Friday, October 28, 2022

18th Urs Mubarak: Molvee Gee RA.

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

مولوی جیؒ: پھرنے لگی آنکھوں میں وہ صورت ِنورانی!

آستانہء عالیہ حسنیہ قادریہ‘ کوچہ آقا پیر جان رحمة اللہ علیہ اندرون یکہ توت گیٹ پشاور کی رونقیں تادیر شاد و آباد (سلامت) رہیں جہاں جشن کے جاری سماں کی مناسبتوں میں پیران ِپیر‘ محبوب سبحانی‘ غوث الاعظم‘ شیخ السید عبدالقادر جیلانی بغدادی رحمة اللہ علیہ سے منسوب بڑی گیارہویں شریف (گیارہ ربیع الثانی) کی آمد آمد ہے‘ جس کی تیاریاں یکم ربیع الثانی کے انتظار میں دن گننے والے چاند رات ہی سے شروع کر دیتے ہیں اُور سوشل میڈیا پر مبارکبادوں کا تبادلہ گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہے۔ پشاور میں یوں تو ”بڑی گیارہویں شریف (ماۂ ربیع الثانی)“ کی مناسبت سے خطبات ِسیرت‘ حمد و نعت اُور منقبت کی بابرکت دعائیہ محافل و پرشکوہ اجتماعات کا انعقاد ہوتا ہے تاہم خیبرپختونخوا میں ’گیارہویں شریف‘ کا فقیدالمثال (بڑا) اجتماع ’آستانہ عالیہ حسنیہ قادریہ‘ پر منعقد ہوتا ہے جو گیارہ روز جاری رہنے کے بعد بارہویں ربیع الثانی‘ نماز فجر کی ادائیگی اُور قبل ازیں بیعت پر اِختتام پذیر ہوتا ہے اُور ہر سال سینکڑوں نئے مرید حلقہ تصوف میں داخل ہوتے ہیں جس کی 4 منزلیں بصورت ”شریعت‘ طریقت‘ معرفت اُور حقیقت“ ہیں۔ اِن سب کی بنیادی چیز شریعت ہے اور جو چیز شریعت سے متصادم ہے وہ بلا شک و شبہ غلط ہے۔ شاید ہی ملک کے کسی بھی حصے یا بیرون ملک ’بڑی گیارہویں شریف‘ کے سلسلے میں اِس قدر طویل اُور باادب محافل کا اہتمام کیا جاتا ہو۔ یکم سے گیارہ ربیع الثانی ہر (صبح پانچ بجکر تیس منٹ پر) ’آستانہ عالیہ‘ پر نماز فجر کی باجماعت ادائیگی کے ساتھ ’ختم غوثیہ شریف‘ کا انعقاد ہوتا ہے۔ یہ ”ختم شریف“ مخصوص قرآنی اذکار و اوراد اُور وظائف کی اجتماعی تکرار یوں تو دیگر مہینوں میں بھی ہوتی ہے لیکن جو روحانیت اُور سرور ربیع الثانی میں ختم غوثیہ پڑھنے اُور اِس کے اختتام پر دعا میں شرکت کا ہے‘ وہ دلی راحت و سکون کسی دوسرے مہینے اِس درجہ محسوس نہیں ہوتا۔ اِس سال (1444ہجری) ربیع الثانی کے چاند کو چار چاند لگانے والی دوسری نسبت بھی یکساں عظیم المرتبت ہے۔ یکم ربیع الثانی سے ہر دن بالترتیب ’گیارہ ربیع الثانی (بڑی گیارہویں شریف)‘ تک جاری ختم غوثیہ کے سلسلے میں آج بروز ہفتہ (2 ربیع الثانی چودہ سو چوالیس ہجری بمطابق اُنتیس اکتوبر دوہزار بائیس) پیرطریقت‘ رہبرِ شریعت‘ امام الفقراء‘ ہادی و مہدی‘ قبلہ عالم‘ قبلہ سیّد محمّد امیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی رحمة اللہ علیہ کا 18واں ’عرس مبارک‘ پوری عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ مولوی جیؒ کے ’دست ِحق پرست‘ پر ’سلسلۂ عالیہ قادریہ‘ میں شامل ہونے والے مریدوں کا اظہار ِمسرت و تشکر دیدنی ہے‘ جن کی آنکھوں میں پیران ِپیرؒ سے نسبت کی چمک اُور قبلہ مولوی جیؒ سے اظہار ِمحبت آنسوؤں کی صورت چھلک رہا ہے کہ یہ وصل و فصل (قرب و جدائی) کے لمحات وقتی راحت کا باعث ہونے کے ساتھ‘ حلاوت ِایمانی کی صورت دائمی تاثیر بھی رکھتے ہیں۔ بقول بیدم شاہ وارثی ”پھر دل میں میرے آئی‘ یاد ِشاہ¿ جیلانیؒ : پھرنے لگی آنکھوں میں وہ صورت ِنورانی ؒ .... شاہوں سے بھی اَچھا ہوں‘ کیا جانے کیا‘ کیا ہوں : ہاتھ آئی ہے قسمت سے‘ در کی ترے دربانی۔“

پشاور کی سرتاج روحانی‘ علمی ادبی‘ سیاسی اُور سماجی شخصیت مولوی جی رحمة اللہ علیہ نے ’10رمضان المبارک 1337ہجری بمطابق 27 اکتوبر 2004ئ‘ اِس دار ِفانی سے پردہ فرمایا اُور اِن ہجری و عیسوی تاریخوں کی مناسبت سے آپؒ کا ’عرس مبارک‘ سال میں دو مرتبہ منایا جاتا ہے‘ جس کی الگ حکمتوں میں یہ بابرکت پہلو بھی پوشیدہ ہے کہ آپؒ کی یادآوری کا سلسلہ یوں تو ہر دن رہتا ہے لیکن روائتی طور پر سال میں ایک مرتبہ نہیں بلکہ دو مرتبہ آپؒ کے عرس مبارک کے بہانے عقیدت مند فیوض و برکات سمیٹتے ہیں۔”یاد اُن کی سرور کی دنیا .... یاد اُن کی شعور کی دنیا۔“

فقہ حنفی (اہل سنت و الجماعت) کے ہاں احادیث کی چھ مستند کتب کے مجموعے کو ”صحاح ستہ“ کہتے ہیں۔ اِن میں صحیح بخاری (اِمام بخاریؒ)‘ صحیح مسلم (اِمام مسلمؒ)‘ جامع ترمذی (اِمام ترمذیؒ)‘ سنن اَبو داؤد (امام اَبو داؤدؒ)‘ سنن نسائی (اِمام نسائیؒ) اُور سنن ابنِ ماجہ (اِمام ابنِ ماجہؒ) شامل ہیں۔ حضرت ابو الحسین مسلم بن الحجاج بن مسلم بن ورد بن کوشث القشیری النیساپوری رحمة اللہ علیہ (المتوفی 261 ہجری) کی مرتب کی گئی ’صحیح مسلم‘ میں ساڑھے سات ہزار (بشمول تکرار کے ساتھ) احادیث ِمبارکہ ذخیرہ ہیں اُور اِس مجموعے میں شامل ایک حدیث ِمبارکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (ترجمہ) ”3 چیزیں جس شخص میں ہوں گی وہ اِن کی وجہ سے ’اِیمان کی حلاوت‘ پائے گا۔ پہلی یہ کہ‘ اللہ اُور اُس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اُسے ہر شے سے زیادہ محبوب ہوں گے۔ دوسرا یہ کہ‘ اُسے کسی شخص سے محبت صرف اللہ تعالیٰ کے لئے ہو گی یعنی اُسے دنیا کی کوئی غرض مطلوب نہیں ہو گی اُور تیسرا یہ کہ‘ جب اللہ تعالیٰ شان سبحانہ نے اُسے کفر سے نجات دے دی تو پھر دوبارہ کفر کی طرف لوٹنے کو بالکل اُسی طرح ناپسند کرے گا‘ جس طرح اِس بات کو ناپسند کرتا ہے کہ اُسے آگ میں پھینک دیا جائے۔“ مفسرین اِس حدیث شریف کی تفسیر میں کفر سے ایمان کی طرف لوٹنے کی تشریح فی زمانہ ’توبہ کی توفیق‘ سے کرتے ہیں۔ اہل تصوف (بالخصوص سلسلۂ عالیہ قادریہ) کے ہاں اِنہی 3 رہنما اصولوں پر زور دیا جاتا ہے اُور پیر و مرشد اِنہی 3 تدریسی پہلوؤں سے مریدوں کی اپنے قول و فعل سے تعلیم و تربیت (تبلیغات) فرماتے ہیں‘ جسے علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ نے ’مہر و وفا (محبت اُور خلوص)‘ اُور ’حریم کبریا (عظمت ِخداوند تعالیٰ کا مقام)‘ سے تعبیر کیا ہے ”دلوں کو مرکز ِمہر و وفا کر .... حریم کبریا سے آشنا کر۔“ آشنائی کا یہ سلسلۂ رشد و ہدایت مولوی جی رحمة اللہ علیہ کی نظرکرم و عنایات سے آج بھی بصورت ِرہنمائی و سرپرستی میں جاری ہے جس کی سیادت خانوادۂ عالیہ (غوث الاعظمؒ) کے چشم و چراغ‘ جانشین و سجادہ نشین سّید نور الحسنین قادری گیلانی المعروف سلطان آغا حفظ اللہ اُور آپ علیہ الرحمہ کے فرزند ارجمند شہزادہ غوث الوریٰ سیّد مسعود الزمان گیلانی حفظ اللہ تعالیٰ بہ احسن کر رہے ہیں۔ منجملہ مریدین بدست دعا ہیں کہ اِس خانوادہ¿ عالیہ کے ہر فرد کی صحت و سلامتی اُور بلند درجات کی مزید سربلندی کے ساتھ رب کریم اِس پرفتن و پرفریب‘ دور میں ’سلسلہء عالیہ حسنیہ قادریہ‘ کے جملہ مریدین (روحانی شاگردوں) اُور محبین (محبت و عقیدت مندوں) کی غوث پاک کے گھرانے (در ِاقدس) سے وابستگی قائم و دائم (سلامت) رکھے اُور فیوض و برکات کی بارش کے ساتھ اِس کے سمیٹنے کی ہماری توفیقات دراز فرمائے (آمین) بصورت دیگر (خدانخواستہ) خسارہ ہی خسارہ ہے کہ ”دراز ِدست کو دست عطا کہیں نہ ملا : بخیل ِشہر تھا‘ حاجت روا کہیں نہ ملا .... گرا خود اپنی نظر سے‘ تو پوچھتا پھر کون : خودی گنوائی تو مجھ کو‘ خدا کہیں نہ ملا (جمیل قریشی)۔“

....



Friday, September 16, 2022

Water Distribution issues in Peshawar City.

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: خوابوں کی دُنیا

صوبائی دارالحکومت پشاور میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی اُور نکاسی آب سمیت کوڑا کرکٹ کی تلفی و صفائی کے لئے ذمہ دار ”واٹر اینڈ سینٹی ٹیشن سروسیز پشاور (WSSP)“ نامی ادارہ ”جنوری دوہزارچودہ“ میں قائم ہوا۔ اِس سے قبل پشاور شہر اُور ضلع پشاور میں ’میونسپل سروسیز‘ میونسپلٹی فراہم کرتی تھی‘ جسے تحلیل کر کے چار ٹاؤنز اُور ایک ضلعی نگران و منتظم ادارہ بنایا گیا تاہم بعدازاں چاروں ٹاؤنز اُور ضلعی ادارے سے صفائی ستھرائی‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی اُور کوڑا کرکٹ کی تلفی جیسے بنیادی کام (متعلقہ امور بھی) ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کو اِس اعلان کے ساتھ سونپ دیئے گئے کہ یہ ادارہ پشاور کی تمام 92 یونین کونسلوں میں فعال کیا جائے گا اُور اُمید یہ بھی تھی کہ میونسپلٹی اُور بعدازاں چار ٹاؤنز سے جن میونسپل خدمات کو ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے سپرد کیا گیا ہے مذکورہ خدمات کا معیار بہتر ہوگا لیکن عملاً ایسا نہیں ہو سکا اُور یہ نتیجہ¿ خیال صرف عوامی رائے نہیں بلکہ یہی مؤقف پشاور سے منتخب اراکین صوبائی اسمبلی کا بھی ہے۔ رواں ہفتے رکن خیبرپختونخوا اسمبلی‘ فوکل پرسن برائے میگا پراجیکٹس اور احیائے پشاور نامی حکمت ِعملی کے شریک نگران (ایم پی اے) آصف خان نے ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسیز پشاور‘ کو پشاور شہر میں صفائی کی ناقص صورتحال‘ مسدود نکاسی آب اُور جا بجا کچرے (کوڑا کرکٹ) کے ڈھیروں کا حوالہ دیتے ہوئے ’کڑی تنقید‘ کا نشانہ بنایا تاہم یہ واضح نہیں کہ صوبائی حکومت ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے قیام کو ”سنگین غلطی“ تسلیم کرتے ہوئے اِسے تحلیل کرتی ہے یا نہیں اُور کیا میونسپل خدمات دوبارہ چاروں ٹاؤنز اُور ضلعی بلدیاتی ادارے کو سونپ دی جائیں گی؟ لمحۂ فکریہ ہے کہ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے قیام سے پہلے پشاور میں مذکورہ تین میونسپل خدمات (پینے کے پانی کی فراہمی‘ نکاسی آب کو فعال رکھنے اُور کوڑا کرکٹ کی تلفی) پر اُٹھنے والے اخراجات میں کئی سو نہیں بلکہ کئی ہزار گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ پشاور کو مختلف علاقوں (زونز) میں تقسیم کر کے ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے انتظامی دفاتر کرائے کی عمارتوں میں قائم کئے گئے ہیں جبکہ ملازمین کو مراعات کی مد میں ایسی سہولیات بھی فراہم ہیں‘ جو اُن کی کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر واپس لے لینی چاہیئں!

جون دوہزار بائیس میں پیش کئے گئے رواں مالی سال 2022-23ءکے صوبائی ترقیاتی بجٹ میں ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ اُور ’واٹر اینڈ سینی ٹیشن کمپنی (ڈبلیو ایس ایس سی) کے لئے 6 ارب روپے مختص کئے گئے۔ اِن چھ ارب روپے سے اگر ملازمین کی تنخواہیں اُور مراعات ادا نہ کی جائیں تو پشاور کے کئی ایک مسائل حل ہو سکتے ہیں جبکہ تمام یونین کونسلوں میں پینے کے پانی کی فراہمی کا نظام بھی تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ پشاور میں پینے کے پانی کی فراہمی کا انحصار زیرزمین آبی ذخیرے پر ہے‘ جس سے شہریوں کو 7 گھنٹے یومیہ پانی فراہم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن پشاور شہر کے کئی ایسے حصے بھی ہیں جہاں یومیہ ایک سے دو گھنٹے بمشکل پانی فراہم ہو رہا ہے اُور ایسا ہی ایک بدقسمت علاقہ ’یونین کونسل گنج‘ ہے۔ پشاور شہر کی اِس بالائی یونین کونسل گنج کے مختلف مقامات پر ایک درجن سے زائد ٹیوب ویل نصب ہیں لیکن پانی کی ترسیل کا غیرمنظم نظام ہونے کی وجہ سے گنج‘ یکہ توت‘ لاہوری اُور کریم پورہ کے کئی حصوں میں پینے کا پانی حسب ِاعلان یومیہ 7 گھنٹے فراہم نہیں ہو رہا۔ پانی کی قلت بالخصوص اُن علاقوں میں زیادہ شدت سے محسوس کی جا رہی ہے جو ڈھلوان پر ہیں جیسا کہ کوچہ بی بی ذکری‘ محلہ تیلیان‘ محلہ شیخ الاسلام‘ محلہ دفتر بندان اُور اِن سے ملحقہ دیگر محلہ جات کے صارفین کو بمشکل ایک سے دو گھنٹہ پانی فراہم کیا جاتا ہے جو اہل علاقہ کی ضرورت کے مطابق کفالت نہیں کرتا کیونکہ پانی کے ترسیلی نظام کی خرابی کے باعث زیرڈھلوان علاقے اپنے حصے سے زائد پانی لیجاتے ہیں! اندرون پشاور مذکورہ علاقوں میں پانی کی قلت کی 2 بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ ’ٹیوب ویلوں‘ کے لئے جگہ کا انتخاب کرتے ہوئے غلط فیصلے ہیں جبکہ دوسری وجہ پانی کے ترسیلی نظام کی خرابیاں ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو کسی علاقے میں ایک درجن ٹیوب ویل نصب ہونے کے باوجود بھی وہاں پانی کی قلت سے متعلق شکایات سننے کو نہ ملتیں۔ 

پہلی ضرورت: صوبائی حکومت ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ اُور ’ڈبلیو ایس ایس سی‘ سے پشاور کے ٹیوب ویلوں کے منجملہ کوائف طلب کرے‘ جس سے معلوم ہو جائے گا کہ پشاور میں کس طرح پانی کی فراہمی پر سیاسی کاروبار کیا جا رہا ہے۔ اِس سلسلے میں وزیراعلیٰ پبلک ہیلتھ سے رپورٹ طلب کر چکے ہیں‘ جسے فراہم کرنے میں غیرضروری طور پر تاخیر کی جا رہی ہے۔ دوسری ضرورت: پشاور شہر کی حدود میں پانی کے ترسیلی نظام کے نقشہ جات مرتب کئے جائیں اُور پانی کے ترسیلی پائپ لائن زیر زمین بچھانے کی بجائے اُنہیں ظاہر رکھا جائے تاکہ چوری کے پانی کنکشنوں کا خاتمہ ہو اُور کسی ایک ٹیوب ویل سے پانی کا ترسیلی درست خطوط پر استوار ہو۔ ذہن نشین رہے کہ ایک ٹیوب ویل کم سے کم ایک ہزار خاندانوں کی یومیہ کفالت ممکن ہوتی ہے اُور اِس تناسب سے دیکھا جائے تو پشاور کی 92 میں سے 43 یونین کونسلوں میں ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے کل 524 ٹیوب ویل فعال اُور کنٹونمنٹ بورڈ پشاور کے زیراستعمال 40 ٹیوب ویل‘ گیارہ پانی ذخیرہ کرنے کی بڑی ٹینکیاں اُور 39 فلٹریشن پلانٹس نصب ہیں۔ مجموعی طور پر پشاور میں سرکاری و نجی ٹیوب ویلوں کی تعداد 1400 سے زیادہ ہے جن سے ”یومیہ 800 ملین گیلن پانی“ حاصل کیا جا رہا ہے اُور یہ مقدار پشاور کی کل آبادی کی ضرورت سے کئی زیادہ ہے۔ توجہ طلب ہے کہ زیادہ تعداد میں ٹیوب ویلوں کی وجہ سے نہ صرف بجلی اُور پانی ضائع ہو رہا ہے بلکہ زیرزمین پانی کی سطح بھی تیزی سے کم ہو رہی ہے لیکن اِس بارے میں بہت کم خوروخوض کیا جاتا ہے۔

’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے فیصلہ ساز ”خوابوں کی دنیا“ میں رہتے ہیں‘ جہاں ہمیشہ سب کچھ مثالی (سب اچھا) دکھائی دیتا ہے۔ سمجھنا ہوگا کہ ترقی اُور پائیدار ترقی کے نت نئے تصورات‘ نت نئے پرکشش ناموں سے متعارف کرنا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ عملی اقدامات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ رواں ہفتے نئے جوش و جذبے سے ’ماڈل نیبرہڈ کونسلز‘ نامی حکمت ِعملی کا اعلان کرتے ہوئے ”ڈبلیو ایس ایس پی“ کے فیصلہ سازوں کو یقین ہے کہ وہ مقامی افراد کی شمولیت سے چنیدہ یونین کونسلوں میں صفائی کی صورتحال بہتر بنائی جائے گی اُور اِس سلسلے عوام کے تعاون سے پینے کے پانی کی بچت اُور حفظان صحت کے اصولوں کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ اِس حکمت ِعملی کے لئے اقوام متحدہ کے ذیلی عالمی امدادی ادارے ”یونیسیف (یونائٹیڈ نینشنز انٹرنیشنل چلڈرنز ایمرجنسی فنڈ)“ اُور ”اسلامک ریلیف پاکستان“ نامی دنیا کے پانچویں بڑے امدادی ادارے کے اشتراک سے عمل میں لایا جا رہا ہے۔ ’اِسلامک ریلیف‘ نامی ادارہ 1992ءسے پاکستان میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اُور یہ پاکستان سمیت 29 ممالک میں کام کرنے والا شاید واحد مسلمان امدادی ادارہ ہے۔ ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ نے پانچ یونین کونسلوں (قائد آباد کاکشال ٹو‘ زون اے میں یوسف آباد‘ زون بی میں رشید ٹاؤن‘ زون سی میں نوتھیہ قدیم اُور زون ڈی میں راحت آباد) کو مثالی (ماڈل) بنانے کے لئے ’یونیسیف‘ اُور ’اسلامک ریلیف‘ کے مالی تعاون سے تجرباتی جن اقدامات کا فیصلہ کیا ہے‘ اُن میں شجرکاری اُور صفائی ستھرائی شامل ہیں لیکن ماضی میں بھی اِسی قسم کی (ملتی جلتی) کوششوں کے اگر خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے تو فیصلہ سازی کی سطح پر غوروخوض ہونا چاہئے تاکہ وقت و مالی وسائل ضائع نہ ہوں اُور ماضی کی وہ غلطیاں بھی نہ دُہرائی جائیں جن کی وجہ سے کروڑوں روپے خرچ ہونے کے باوجود بھی حاصل وصول صفر رہا ہے‘ البتہ ذرائع ابلاغ اُور سوشل میڈیا کے صفحات ’ڈبلیو ایس ایس پی‘ کے اعلیٰ و ادنیٰ عہدوں پر کام کرنے والے اہلکاروں کی تصاویر اُور بیانات سے ہرے بھرے دکھائی دے رہے ہیں!

 منیر اِس ملک پر آسیب کا سایہ ہے کہ کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اُور سفر‘ آہستہ آہستہ (منیر نیازی)۔

....