتے رہے۔ آپ نے آیت اللہ العظمی سیّد باقر الصدر سے بھی تحصیل علم کیا جو بعد میں شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ ایک نجی محفل میں اُن سے بات چیت کا شرف ملا اُور جب نجف اشرف سے متعلق اُن کی یادوں بارے سوال کیا گیا تو قوی ¿ الحافظہ ہونے کے باوجود آپ نے فوری جواب نہیں دیا بلکہ کئی منٹ تک خاموش رہے اُور ایسا بہت کم ہوتا کہ جب اُن سے کسی بھی موضوع پر بات کی جاتی تو وہ قرآن کریم اُور احادیث سے درجنوں حوالہ جات اُس وقت تک بیان کرتے رہتے جب تک کہ سوال پوچھنے والے کی تسکین یا ممکنہ ضمنی سوالات کے تمام جوابات ادا نہ ہو جاتے لیکن نجف اشرف کے تذکرے پر اُنہوں نے کہا کہ ”بیٹا جسم یہاں ہے لیکن روح وہیں رہ گئی ہے!“ 

علامہ طالب جوہری 1965ءمیں نجف اشرف سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد کراچی واپس آئے اُور جامعہ امامیہ مدرسے کے نگران (پرنسپل) کے طور پر خدمات سرانجام دینے لگے۔ آپ پانچ برس تک گورنمنٹ کالج ناظم آباد (کراچی) میں علوم اسلام (اسلامک سٹیڈیز) کے معلم بھی رہے۔ واقعات کربلا اُور اسلام کے عصری شعور کو بیان کرنے میں آپ کا ثانی نہیں تھا۔ کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں ”علامات ظہور مہدی“ ایک ایسی جامع کتاب ہے‘ جس میں اِمام زمانہ عجل اللہ و فرج کے ظہور سے متعلق ماضی‘ حال اُور مستقبل کے سبھی متعلقہ عنوانات کا احاطہ پیش کیا گیا ہے۔ اُن کی تفسیر قرآن‘ احسن الاحادیث‘ حدیث کربلائی‘ عقلیات معاصر‘ ذکر معصوم‘ نظام حیات انسان‘ خلفائے اثنائے عشر قابل ذکر ہیں جبکہ شاعری کے 3 مجموعے حرف نمو‘ پس آفاق اُور شاخ صدا لاجواب ادبی فن پارے ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے ذریعے علامہ طالب جوہری کو نئی پہچان ملی۔ 

پاکستان اُور اُردو سمجھنے والی دنیا میں اُن کا تعارف 1980ءاُور 1990ءکی دہائیوں میں ہوا۔ ابتدا میں قرآنی موضوعات کے حوالے سے ”تفہیم دین“ اُور ”فہم القرآن“ کے نام سے مختصر دورانئے کی درسی نشست سے خطاب کرتے رہے‘ جس میں سوال و جواب کا سلسلہ بھی ہوتا۔ تاہم اُن کا راج کئی دہائیوں تک دس محرم الحرام کی شب مجلس شام غریباں سے خطاب کی صورت رہا‘ جو عوام و خواص کی پسندیدگی کے باعث یوم عاشور کی مناسبت سے لازم و ملزوم جز رہا اُور اُنہوں نے علامہ نصیرالدین اجتہادی کی کمی محسوس نہیں ہونے دی‘ جو اُن سے قبل شام غریباں کے مقرر تھے اُور علامہ اجتہادی نے علامہ نصیر ترابی کے معیار خطابت و تحقیق کو ایک نئی بلندی سے روشناس کیا تھا۔ ذاتی مشاہدہ ہے کہ کراچی کے ایرانیان کھارادر (قدیمی امام بارگاہ) میں جب علامہ طالب جوہری عشرہ محرم کی مجالس سے خطاب کرتے تو اُنہیں سننے والوں میں بوہری اُور اسماعیلی شیعہ مسالک کے علاو ¿ہ بڑی تعداد میں اہلسنت و الجماعت کے علما بھی موجود ہوتے۔ یہ اعزاز اپنی جگہ ہے کہ آیت الہ ابوالفضل بہاو ¿الدینی‘ ولایت فقیہہ آیت اللہ العظمیٰ سیّد علی خامنہ ائی کے نمائندہ اُن کی مجالس میں تشریف فرما ہوتے۔ یقینا علامہ طالب جوہری کے اِس جہانِ فانی سے کوچ کر جانے سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پُر نہیں ہو سکے گا اُور ایک عالم کی موت (موت العالم) تو درحقیقت ایک عالم کی موت (موت العالم) ہوتی ہے!
....
Editorial Page - Daily Aaj - June 23, 2020 Tuesday

Monday, June 22, 2020

TRANSLATION: Covid Budget by Taimour Saleem Jhagra

Covid budget
خیبرپختونخوا: کورونا بجٹ
کورونا وبا کی صورتحال میں شروع دن سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی کوشش رہی کہ وہ ایک تو عوام کو وبا کے بارے باخبر (مطلع) رکھیں۔ غیر ضروری رازداری کی بجائے عوام کو اعتماد میں لیا جائے اُور دوسرا اہم پیشرفت اِس بارے میں تھی کہ صحت کی سہولیات میں حسب ضرورت اضافہ کیا جاتا تھا تاکہ آنے والے دنوں میں درپیش حالات کا مقابلہ کرنے کی پیشگی تیاری رہے۔ یہ ایک ایماندارانہ اُور پرخلوص کوشش تھی‘ جس میں بڑی حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت اُور بالخصوص وزیراعظم عمران خان کے اُس عزم کو عملی جامہ پہنایا جس میں وہ عوام کے لئے زیادہ سے زیادہ سہولیات دیکھنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ خیبرپختونخوا کے بجٹ کی تیاری اُور منظوری کے مراحل میں ’عوام دوست بجٹ‘ جیسی ترجیح کو بہرصورت پیش نظر رکھا گیا۔

خیبرپختونخوا میں کورونا وبا کے تناظر میں تیار ہونے والے بجٹ کی تیاری و منظوری کے مراحل میں پانچ امور کا بطور خاص خیال رکھا گیا اُور اگر اِن پانچ ترجیحات کی اہمیت اُور حکمت کو سمجھ لیا جائے تو صوبائی آمدن و اخراجات کے میزانیئے برائے مالی سال 2020-21ءکو سمجھنا بڑی حد تک آسان (سہل) ہو جائے گا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ آئندہ مالی سال کے لئے ’کورونا بجٹ (Covid-19 budget)‘ پیش کیا گیا ہے اُور یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ سرمایہ سرکاری علاج معالجے کی سہولیات کے لئے مختص کی گئی ہے۔ جس میں خیبرپختونخوا کی تاریخ میں صحت کے شعبے کے لئے سب زیادہ مالی وسائل مختص کئے گئے ہیں اُور صرف یہی نہیں کہ تمام مالی وسائل علاج معالجے کی سہولیات کے مطابق مختص ہوئے ہیں بلکہ کورونا وبا کے بارے میں عوامی شعور اُجاگر کرنے اُور عوام کو اِس مرض سے بچانے کے لئے ہر قسم کی ضروریات و سہولیات کی فراہمی کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے جبکہ مستقبل میں اِس وبا کے دوبارہ پھوٹ پڑنے کو روکنے کے لئے بھی اقدامات پیش نظر رہے ہیں۔ 

خیبرپختونخوا میں عالمی معیار کے مطابق وباو ں سے بچاو  کے لئے ادویات فراہم کی جائیں گی اُور اِس ویکسینیشن پروگرام کی وجہ سے خیبرپختونخوا پاکستان کا واحد ایسا صوبہ ہوگا‘ جہاں عوام کو وباو ¿ں سے بچانے کے لئے اِس قدر بڑے پیمانے پر ادویات (ویکسینیشن) فراہم کی جائے گی۔

بجٹ میں 15 ارب روپے ’کورونا وبا سے پیدا ہونے والے ہنگامی حالات‘ سے نمٹنے کے لئے مختص کئے گئے ہیں۔ یہ پندرہ ارب روپے ایک ہنگامی پروگرام کے تحت ہیں جبکہ صحت کا بجٹ اِس کے علاو ¿ہ ہے۔ صحت کے شعبے کے لئے عمومی و خصوصی مدوں میں مختص بجٹ کا ایک بڑا حصہ صحت کی سہولیات فراہم کرنے والے طبی و معاون طبی عملے کی حفاظت کے لئے مختص کیا جائے گا۔ علاج گاہوں میں بستروں کی تعداد‘ آکسیجن کی سہولیات میں اضافہ اُور مصنوعی آلات تنفس (وینٹی لیٹرز) پر مشتمل خصوصی نگہداشت کے مراکز (وارڈز) قائم کئے جائیں گے۔ خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں ایک وسیع و مضبوط بنیادوں پر صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی جو پہلے ہی زیرتوجہ ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ خیبرپختونخوا نے کورونا وبا کی تشخیص و تصدیق کے لئے تجزئیات (ٹیسٹنگ) کی سہولیات میں غیرمعمولی اضافہ کیا ہے اُور اِس ٹیسٹنگ صلاحیت کو مزید بھی بڑھایا جائے گا۔

خیبرپختونخوا بجٹ کا تیسرا نمایاں پہلو یہ رہا کہ اِس میں روائتی اخراجات کے لئے روائتی انداز سے مالی وسائل مختص نہیں کئے گئے اُور یہیں سے مشکل فیصلوں کی ابتدا ہوتی ہے۔ ترقیاتی بجٹ کو حالات کے مطابق دانشمندی سے استعمال کرنے کا فیصلہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی بصیرت کا مظہر ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے لئے 318 ارب روپے مختص کرنا اپنی جگہ اہم ہے کیونکہ یہ رقم صوبہ سندھ کے مختص کردہ ترقیاتی حجم سے زیادہ ہے جبکہ آبادی کے لئے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے تقریباً مساوی ہے۔ حکمت عملی یہ ہے کہ ترقیاتی عمل کو جاری و ساری رکھنے کے لئے محدود مالی وسائل کی کمی کو آڑے نہ آنے دیا جائے اُور دیگر ذرائع سے مالی وسائل حاصل کر کے خیبرپختونخوا کی معیشت و معاشرت کے آگے بڑھنے کے عمل کو جاری رکھا جائے۔ صوبائی بجٹ چوتھی اہم بات یہ تھی کہ اِس میں چند محصولات (ٹیکسوں) کی شرح میں کمی بھی کی گئی۔ کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا اُور نہ ہی کسی ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا گیا۔ اِس حکمت عملی کو اُس وسیع منظرنامے اُور کوششوں کے تناظر میں دیکھنا چاہئے جس میں حکومت ٹیکس کلچر کے فروغ اُور ٹیکس اصلاحات کے ذریعے معیشت کو راہ راست پر لانا چاہتی ہے۔ ایسے ٹیکسوں کو بھی آپس میں ضم کیا گیا ہے جو کسی ایک شعبے پر زیادہ مرتبہ لاگو تھے۔ اِسی طرح خدمات (سروسز) کے شعبے پر 27 مختلف درجات میں سیلز ٹیکس کی شرح کم کی گئی ہے اُور یہ سبھی اقدامات اِس لئے کئے گئے ہیں تاکہ معیشت کا پہیہ چل سکے۔ روزگار کے مواقع پیدا اُور برقرار رہیں اُور کورونا وبا کی وجہ سے جو خصوصی حالات پیدا ہوئے ہیں اُن سے خاطرخواہ انداز میں نمٹا جا سکے۔ مقامی حکومتوں (لوکل گورنمنٹ) کے محکمے نے پہلے ہی 200 چھوٹے کاروباروں پر عائد ٹیکس ختم یا کم کیا ہے۔ اِسی طرح ایکسائز ڈیپارٹمنٹ نے بھی کئی صوبائی محصولات کو ختم کیا ہے اُور جہاں ایک سے زیادہ ٹیکس مختلف ناموں سے لاگو تھے اُنہیں ضم کیا ہے۔ یہ ٹیکس اصلاحات کے سلسلے میں اہم ترین عملی کوشش ہے۔ 

قابل ذکر ہے کہ اب ہوٹلوں پر منفی ٹیکس کو بالکل ختم کر دیا گیا ہے جبکہ 18 درجات میں پیشہ ور ٹیکسوں کو بھی ختم کیا گیا ہے اگر وہ ادارے اپنے آپ کو کیپرا (KPRA) کے ساتھ رجسٹرڈ کر لیں۔ تفریح (انٹرٹینمنٹ) پر عائد ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے اُور موٹر گاڑیوں کی رجسٹریشن کو مفت کر دیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا بجٹ کا پانچواں قابل ذکر پہلو نوجوانوں کی بہبود اُور ضروریات کو مدنظر رکھنا ہے اُور اِس سلسلے میں محدود مالی وسائل کے باوجود نوجوانوں کی ترقی کے لئے اُن سبھی منصوبوں کے لئے فراخدلی سے مالی وسائل مختص کئے گئے ہیں‘ جن کی ضرورت تھی۔ اِس بات کا مطلب یہ ہے کہ بجٹ میں اصلاحات پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ حکومت نے اخراجات میں کمی‘ بچت کے امکانات کی نشاندہی اُور اِن سے حاصل ہونے والے مالی وسائل کی سرمایہ کاری جیسی حکمت عملی مرتب کی ہے اُور اِسی پر عمل درآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمتوں کے حوالے کی گئی اصلاحات کی بدولت حکومت کو سال بھر میں 20 ارب روپے جیسی غیرمعمولی بچت ہوگی اُور یہی رقم کورونا وبا سے اپنے وسائل میں رہتے ہوئے نمٹنے کے لئے کافی ہے۔ حکومتی محکموں کے اخراجات کم کرنے کے لئے بھی اقدامات (اصلاحات) متعارف کی گئیں ہیں اُور اِس سلسلے میں تنخواہوں کے علاو ¿ہ دیگر غیرترقیاتی اخراجات جیسا کہ پیٹرول وغیرہ کی مد میں ہونے والے اخراجات کم کئے گئے ہیں۔ اِسی طرح سرکاری ملازمین کے سفر کی صورت قیام و طعام (TA/DA) اُور دیگر غیرضروری اخراجات کی مد میں کٹوتیاں کی گئی ہیں یقینا کوئی بھی بجٹ اپنی ساخت میں مکمل دستاویز نہیں ہوتا بلکہ اِس میں بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ 

خیبرپختونخوا حکومت کی خواہش تھی کہ وہ بہت سے شعبوں کے لئے زیادہ مالی وسائل مختص کرتی لیکن کورونا وبا کی موجودہ صورتحال میں عوام کی صحت اُور معاشی سرگرمیاں حکومتی ترجیحات میں سرفہرست ہیں۔ اِس سلسلے میں عوام الناس اُور ماہرین کے مشوروں اُور مثبت تنقید کا خیرمقدم کیا جائے گا تاکہ نہ صرف آئندہ مالی سال کے لئے صوبائی آمدن و اخراجات کے سالانہ میزانئے پر عمل درآمد اُور حکیمانہ اقدامات کے ثمرات ظاہر ہوں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود اُور ترقی کے اہداف حاصل کرنے میں اگر کہیں کمی بیشی رہ گئی ہے تو اُسے بھی پورا کیا جا سکے۔ 

(مضمون نگار خیبرپختونخوا کے وزیرخزانہ و صحت ہیں۔ بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: تیمور سلیم جھگڑا۔ ترجمہ: شبیرحسین اِمام)
............

Clipping from Daily Aaj Editorial Page June 22, 2020  Monday
Editorial Page of Daily Aaj - June 22, 2020  Monday
Clipping - Daily Aaj - 22 June 2020 Monday