Tuesday, March 14, 2017

Mar2017: Mind your language please!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سیاست برداشت اُور سیاست!
تحریک انصاف صرف پاکستان کے مستقبل کا ہی نہیں بلکہ اُس ارتقائی سمت کا تعین بھی چاہتی ہے‘ جس میں اختیارات کے عوض ذاتی مفادات اور اثاثوں کا تحفظ نہ ہو لیکن عام انتخابات اور پارلیمانی محاذ پر خاطرخواہ کامیابی کے لئے درکار مہارت سے عاری انقلابی جماعت کا سفر آسان نہیں‘ جس میں مغلظات اور دشنام طرازی برداشت کرنے کا حوصلہ بھی ہونا چاہئے۔ پاکستان کی سیاست میں اخلاق سے گری ہوئی زبان کا استعمال تو بہت ہی معمولی سی بات ہے یہاں تو سیاست میں حصہ لینے والے کا کردار ہی مشکوک ہو جاتا ہے اور عمومی تاثر یہی ہے کہ جس کسی کو اپنا حسب نسب معلوم نہ ہو وہ عام انتخابات میں بطور اُمیدوار حصہ لے کر دیکھے‘ پورے خاندان کے ہر ایک فرد کی ’’اوّل تا آخر‘‘ حقیقت معلوم ہو جائے گی!

براہِ راست مغلظات ہوں‘ ذو معنی فقرے چست کرنے ہوں یا طنز و الزام دینے ہوں۔ ماں‘ بہن اور بیٹی کا حوالہ لازمی ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ سمجھ کچھ یوں آئی کہ یہاں عورت ذات کو اپنی ملکیت میں رکھی کوئی چیز گردانا جاتا ہے اور اسی تعلق کے ناطے سامنے والے کی ’جائیداد‘ پر کیچڑ اچھال کر اُس ’’زخمی مردانہ انا‘‘ کی تسکین کا سامان کیا جاتا ہے جو مجروح ہونے کا بہانہ ہی تراشتی رہتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ کو اگر گالم گلوچ اور کردار کشی کے ضمن میں کھنگالا جائے تو سلسلہ بہت دور تک جا نکلتا ہے۔ قومی اسمبلی کی لابی سے گیٹ تک ہوا تماشہ ہماری سیاسی تاریخ میں ایک نیا اضافہ ہے۔ ’پھٹیچر‘ اور ’ریلو کٹا‘ جیسے الفاظ کے مفہوم سمجھاتے مختلف نیوز چینلز پر جمعرات (9مارچ) کی سہ پہر اچانک بریکنگ نیوز آئی کہ دو اراکینِ قومی اسمبلی میں تلخ کلامی ہوئی اور انہوں نے ایک دوسرے کو مکا جڑ دیا۔ یہ خبر آج بھی ہیڈلائن میں ہے اور 13مارچ کے روز دونوں اراکین اسمبلی کی رکنیت چند روز کے لئے معطل کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ انتخابی مؤقف ہماری سیاسی جماعتوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ غدار کہنا ناقابلِ برداشت ٹھہرا لیکن دوسروں کے لئے ’’مودی کا یار‘ غدار‘‘ کا نعرہ لگانا جائز سمجھنا کہاں تک مبنی برانصاف ہے۔ کسی کے لئے بھی منشی لفظ طعنہ بنا دے‘ محمود خان اچکزئی کا مذاق اڑائے‘ مولانا فضل الرحمان‘ بلاول‘ خورشید شاہ سمیت ہر کسی کا اُلٹا نام تجویز کرے‘ کیونکہ ان تمام سیاستدانوں کے حامیوں کی دِل آزاری تو ہوتی ہی نہیں نا۔ گھونسا مارنے پر بھی شاباش دی گئی بلکہ یہ تک کہا گیا کہ ’’میں ہوتا تو پتہ نہیں کیا ہو جاتا۔۔۔‘‘

پاکستان کا سیاسی منظرنامہ یہ ہے کہ ’’جمہوریت‘‘ اور ’’جمہور‘‘ کومے میں ہیں! جبکہ جو عناصر قومی اسمبلی کی راہداری میں ہوئے شرمندگی بھرے تصادم سے یہ درس دے رہے ہیں کہ ’’عوامی نمائندے عوام کے اجتماعی روئیوں کے عکاس ہوتے ہیں‘‘ تو وہ شاید بھول گئے ہیں کہ قومی و صوبائی اسمبلی میں پہنچنے کے لئے اہلیت چاہئے ہوتی ہے جس کے لئے مرد اور خواتین دونوں کے ووٹ حاصل کئے جاتے ہیں۔ یہ صرف کسی شخص کی بہنوں کی کردار کشی نہیں بلکہ ہر اس عورت کی تذلیل ہوئی ہے جس نے اِن ایوانوں کو اپنا ووٹ دیا۔ اس پر بھلا کوئی کیسے سمجھوتا کر سکتا ہے؟ 

پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی مراد سعید اور پاکستان مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے جاوید لطیف سے پہلے پنجاب اسمبلی میں ہارون بخاری نے نگہت شیخ کو اسی طرح اپنے چیمبر میں آنے کا کہہ کر خاموش کروانے کی کوشش کی جیسے کچھ عرصہ قبل سندھ اسمبلی میں صوبائی وزیر برائے ورکس اینڈ سروسز امداد پتافی نے نصرت سحر عباسی کو کہا۔ یہ وطیرہ ہے کہ اگر کوئی عورت آواز رکھتی ہے تو اس کے کردار پر سوالیہ نشان لگا دو یا پھر ایسا کوئی لفظ یا جملہ کہو جس سے عورت ہراساں ہونا محسوس بھی کر لے اور بعد میں کہہ سکو میرا مطلب وہ نہیں یہ تھا جبکہ چیمبر میں بلوانے کی بات پر ’’بیک گراؤنڈ‘‘ سے یہ جملہ بھی آیا کہ ’’سارا دن بیٹھی عشقیہ گانے گاتی ہیں۔‘‘ 

عزت سب کی سانجھی ہوتی ہے۔ ہم بھول چکے ہیں کہ وزیراعظم کی بیٹی مریم نواز کی شادی کی تصاویر سے لے کر قطری خط تک پر جس طرح کی لغو گوئی کی جاتی رہی ہے کون نہیں جانتا۔ حافظ حمد اللہ کے زرخیز خیالات بھی قوم نے سن رکھے ہیں۔ شیخ آفتاب بھی ڈاکٹر مزاری کو ائرپورٹس پر ہونے والی ’سٹرپ سرچ‘ سمجھاتے پائے گئے ہیں۔ نعیم الحق پر ان کی جماعت کی خواتین نے جس قسم کے الزامات لگائے اس حوالے سے ان کی لیڈرشپ خاموش ہی رہی۔ میئر کراچی وسیم اختر کے منہ سے جھڑتے پھول کوئی نہیں بھول پایا لیکن وہاں بھی سماجی و سیاسی دباؤ کے تحت معافی نامہ آ گیا‘ نجی محافل میں کیا تائید ہوتی رہی وہ ایک الگ کہانی ہے! 

خواتین کی توہین کرنے میں صرف مرد سیاستدان ہی نہیں بلکہ خواتین بھی شریک پائی گئی ہیں جو ایک دوسرے کی کردار کشی میں حصہ بقدرِ (سیاسی) جثہ ڈالتی رہتی ہیں۔ کیا ہم ڈاکٹر فردوس اعوان اور کشمالہ طارق والے معاملے کو بھول سکتے ہیں؟ شازیہ مری اور کشمالہ طارق کے درمیان ہوئی تلخ کلامی بھی ماضی کا حصہ ہوئی‘ تو سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر کا لہجہ اور خواتین اراکین صوبائی اسمبلی سے بات کرنے کا انداز اکثر و بیشتر خبروں کی زینت بنا رہتا ہے۔ 

رانا ثناء اللہ نے ایک بیہودہ بات کی تو شرمیلا فاروقی نے ڈٹ کر مریم نواز پر تہمتوں اور حقارت بھرے ذو معنی طعنوں سے مقابلہ کیا! آج بھی جاوید لطیف نے میری دو بہنوں کے حوالے سے گھٹیا الزامات لگائے تو پارلیمنٹ میں بیٹھی خواتین اسے اپنی صنف کی توہین سمجھتے اکٹھی نہیں ہو سکیں۔ اگرچہ یہ روایت تو انہوں نے مہناز رفیع یا ڈاکٹر شیریں مزاری کی ذات پر حملوں کے وقت بھی نہ ڈالی! پہلے خاموش رہ کر بعد میں سماجی و صحافتی دباؤ کے تحت مذمت جاری کرنا گھٹیا روئیوں کو بڑھاوا دینے کے مترادف ہے۔ مختصراً یہ کہ عوامی نمائندہ خواتین اسمبلی اراکین کو اپنی صنف کے احترام میں متحد ہونے کے لئے بھی اپنی قیادت کے حکم نامے کا انتظار ہوتا ہے۔ 

پاکستان میں سیاست اُس وقت تک باشعور نہیں ہوگی‘ جب تک یہ شخصیات کی غلامی سے آزاد نہیں ہو جاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ پارلیمنٹ کی لابی سے گلی محلوں کی عمومی بول چال تک ہر معاشرت اور معاشرتی رویئے سنجیدہ توجہ اور اصلاح چاہتے ہیں۔

Monday, March 13, 2017

Mar2017: Terrorism, Social Media and Artificial Intelligence

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سوشل میڈیا: ذہین پھندا!
پاکستان میں امن کو لاحق خطرات کا شمار اِس لئے بھی ممکن نہیں کہ ایک تو حملہ آور گوریلا طرز پر عسکری مہمات کرنے میں ’جلدبازی‘ کا مظاہرہ نہیں کررہا کہ اُن سے سرزد ہونے والی غلطیوں کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے ادارے اُن کی طاقت کے مراکز پر ہاتھ ڈال سکیں اور دوسرا اب تک ہوئے دہشت گرد حملوں کے پیچھے اس حد تک باریک بینی سے کی گئی منصوبہ بندی کا عمل دخل پایا گیا کہ کئی ایک سہولت کاروں کی گرفتاری کے باوجود بھی اصل کرداروں تک رسائی اور اُن کے شہری و دیہی علاقوں کے تمام نیٹ ورکس ظاہر نہیں ہوسکے۔ 

سیکورٹی اداروں کے لئے دہشت گردی سے نمٹنے کا یہ کھلا چیلنج اِس لئے بھی پیچیدہ ہے کیونکہ اِس میں مواصلاتی رابطوں اور افرادی قوت حاصل کرنے کے لئے غیرروائتی اسلوب یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھی کام لیا جارہا ہے۔ بارہ مارچ کے مضمون ’’سوشل میڈیا دہشت گردی!‘‘ کے عنوان سے ’’مہم جو طبیعت‘‘ رکھنے والے اُن نوجوانوں‘ اساتذہ اور والدین تک یہ بات پہنچانے کی کوشش کی گئی کہ اگر کوئی بھی صارف آن لائن سرگرمیوں میں احتیاط سے کام نہیں لے گا‘ تو غیردانستہ طور پر وہ قابل گرفت و سزا جیسے سنگین جرائم کے ارتکاب میں ملوث ہوسکتا ہے اور ایسے جرائم میں بھلا کون دانشمند ملوث ہونا پسند کرے گا‘ جن پر دہشت گردی کی دفعات لاگو ہوتی ہوں؟

قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت تعلیمی اداروں اور والدین کو سمجھنا ہوگا کہ انسانوں کی طرح جدید کمپیوٹرز بھی کسی نہ کسی حد تک ’مصنوعی ذہانت‘ کے مالک ہوتے ہیں اور اِسی مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹلی جنس) کی بنیاد پر سافٹ وئرز نہ صرف صارفین کی عادات اور فیصلوں کو محفوظ کرتے رہتے ہیں جن کی بنیاد پر اُنہیں مستقبل میں خدمات فراہم کی جاتی ہیں لہٰذا یہ سمجھنا کہ ’آن لائن‘ وسائل سے استفادہ اگر گمنام اکاونٹس کے ذریعے کیا جائے تو محفوظ ہوتا ہے‘ تو یہ تاثر سوفیصد درست نہیں۔ پاکستان سمیت بیشتر ایشیائی ممالک کے باشندوں کے لئے مصنوعی ذہانت فی الوقت ایک غیر معروف اور نو آموز موضوع ہے جس کی بڑی وجہ ہی ہے کہ اس عنوان کے تحت میسر زیادہ تر تحقیقی مواد انگریزی زبان میں ہوتا ہے اور وہ بلاقیمت دستیاب بھی نہیں۔ مقامی زبانوں میں مصنوعی ذہانت کے موضوع پر بہت کم لکھا جاتا ہے اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ اس موضوع کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ان کا اوڑھنا بچھونا انگریزی ہوتی ہے۔ 

بنیادی طور پر مصنوعی ذہانت انسانی دماغ کو مسخر کر کے اس سے کئی گنا زیادہ سوچنے‘ سمجھنے اور پھر عمل کر دکھانے والی مشینیں تیار کرنے کے علوم کا مجموعہ (سائنس) ہے جس کا آغاز اُنیس سو ساٹھ سے ہوا اور دنیا بھر کے سائنس دانوں اور محققین کا یہ پسندیدہ ترین موضوع رہا ہے‘ بالخصوص کمپیوٹر گیمز تخلیق کرنے والے مصنوعی ذہانت ہی کا استعمال کرتے ہوئے کھیلوں کو زیادہ مشکل بناتے ہیں تاکہ کمپیوٹر انسانی دماغ کو مشکل سے دوچار کر سکے۔ مصنوعی ذہانت کے قریب نصف صدی کے سفر میں تیز رفتار تحقیق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مصنوعی انسانی دماغ تخلیق کرنے کے منصوبے کا آغاز ہو چکا ہے اور ضرورت اِس امر کی ہے کہ انسداد دہشت گردی کی قومی حکمت عملی ’نیشنل ایکشن پلان‘ میں اِسی مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جائے اور اس سلسلے میں جامعات کو تحقیق کے اہداف دیئے جائیں۔ امریکہ کی ڈرون ٹیکنالوجی اور بیشتر دفاعی بالادستی جامعات ہی میں ہونے والی چھوٹے پیمانے پر تحقیق کا حاصل ہے اور جب تک نوجوانوں کی صلاحیتوں پر اعتماد اور مستقبل کی ضروریات کا ادراک نہیں کیا جائے گا‘ اُس وقت تک ہمارا دفاع جامع اور سوفیصد بہتر (محفوظ وقابل بھروسہ) نہیں بنایا جا سکے گا۔

سائنس اور ٹیکنالوجی سے لے کر سماجی اور معاشرتی سطح تک تحقیق و جستجو کے میدان میں جتنے زیادہ امکانات انفارمیشن ٹیکنالوجی کی اِس ’مصنوعی ذہانت‘ نے پیدا کئے ہیں‘ اس سے قبل یہ اعزاز بہت کم سائنسی علوم کے حصے میں آئے ہیں۔ اگرچہ ذرائع ابلاغ کا سارا زور ہمیشہ سے ہر نئی ایجاد اور تحقیق کے منفی رخ کی ترویج پر ٹوتتا ہے مگر اس حقیقت سے کسی صورت بھی انکار ممکن نہیں کہ ہماری موجودہ زندگی کو آرام دہ اور سہل بنانے میں مصنوعی ذہانت ہی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ مصنوعی ذہانت کا منفی پہلو یہ ہے کہ اِس سے ہماری عمومی زندگیوں میں مشینوں کا عمل دخل بڑھ جائے گا اور غیرتربیت یافتہ‘ کم تعلیم یافتہ یا کسی جسمانی کمزوری سے دوچار انسانوں (افرادی قوت) کی اہمیت بتدریج کم ہوتی چلی جائے گی۔ ہم محسوس نہیں کر رہے لیکن ٹیکنالوجی آہستہ آہستہ ہمارا اوڑھنا بچھونا بن رہی ہے اور مستقبل کی دنیا میں ’جاہل‘ بن کر بقاء صرف مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوگی۔ 

گوگل سرچ‘ آئی بی ایم واٹسن‘ جدید مہلک ہتھیاروں کی دوڑ‘ صنعتوں‘ معاشیات‘ حتی کہ کھیل کود اور سوشل میڈیا الغرض ہر جگہ بہت جلد ’مصنوعی ذہانت‘ کا سکہ چلتا نظر آئے گا تو کیوں نہیں اِس کرنسی کو پاکستان میں بھی آج ہی سے رائج کرنے کی تیاری کی جائے؟ سوال یہ بھی ہے کہ بالفرض آئندہ بیس برس یا اس سے کچھ کم عرصے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی موجودہ ٹیکنالوجی کی جگہ لے لیتی ہے تو اس تبدیلی کے ہمارے معاشرتی سیاسی سماجی نظام اور سب سے بڑھ کر اخلاقی اقدار پر کیا مثبت یا کیا منفی ممکنہ اثرات ہوں گے اور کیا ہم کسی ایسے ٹیکنالوجیکل انقلاب کا سامنا کرنے کے لئے بحثیت ملک و قوم تیاری کئے بیٹھے ہیں؟ 

زمین سے زیادہ خلائی دنیا کے بارے جاننے والے معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ ایک عرصے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ’’ہم انسانوں کو اپنی تمام تر توجہ ایسی ذہین مشینوں کی تخلیق پر مرکوز کرنی چاہئے‘ جو انسانیت کی فلاح و بہبود اور قیام امن کی ضامن ہوں‘‘ لیکن جدید کمپیوٹرز ہوں یا ہمارا نظام تعلیم‘ قومی ترجیحات کا تعین کرنے والوں کو علوم میں سوچ بچار کے ساتھ اخلاقیات اور ذمہ داریوں کے بارے میں نوجوانوں کو آگاہ کرنا ہوگا۔ ایک توازن اور عدل بھی ضروری ہے۔ اِس سلسلے میں اردو زبان کے ذرائع ابلاغ نہایت ہی کلیدی کردار اَدا کرسکتے ہیں جنہیں اپنی نشریات کا کچھ وقت یا اپنی اشاعتوں میں بطور خاص ایسی بحث و مباحثے کو جگہ دینی ہوگی‘ جس کا تعلق تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے اُس منظرنامے سے ہے جو کچھ کچھ نہیں بلکہ سب کچھ بدل کر رکھ دے گا اور پھر (خدانخواستہ) ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے اور خود اپنی ہی تباہی کا تماشا دیکھنے کے سوأ کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔