Loadshedding
لوڈشیڈنگ
پاکستان میں بجلی کی ’لوڈشیڈنگ‘ کا تعلق طلب اور رسد میں فرق (کمی) کے باعث ہے یا پھر یہ انتظامی نااہلی کے باعث دستیاب پیداواری صلاحیت سے خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا؟ یہ سوال بہت سے سوالات کا مجموعہ اور اگر اِس کا جواب مل جائے تو سبھی سوالات کا جواب مل جائے گا۔
سب سے پہلے تو ہمیں 3 حقائق مدنظر رکھنے ہیں۔ 1: پاکستان کے اقتصادی سروے 2015-16ء میں دیئے گئے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں بجلی کی پیداواری صلاحیت 23ہزار 101 میگاواٹ ہے۔ 2: اٹھائیس مارچ کے روز پاکستان میں بجلی کی پیداوار سب سے زیادہ ہوئی اور یہ پیداوار 11 ہزار 55 میگاواٹ تھی۔ 3: تو ثابت ہوا کہ اٹھائیس مارچ کے روز حکومت نے بجلی کی مجموعی پیداواری صلاحیت کا 47.8فیصد استعمال کیا۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اٹھائیس مارچ کو صوبہ پنجاب کے جن دیہی اور شہری علاقوں میں کم سے کم 6 گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوئی تو یہ پیداواری صلاحیت کم ہونے کی وجہ سے نہیں تھی۔ صاف ظاہر ہے کہ اصل وجہ ’بدانتظامی‘ اور ’نااہلی‘ ہے کہ پاکستان میں بجلی کی پیداواری صلاحیت اِس کی ضرورت سے مطابقت رکھتی ہے لیکن اِس پیداواری صلاحیت سے سو فیصد فائدہ نہیں اٹھایا جارہا۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے کہ جیسے کوئی ڈاکٹر کسی مریض کے جگر کا علاج کر رہا ہو جبکہ اُسے دل کا مرض لاحق ہو! ایسی صورت میں مریض کے شفایاب ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔
بجلی کے وہ پیداواری یونٹ کو اپنی پوری صلاحیت پر کام نہیں کر رہے اُن میں اُوچ پاور‘ نندی پور‘ ہال مور‘ جاپان پاور‘ سیپ کول‘ کوہ نور اور بھیکی شامل ہیں یعنی 2ہزار 784 میگاواٹ پیداواری صلاحیت سے استفادہ نہیں کیا جارہا۔ پھر ایسے پیداواری یونٹ بھی ہیں جو اپنی کل صلاحیت کا نصف (پچاس فیصد) پیداوار دے رہے ہیں۔ اِس فہرست میں اے ای ایس (AES)‘ نشاط اُور اٹلس شامل ہیں۔ تصور کیجئے کہ گدو تھرمل پاور پلانٹ کی کل پیداواری صلاحیت 2ہزار 220میگاواٹ ہے لیکن یہ یونٹ صرف 350میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔
اٹھائیس مارچ کے روز پاکستان میں بجلی کی کل طلب 15ہزار میگاواٹ تھی‘ جس میں کراچی شامل نہیں تھا۔ اِس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس بجلی کی جو پیداواری صلاحیت ہے اُس کے مطابق 65فیصد طلب تھی اور اگر انتظامی طور پر معاملات ٹھیک ہوتے تو ’لوڈشیڈنگ‘ کی نوبت ہی نہ آتی۔ اٹھائیس مارچ کے روز پاکستان میں بجلی کے پیداواری یونٹ 11ہزار 55میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے تھے لیکن بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو 9 ہزار 700 میگاواٹ بجلی دی گئی۔ اِس کا مطلب ہے کہ 1ہزار 355 میگاواٹ بجلی یہاں وہاں کہیں ہوا میں تحلیل ہو گئی۔ اِسے تکنیکی طور پر ’لائن لاسیز‘ کا نام دیا جاتا ہے جو کہ درحقیقت ادارہ جاتی بدانتظامی ہے‘ جو بجلی کے ترسیلی نظام کی اصلاح نہیں کررہی۔
بجلی کی پیداوار کم ہونے کی ایک وجہ ’گردشی قرضہ (Circular Debt)‘ بھی ہے جس کا تعلق بھی ادارہ جاتی بدانتظامی ہی ہے۔ اگر حکومت بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے لیکن وہ ’گردشی قرضے‘ کو ختم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ پیداواری صلاحیت بڑھنے کے ساتھ ’گردشی قرضہ‘ بھی بڑھتا چلا جائے گا جو زیادہ بڑا خطرہ ہے۔ تصور کیجئے کہ اگر گاڑیاں بنانے والی ایک فیکٹری روزانہ 100 گاڑیاں بناتی ہے اور اِن 100گاڑیوں میں سے 20گاڑیاں چوری ہو جاتی ہیں جبکہ ہر روز 10گاڑیاں خریدنے والے اِس کی قیمت ادا نہیں کرتے تو ایک موقع ایسا ضرور آئے گا جبکہ گاڑیاں بنانے والی یہ فیکٹری باوجود پیداواری صلاحیت رکھنے کے بھی دیوالیہ ہو جائے گی!
یادش بخیر‘ سات مارچ دوہزار تیرہ کے روز پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے 104صفحات پر مشتمل اپنا انتخابی منشور (election manifesto) جاری کیا تھا اور اِس میں توانائی کا لفظ 42مرتبہ استعمال کیا گیا یعنی نوازلیگ نے توانائی کے پیداواری یونٹس کی اصلاح کے حوالے سے 42 وعدے کئے تھے۔ سال 2013ء میں ’گردشی قرض 480 ارب روپے تھا۔ سال 2017ء میں ’گردشی قرض‘ 414ارب روپے تھا۔ سال 2014ء میں بجلی کی چوری یا ترسیلی نظام کی خرابیوں کے باعث بجلی کا ضیاع 18فیصد تھا اور اِس میں وقت گزرنے کے ساتھ کمی نہیں ہو رہی! سال 2014ء میں بجلی کی فروخت سے حاصل ہونے والی قیمت 87 اعشاریہ آٹھ فیصد تھی اور اِس شعبے میں بھی کوئی غیرمعمولی بہتری دیکھنے میں نہیں آ رہی!
بجلی کی ’لوڈشیڈنگ‘ پیداواری صلاحیت کم ہونے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ بدانتظامی کے سبب ہے۔ حکومت کی توجہ بجلی کی پیداواری صلاحیت بڑھانے پر ہے لیکن وہ انتظامی معاملات میں پائی جانے والی خرابیوں پر نظر نہیں کر رہی جو جاری ہیں اور اگر یہی طرزعمل جاری رہتا ہے تو مریض کی شفایابی نہیں ہوگی کیونکہ حکومت جس مرض کا علاج کر رہی ہے اُس کی تشخیص ہی غلط ہوئی ہے۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)
