Thursday, March 2, 2017

Mar2017: Effective Policing Examples!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
مستعد جواب!
آپریشن ’ردّالفساد‘ کے آغاز سے ایک روز قبل ’اکیس فروری‘ کی صبح ’تحصیل تنگی‘ کی عدالتوں پر تین خودکش حملہ آوروں کو اپنے ٹارگٹ پر جانے سے پہلے ہی انجام تک پہنچا دیا گیا جو نہ صرف خیبرپختونخوا پولیس بلکہ پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک ایسا انوکھا واقعہ ہے جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی مستعدی نے بڑے پیمانے پر ناقابل تلافی جانی نقصانات ہونے سے بچائے اور یہی وجہ تھی کہ خیبرپختونخوا پولیس کے سربراہ نے ڈی آئی جی مردان ریجن اعجاز احمد خان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف بھی کیا اور موقع پر تعینات اہلکاروں کو بطور حوصلہ افزائی ’اعزازت‘ سے بھی نوازہ۔ تنگی کچہری حملے کے بارے خفیہ اطلاعات پہلے ہی سے موجود تھیں اور ایسی اطلاعات عموماً موجود ہوتی ہیں جنہیں خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ مذکورہ مثال اِس لئے انوکھی ہے کیونکہ ڈی آئی جی مردان ریجن نے ذمہ داری اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خفیہ اطلاعات کو نظرانداز نہیں کیا۔ اگر انتظامی عہدوں پر فائز دیگر اہلکار بھی اِسی قسم کی حساسیت کا مظاہرہ کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ بہت سی قیمتی جانیں اور املاک کے نقصانات کم کئے جا سکیں۔ جس کے لئے پہلے ہی سے تیاری مکمل تھی۔ تنگ گلی سے نکلتے ہی حملہ آوروں نے گیٹ پر موجود پولیس اہلکاروں پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی اور ہینڈ گرینڈ پھینکے‘ اِس اچانک حملے سے پولیس کے چار جوان زخمی ہوئے لیکن حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو حملہ آوروں کو داخل ہونے سے قبل ہی ہلاک کردیا جبکہ تیسرے نے خود کو اُڑا دیا۔ یاد رہے کہ اِس حملے کے وقت مذکورہ چاردیواری کے اندر جج صاحبان اور وکلاء سمیت سینکڑوں افراد موجود تھے! 

تنگی تحصیل حملے میں اہم تنصیب تو محفوظ رہی لیکن سڑک سے گزرنے والے پانچ افراد‘ زد میں آ کر شہید جبکہ دس زخمی ہوئے‘ جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔ پولیس کی اِس بروقت کاروائی پر وفاقی و صوبائی حکومتوں اور پاک فوج کے سربراہ نے ’’شاباش‘‘ دی۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر پولیس اہلکار ذہنی طور پر حاضر نہ ہوتے تو زیادہ بڑے پیمانے پر نقصان ہوتا۔ خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیاں ڈھکی چھپی نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں سرخرو اُور کامران پولیس کی کارکردگی کا روشن پہلو یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی جانب سے پولیس کو غیرسیاسی کرنے کے ثمرات ظاہر ہو رہے ہیں۔ اگست دوہزار سولہ سے ’ڈی آئی جی مردان ریجن‘ اعجاز اَحمد خان قبل ازیں پشاور پولیس کے سربراہ (سی سی پی اُو) بھی تعینات رہے اور اِس عرصے کے دوران بھی اُن کی خدمات نمایاں رہیں بالخصوص انسداد پولیو کے حوالے سے انتظامات کی تعریف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی کی اور اِسی کارکردگی کی بنیاد پر وہ پشاور جیسے مرکزی اور اہم شہر کے پولیس سربراہ رہے۔

تنگی حملے کو ناکام بنانے میں اختیار کی جانے والی حکمت عملی لائق مطالعہ اور حاصل مطالعہ ہے۔ ماضی کے مقابلے اگر خیبرپختونخوا پولیس کی کارکردگی کا معیار بلند ہوا ہے تو اِس بہتری کی بڑی وجہ ’پولیس کا غیرسیاسی‘ ہونا ہے۔ انسداد دہشت گردی کے لئے خفیہ معلومات کی اہمیت سے انکار نہیں کیونکہ ایک مرتبہ سفر اختیار کرنے والے خودکش فدائیوں کو روکنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ 

مغربی ممالک کی مثالیں تو اپنی جگہ عرب ممالک میں بھی خفیہ معلومات ہی کی بنیاد پر قانون نافذ کرنے والے ادارے کاروائیاں کرتے ہیں۔ اُمید ہے کہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع میں بھی خفیہ اِطلاعات جمع کرنے کے ’نیٹ ورک‘ کو اِسی طرح مضبوط اور قابل بھروسہ سمجھا جائے گا۔ دہشت گردوں سے زیادہ اُن کے سہولت کار اور انتہاء پسندی کو فروغ دینے والے عناصر پر نظر رکھنا ضروری ہے جو نہ صرف افرادی قوت اور مالی وسائل فراہم کرتے ہیں بلکہ اہم اہداف کو نشانہ بنانے کے لئے منصوبہ بندی کا حصہ بھی ہوتے ہیں اور اگر مقامی افراد کی رہنمائی و تعاون شامل نہ ہو تو افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کو اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میں اس قدر سہولت نہ رہے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ منظم جرائم اور بھتہ خوری کے تانے بانے بھی انہی گروہوں سے جاملتے ہیں‘ جن کے کالعدم تنظیموں سے روابط ڈھکی چھپی بات نہیں۔ خوش آئند ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان باہمی تعلق اور مربوط کارکردگی کی وجہ سے اب تک ’مردان ریجن‘ میں کئی اہم کاروائیاں مکمل کی گئیں ہیں جن میں کئی انتہائی مطلوب دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کو کیفرکردار تک پہنچایا گیا اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ پاک فوج‘ نیم فوجی دستوں اور پولیس کی شبانہ روز محنت سے ایک ایسے خواب کی تعبیر ممکن ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس میں پاکستان خوف و دہشت سے نجات حاصل کر لے گا۔ بس ضرورت انتھک محنت اور فرض شناس اہلکاروں کی ہے جو ملک و قوم کی خدمت سے جذبے سے سرشار ہوں۔

Wednesday, March 1, 2017

Mar2017: Cricket; Madness vs the Craziness!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کرکٹ دیوانگی!
پنجاب حکومت نے یہ ذمہ داری اپنے سر لی ہے کہ ’’پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2017ء (سیزن ٹو)‘‘ کرکٹ مقابلوں کا آخری میچ (فائنل) قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کے اجلاس میں کابینہ کمیٹی اور سیکیورٹی اداروں کی مبینہ مشاورت سے کئے گئے اِس فیصلے پر سیاسی رہنماؤں سمیت سیکورٹی ماہرین تنقید کر رہے ہیں جن کا مؤقف ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے ’پی ایس ایل فائنل‘ کے لئے جس فول پروف سیکیورٹی کو سو فیصد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے لیکن یہ ’غیرضروری رسک‘ مہنگا بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ سیکورٹی حالات خود اُن کے یا ملک کے سیکورٹی اداروں کے مکمل بس میں نہیں۔ یاد رہے کہ ’پی ایس ایل‘ مقابلوں کا آغاز 2016ء سے ہوا تھا‘ جس سے قبل ’دسمبر دوہزارپندرہ‘ میں 985 کروڑ روپے کے عوض کرکٹ کی پانچ ٹیموں (اسلام آباد یونائٹیڈ‘ کراچی کنگز‘ لاہور قلندرز‘ پشاور زلمی اُور کوئٹہ گلیڈیئٹرز نامی ٹیموں) کے کمرشل حقوق نجی اِداروں کو ’دس برس‘ کے لئے فروخت کئے گئے تھے اور اب تک ہوئے ’پی ایس ایل‘ کے ’سیزن ون (پہلے دور)‘ اور ’جاری سیزن ٹو (دوسرے دور) کے تمام مقابلے متحدہ عرب امارات کے مختلف شہروں میں منعقد ہوئے ہیں۔
کیا پاکستان کوئی بڑی اور دانستہ غلطی کرنے جا رہا ہے؟ 

اگر ’پانچ مارچ‘ کے روز لاہور میں ’فول پروف‘ سیکورٹی فراہم کی جا سکتی ہے تو پھر ایسا پورے سال کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ اِسی تناظر میں سوال یہ بھی ہے کہ اگر قذافی سٹیڈیم میں داخل ہونے والے ہر تماشائی کے کوائف کی بذریعہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) کھڑے کھڑے ’فوری تصدیق‘ (آن لائن نادرا ریکارڈ) سے ممکن ہے تو پھر ایسا ’الیکٹرانک ووٹنگ‘ کے ذریعے شفاف عام انتخابات کے انعقاد کے لئے ہر پولنگ اسٹیشن کی اکائی پر کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ کرکٹ کے علاؤہ الیکٹرانک شناختی طریقۂ کار (بائیومیٹرک تصدیق) قابل عمل کیوں نہیں؟ علاؤہ ازیں مجموعی طور پر چالیس اُوورز (کم سے کم 240 گیند پھینکنے) کے ایک ایسے کرکٹ مقابلے کی حفاظت پر ’اربوں روپے‘ خرچ کرنا کہاں کی منطق ہے‘ جبکہ خطرات بھی ہیں اور کیا پانچ مارچ کو ایک میچ کے بعد دنیا پاکستان کو محفوظ سمجھنے لگے گی اور پاکستان میں عالمی (انٹرنیشنل) کرکٹ مقابلوں کے انعقاد کا سلسلہ پھر سے شروع ہو جائے گا؟ پاکستان میں کرکٹ کا آخری عالمی مقابلہ ’مارچ دوہزارنو‘ میں لاہور ہی کے قذافی سٹیڈیم میں منعقد ہوا تھا‘ جس میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد سے (باوجود کوشش بھی) کوئی انٹرنیشنل کرکٹ میچ‘ پاکستان کی سرزمین پر نہیں کھیلا جا سکا۔

دہشت گردی کے پے درپے واقعات اور بائیس فروری سے ’ردالفساد‘ نامی انسداد دہشت گردی کی نئی ملک گیر فوجی مہم کے آغاز کو دیکھتے ہوئے ’پی ایس ایل‘ فائنل لاہور میں کروانے کا خیال محتاط سوچ رکھنے لوگوں کے نزدیک ’بے مقصد‘ ہے اور شاید اُن کے پاس ایسا سوچنے کے لئے ٹھوس وجوہات بھی ہیں جیسا کہ ایک کرکٹ میچ پر تمام تر توانائیاں (وسائل) کیوں صرف کئے جائیں جبکہ ملک کا ہر کونہ لہو لہو ہے! کچھ کے خیال میں یہ درست ہے کہ امن براستہ کرکٹ جیسے جذبات کی روشنی میں حکومتی فیصلے کا کئی طرح سے دفاع کیا جا سکتا ہے مگر فائنل میچ لاہور میں کروانے کا سوال جلتے سلگتے شہر میں بانسری بجانے سے کہیں زیادہ اور وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مناسب اور مؤثر ردِعمل کیا ہے‘ کیوں ہے اُور آخر کیا وہ یہ ہے؟ 

صاحبانِ اقتدار کے نزدیک فائنل کا کامیاب انعقاد عسکریت پسندوں کو منہ توڑ جواب ہوگا۔ عسکریت پسند چاہتے ہیں کہ خوف و ہراس کی فضاء پھیلا کر پاکستان کو مفلوج کر دیا جائے۔ کئی لوگوں کی رائے میں (بشمول صاحبانِ اقتدار)‘ پی ایس ایل کا مقابلہ لاہور میں منعقد نہ کروایا گیا تو عسکریت پسند اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے۔ دوسری جانب بحفاظت منعقد کیا گیا مقابلہ مشکلات کا بہادری سے مقابلہ کرنے کے برابر ہوگا! پہلی بات تو یہ ہے کہ اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ ریاستی سیکیورٹی انتظامات ’’فول پروف (مؤثر یا حکومت کے کنٹرول میں)‘‘ رہیں گے۔ توقع ہے کہ قذافی سٹیڈیم کی گنجائش کے مطابق مذکورہ کرکٹ میچ دیکھنے کے لئے ’بیس ہزار‘ سے زائد تماشائیوں کی اکثریت پیدل آئے گی اُور اِس دوران تمام دن اسٹیڈیم کے اطراف غیرمعمولی رش رہے گا۔ کیا میچ دیکھنے کے لئے آنے والے ہر شخص کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے گی؟ جذبات اپنی جگہ‘ کرکٹ سے لگاؤ اور خلوص اپنی جگہ لیکن ہر کھلاڑی اور تماشائی کی حفاظت کا ذمہ لینے والوں کا ماضی (طرز حکمرانی) دیکھا جائے تو اتنے بڑے تو کیا چھوٹے پیمانے پر بھی سیکورٹی فراہم کرنا اُن کے بس کی بات نہیں لگتی اور تنقید کی وجہ بھی یہی ہے!

خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے لیکن نظر نہیں آ رہا۔ ’’قلعہ بند‘‘ میچ کرانے کی صورت میں بھی صرف کھلاڑی ہی محفوظ ہوں گے تماشائی نہیں! پی ایس ایل کا حصہ کئی غیرملکی کھلاڑی پہلے ہی لاہور آنے سے معذرت کر چکے ہیں اور انہیں اِس بات کے لئے قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا‘ کیونکہ ہر ’ذی شعور‘ کو اپنی جان پیاری ہوتی ہے۔ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہونے سے پاکستان میں کرکٹ کو کوئی خاص فائدہ تو نہیں البتہ نقصان کا اندیشہ نسبتاً زیادہ بڑا ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے بقول ’’اگر فائنل مقابلے کے موقع پر دہشت گردی ہوئی تو پاکستان میں عالمی کرکٹ مزید دس برس پیچھے چلی جائے گی‘‘ اُنہوں نے ’پی ایس ایل فائنل‘ لاہور میں منعقد کرانے کو ’دیوانگی بھی قرار دیا ہے! دانشمندی یہ ہے کہ غیرضروری طور پر خطرہ مول لینے سے گریز اور خطرہ برداشت کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے؟ 

جذبات (کمرشل ازم) سے مغلوب عام آدمی (ہم عوام) کی جانیں کیا کرکٹ کے کھیل سے زیادہ قیمتی ہیں؟ پی ایس ایل فائنل کے لاہور میں کامیاب انعقاد کے بعد کیا ہوگا؟ کیا ہم خوشی کے اِس احساس کے واقعی متحمل ہو سکتے ہیں اور کیا یہ پائیدار بھی ثابت ہوگا؟ ایک دن کے سیکیورٹی دکھاوے یا عزم و جرأت کے مصنوعی اظہار سے آگے بڑھ کر ’پاکستان‘ اور ’پاکستانیوں‘ کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے! حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے مشاغل کو مشاغل اُور کھیل کو کھیل ہی رہنے دیں۔ 

عسکریت پسندی‘ انتہاء پسندی اُور دہشت گردی کے وجود سے انکار یا اُسے چیلنج کرتے ہوئے پاکستان پر وار کرنے کا کوئی بھی موقع ضائع نہ کرنے والے دشمن کو کسی بھی صورت کمزور نہیں سمجھنا چاہئے۔ جناب مرزا غالبؔ سے معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ ’’کر رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ ۔۔۔ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی!‘‘