Tuesday, May 3, 2022

Alarming Situation: Human Rights Violations in Pakistan

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

راۂ فرار

وقت ہے کہ اُن انسانی حقوق کی جانب متوجہ ہوا جائے‘ جن کے بغیر معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ اُور ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ اِنسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے تیسواں سالانہ جائزہ جاری کیا ہے جس میں انسانی حقوق کی صورتحال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں کمی بیشی سے متعلق حکومتی اقدامات اُور کوششوں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ ہر رپورٹ کی طرح یہ بھی اہم ہے جس میں سب سے زیادہ زور آزادیئ اظہار اُور اختلاف رائے رکھنے کی ضرورت پر دیا گیا ہے اُور کم از کم 9 صحافیوں کو ہراساں کرنے کی کھلم کھلا اور بے دریغ ریاستی کوششیں کی مذمت کی ہے۔ 

پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ ہر سال کمی بیشی کے ساتھ یہ واقعات منظرعام پر آتے ہیں اُور سال کے ساتھ انہیں فراموش بھی کر دیا جاتا ہے۔ خواتین کے خلاف تشدد کی جملہ صورتیں قابل تشویش ہیں جو عصمت دری سے لے کر گھریلو بدسلوکی تک پھیلی ہوئی ہیں اُور اِنہی کے نتیجے میں قتل اُور بالخصوص غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال دوہزاراکیس کے دوران پاکستان میں غیرت کے نام پر 478 قتل ہوئے۔ یہ قطعی طور پر معمولی عدد نہیں جسے پڑھ کر یا سن کر فراموش کر دیا جائے۔ پاکستان سے متعلق اِس قسم کے اعدادوشمار سے ملکی ساکھ متاثر ہوتی ہے اُور چونکہ اِس ساکھ کے ساتھ ’اسلامی‘ اُور ’جمہوری‘ ہونے کے صیغے بھی جڑے ہوئے ہیں اِس لئے تنقید کرنے والے جن پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں وہ پاکستان میں برداشت اُور رواداری کے علاؤہ انسانیت کے احترام کا فقدان بھی ظاہر کرتے ہیں! ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹیں جھوٹ نہیں ہو سکتیں جن سے یہ لمحہئ فکریہ اخذ ہوا ہے کہ سال دوہزاراکیس کے دوران پاکستان میں عصمت دری کے کم از کم پانچ ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان میں ہر قسم کے تشدد میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ 

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے سالنامہ میں جن چند واقعات کو بطور خاص اُور بطور مثال ملک میں قانون و انصاف کی حکمرانی کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے اُن میں ناظم جوکھیو اور سیالکوٹ میں سری لنکا کے شہری پریانتھا کمارا کا قتل ہے۔ ذہن نشین رہے کہ نومبر 2021ء میں ناظم جوکھیو نامی شخص نے غیرقانونی شکار کرنے والوں کی موبائل فون سے ویڈیو بنائی اُور اُسے سوشل میڈیا پر جاری کر دیا۔ اِس کے بعد اُسے اغوأ کر لیا گیا اُور پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے بااثر سیاسی خاندان کے فارم ہاؤس سے اُس تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی لیکن تاحال قتل کے اِس مقدمے میں معلوم شواہد کے باوجود بھی انصاف نہیں ہو سکا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی عوام اُور خواص کے لئے الگ الگ ہے۔ اِسی طرح ’3 دسمبر 2021ء‘ کے روز 49 سالہ پریانتھا کمار نامی سری لنکن باشندے کو سیالکوٹ میں ہجوم نے زدوکوب کر کے قتل کیا اُور یہاں بھی ملزمان تو نامزد ہوئے لیکن سزائیں نہیں ہوئیں جن سے جرائم کی حوصلہ شکنی ہو سکتی۔ اِس قسم کے واقعات ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کی پریشان کن صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔ چند ماہ قبل ہوئی ایک اُور تحقیق سے معلوم ہوا تھا کہ زیادہ تر جرائم میں نوجوان ملوث ہوتے ہیں‘ جو بیروزگاری اُور معاشی بے یقینی سے پیدا ہونے والی نفسیاتی اُلجھنوں کا شکار ہوتے ہیں۔ قابل افسوس ہے کہ گزشتہ چند برس سے پاکستانی معاشرہ تیزی سے پرتشدد ہوتا جا رہا ہے اُور یہ کسی ڈراؤنے خواب جیسی حقیقت ہے جو معاشرے میں رائج انتہا پسندانہ رجحانات کا براہ راست نتیجہ ہے اُور اِس کے لئے ریاستی حکمت عملیاں ہی ذمہ دار ہیں‘ جو تشدد کا باعث بننے والے اُن معلوم محرکات کی جانب متوجہ نہیں ہیں‘ جن کی نشاندہی ملکی و غیرملکی ماہرین وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ میں اِس بات پر بطور خاص توجہ دی گئی ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں قوانین سازی کے لئے پارلیمان میں بحث و مباحثہ اُور اجتماعی دانش سے کام لینے کی بجائے صدراتی آرڈیننس جاری کرنے جیسے ’راہئ فرار‘ کا انتخاب کیا گیا جس کے نشانے پر آزادیئ اظہار بھی رہی اُور تحریک انصاف کا دور حکومت شخصی و اجتماعی رائے کی آزادی کے لحاظ سے انتہائی نقصان دہ قرار دیا گیا ہے۔ مذکورہ رپورٹ نے مذہبی انتہاپسندی بڑھنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ علاؤہ ازیں پاکستان میں انسانی حقوق سے متعلق اعدادوشمار مرتب کرنے اُور اِنسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے کوششیں کرنے والے کارکنوں کو گزشتہ کئی برس سے درپیش سب سے بڑی مشکل ’لاپتہ افراد‘ کی صورت درپیش ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن کا کہنا ہے کہ سال دوہزاراکیس کے دوران سب سے زیادہ لاپتہ افراد کی اطلاعات بلوچستان سے موصول ہوئیں اُور اِن لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دینے کے باوجود بھی حکومت اِن کے خدشات و مشکلات حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ لاپتہ افراد سے لے کر گجر اور کورنگی نالے سے بے دخلی‘ فرقہ وارانہ تشدد اُور ٹرانسجینڈر افراد کے خلاف تشدد کے واقعات پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر دھبہ ہیں‘ جنہیں صاف کرنے کے لئے ریاست اُور ریاستی اداروں کو خاطرخواہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ اب یہ بات شہباز شریف کی قیادت والی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے کس قدر اقدامات کرتے ہیں جبکہ ماضی میں وہ اِنسانی حقوق کی مذکورہ اُور دیگر خلاف ورزیوں پر خود بھی تنقید کرتے رہے ہیں۔ بہرصورت ضرورت ہے کہ ذرائع ابلاغ کی آزادی برقرار رکھی جائے۔

 صحافت کی آزادی سے جمہوریت کی مضبوطی ممکن ہے اُور کسی بھی صورت اگر صحافیوں کو اپنا کام کرنے پر ہراساں کیا جاتا ہے تو اِس سے پاکستان کی مثبت ساکھ اُبھر کر سامنے نہیں آئے گی۔

 انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کسی بھی صورت معمولی نہیں اُور نہ ہی اِنہیں معمولی سمجھنے جیسی غلطی کرنی چاہئے۔

ہیومن رائٹس کمیشن کی سالانہ رپورٹ کو نظرانداز کرنے سے بہتری نہیں بلکہ خرابی پیدا ہوگی اُور اگر مذکورہ رپورٹ میں درج تجاویز پر حکومت عمل درآمد کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو اِس سے بہت سی خرابیاں و ناکامیاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔ اُمید ہے کہ ناکامیوں سے کام لینے کی بجائے انسانی جان و حرمت اُور انسانی حقوق کی اہمیت کا ادراک کیا جائے گا اُور ملک کی تمام برادریوں اور علاقوں کے تمام شہری جس ناانصافی اور ریاستی یا غیر ریاستی تشدد کا شکار ہیں اُنہیں تحفظ فراہم کرنے میں حکومت اُور حکومتی ادارے اپنا اپنا مثبت کردار ادا کریں گے۔

……


UNJUSTIFIED: Social Media Policy for Health Dept employees

 تحریک …… آل یاسین

سوشل میڈیا پالیسی: موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ

غیرذمہ دارانہ اظہار رائے اُور بالخصوص اِس مقصد کے لئے سوشل میڈیا کا غلط استعمال باعث تشویش ہے‘ جس کی اصلاح کی کوشش ایک ایسے مرحلے پر کی جا رہی ہے جبکہ خرابی کی جڑیں بہت دور تک پھیل چکی ہیں۔ بہرحال اطلاعات کے مطابق ”محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے اپنے ملازمین کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے جو سوشل میڈیا کا وسائل استعمال کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ یا مخالفانہ انداز میں تبصرے کرتے ہیں۔ ایسے ملازمین کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے اُور ’سوشل میڈیا‘ پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔“ بنیادی طور پر یہ ضرورت اِس لئے پیش آئی کیونکہ ایک تو محکمے کی حکمت عملیوں کی رازداری نہیں رہتی اُور دوسرا جو ملازمین کسی بھی وجہ سے حکومتی حکمت عملیوں پر تنقید کرتے ہیں وہ اپنے دلائل میں سرکاری دستاویزات بنا سیاق و سباق پیش کرتے ہیں جن کی وجہ سے عوام الناس میں تشویش پھیلتی ہے اُور حکومت پر دباؤ بنتا ہے اُور کوئی بھی حکمت عملی نافذ ہونے سے پہلے ہی واپس لینا پڑ جاتی ہے اُور حقیقت یہی ہے کہ اِس قسم کا طرزعمل ’سوشل میڈیا‘ کا غلط استعمال ہے۔ ایسے ملازمین کے خلاف کاروائی ملازمتی قانون کے تحت کی جائے گی جو محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کہلاتا ہے اُور اِس قانون کے مطابق صحت کی سہولیات اور دفاتر میں اپنی سوشل میڈیا پالیسی کی ”موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اور نفاذ“ یقینی بنانے کے لئے ”سوشل میڈیا مانیٹرنگ یونٹ(SMMU)“ قائم کیا گیا ہے۔ ایس ایم ایم یو (اسٹیبلشمنٹ اور انتظامیہ) کی نگرانی (منتظم) ایڈیشنل سیکرٹری ہوں گے جبکہ اِس کے دیگر اراکین میں ڈپٹی سیکرٹری انتظامیہ‘ ڈپٹی سیکرٹری (قانونی چارہ جوئی)‘ ڈائریکٹر (انتظامیہ) اور ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر (ہیومن ریسورس) اور ڈپٹی ڈائریکٹر (آئی ٹی) سمیت محکمہ صحت کے سیکشن آفیسر (جنرل) بھی شامل ہوں گے۔

سیکرٹری صحت کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں ’ایس ایم ایم یو‘ سے متعلق کہا گیا ہے کہ ”نوتشکیل شدہ یونٹ محکمہ صحت کے ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا اُور یہ بنیادی طور پر سرکاری ملازمین کی اُن سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا‘ جو محکمہ صحت سے متعلق اُن کے تبصرے یا پیغامات کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ’ایم ایم ایم یو‘ سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قواعد کی پاسداری کے لئے ضلعی صحت افسران‘ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس‘ مختلف ڈائریکٹرز اور دیگر فیلڈ دفاتر کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کئے گئے پیغام کے مندرجات کا جائزہ باقاعدگی سے لیا جائے گا اور اس بات کا تعین بھی کیا جائے گا کہ کون کون سے ملازمین نے حکومتی اقدامات یا صحت سے متعلق اصلاحات پر تنقید کی اُور حکومت مخالف سیاسی بیانیئے کا حصہ بنے۔ 

صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ سرکاری ملازمین سیاسی سوچ اُور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنے محکمے کے مفاد بارے سوچیں۔

 ملازمین کی تمام تر توجہ اُور وسائل محکمہ صحت کی بہتری کے بارے میں مرکوز ہونے چاہیئں اُور یہ کہ وہ بالخصوص افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔ اِن اہداف کے حصول کے لئے ’محکمہ صحت‘ کا ایک خط بعنوان ”ایم ٹی آئیز“ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی کارکردگی اور ڈیپوٹیشن“ سے متعلق جاری کیا گیا ہے جس میں خیبرپختونخوا کے تمام گیارہ ’ایم ٹی آئیز‘ کو تحریراً مطلع کیا گیا ہے اُور انتظامی نگرانوں کو تاکیدو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زیرنگرانی میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی سختی سے نگرانی کریں۔ مذکورہ مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایم ٹی آئی‘ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کے پابند ہیں اُور اِنہی قواعد کے تحت اُنہیں ملازمت دی گئی ہے اُور یہ مذکورہ متعلقہ قوانین‘ قواعد و ضوابط پر لازماً عمل درآمد کریں چونکہ سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد متعلقہ ایم ٹی آئی میں بورڈ آف گورنرز کے براہ راست کنٹرول کے تحت ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر کام کرتی ہے‘ اِس لئے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال میں ان کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کے پیشہ ورانہ طرز عمل کی بھی سختی سے نگرانی کی جائے۔

 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے حوالے سے محکمہ صحت کے عہدیداروں کو عمومی ہدایات دی گئی ہیں جبکہ ایم ٹی آئیز (خودمختار طبی سہولیات کے مراکز) کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ان ہدایات اور قواعد کی سراسر خلاف ورزی کے مرتکب پائے جانے والے سرکاری ملازمین کے ناموں کی پشاور کے مرکزی دفتر کو اطلاع دیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ شکایات موصول ہونے کے بعد ایم ٹی آئی سے ایسے ملازمین کی خدمات واپس لے سکتا ہے۔ ایک علیحدہ اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں محکمہ نے ایم ٹی آئی کے تمام ڈائریکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے سرکاری ملازمین کے ذریعہ سوشل میڈیا کے استعمال کی نگرانی کریں۔

وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومتوں نے سوشل میڈیا کے محتاط استعمال کے بارے میں اِس سے پہلے بھی سرکاری ملازمین کو رہنما اصول جاری کئے تھے اُور اُنہیں بتایا گیا تھا کہ وہ محکمے کی نیک نامی پر حرف نہ آنے دیں اُور نہ ہی ایسی مخالف مہمات کا حصہ بنیں لیکن ملازمین نے قلمی و فرضی ناموں سے اکاؤنٹس بنا لئے معلوم نہیں کہ اِس مرتبہ مشکل سے کیسے نمٹا جائے گا کیونکہ ملازمین کی ایک بڑی تعداد بغاوت پر آمادہ ہے جن کے سیاسی عزائم کسی سے پوشیدہ بھی نہیں۔ محکمہء صحت پہلے ہی اپنے ملازمین کو ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرنے سے منع کر چکا ہے اُور اِس سلسلے میں کڑی پابندیاں عائد ہیں‘ جنہیں ملازمین غیرضروری لیکن حکومت ضروری پابندی قرار دیتی ہے۔ بنیادی ضرورت اِس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا پالیسی کی مؤثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ کسی ایک صوبائی (حکومتی) محکمے کی حد تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ اِس کا اطلاق ایک مرکزی و بنیادی اصولی حکمت عملی کے طور پر کیا جانا چاہئے تاکہ ’سماجی رابطہ کاری‘ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے بے بنیاد الزام تراشی اُور اِن الزام تراشیوں کے جواب دینے میں قیمتی وقت اُور وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔

……