Tuesday, August 16, 2022

Byelections or Referendum?

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

ضمنی انتخاب یا ریفرنڈم؟

بیس ستمبر 2020ء: پاکستان پیپلزپارٹی کی میزبانی میں ’کل جماعتی کانفرنس‘ میں 26 نکاتی قرارداد منظور کرتے ہوئے حزب اختلاف اتحاد ’پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (PDM)‘ کا قیام عمل میں آیا اُور اِس ’موومنٹ‘ کے زیراہتمام ’سولہ اکتوبر 2020ء‘ کے روز گوجرانوالہ میں پہلے جلسۂ عام کا انعقاد کیا گیا۔ اِبتدا میں ’پی ڈی ایم‘ گیارہ سیاسی جماعتوں (عوامی نیشنل پارٹی‘ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل‘ جمعیت اہل حدیث‘ جمعیت علمائے اسلام (فضل)‘ جمعیت علمائے پاکستان (نورانی)‘ نیشنل پارٹی (بزنجو)‘ مسلم لیگ (نواز)‘ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (محمود اچکزئی)‘ قومی وطن پارٹی اُور جمہوری وطن پارٹی) پر مشتمل تھی جبکہ بعدازاں 3 دیگر سیاسی جماعتوں (بلوچستان عوامی پارٹی‘ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اُور نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ) نے ’پی ڈیم ایم‘ میں شمولیت کر لی۔

دس اپریل 2022ء: تحریک انصاف کے سربراہ (چیئرمین) عمران خان کے خلاف ’پی ڈی ایم‘ کی تحریک ِعدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد اُور شہباز شریف کے بطور وزیراعظم حلف اُٹھانے (گیارہ اپریل) سے قبل تحریک انصاف سے قومی اسمبلی سے کنارہ کشی کر لی اُور تحریک سے تعلق رکھنے والے 123 قومی اسمبلی اراکین نے اپنی اپنی بنیادی رکنیت سے مستعفی ہونے سے اسپیکر قومی اسمبلی کو مطلع کر دیا۔ ’گیارہ اپریل‘ کے روز قومی اسمبلی کی جانب سے مستعفی ہونے والے اراکین کے ارسال کردہ خطوط میں کہا گیا کہ وہ اجتماعی استعفوں کی فرداً فرداً تصدیق کے لئے اسپیکر سے رابطہ کریں لیکن مقررہ تاریخوں (6 سے 10جون) کے درمیان تحریک انصاف کے کسی بھی رکن قومی اسمبلی نے اسپیکر کے سامنے پیش ہو کر مستعفی ہونے کی تصدیق یا انکار کو ضروری نہیں سمجھا۔

اٹھائیس جولائی 2022ء: تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے اجتماعی استعفوں کے 109 دن بعد‘ تحریک کے 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کا اعلان قومی اسمبلی کے ٹوئیٹر اکاونٹ (@NAofPakistan) سے کیا گیا۔ مذکورہ اعلان کے مطابق اسپیکر راجہ پرویز اشرف (@RPAPP) نے 2 خواتین سمیت 11 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے آئین پاکستان کی شق 64(1) اُور قومی اسمبلی قواعد و ضوابط 2007ء کے تحت منظور کئے تاہم مذکورہ اعلان میں یہ نہیں کہا گیا کہ مرحلہ وار استعفے کیوں منظور ہوئے‘ سب استعفے اکٹھے منظور کیوں نہیں کئے گئے اُور جن گیارہ اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور ہوئے ہیں اُس کے لئے کس ضابطے یا اصول کو پیش نظر (بنیاد) رکھا گیا ہے۔ یہ سُوال بھی اپنی جگہ جواب طلب اُور حیرت کا باعث رہا کہ تحریک انصاف کے باقی 120 اراکین قومی اسمبلی کی قسمت کا فیصلہ کیوں نہیں کیا گیا اُور اِن کے استعفے مستقبل قریب میں قبول کئے جائیں گے یا نہیں؟

پانچ اگست 2022ء: الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی 9 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے لئے اُمیدواروں سے کاغذات نامزدگی طلب جبکہ پولنگ کے لئے اتوار (25 ستمبر 2022ء) کا دن مقرر کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے جنرل نشستوں پر 9 جبکہ خواتین کے لئے مختص نشستوں پر 2 اراکین کے استعفے قبول کرنے کے بعد اُن کے نام (30 جولائی 2022ء کے روز) قومی اسمبلی اراکین کی فہرست سے خارج (ڈی نوٹیفائی) کر دیئے گئے۔

چھ اگست 2022ء: تحریک انصاف نے ’اسلام آباد ہائی کورٹ‘ سے الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری کرنے کے خلاف رجوع کیا اُور عدالت سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ”ضمنی انتخابات کا جاری کردہ شیڈول معطل کیا جائے کیونکہ عدالت پہلے ہی تحریک انصاف کے اراکین قومی اسمبلی کے مرحلہ وار استعفوں کی منظوری سے متعلق مقدمے کی سماعت کر رہی ہے اُور اِس سلسلے میں 4 اگست کی سماعت کے بعد فریقین کو نوٹسیز جاری ہو چکے ہیں‘ جن کے بارے میں باخبر ہونے کے باوجود الیکشن کمیشن نے انتخابات کا شیڈول جاری کیا ہے اِس لئے ’پانچ اگست‘ کا شیڈول معطل کیا جائے۔“ دوسری طرف ضمنی انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے چند گھنٹے بعد (پانچ اگست شام 7 بج کر 3 منٹ پر) ’عمران خان‘ نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ (@ImranKhanPTI) سے اعلان کیا کہ تمام (9) نشستوں پر وہ بذات خود بطور اُمیدوار انتخابی مقابلے میں حصہ لیں گے یوں یہ ضمنی انتخابات بنیادی طور پر …… 1 (عمران خان) بمقابلہ 14 سیاسی جماعتیں (پی ڈی ایم) …… پاکستان کی سیاسی تاریخ کا انتہائی غیرمعمولی انتخابی معرکہ ثابت ہوگا جس میں حصہ لینے کے لئے دونوں فریقین نے آستینیں اُوپر کر لی ہیں اُور امر واقعہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی سیاست میں اِس سے قبل کبھی بھی ضمنی انتخابات اِس قدر اہم اُور قابل ذکر و زیربحث نہیں رہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ (چیئرمین) عمران خان نے ضمنی انتخاب کی آخری تاریخ ختم ہونے سے قبل ’حسب ِاعلان‘ 9 انتخابی حلقوں (کراچی کے تین (این اے 246این اے 237 این اے 239)‘ مردان (این اے 22)‘ چارسدہ (این اے 24)‘ پشاور (این اے 31)‘ کرم (این اے 45)‘ فیصل آباد (این اے 108) اُور ننکانہ (این اے 118) کے لئے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔ خاص نکتہ یہ بھی ہے کہ تحریک ِانصاف کو انتخابی کامیابی اِس حد تک یقینی دکھائی دے رہی ہے کہ اِس نے خواتین کی مختص نشستوں پر 2 کی بجائے 3 خواتین (شندانہ گلزار‘ روہیلہ حامد اُور مہوش علی) کو نامزد کیا ہے۔ 

بنیادی بات یہ ہے کہ تحریک ِانصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے ضمنی انتخاب کی ہر نشست پر تن تنہا بطور اُمیدوار انتخاب لڑنے کے فیصلے نے ’ضمنی انتخاب‘ کو ’ریفرنڈم‘ میں تبدیل کر دیا ہے جس کا نتیجہ (پولنگ ڈے‘ پچیس ستمبر) اگر ’تحریک انصاف کے حق میں آیا تو اِس سے ملک میں ’صدراتی نظام‘ کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ صدراتی نظام حکومت میں قومی فیصلے فرد واحد (صدر مملکت) کے حکمنامے سے اُور فوری نافذ العمل ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کے ’3 سال 7ماہ 23 دن‘ پر محیط دور ِحکومت (18 اگست 2018ء سے 10 اپریل 2022ء) کے دوران ”صدارتی طرزحکمرانی“ کے حوالے سے قومی سطح پر بحث و مباحثہ متعارف کروایا گیا جس سے اتفاق کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کاروں‘ شریک ِاقتدار قوتوں اُور عوامی حلقوں کی اکثریت نے اِسے پاکستان کے مسائل کا واحد‘ صائب‘ دیرپا اُور قابل عمل حل قرار دیا تھا اُور اِس حوالے سے قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی خاصی سنجیدہ کوشش دیکھنے میں آئی تھی لیکن بعدازاں چند تکنیکی و آئینی پیچیدگیوں اُور معاشی و سیاسی حالات کی وجہ سے اِس تصور (آئیڈیا) پر عملاً پیشرفت نہ ہو سکی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 25 ستمبر 2022ء کے روز صرف 9 انتخابی حلقوں کے رائے دہندگان ہی نہیں بلکہ اِن معرکوں پر نظر رکھنے والے کس قسم کے ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں اُور بالخصوص مذکورہ ضمنی انتخابات پاکستان میں طرزحکمرانی کے مستقبل کے بارے میں کس سمت کا تعین کرتے ہیں‘ جسے تحریک کے قائدین پہلے ہی ’یقینی کامیابی کی صورت حقیقی آزادی‘ سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اِن ضمنی انتخابات سے تحریک انصاف کا مستقبل اُور لائحہ عمل بھی بڑی حد تک واضح ہو جائے گا جس کی ’نئے پاکستان‘ کی تخلیق و تعمیر اُور تعبیر کے لئے بائیس سالہ سیاسی جدوجہد نہ صرف نئی تصوراتی بلندی کو چھو لے گی بلکہ یہ پاکستان میں سیاست کا رخ بھی شاید ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بدل کر کے رکھ دے۔ ”میں پیروی اہل سیاست نہیں کرتا …… اِک راستہ اِن سب سے جدا چاہئے مجھ کو (عرش صدیقی)۔“

Friday, August 12, 2022

Is Peshawar developing the success from failures?

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: ترقیئ معکوس

نئے مالی سال (دوہزاربائیس تیئس) کے دوران پشاور کی مقامی حکومتوں (بلدیاتی اداروں) کو 19ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ تفصیلات کے مطابق اِس خطیر رقم میں سے ترقیاتی (تعمیراتی) عمل کے جو کچھ باقی بچے گا‘ وہ اُونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے! کیونکہ تنخواہوں کی ادائیگی کے بعد صرف 3.47 ارب روپے ترقیاتی عمل کے لئے باقی بچیں گے اُور تصور کیا جا سکتا ہے کہ سیاسی ہو یا بلدیاتی طرزحکمرانی کس قدر مہنگا ہو چکا ہے! رواں مالی سال کے دوران تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشنز (ٹی ایم ایز) کو 68ملین (6 کروڑ 80 لاکھ) روپے جاری کئے جائیں گے۔ اِس تقسیم میں پشاور شہر کو اکتیس کروڑ ساٹھ لاکھ (316 ملین) روپے‘ ٹی ایم اے پشتخرہ کو 80ملین (8 کروڑ) روپے‘ ٹی ایم اے شاہ عالم کو 72ملین (7 کروڑ 20لاکھ) روپے‘ ٹی ایم اے چمکنی کو 83ملین (8 کروڑ 30لاکھ) روپے‘ بڈھ بیر کو 71ملین (7 کروڑ 10لاکھ روپے) اور ٹی ایم اے متھرا کو 72 ملین (7کروڑ 20لاکھ) روپے جاری کئے جائیں گے۔ ترقیاتی فنڈز کی مد میں پشاور شہر کے لئے مجموعی طور پر 918ملین (91 کروڑ 80 لاکھ) روپے اور شہر کے گاؤں اور محلہ کونسلوں کے لئے 612ملین (61 کروڑ 20 لاکھ) روپے دیئے جائں گے۔ اِس پوری تمہید کا خلاصہ یہ ہے کہ 7 تحصیلوں (پشاور شہر‘ شاہ عالم‘ متھرا‘ چمکنی‘ بڈھ بیر‘ پشتخرہ اُور حسن خیل) پر مشتمل (مبنی) ضلع پشاور کے لئے مختص مالی وسائل کا بڑا حصہ سرکاری (بلدیاتی) ملازمین کی تنخواہوں کی نذر ہو جاتا ہے جبکہ باقی ماندہ مالی وسائل میں بیس سے تیس فیصد دفتری (روزمرہ) اخراجات اُور اجلاسوں کے لئے چائے پانی یا اراکین و ملازمین کی آمدورفت پر خرچ ہو جاتا ہے۔ باقی ماندہ ستر فیصد ترقیاتی فنڈز کا نصف تعمیراتی کاموں کے عمل میں پائی جانے والی مالی و انتظامی بدعنوانیوں کے باعث ذاتی اثاثوں میں گھل مل جاتا ہے اُور اِس پوری ترقیاتی حکمت ِعملی (بندوبست) کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر سال اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ضلع پشاور کے طول و عرض میں ترقیاتی عمل ’ترقیئ معکوس‘ کا نمونہ بنا ہوا ہے۔

پشاور کی ترقیاتی ضروریات شہری و دیہی علاقوں کے لئے الگ الگ ہیں اُور اِنہیں ایک جیسی نظر سے دیکھنا بھی مسئلہ ہے۔ مثال کے طور پر اندرون شہر (تحصیل پشاور سٹی) کی حدود میں قریب نوے فیصد گلیاں کوچے‘ سڑکیں اُور نکاسیئ آب کی نالیاں نالے پختہ ہیں جنہیں ہر چند برس بعد اُکھاڑ کر دوبارہ تعمیر کیا جاتا ہے جبکہ پشاور شہر کی ضرورت نکاسیئ آب کے نظام کی توسیع اُور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے ٹیوب ویلوں پر انحصار کم کرنا ہے۔ اِس سلسلے میں پشاور کے اطراف میں بنے پانی کے ذخائز (ڈیموں) سے کشش ثقل (گریوٹی فلو) پر پانی کی فراہمی ترجیح ہونی چاہئے جس کا ایک تجربہ جاپان حکومت کے مالی و تکنیکی تعاون سے ایبٹ آباد شہر میں کیا گیا اُور یہ کامیابی سے جاری ہے۔ پشاور کے ضلعی فیصلہ سازوں کو پہلی فرصت میں ایبٹ آباد کی ’گریوٹی فلو اسکیم‘ کا مطالعہ کرنا چاہئے جو اپنی مثال آپ ہے اُور اگرچہ اِس منصوبے کو چند یونین کونسلوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تخلیق کیا گیا تھا لیکن بعدازاں توسیع اُور وقفوں سے پانی فراہمی کے ذریعے اِسے نصف سے زیادہ ایبٹ آباد شہر کو پانی فراہم کیا جا رہا ہے تاہم گریوٹی فلو اسکیم میں چند تکنیکی خرابیاں بھی ہیں جو پانی کو ذخیرہ کرنے اُور اِس کی تطہیر کے عمل سے متعلق ہیں اُور جب بلدیاتی نمائندے اِس کا مطالعہ کرنے جائیں گے تو اُنہیں خود وہ سبھی غلطیاں (خامیاں) نظر آ جائیں گی جس کی وجہ سے پانی کا اخراج اُور معیار متاثر ہیں۔

پشاور شہر اُور پشاور کی دیگر 6 تحصیلوں کی ترقیاتی ضروریات میں زمین آسمان کا فرق ہے اُور یہ فرق آمدنی کا بھی ہے اُور اگر صوبائی حکومت بلدیاتی فیصلہ سازوں کے ساتھ مل کر ترقیاتی وسائل کی تقسیم کے لئے آمدنی کا پیمانہ وضع کرے یعنی جس تحصیل کی آمدنی زیادہ ہے وہاں ترقیاتی کام بھی اُسی تناسب سے زیادہ ہونے چاہیئں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پشاور شہر کی تحصیل سے حاصل ہونے والی آمدنی زیادہ لیکن یہاں ترقیاتی کاموں کے لئے مختص وسائل نسبتاً کم شرح سے جاری کئے جاتے ہیں۔ اِسی طرح ہر تحصیل میں بلدیاتی ملازمین کی تعداد پر نظرثانی ہونی چاہئے اُور دیہی علاقوں پر مشتمل تحصیلیوں کی آمدنی زیادہ لیکن وہاں ترقیاتی ضروریات زیادہ ہیں تو دانشمندی اِسی میں ہے کہ دستیاب مالی وسائل کو غیرترقیاتی اخراجات (ملازمین کی تنخواہوں اُور مراعات) کی بجائے ترقیاتی عمل اُور بالخصوص ایسے ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونا چاہئے جن سے آمدنی ممکن ہو۔ پائیدار ترقی کا تصور یہی ہے کہ اِس میں ترقیاتی عمل آمدنی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ بلدیاتی فیصلہ سازوں ہر تحصیل کے لئے الگ الگ شرح سے پیشہ ور ٹیکس وضع کرنا چاہئے۔ اندرون شہر جہاں کاروباری سرگرمیاں زیادہ ہیں اُور تاجروں دکانداروں کی آمدنی زیادہ ہے تو اُن پر پیشہ ور ٹیکس کی شرح اُور صفائی و دیگر شہری سہولیات کے عوض ٹیکس کی شرح کا تعین دیہی علاقوں پر مشتمل تحصیل سے مختلف ہونا چاہئے۔ بلدیاتی نظام اپنی ذات میں خیر و برکات کا مجموعہ ہے لیکن یہ نظام صرف نمائندوں کے انتخاب سے مکمل نہیں ہوتا بلکہ اِس کی تکمیل و جامعیت کے لئے دستیاب مالی وسائل کا زیادہ سمجھ بوجھ‘ زیادہ ہوشیاری و ہمدردی اُور زیادہ امانت و دیانت (شفافیت) سے استعمال ہونا چاہئے۔

Clipping from Daily Aaj Peshawar Dated 12 August 2022 Friday