Tuesday, May 3, 2022

UNJUSTIFIED: Social Media Policy for Health Dept employees

 تحریک …… آل یاسین

سوشل میڈیا پالیسی: موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ

غیرذمہ دارانہ اظہار رائے اُور بالخصوص اِس مقصد کے لئے سوشل میڈیا کا غلط استعمال باعث تشویش ہے‘ جس کی اصلاح کی کوشش ایک ایسے مرحلے پر کی جا رہی ہے جبکہ خرابی کی جڑیں بہت دور تک پھیل چکی ہیں۔ بہرحال اطلاعات کے مطابق ”محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے اپنے ملازمین کی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے جو سوشل میڈیا کا وسائل استعمال کرتے ہوئے حکومتی پالیسیوں کا تنقیدی جائزہ یا مخالفانہ انداز میں تبصرے کرتے ہیں۔ ایسے ملازمین کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنے اُور ’سوشل میڈیا‘ پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔“ بنیادی طور پر یہ ضرورت اِس لئے پیش آئی کیونکہ ایک تو محکمے کی حکمت عملیوں کی رازداری نہیں رہتی اُور دوسرا جو ملازمین کسی بھی وجہ سے حکومتی حکمت عملیوں پر تنقید کرتے ہیں وہ اپنے دلائل میں سرکاری دستاویزات بنا سیاق و سباق پیش کرتے ہیں جن کی وجہ سے عوام الناس میں تشویش پھیلتی ہے اُور حکومت پر دباؤ بنتا ہے اُور کوئی بھی حکمت عملی نافذ ہونے سے پہلے ہی واپس لینا پڑ جاتی ہے اُور حقیقت یہی ہے کہ اِس قسم کا طرزعمل ’سوشل میڈیا‘ کا غلط استعمال ہے۔ ایسے ملازمین کے خلاف کاروائی ملازمتی قانون کے تحت کی جائے گی جو محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کہلاتا ہے اُور اِس قانون کے مطابق صحت کی سہولیات اور دفاتر میں اپنی سوشل میڈیا پالیسی کی ”موثر ہم آہنگی‘ نگرانی اور نفاذ“ یقینی بنانے کے لئے ”سوشل میڈیا مانیٹرنگ یونٹ(SMMU)“ قائم کیا گیا ہے۔ ایس ایم ایم یو (اسٹیبلشمنٹ اور انتظامیہ) کی نگرانی (منتظم) ایڈیشنل سیکرٹری ہوں گے جبکہ اِس کے دیگر اراکین میں ڈپٹی سیکرٹری انتظامیہ‘ ڈپٹی سیکرٹری (قانونی چارہ جوئی)‘ ڈائریکٹر (انتظامیہ) اور ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ سروسیز کے ڈپٹی ڈائریکٹر (ہیومن ریسورس) اور ڈپٹی ڈائریکٹر (آئی ٹی) سمیت محکمہ صحت کے سیکشن آفیسر (جنرل) بھی شامل ہوں گے۔

سیکرٹری صحت کے دفتر سے جاری ہونے والے اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں ’ایس ایم ایم یو‘ سے متعلق کہا گیا ہے کہ ”نوتشکیل شدہ یونٹ محکمہ صحت کے ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا اُور یہ بنیادی طور پر سرکاری ملازمین کی اُن سرگرمیوں کی نگرانی کرے گا‘ جو محکمہ صحت سے متعلق اُن کے تبصرے یا پیغامات کے بارے میں ہوتے ہیں۔ ’ایم ایم ایم یو‘ سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق قواعد کی پاسداری کے لئے ضلعی صحت افسران‘ میڈیکل سپرنٹنڈنٹس‘ مختلف ڈائریکٹرز اور دیگر فیلڈ دفاتر کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پوسٹ کئے گئے پیغام کے مندرجات کا جائزہ باقاعدگی سے لیا جائے گا اور اس بات کا تعین بھی کیا جائے گا کہ کون کون سے ملازمین نے حکومتی اقدامات یا صحت سے متعلق اصلاحات پر تنقید کی اُور حکومت مخالف سیاسی بیانیئے کا حصہ بنے۔ 

صوبائی حکومت چاہتی ہے کہ سرکاری ملازمین سیاسی سوچ اُور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنے محکمے کے مفاد بارے سوچیں۔

 ملازمین کی تمام تر توجہ اُور وسائل محکمہ صحت کی بہتری کے بارے میں مرکوز ہونے چاہیئں اُور یہ کہ وہ بالخصوص افواہیں پھیلانے سے گریز کریں۔ اِن اہداف کے حصول کے لئے ’محکمہ صحت‘ کا ایک خط بعنوان ”ایم ٹی آئیز“ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی کارکردگی اور ڈیپوٹیشن“ سے متعلق جاری کیا گیا ہے جس میں خیبرپختونخوا کے تمام گیارہ ’ایم ٹی آئیز‘ کو تحریراً مطلع کیا گیا ہے اُور انتظامی نگرانوں کو تاکیدو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی زیرنگرانی میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کی سختی سے نگرانی کریں۔ مذکورہ مکتوب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ایم ٹی آئی‘ میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین (کنڈکٹ) رولز 1987ء کے پابند ہیں اُور اِنہی قواعد کے تحت اُنہیں ملازمت دی گئی ہے اُور یہ مذکورہ متعلقہ قوانین‘ قواعد و ضوابط پر لازماً عمل درآمد کریں چونکہ سرکاری ملازمین کی ایک بڑی تعداد متعلقہ ایم ٹی آئی میں بورڈ آف گورنرز کے براہ راست کنٹرول کے تحت ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر کام کرتی ہے‘ اِس لئے تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال میں ان کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کے پیشہ ورانہ طرز عمل کی بھی سختی سے نگرانی کی جائے۔

 سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے حوالے سے محکمہ صحت کے عہدیداروں کو عمومی ہدایات دی گئی ہیں جبکہ ایم ٹی آئیز (خودمختار طبی سہولیات کے مراکز) کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ان ہدایات اور قواعد کی سراسر خلاف ورزی کے مرتکب پائے جانے والے سرکاری ملازمین کے ناموں کی پشاور کے مرکزی دفتر کو اطلاع دیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ محکمہ شکایات موصول ہونے کے بعد ایم ٹی آئی سے ایسے ملازمین کی خدمات واپس لے سکتا ہے۔ ایک علیحدہ اعلامیے (نوٹیفکیشن) میں محکمہ نے ایم ٹی آئی کے تمام ڈائریکٹرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے سرکاری ملازمین کے ذریعہ سوشل میڈیا کے استعمال کی نگرانی کریں۔

وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومتوں نے سوشل میڈیا کے محتاط استعمال کے بارے میں اِس سے پہلے بھی سرکاری ملازمین کو رہنما اصول جاری کئے تھے اُور اُنہیں بتایا گیا تھا کہ وہ محکمے کی نیک نامی پر حرف نہ آنے دیں اُور نہ ہی ایسی مخالف مہمات کا حصہ بنیں لیکن ملازمین نے قلمی و فرضی ناموں سے اکاؤنٹس بنا لئے معلوم نہیں کہ اِس مرتبہ مشکل سے کیسے نمٹا جائے گا کیونکہ ملازمین کی ایک بڑی تعداد بغاوت پر آمادہ ہے جن کے سیاسی عزائم کسی سے پوشیدہ بھی نہیں۔ محکمہء صحت پہلے ہی اپنے ملازمین کو ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرنے سے منع کر چکا ہے اُور اِس سلسلے میں کڑی پابندیاں عائد ہیں‘ جنہیں ملازمین غیرضروری لیکن حکومت ضروری پابندی قرار دیتی ہے۔ بنیادی ضرورت اِس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا پالیسی کی مؤثر ہم آہنگی‘ نگرانی اُور نفاذ کسی ایک صوبائی (حکومتی) محکمے کی حد تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ اِس کا اطلاق ایک مرکزی و بنیادی اصولی حکمت عملی کے طور پر کیا جانا چاہئے تاکہ ’سماجی رابطہ کاری‘ کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے بے بنیاد الزام تراشی اُور اِن الزام تراشیوں کے جواب دینے میں قیمتی وقت اُور وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔

……


Monday, May 2, 2022

Have a meaningful Eid, this year!

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

بامقصد تہوار

پشاور کے سرتاج روحانی‘ علمی و ادبی اُور سیاسی گھرانے کے بزگوار پیر طریقت سیّد محمد امیر شاہ قادری گیلانی المعروف مولوی جی رحمۃ اللہ علیہ اپنے خطبات اُور محافل میں زندگی کو بامقصد بسر کرنے کی تلقین فرماتے بالخصوص ’عیدالفطر‘ جیسے تہوار یا دیگر خصوصی مواقعوں پر آپؒ کی وعظ و نصیحت کا خلاصہ ”فرائض کا اہتمام‘ سنتوں کی اتباع اُور تقویٰ“ سے متعلق ہوتا۔ آپ چاہتے تھے کہ ہر شخص اپنی زندگی کے ہر ایک لمحے کا احتساب اُور حساب کرے۔ تفکر سے کام لے۔ سوچ سمجھ کر زندگی بسر کرے اُور اگر زندگی بامقصد اُور تعمیری انداز میں منائی جائے تو اِس سے ہماری زندگیوں میں مثبت تبدیلی آئے گی اُور اگر تہواروں کو شعوری طور پر منانے اُور مختلف انداز میں ’یادگار‘ بنانے کی کوشش کی جائے تو اِس سے انفرادی و اجتماعی سطح پر خیر و اصلاح جیسے ثمرات بھی حاصل ہوں گے۔ امیرالمومنین سیّدنا علی ابن ابیطالب کرم اللہ وجہہ الکریم کا قول ہے کہ ”مومن کے لئے اُس کی زندگی کا وہ ہر دن عید ہے‘ جس دن اُس سے کوئی گناہ سرزد نہ ہو۔“ اسلامی تہواروں کے حقیقی تصور اُور مقصد کے حصول کے لئے عہد کیا جا سکتا ہے کہ اِس مرتبہ عیدالفطر پر کم سے کم ”9 امور کی انجام دہی کا بطور خاص خیال رکھا جائے گا۔“

1: صبح جلدی اُٹھ کر مسواک یا ٹوتھ برش کے ذریعے دانت صاف کئے جائیں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں میں جس ایک عمل کا کثرت سے ذکر ملتا ہے وہ یہ ہے کہ عید الفطر کی صبح سویرے مسواک سے دن کا آغاز فرماتے۔ طبی نکتہئ نظر سے بھی دانتوں کی اچھی دیکھ بھال نہ صرف مجموعی صحت میں اہم کردار ادا کرتی ہے بلکہ اس سے خوشگوار مسکراہٹ اور تازہ سانس کے ذریعے ایک پراعتماد دن کا آغاز ہوتا ہے۔

2: عیدالفطر کی صبح غسل کرنا‘ صاف اُور بہترین کپڑے پہننا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریق (سنت) ہے۔ غسل (نہانے) کا مطلب جسمانی تطہیر ہے۔ یہی غسل جمعۃ المبارک‘ عیدین اُور دیگر خصوصی ایام کے لئے بھی کیا جاتا ہے جو اگرچہ واجب نہیں لیکن سنت کی اتباع اگر مقصود ہے تو اِس کی پابندی مستحبات میں شامل ہے۔ عید کے دن صاف‘ پاک و پاکیزہ لباس اُور خوشبو (پرفیوم) کا استعمال بہترین اعمال و معمولات میں سے ہیں۔ حدیث شریف ہے کہ ”اگر کوئی شخص (مرد یا عورت) عید کے دن نئے کپڑوں کی مالی سکت نہ رکھتے ہوں تو پہلے سے استعمال شدہ کپڑے اچھی طرح دھو کر استعمال کریں۔“ یہ شرعی نکتہ بھی ذہن نشین رہے کہ خواتین کے لئے خوشبو لگانے کی شرائط مرد سے مختلف ہیں اُور خواتین کو ”تیز خوشبو“ لگانے کی اجازت نہیں۔ اِسی طرح مردوں کے لئے ریشمی کپڑے اُور زیورات پہننے کی ممانعت ہے۔ 

3: عید کے دن تکبیرات (اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ لَا إلَہَ إلَّا اللَّہُ وَاَللَّہُ أَکْبَرُ اللَّہُ أَکْبَرُ وَلِلَّہِ الْحَمْدُ) پڑھنے کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کرنا چاہئے۔ 

4: عیدالفطر کی نماز ادا کرنے کے لئے پیدل جایا جائے یا مسجد کے کچھ فاصلے تک گاڑی میں سفر کرنے کے بعد سنت ادا کرنے کی نیت سے چند قدم ہی سہی لیکن لازماً پیدل چل کر جایا جائے۔ اِسی طرح نماز عید کی ادائیگی کے لئے گھر سے نکلنے سے قبل کچھ میٹھا (بہتر ہے کہ کھجوریں) کھائی جائیں۔

5: تسلی کر لیں کہ عید الفطر کی نماز ادا کرنے سے قبل صدقہ فطر اَدا کر دیا گیا ہے اگر نہیں کیا تو ساری زندگی ساکت (ختم) نہیں ہوگا بلکہ واجب الادأ رہے گا۔ فقہ حنفیہ (اہلسنت و الجماعت) کے مطابق رواں برس 2022ء کے لئے گندم کے حساب سے کم سے کم فطرانہ 160 روپے فی کس جبکہ ’فقہئ جعفریہ‘ اُور مسلک ِاہل حدیث کے مطابق 170 روپے فی کس مقرر ہے۔ صدقہئ فطر کی کم سے کم شرح کی بجائے سے زیادہ سے زیادہ شرح سے فطرانہ اَدا کر کے غریبوں کو بھی عید کی خوشیوں میں یکساں شریک کریں۔ ذہن نشین رہے کہ اسلام میں کسی بھی خصوصیت یا تہوار کا تصور انفرادی خوشی کا اظہار و اہتمام نہیں بلکہ تہوار بامعنی ہیں اُور یہ خوشی کے اجتماعی اظہار کے مواقع ہیں اُور اِس لحاظ سے عید محض عید نہیں بلکہ اگر اسے سمجھا جائے تو اِس تہوار کی معنویت اُور مقصدیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

 6: نماز عید کی ادائیگی کے لئے کسی ایسے مقام کا انتخاب کیا جائے جہاں عید کھلے آسمان کے نیچے ادا کرنے کا انتظام ہو‘ بہ امر مجبوری الگ بات ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عید کی نماز ہمیشہ کھلے آسمان تلے ادا فرمائی جبکہ ایک مرتبہ بارش کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد کے اندر (چھت تلے) عید کی نماز اَدا کی تھی۔

7: عید کا تہوار تحفے‘ تحائف (عیدی)‘ اِہل و عیال اُور پڑوسیوں سے ملاقات کا موقع ہے۔ عمومی معمولات میں جب عزیزواقارب سے ملنے ملانے کی فرصت نہیں رہتی تو عید کے موقع پر ایسی ملاقاتوں کا بالخصوص اہتمام کیا جانا چاہئے۔

 8: رمضان المبارک کے بعد شروع ہونے والے اسلامی مہینے شوال المعظم کے 6 روزے رکھنے کی نیت ابھی سے کر لیں۔ شوال کے روزے عید الفطر کے دوسرے دن سے ماہئ شوال المکرم کے دوران کبھی بھی رکھے جا سکتے ہیں اُور اِن کا اہتمام لگاتار بھی کیا جا سکتا ہے اُور یہ روزے مسلسل (یکے بعد دیگرے) یا ایام کے وقفے سے بھی رکھے جا سکتے ہیں تاہم چھ روزوں کی گنتی پوری کرنا سنت ہے۔ حدیث شریف ہے کہ ”جس نے پورے رمضان المبارک کے روزے رکھے اُور پھر شوال کے چھ دن بھی روزہ دار رہا‘ تو اِسے پورے سال کے روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔“

9: رمضان المبارک کی طرح سال کے دیگر مہینوں میں بھی عبادات بالخصوص قرآن شریف پڑھنے کی ابھی سے نیت کر لیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ جس طرح رمضان المبارک میں عبادت گاہیں آباد رہیں بالکل اِسی طرح سال کے دیگر ایام میں بھی عبادات کا ذوق و شوق برقرار (ساری زندگی قائم و دائم) رہے۔ 

……

Clipping from Editorial Page Daily Aaj Peshawar / Abbottabad May 02, 2022