Saturday, July 11, 2015

Jul2015; Forgetting LG polls

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کارآمد: اعزاز و کردار!
یوں لگتا ہے کہ ہر کسی کو ’محض‘ بلدیاتی اِداروں کے لئے عام اِنتخابات کے اِنعقاد کی جلد ی تھی۔ فیصلہ سازی کے عمل میں عوام کو نچلی سطح پر شریک کرنے کے لئے دیگر چھاؤنیوں کی طرح پشاور کی صورتحال بھی زیادہ مختلف نہیں۔ اِنتخابات کو ڈھائی ماہ گزر گئے ہیں لیکن نومنتخب ’کنٹونمنٹ بورڈ‘ اَaراکین کا پہلا اِجلاس نہیں بلایا جا سکا۔ پشاور سے تعلق رکھنے والے کنٹونمنٹ بورڈ کے اراکین اِس تاخیر سے خوش نہیں کیونکہ کامیابی کے بعد سے نہ تو اُن کی حلف برداری ہوئی ہے اُور نہ ہی باقاعدہ طور پر اُنہیں مل بیٹھ کر فیصلہ سازی یا غوروخوض کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ نومنتخب اَراکین میں اِس بات پر اِتفاق پایا جاتا ہے کہ اِجلاس طلب کرنے میں تاخیر کی وجہ سے وہ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اُتر رہے بلکہ چند ایک نے تو یہ بھی کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات ’خانہ پُری‘ تھے جن کا اِنعقاد کرنے سے زیادہ پیشرفت نہیں ہوئی ہے اور اِس کی بنیادی وجہ فیصلہ سازی کے منصب پر فائز سرکاری ملازمین کا شاہانہ مزاج ہے جو اپنے اختیارات کسی کے ساتھ بانٹنا نہیں چاہتے!

کیا ہم جعلی نمائندے ہیں؟ اگر ہمیں کام کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا تو پھر ہمارے اِنتخاب کا عملی مقصد کیا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جن اُمیدواروں کے کامیاب ہونے کی آس لگائی گئی تھی وہ جیت نہیں سکے اُور اَب اِنتظامیہ دیگر نمائندوں کو توجہ نہیں دے رہی؟‘‘ عوام سے ووٹ مانگنے والے خود کو بڑی مشکل میں محسوس کر رہے ہیں اور اَگر یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو ’نومنتخب‘ سماجی و سیاسی کارکنوں کی مقبولیت کو نقصان پہنچے گا اُور وہ آئندہ انتخابات کے موقع پر مخالفین کی کڑی تنقید کا سامنا نہیں کر پائیں گے۔ یاد رہے کہ ’کنٹونمنٹ بورڈ‘ اراکین کے چناؤ کے لئے عام انتخابات اٹھارہ برس کے وقفے کے بعد پچیس اپریل کے روز منعقد ہوئے‘ جن کے نتائج کا اعلان انتخابات کے تین دن کر دیا گیا۔ کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے لئے تحریک اِنصاف نے دو‘ جماعت اِسلامی اُور پاکستان پیپلزپارٹی نے ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کی جبکہ ایک نشست پر کامیاب ہونے والے آزاد اُمیدوار نے بعد میں جماعت اِسلامی میں شمولیت اِختیار کر لی تھی اور پھر اُنہی کے سر کنٹونمنٹ بورڈ کے ’وائس چیئرمین‘ کا سہرا سجا۔

قواعد کے مطابق چودہ اَراکین پر مشتمل ’کنٹونمنٹ بورڈ‘ کے سات اراکین بذریعہ اِنتخابات منتخب ہوتے ہیں جبکہ چھاؤنی کے معاملات بارے سات فوجی اہلکار ہوتے ہیں۔ ان نمائندوں کا چیئرمین بریگیڈئر عہدے کا فوجی اِہلکار ہوتا ہے‘ جبکہ گریژن (چھاؤنی) انجنیئر اُور چار دیگر فوجی اہلکاروں پر مشتمل بورڈ کے پہلے اجلاس میں تاخیر کی وجہ چار فوجی اہلکاروں کا تبادلہ بتایا جاتا ہے‘ جن کی خدمات وزارت دفاع کو منتقل کر دی گئی ہیں اُور اِس سسلسلے میں وزارت دفاع کو ایک مکتوب کے ذریعے آگاہ کیا جاچکا ہے کہ جب تک اُن کی جگہ دیگر اہلکاروں کو تعینات نہیں کیا جاتا۔ بالحاظ عہدہ اُن کی رکنیت قواعد کی رو سے مکمل نہیں ہو سکتی! پہلے اِجلاس کی تاخیر کے باعث پشاور کے ’کنٹونمنٹ بورڈ‘ کی حدود میں ترقیاتی عمل رُکا ہوا ہے اُور کئی ایک ایسے منصوبے ہیں جن پر کام فوری طور پر شروع ہونا چاہئے لیکن اِس کے فیصلے کا اختیار بورڈ کے پاس ہے‘ جس کا اِجلاس تکنیکی وجوہات کی بناء پر طلب نہیں کیا جاسکتا۔ اِس سلسلے میں اُمید کا اظہار کیا گیا ہے کہ رواں ماہ کے دوران (عیدالفطر کے بعد) کنٹونمنٹ بورڈ اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال اُمید پر دنیا قائم ہے اور جہاں ڈھائی ماہ کا عرصہ گزر گیا وہیں مزید دو یا تین ہفتوں کا بھی پتہ نہیں چلے گا لیکن اگر کنٹونمنٹ بورڈ کے سرکاری اَراکین کی تنخواہیں اور مراعات ’بورڈ‘ کے اجلاس سے مشروط ہوتیں تو انتخابات کے اگلے ہی روز ’وائس چیئرمین‘ کا انتخاب ہو چکا ہوتا۔ مسئلہ یہ ہے کہ عوام کی نمائندگی کرنے والوں کی نہ تو سرکاری اہلکاروں کے دل میں جگہ ہے اُور نہ ہی اُن نمائندہ ایوانوں میں‘ جہاں کی رکنیت کے لئے بذریعہ قواعد عام انتخابات کا عمل مکمل تو ’بادلنخواستہ‘ مکمل کر لیا گیا ہے لیکن سرکاری عہدیدار اِن منتخب نمائندوں کو اِس سے زیادہ کچھ بھی ’اعزاز و کردار‘ دینے کو تیار نہیں۔ اصولی طور پر عوام کے منتخب نمائندوں میں سے کوئی ایک ’کنٹونمنٹ بورڈ‘ کا چیئرمین جبکہ سرکاری اہلکار ’وائس چیئرمین‘ ہونا چاہئے تاکہ یہ پیغام منتقل ہو سکے کہ ’’فیصلہ سازی میں عوام کی نمائندگی اعلیٰ و بالا ہے اور ترجیحات عوام کے نمائندوں پر مسلط یا اُن کے سامنے محض منظوری کے لئے پیش نہیں کی جاتیں بلکہ وہ سوچ اور فیصلے کرنے میں بااختیار ہیں!‘‘

اِس لمحۂ فکر پر ’کنٹونمنٹ بورڈ‘ انتخابات کے فوراً بعد تیس مئی کو ہوئے خیبرپختونخوا کے بلدیاتی اِداروں (مقامی حکومتوں کے قیام) کے لئے اِنتخابات کا ذکر بھی ہو جائے کے بارے میں الیکشن کمیشن نے (تاخیر سے) آٹھ جولائی کو حتمی پارٹی پوزیشن جاری کی ہے اور سرکاری و حتمی نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے نامزد اُمیدواروں نے ضلع کونسلوں کی 978نشستوں میں سے 256 حاصل کرکے پہلی‘ عوام نیشنل پارٹی نے 106 نشستوں پر کامیابی کے ساتھ دوسری اُور جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) نے 105 نشستوں کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی ہے ان کے علاؤہ پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے 87‘ جماعت اسلامی نے 71‘ پیپلزپارٹی نے 43 اُور قومی وطن پارٹی نے 12نشستیں حاصل کیں جبکہ 165 آزاد اُمیدوار کامیاب ہوئے اور ضلع کونسل کی 122 جبکہ تحصیل کونسل کی 120نشستوں کے لئے دوبارہ انتخابات ہوں گے جو معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے۔ تحصیل کی سطح پر بھی تحریک انصاف 273 نشستوں کے ساتھ سرفہرست ہے لیکن یہ برتری اور نمائندگی اُس وقت تک ’کارآمد‘ نہیں ہو سکتی‘ جب تک منتخب نمائندے فیصلہ سازی کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے لیتے!

Friday, July 10, 2015

Jul2015: Quds Day

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
یوم قدس: مسلمان کدھر جائے!؟
دنیا بھر کے ’روزہ دار مسلمانوں‘ نے بناء کسی تفریق رنگ و نسل اور عقائد کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ’عالمی یوم القدس‘ بھرپور جوش و خروش سے منایا اور اِس موقع پر مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی اور صیہونی حکومت کے خلاف اپنی نفرت کے اظہار میں جس اخلاص پر مبنی ’اتحادواتفاق‘ کا شاندار مظاہرہ کیاگیا‘ اگر وہ اخلاص برقرار رہتا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ’اتحاد بین المسلمین‘ جیسا ہدف حاصل ہونے کے ساتھ اِسلام دشمن طاقتوں بالخصوص اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والی ’اَمریکی و برطانوی لابی‘ کے دانت کھٹے کر دیئے جائیں۔ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی عالمی نام نہاد طاقتوں کو یقیناًیہ پیغام مل چکا ہے کہ انہیں فلسطینی مسلمانوں پر ظلم وجبر ختم کرنا ہوگا بصورت دیگر اُن کایہ عمل مسلم امہ کو اس طرح یک جان کر دے گا‘ کہ اس تحریک کو پھر پٹھو حکمران کے ذریعے نہ تو دبایا اُور نہ کچلا جا سکے گا۔ کاش ذوالفقار علی بھٹو‘ شاہ فیصل اور امام خمینی جیسے خیرخواہوں کی قیادت مسلم اُمہ کو پھر سے میسر آ جائے!

مسلم دنیا کو ’’مرگ بر امریکہ اُور مرگ بر اسرائیل‘‘ جیسی مدبرانہ سوچ دینے والے بانی انقلاب اسلامی ایران امام خمینی نے رمضان المبارک کے ہر آخری جمعے کو عالمی یوم القدس کا نام دیا اور اِس مرتبہ چونکہ آخری جمعہ پاکستان میں اُنتیس اور بیشتر ممالک میں یکم شوال کو ہوگا‘ اِس لئے رہبر اسلامی ایران سیّد علی خامنہ آئی نے ’عالمی یوم قدس‘ ایک ہفتہ قبل یعنی دس جولائی کو منانے کا اعلان کیا جس پر پوری دنیا میں لبیک کہا گیا۔

اللہ تعالیٰ کی توحید اور آخری پیغمبر کی رسالت پر یقین رکھنے والا اگر کسی دوسرے ’کلمہ گو‘ پر ہونے والے ظلم و زیادتی پر خاموش رہتا ہے تو اِس عمل کو ایک حدیث پاک کے مفہوم میں دعائیں قبول نہ ہونے کی راہ میں حائل رکاوٹ قراردیا گیا ہے لہٰذا ’یوم قدس‘ کو کسی ایک ملک کی ایجاد نہیں بلکہ یہ ہر ایک مسلمان اور کلمہ گو کی آواز ہونی چاہئے۔ ’’اِس بات کو اب فاش کر اے روح محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم): آیات الٰہی کا نگہباں کدھر جائے؟ (علامہ اقبالؒ )‘‘۔۔۔ یہ بات ہمارے اِیمان کا حصہ ہے کہ ایک مسلمان دوسرے اِسلامی بھائی کے دکھ درد اور مشکلات میں اُس کی مدد کرے۔ ہمارے سامنے ہجرت مدینہ کے موقع پر ’مؤاخات‘ کی مثالیں موجود ہیں کہ کس طرح مسلمان ایک دوسرے کے دست و بازو بن گئے! کیا اسلامی تاریخ میں ہمارے لئے تفکر کے ابواب موجود نہیں؟ کیا ہمیں اپنی ہی تاریخ پر غور و خوض نہیں کرنا چاہئے؟ اگر فلسطین کے مسلمانوں کو اِس مرحلے پر تنہا چھوڑ دیا گیا تو اسلام دشمن طاقتیں عرب دنیا اور بعدازاں مسلمانوں کی اکثریت والے ممالک کو حیلوں بہانوں سے یکے بعد دیگرے ظلم وستم کا نشانہ بنائیں گے اُور ایک خدا و ایک رسول کو ماننے والوں پر ’عرصۂ حیات‘ تنگ کردیا جائے گا! دنیا کی نظروں میں اگر پاکستان کی جوہری صلاحیت اور ایران کے جوہری عزائم کھٹک رہے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ ’غاصب اسرائیل‘ کے دفاع کے علاؤہ کچھ نہیں۔یوم القدس ’سوچ اُور عمل کی ترغیب‘ کا دوسرا نام ہے کہ ماننے والوں کو اسلام کے جسد واحد سے منسلک ہر ایک عضو کی حفاظت کے لئے کیا تدابیر اختیار کرنی چاہیءں۔ یاد رہے کہ ’روز جہانی قدس‘ کا آغاز 1979ء میں انقلاب جمہوری اسلامی ایران کی کامیابی کے ساتھ ہی کیا گیا‘ جو تاحال ہرسال باقاعدگی سے منایا جاتاہے۔

یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ ’یوم القدس‘ غاصبوں کے لئے ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو چکا ہے۔ رواں سال بھی مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا‘ جسے صرف مغرب ہی نہیں بلکہ ہمارے ہاں کے خود فریب‘ مغرب نواز ذرائع ابلاغ نے زیادہ توجہ اُور اہمیت نہیں دی‘ تو اِس کی وجہ اور پس پردہ محرک منطقی ہے۔ عالمی یوم القدس نامی تحریک کے جلوسوں کے لئے نعرے کا انتخاب ’’علاقائی صورتحال اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو درپیش حالات‘‘ کے مد نظر کیا گیا۔ فیصلہ ہوا کہ رواں برس ’’عالمی یوم القدس‘ فلسطینی اہداف کا مظہر‘ ماڈرن (یک طرفہ جدیدیت کی دلدادہ) جاہلیت اور غزہ سے یمن و کشمیر تک بچوں کے قتل عام کے خلاف ملت اسلامیہ کے اتحاد کی آواز‘‘ کے نعرے لگائے گئے جن سے اسلام دشمنوں کے مظالم کے بارے میں بیداری عام کی گئی۔ پرجوش ’یوم القدس‘ سے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اسلامی ممالک کے عوام کی اکثریت امریکہ اور صیہونی حکومت کو ہی اپنا مشترکہ دشمن سمجھتی ہے اور عراق‘ شام‘ یمن و کشمیر سمیت بعض اسلامی ممالک کے المناک حالات اسے اسلامی دنیا کے سب سے اہم مسئلے اور عالم اسلام کی ترجیح یعنی مسئلہ فلسطین سے غافل نہیں کر سکے اور نہ کبھی غافل کر سکیں گے!

عالمی یوم القدس فلسطینیوں کی حد تک ہی مختص نہیں اُور نہ ہی اسے محدود کر کے پیش کیا جانا چاہئے بلکہ اِس اہم دن کا تعلق ساری اسلامی دنیا سے ہے اور اسلام کے دشمن اور بالخصوص صیہونی اسی بات سے ہراساں ہیں کہ قدس کہیں مسلم امہ کے اتحاد کی تحریک ہی نہ بن جائے! بانی انقلاب اسلامی نے بیت المقدس کو اس وجہ سے اہمیت دی تھی کہ ’’بیت المقدس اور فلسطین ملت اسلامیہ کی طاقت کا سرچشمہ ہیں‘‘ اُور یہ دن صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے جملہ حریت پسندوں کی جانب سے ظلم اور ناانصافی کے خلاف نفرت کا اظہار ہے۔ اگر ’یوم القدس‘ کی روح کو سمجھ لیا جاتا ہے تو فلسطین کی مظلوم قوم اور دوسری مظلوم اقوام کی حمایت سے متعلق تحریک نہ صرف ’نتیجہ خیز‘ ثابت ہوگی بلکہ انشاء اللہ عزوجل مظلوم فلسطینی آزادی کی نعمت سے بھی ہمکنار ہوں گے۔

 سوچئے کہ اگر اسلام دشمن طاقتیں اسرائیل کی پشت پناہی کے لئے اعلانیہ و غیراعلانیہ طور پر متحد ہوسکتی ہیں تو مسلم اُمہ کو کس بات‘ کس مجبوری اور کس مصلحت نے ’اتحاد واتفاق‘ سے روک رکھا ہے؟ ’’جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پہ مرا دل۔۔۔تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقد دشوار۔ ترکان جفا پیشہ کے پنجے سے نکل کر۔۔۔بے چارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار! (علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ) ‘‘