Monday, April 3, 2017

Apr2017: Lala Amir Siddiqi Award on Photo Videography!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تصویری مقابلہ: اَصول‘ قواعد اُور نتائج!
صحافت کی حد یہ ہے کہ اِس کی کوئی حد نہیں۔ یہ بہت سے علوم کا مجموعہ ہے اور اپنی ذات میں ایک ایسا منفرد علم بھی ہے‘ جس کے اَصولوں کی روشنی (رہنمائی) میں تحریر و تحقیق اور بیانات کی عملی اشکال اور اثرات کا بیان جبکہ اِسی کے ذریعے نہ صرف گردوپیش کے حالات و واقعات سمجھنے اُور سمجھانے کے علاؤہ انسانی معاشروں میں پائے جانے والے امتیازات ختم کرنے کی جانب فیصلہ سازوں کا دھیان مرکوز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو زیادہ سنجیدہ فرائض منصبی (ذمہ داری) ہے۔ دنیا کا کوئی بھی دوسرا علم اپنی ذات میں اِس قدر معنویت (وسعت) نہیں رکھتا کہ اِس کے ذریعیاَقوام عالم سے لیکر مقامی سطح پر گروہی اختلافات‘ امتیازات یا حقوق کے تحفظ جیسے آئینی و سماجی مسائل زیربحث لائیں جائیں لیکن صحافت کی معنویت اُس وقت حاصل ہوگی جبکہ ’آزادی اظہار‘ کے ساتھ جڑے ’فرائض‘ کی باریکیوں کو سمجھا جائے‘ اُن کی قدر کی جائے اور اِس کے مروجہ عالمی اَصولوں کی ’بہرصورت پاسداری‘ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

قیام پاکستان کے وقت سے شمال مغربی سرحدی صوبے (خیبرپختونخوا) میں صحافت سے جڑے چند معتبر ناموں میں ’لالہ امیر صدیقی (مرحوم)‘ کا بھی شمار ہوتا ہے۔ آپ پشاور پریس کلب کے بانی رُکن اور اپنی ذات میں رہنما انسان تھے۔ آپ کی شخصیت کے ایک رخ یعنی صحافتی خدمات کو خراج تحسین اور ’یادگار‘ رکھنے کے لئے ’لالہ امیر صدیقی (مرحوم) سے منسوب اعزازات‘ کا آغاز سال 2016ء میں کیا گیا‘ جن کا ایک مقصد خیبرپختونخوا اُور قبائلی علاقہ جات میں ’ذمہ دار اُور معیاری صحافت‘ کا فروغ بھی ہے۔ اِس سلسلے میں ’’سالانہ میڈیا ایوارڈز‘‘ کے سلسلے میں تقریب رواں برس بھی 30مارچ ہی کے روز منعقد ہوئی۔ اعزازات ’مختلف شعبوں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر دیئے گئے جن میں تحقیقی رپورٹ‘ انگریزی میں بہترین فیچر کالم‘ اُردو میں فیچر رپورٹ‘ فوٹوجرنلزم‘ ریڈیو رپورٹ‘ صحافتی ٹیلی ویژن کے لئے کیمرہ مین اُور ٹیلی ویژن پیکج کا ’انتخاب‘ کرکے صحافیوں کو ایک پروقار تقریب میں اعزازات سے نوازہ گیا۔ حسن اتفاق ہے کہ زیادہ تر اعزازات اُنہی اِداروں کے حصے میں آئے جن سے مقابلے کے منصفین کا تعلق تھا لیکن اِس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کم سے کم کسی کو تو خیال آیا کہ ’ذمہ دار صحافت‘ کرنے والوں کی خدمات کا اعتراف کیا جائے۔ یہ اقدام تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت کے لئے بھی دعوت فکر ہے کہ وہ ’انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (محکمۂ اطلاعات)‘ کو ’’ایوان اطلاعات‘‘ میں ڈھال کر ایک ایسے شعبے کی سرپرستی کرے‘ جس سے وابستہ افراد‘ بناء عہدوں اُور مراعات کی لالچ نہ صرف اپنی زندگیاں وقف کئے ہوئے ہیں بلکہ وہ غیرمعمولی حالات میں خطرات بھی مول لیتے ہیں اور یہ حقیقت اپنی جگہ اعتراف حقیقت چاہتی ہے کہ خیبرپختونخوا میں صحافت کا علم حاصل کرنا تو آسان ہے لیکن یہاں کبھی بھی صحافت کرنا آسان نہیں رہا۔

’لالہ اَمیر صدیقی (مرحوم) میڈیا ایوارڈز‘ کسی نعمت سے کم نہیں‘ جن میں فوٹوجرنلزم (صحافتی مقاصد کے لئے کی جانے والی عکاسی) کو بھی شامل کیا گیا ہے تو یہ محض رسمی درجہ بندی نہیں ہونی چاہئے۔ اُمید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ برس منصفین میں فوٹوگرافی کے شعبے کے کسی ایسے ماہر کو شامل کیا جائے گا جو ضروری نہیں کہ مقامی ہی ہو اور وہ کسی فوٹوگرافر کی ایک تصاویر یا ایک ویڈیو رپورٹ ہی کو نہیں بلکہ اُس کے ہاں تکنیکی مہارت کی مفصل جانچ کرنے کے بعد فیصلہ صادر کرے۔ رواں برس جن قابل احترام جج صاحبان بشمول سینئر صحافیوں نے ’تصاویر‘ اور ’ویڈیو رپورٹس‘ کی درجہ بندی کی یقیناًاُنہوں نے پوری دیانتداری کا مظاہرہ کیا ہوگا جو ہر قسم کے شک و شبے سے بالاتر ہے لیکن کسی ’تکنیکی مہارت‘ کے معیار کی جانچ کے لئے محض ’نیک نیتی‘ ہی کافی نہیں ہوتی۔ آدھا علم تو یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنی لاعلمی کا اعتراف کرے لیکن ابھی اتنا علم ہمارے ہاں نہیں آیا اور علم سے زیادہ تجربہ شخصیات کا تعارف بن چکا ہے۔ بہرکیف فوٹوگرافی اور ویڈیوگرافی پر مشتمل تخلیقات کا فیصلہ اُن سے کرایا گیا‘ جو اِن علوم کے بارے اپنے اپنے جمالیاتی ذوق کے مطابق ’ایک رائے‘ رکھتے ہیں (جبکہ رائے علم نہیں ہوتی) اور ہمارے ہاں چونکہ المیہ یہ ہے کہ چیزیں اپنے مقام پر پڑی پڑی ہی ’سینئر‘ بھی ہو جاتی ہیں اور اُنہیں کچھ نہ کرنے جیسی ’قومی خدمت‘ کی ’پاداش‘ میں ’’حسن کارکردگی‘‘ جیسے ’اِعزازات‘ بھی مل جاتے ہیں‘ تو اِسی کو کارکردگی کا معیار سمجھنے والوں کو دیکھنا ہوگا کہ ’قومی اعزازات‘ کی عام آدمی (ہم عوام) کی نظر میں وقعت اُور اہمیت نہ ہونے کی بنیادی وجہ بھی یہی سالانہ ’دل پشاوری‘ کرنے کی ترکیب ہے۔

صحافتی مقصد کے لئے بنائی جانے والی کسی بھی تصویر کا ’پیغام‘ اُس کی قدروقیمت کے تعین کا پہلا معیار ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ جو تصویر کسی خاص موقع پر اخبارات یا دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے نشر ہوئی وہ چند دنوں‘ ہفتوں یا مہینوں بعد بھی انسانی ذہن پر اُتنا ہی یا ویسا ہی اثر کرے‘ جیسا کہ کسی خاص وقت اُور خاص حالات میں اُسے دیکھنے والوں کے جذبات پر ہوا تھا۔ اِس سلسلے میں ایک تجویز فوٹوجرنلسٹس کے لئے بھی ہے کہ جب وہ کسی بھی مقامی یا عالمی مقابلے کے لئے اپنی بنائی ہوئی کسی تصویر کا انتخاب کریں تو خود کو منصف کی جگہ رکھ کر سوچیں اور اپنی تخلیقات کا بذات خود تنقیدی جائزہ لیں۔ 

قریبی دوستوں کی پسند و ناپسند پر انحصار اُورجلدبازی نہ کریں۔کسی منصف کو بہت سی تصاویر کا جائزہ لینا ہوتا ہو‘ اُسے صرف ایک تصویر نہیں دیکھنا ہوتی‘ اِس لئے فوٹوگرافر کے لئے ضروری ہے کہ چاہے وہ کسی مقابلے میں حصہ لے یا نہ لے لیکن وہ اپنی تخلیقات کا موازنہ دوسرے ہم عصروں کے کام سے مسلسل کرتا رہے۔ فوٹوگرافر کو چاہئے کہ سب سے پہلے خود سے سوال کرے کہ کیا واقعی اُس کی بنائی ہوئی کوئی بھی تصویر کسی مقابلے کے قابل بھی ہے اُور اگر ہے تو پھر کیوں؟ 

آخر تصویر میں ایسا کیا مختلف دکھایا گیا ہے جو اُس کی تخلیق کو دیگر سے الگ و نمایاں (ممتاز) کرے گا؟ کسی جج کی نظر میں تصویر کے چار معیار ہو سکتے ہیں۔ اُس کااثر (impact) کیا ہے۔ اُس میں ’تکنیکی باریکیوں(technical excellence) کا کتنا خیال رکھا گیا ہے اُور اِسے بناتے ہوئے ’تخلیقی مہارت (creativity)‘ سے کتنا کام لیا گیا ہے۔ تصویر بناتے ہوئے قواعد (rules) کو کتنا مدنظر رکھا گیا ہے اُور اگر اِس سلسلے میں صرف ایک ہی قاعدے یعنی ’کمپوزیشن (compositio)‘ کو معیار مان لیا جائیکہ ’رول آف تھرڈز (rule of thirds)‘ مرکز نگاہ رہا ہے یا نہیں تو بھی فیصلہ کرنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ اِس سلسلے میں ایک ضمنی ہدایت فوٹوگرافرز کے لئے یہ بھی ہے کہ جو کسی مقابلے میں حصہ لینے کے خواہشمند ہوں تو اُنہیں چاہئے کہ اپنی تخلیقات ارسال کرنے سے قبل مقابلے کے قواعدوضوابط (اگر ہوں تو اُنہیں) اچھی طرح سمجھ لیں اور اگر کوئی ایک نکتہ بھی سمجھ میں نہ آئے تو اُس کے بارے اپنی تسلی تک تک بار بار منتظمین سے پوچھتے رہیں۔

کسی تصویر کا کم سے کم ’معیار‘ اُور اُس کی ’جزئیات‘ کی جانچ عالمی (مروجہ)اصولوں کے مطابق ہونی چاہئیتاکہ تصویر اُور آڈیو ویڈیو تخلیقات مقابلے کے لئے پیش کرنے والوں کے تجربے‘ مہارت‘ تخلیقی قوت‘ جمالیاتی ذوق‘ اُور اپنے پیشے سے لگن و محنت کا نہ صرف ’درست اندازہ‘ لگایا جا سکے بلکہ اِسی کی بنیاد پر ڈیجیٹل (digital) آلات کی مدد سے حاصل ہونے والی تخلیقات (محنت) کی درجہ بندی بھی ممکن ہو۔ دنیا کے کسی بھی دوسرے حصے کے مقابلے خیبرپختونخوا اُور قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں فوٹوگرافی کرنا بذات خود ایک مشکل کام ہے جس کے لئے تکنیکی مہارت کے ساتھ اضافی نمبر مقرر ہونے چاہیئں! 

لب لباب یہ ہے کہ فوٹوگرافی ہو یا ویڈیوگرافی‘ دونوں کا ایک تعلق ’جمالیاتی ذوق‘ سے بھی ہے اور اِس نعمت کا ’عکس درعکس‘ جہاں رہن سہن‘ بول چال اور زندگی بسر کرنے کے سلیقے سے بھی عیاں ہوتا ہے‘ وہیں یہ ہنر اپنی جگہ روحانی تسکین کا باعث بھی ہے اور نشہ آور بھی کہ فوٹو یا ویڈیوگرافی اعزازات کی محتاج نہیں ہوتی لیکن صداقت کا اعتراف اپنی جگہ ’سزا و جزا‘ کی طرح اہم ہے۔ بالآخر طے ہے کہ کسی تصویر کے ذریعے اگر ہزاروں الفاظ پر مبنی پیغام منتقل کیا جا سکتا ہے تو تصویر کی یہ طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئیاُس کے معیار کا تعین کرنا اتنا سادہ و آسان نہیں ہوسکتا کہ کوئی بھی ’سینئر‘ کہلانے والا یہ کام کرسکے؟
 Founding member of Peshawar Press Club Late (Lala) Amir Ahmad Siddiqi Awards distributed 2nd time on 30th March 2017 but the pictorial judgement was not technically done. Here are few suggestions for such and other awards judging the pictorial contents

Sunday, April 2, 2017

Apr2017: Residential and Commercial Boundaries!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
حدود و قیود!
اہل پشاورکے لئے ’شہری زندگی‘ کی خوبصورتی جیسی اصطلاح کا مفہوم واضح نہیں۔ رہائشی علاقوں میں تجارتی مراکز کے قیام سے شہر کا کوئی ایک حصہ بھی محفوظ نہیں اور عجیب صورتحال یہ ہے کہ ’شہری ترقی‘ کے نام پر ایک سے زیادہ سرکاری اداروں کی موجودگی کے باوجود بھی رہائشی علاقوں کے رہنے والوں کو کم سے کم ذہنی سکون اور احساس تحفظ حاصل نہیں! یہ معاملہ عدالت میں بھی زیرسماعت ہے جہاں سے ملنے والے واضح احکامات کے باوجود‘ بطور تجربہ (ٹیسٹ کیس) یونیورسٹی ٹاؤن میں تجارتی سرگرمیاں ختم نہیں جا سکیں اور اِس بے قاعدگی کا نوٹس لیتے ہوئے ’پشاور ہائی کورٹ‘ نے تیس مارچ کے روز کئی حکومتی اعلیٰ حکام کو طلب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر ’چیف سیکرٹری’ سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ‘ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر پشاور‘ عدالت کے روبرو پیش ہو کر (تجاہل عارفانہ پرمبنی اپنے طرزعمل کی) وضاحت نہیں کریں گے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اب تک یونیورسٹی ٹاؤن (رہائشی علاقے) میں جاری تجارتی سرگرمیاں ختم نہیں ہو سکی ہیں تو اِن تمام افراد کے خلاف توہین عدالت جیسی دفعات کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عدالت کی جانب سے مسلسل احکامات نظرانداز کرنے کا معاملہ صرف یونیورسٹی ٹاؤن کی حد تک ہی محدود نہیں بلکہ پشاور کے قبرستانوں میں تجاوزات اور قبضہ مافیا کی کارستانیاں بھی واضح عدالتی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں ہیں! لیکن چونکہ عدالت کی اپنی آنکھیں اُور کان نہیں‘ اِس لئے جب تک کوئی شخص اِن بے قاعدگیوں سے متعلق عدالت سے رجوع نہیں کرے گا یا پھر ذرائع ابلاغ مفاد عامہ کے ایسے کسی معاملے کو پوری قوت سے بار بار نہیں اُٹھائیں گے اُس وقت عدالت حرکت میں نہیں آتی! اگر ’پشاور ہائی کورٹ‘ قبرستانوں میں تجاوزات کے حوالے سے اپنے ہی احکامات پر عمل درآمد کا جائزہ لے اور معزز جج صاحبان زحمت کرتے ہوئے قبرستانوں کا دورہ کریں تو اُنہیں صرف حقیقت حال ہی نہیں بلکہ برسرزمین حقائق کی سنگینی کا بھی اندازہ ہو جائے گا کہ کس طرح سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی سے پشاور کے قبرستانوں کی اراضی ہڑپ کر لی گئی ہے! کس طرح جنازہ گاہ اور چھوٹی مساجد و مدارس کی آڑ میں سینکڑوں قبریں مسمار کر کے رہائشی کالونیاں بنا لی جاتی ہیں‘ جنہیں قانونی طور پر جائز بنانے کے لئے اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹرز کے ترقیاتی فنڈزسے گلیاں کوچے نالے نالیاں ٹیوب ویل اور بلدیاتی اداروں کے دفاتر قائم کئے جاتے ہیں۔

وزیرباغ کی اراضی بطور خاص جس طرح قبضہ کی گئی اور آج وزیرباغ کی جو حالت ہے‘ اُس سمیت پشاور کے جملہ باغات کا ازخود نوٹس لینا تو بنتا ہے کہ جنہیں کمرشل کرنے کے نام پر ایک خاص جماعت سے تعلق رکھنے والوں کو اجارے پر دے دیا گیا!

پشاور کے سیاسی حکمرانوں نے انتخابی سیاست اور دیگر ذاتی مفادات کو عزیز رکھا اور نتیجہ سب کے سامنے ہے تو جہاں عدالت سرکاری اہلکاروں کی کارکردگی کا احتساب کر رہی ہے تو وہیں پشاور کے ماضی و حال کے سیاسی و بلدیاتی فیصلہ سازوں کے اثاثوں اور مالی حیثیت کا حساب کتاب بھی طلب کیا جائے تو پوری کہانی سمجھ میں آ جائے گی! یونیورسٹی ٹاؤن کے رہائشی علاقے میں غیرسرکاری تنظیموں کے دفاتر‘ تعلیمی ادارے اُور علاج معالجے کے مراکز ازخود قائم نہیں ہوئے‘ کہیں نہ کہیں سے اجازت اور کہیں نہ کہیں سیاسی دباؤ کی وجہ سے چشم پوشی کی گئی ہے۔ اِس معاملے کی سنجیدگی کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے 4 رکنی بینچ جس کی قیادت ’جسٹس وقار احمد سیٹھ‘ کر رہے ہیں نے 4ماہ کا مزید وقت دیا تھا کہ یونیورسٹی ٹاؤن کی حدود میں جاری تمام کمرشل سرگرمیاں ختم کرائی جائیں اور یہ عرصہ بہت تھا لیکن اگر کام کیا جاتا۔ عدالتی احکامات کو خاطر میں نہ لانے والوں کی نیت پر تو شک نہیں کیا جاسکتا البتہ اُن کے عمل سے صاف ظاہر ہے کہ کمرشل سرگرمیوں کے عوض بھاری ماہانہ کرائے وصول کرنے والوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے تو کہیں کمرشل سرگرمیاں جاری رکھنے کی رعایت دے کر بھی کچھ نہ کچھ ضرور کمایا گیا ہے‘ جو یقیناًاتنا زیادہ ضرور ہے کہ ’توہین عدالت‘ کے ارتکاب جیسا خطرہ بھی مول لینے میں قباحت محسوس نہیں کی گئی۔

مسئلہ بیوروکریسی (افسرشاہی) کے شاہانہ مزاج کا ہے‘ جنہیں کسی کام کا حکم ملنا اُور پھر اس کی تکمیل کی توقع رکھنے والے اگر ماضی کی مثالیں ذہن میں رکھتے تو یوں عدالت کا وقت برباد نہ ہوتا۔ عوام الناس کی نظر میں نہ تو قوانین کی اہمیت باقی رہی ہے‘ جس میں خواص کو رعائت دی جاتی ہے اور اِن قوانین و قواعد کا اطلاق صرف اور صرف عام آدمی پر ہوتا ہے۔ قوانین اور قواعد کی تشریح کرنے والا عدالتی نظام کی فعالیت پر بھی سوالیہ نشان لگ چکا ہے‘ جس کے وابستہ عام آدمی کی توقعات پوری نہیں ہو رہیں! کیا کسی نے سوچا کہ جو افسرشاہی ’پشاور ہائی کورٹ‘ کے ’4 رکنی ڈویژنل بینچ‘ کو خاطرمیں نہیں رہی اُس کی نظر میں کسی عام آدمی (ہم عوام) کی بطور سائل وقعت ہی بھلا کیا ہوگی!

تصور کیجئے کہ پشاور ہائی کورٹ نے 30 اکتوبر 2013ء کو ایک حکم دیا تھا کہ پشاور کے رہائشی علاقوں بالخصوص یونیورسٹی ٹاؤن کی حدود میں ہرقسم کی تجارتی (کمرشل) سرگرمیاں ختم کر دی جائیں لیکن ایک طویل عرصہ اور سماعتوں کی تاریخ پر تاریخ تبدیل ہونے کے باوجود بھی ایسا نہیں ہوسکا تو ایسی عدالت کا وقار اور ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے! یقیناًاُس تمام افسرشاہی کا احتساب ہونا چاہئے جو تیس اکتوبر دوہزار تیرہ سے آج تک پشاور پر حکم تو چلاتی رہی لیکن اُس نے عدالتی احکامات کو خاطرخواہ اہمیت نہیں دی۔ سرکاری اداروں کو باسہولت دفاتر اور ضرورت سے زیادہ اختیارات حاصل ہیں۔ تنخواہوں اور مراعات بھی باقاعدگی سے وصول کی جا رہی ہیں تو پھر کام کیوں دکھائی نہیں دیتا۔ بات صرف یونیورسٹی ٹاؤن میں جاری کمرشل سرگرمیاں ختم کرنے کی حد تک کیوں محدود سمجھ لی گئی ہے؟

اندرون شہر کی تنگ گلی کوچوں میں تعمیر ہونے والے کثیرالمنزلہ تجارتی مراکز‘ دکانیں اور مارکیٹیں کیا ’بلڈنگ کوڈز‘ کی خلاف ورزی نہیں؟ پیپل منڈی جیسا تجارتی مرکز کیا رہائشی علاقے کے وسط میں نہیں اُور ’ٹرک اڈے‘ سے دُوری کے سبب کیا پیپل منڈی (ہول سیل مارکیٹ) میں اَجناس کی نقل و حمل کے باعث مقامی اَفراد (اُور ملحقہ رہائشی علاقوں) میں رہنے والے مشکلات اُور مسائل سے دوچار نہیں؟ ضرورت ہے کہ پشاور کے جملہ رہائشی علاقوں کو اُن کا سکون واپس دلایا جائے۔ رہائشی و کمرشل علاقوں کے درمیان فرق (تمیز) موجود ہے‘ جن کی ازسرنو حدود بندی یا پہلے سے مقرر کمرشل علاقوں کی مناسب تشہیر کے ذریعے عوام الناس کو مطلع کیا جائے کہ وہ کن کن علاقوں میں رہائش اور کن حدود میں تجارتی سرگرمیاں کر سکتے ہیں۔