Saturday, November 21, 2015

Nov2015: Peshawar through Paintings

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
اَپنا پشاور: رَنگوں کی چاشنی!
ہر رخ سے زیادہ حسین اور جس کے کسی بھی پہلو کا ذکر ایسا جامع سخن ہو‘ کہ دفتروں کے دفتر کم پڑ جائیں‘ تو اِس جہاں نما عنوان کو ’’پشاور‘‘ کہتے ہیں۔ پشاور کی خوبیوں کا شمار ممکن نہیں۔ جنوب ایشیاء کے قدیم ترین زندہ تاریخی شہر کے رہنے والوں کا رہن سہن‘ فن تعمیر اور بودوباش کے انداز تحریر و تحقیق کرنے والوں کے لئے دلچسپی کے پہلو لئے رہتے ہیں لیکن بہت کم مصوروں نے اس سلسلے میں اپنی مہارت کا اظہار کیا ہے جو پشاور کی محبت کا ثبوت ہے۔ واٹر ہوں یا آئل کلرز (پانی یا تیل میں حل ہونے والے رنگوں) کا پھیکا پن چاشنی میں بدل جاتا ہے جب یہ پشاور کی عکاسی کر رہے ہوں۔ مصوری کے ذریعے پشاور فہمی عام کرنے میں جامعہ پشاور کے فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ کا امتیاز میڈیم طیبہ یا پھر ڈاکٹر غلام شبیر ایک جیسے محسوسات رکھتے ہیں۔ پشاور کے حوالے سے تخلیق کردہ چالیس فن پاروں کی نمائش بائیس نومبر تک ’نشتر ہال‘ میں جاری رہے گی۔ اہل پشاور کو فرصت میسر ہو یا نہ ہو لیکن انہیں بمعہ اہل خانہ اِس ’نادر نمائش‘ کو دیکھنے ضرور جانا چاہئے‘ کیونکہ یہ انہی سے متعلق ہے اور ایک ایسا وسیلہ ثابت ہوگی جو اُنہیں ’اپنے پشاور‘ سے جڑے رہنے اور اِس پر ’بجاطور فخر‘ کرنے کا ایک اُور مستند جواز فراہم کرے گا۔ خوش قسمت ہیں جو پشاور میں نہیں بلکہ پشاور کی سوچ میں رہتے ہیں اور ڈاکٹر شبیر کا شمار بھی ایسے ہی نفوس قدسیہ میں ہوتا ہے جو اپنی ذات سے آگے دیکھنے کی بصارت بھی رکھتے ہیں اور یہ بصیرت بھی کہ پشاور اُنہیں ہمیشہ زندہ و تابندہ رکھ سکتا ہے۔ اگرچہ ڈاکٹر شبیر پیشے کے لحاظ سے باقاعدہ مصور نہیں‘ لیکن خداداد صلاحیتوں کے مالک ہیں اور طب کے شعبے میں تدریس سے وابستہ ہونے کے باوجود اپنی مصروفیات میں سے بہت سا وقت پشاور کے نام کرنے میں انہیں کوئی امر مانع نہیں۔ ایک ایسا ماحول جس میں ہر شخص فرصت کے لمحات میں مال و متاع کمانے کی فکر میں لگا ہو تو ایسے دُرویش کو اپنے درمیان پانے کا احساس ہی مست کر دیتا ہے۔ مصوری کے اسلوب کی ادائیگی اور رنگوں کے موزوں استعمال کے ذریعے پشاور کے مختلف حوالوں کو محفوظ کرنے کی کامیاب کوشش اس بات کی عکاس ہے کہ انہوں نے بہت گہرائی میں جا کر اپنے گردوپیش کو محسوس کیا ہے اور اِسے آنے والی نسلوں کے لئے ایک ایسے انداز میں پیش کیا ہے کہ وہ ’پشاور شناسی‘ اور ’وابستگی‘ پر نہ صرف فخر کریں بلکہ اس کے بچاؤ میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔

 ڈاکٹر شبیر اندرون پشاور میں پیدا ہوئے اور گذشتہ کئی دہائیوں سے یہاں ہونے والی تغیرات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ جو کچھ بھی باقی رہ گیا ہے اُسے حافظے اور مشاہدے سے کینوس پر منتقل کر دینا چاہئے۔ مصوری کے جو چالیس خاکے نمائش کے لئے رکھے گئے ہیں اُن میں پشاور کی سیاسی‘ سماجی‘ اقتصادی اور ثقافتی عنوانات محفوظ بنائے گئے ہیں۔

ڈاکٹر شبیر کے تخلیق کردہ فن پارے چند روزہ ’نمائش‘ کے نہیں بلکہ ایک مستقل ’آرٹ گیلری‘ کی زینت ہونے کا متقاضی ہیں۔اگر پشاور کا اپنا الگ عجائب گھر ہو سکتا ہے تو ایسی آرٹ گیلری کیوں نہیں ہو سکتی جہاں سارا سال صرف اور صرف پشاور ہی کے بارے میں نمائش یا غوروفکر کرنے والے حلقوں کے اجتماعات منعقد ہوں۔ اعزازات اور عہدوں کی لالچ نے ’آرٹ کونسلوں‘ کو چند افراد کی جاگیر بنا دیا ہے‘ جو افسرشاہی کی تعریف و توصیف کے ہر ایک لفظ جملے اور نکتے کا پورا پورا معاوضہ بمعہ سود اُٹھانے کا ہنر جانتے ہیں۔ بہرحال موقع پرستوں کی ہر دور میں موجودگی کسی مستقل طاری عذاب سے کم نہیں اور گھٹن کے اِس ماحول میں ڈاکٹر شبیر کی مصوری نے گویا ’تازہ ہوا‘ کاکام کیا ہے۔ نمائش کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر امجد حسین نے کہا کہ ’’پشاور نسبتاً چھوٹا شہر ہو سکتا ہے لیکن اس کی مٹی سے ایسے افراد اٹھے ہیں جنہوں نے فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں سرانجام دیئے۔‘‘ یقیناًڈاکٹر امجد کو دیکھ کر اُن کے ہم پیشہ اور ہم عصروں کی ایک بڑی تعداد ’پشاور آشنا‘ ہوئی ہے اور یہ کسی بھی طرح معمولی بات نہیں۔

برق رفتار ذرائع ابلاغ کے دور میں سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس استعمال کرنے والے ’پشاور آشناؤں‘کی تعداد یہاں کے دردمندوں سے کئی گنا زیادہ ہے‘ جو ڈاکٹر شبیر کے فن پاروں پر اظہار خیال اور اس پھیلا رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت کی ویب سائٹ پر بھی ایسی فنی کوششوں اور شخصیات کے بارے میں الگ معلومات (پروفائل) ہونے چاہئے بلکہ فنون لطیفہ کی کسی بھی صنف میں جس کسی نے غیرمعمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہو‘ اُس کے بارے میں مصدقہ معلومات کی تشہیر ہونی چاہئے تاکہ دوسروں کو بھی ترغیب ملے اور یوں چراغ سے چراغ روشن ہونے کا سلسلہ رہے! ’’نہیں بھی ہوں تو دیواروں میں دروازے بنا دیں۔۔۔ فصیل شہر پر جو سحر گر بیٹھے ہوئے ہیں!‘‘

Monday, November 16, 2015

Translation: Death of a maulana

Death of a maulana
ایک عالم دین کی رحلت!
کبھی کبھار ہمارے اردگرد کچھ ایسا بھی رونما ہوتا ہے جس پر ہمارا اختیار تو نہیں ہوتا کہ اُس کو روک یا تبدیل کر سکیں لیکن اُس کے بارے میں بس سوچتے ہی رہ جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک موقع خیبرپختونخوا کے معروف عالم دین کی رحلت تھی‘ جن کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور اُن کا جنازہ اِس قدر بڑا تھا کہ جس کا بیان کرنا محال ہے! وہ کوئی حکمران‘ بادشاہ یا سرمایہ دار شخص نہیں تھے لیکن اُن کے جنازے نے ایسے تمام طبقات کو پیچھے چھوڑ دیا اور ماضی میں ہوئے بڑے جنازوں سے زیادہ بڑے اِس الوداعی اجتماع نے حاضرین کا نیا ریکارڈ بھی قائم کرڈالا۔ سوال یہ ہے کہ نوشہرہ کے قریب اکوڑہ خٹک میں مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ کی تدفین میں اس قدر بڑی تعداد میں سوگوار کیوں شریک ہوئے؟ اُن 86 سالہ بزرگ نے کس طرح لوگوں کے دل میں جگہ بنائی جبکہ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں ضعیفی کے باعث اپنے طور چل بھی نہیں پاتے تھے اور انہیں ویل چیئر کی ضرورت ہوتی تھی؟ اُن کی نماز جنازہ جی ٹی روڈ کے کنارے‘ اکوڑہ خٹک کی معروف دینی درسگاہ کے بالمقابل قبرستان میں ادا کی گئی جہاں کے وسیع وعریض میدان میں جس قدر گنجائش تھی‘ اُس سے کئی گنا زیادہ افراد نماز جنازہ میں شرکت کے لئے جمع ہوئے جن میں بوڑھے‘ جوان اور ہرعمر کے افراد شامل تھے اور جوق در جوق شرکت کے لئے آ رہے تھے۔ کوئی پوچھ سکتا تھا کہ آخر اُنہوں نے اپنی دیگر تمام مصروفیات ترک کرکے مولانا کے جنازے میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ جنازے میں شریک ایک افغان مہاجر محبوب فرط جذبات میں کہہ رہے تھے کہ ’’میں مولانا شیر علی شاہ کا نہ تو شاگرد تھا اور نہ ہی زندگی میں کبھی اُن سے ملاقات کا شرف حاصل کرسکا لیکن میں اُن کے جنازے میں شرکت کرنے کے لئے اس لئے حاضر ہوا کیونکہ وہ ایک ولی اللہ (اللہ کے دوست) تھے اور اُن کے جنازے میں شرکت کرنا اپنی عاقبت کے لئے باعث و اجر و ثواب ہے۔‘‘ ایسے کسی شخص سے بحث نہیں کی جاسکتی جبکہ وہ کسی اپنے جیسے انسان کے لئے اِس قدر مضبوط اعتقاد رکھتا ہو۔ الغرض اُن کے جنازے میں شرکت کو اپنے لئے اعزاز یا اجروثواب کا باعث سمجھنے والوں کی تعداد غیرمعمولی تھی اور وہ سبھی اسی قسم کا عقیدہ رکھتے تھے کہ مولانا شیر علی شاہ نے خلوص نیت اور بناء کسی دنیاوی لالچ اپنی تمام زندگی دین کے بتائے ہوئے خالص اصولوں کے مطابق بسر کی گویا اس قدر لوگوں کا اعتراف حقیقت اُن کے لئے ایک سند تھا کہ وہ کامیاب و کامران زندگی بسر کرکے دارفانی سے رخصت ہو رہے تھے۔

یہ حقیقت شک وشبے سے بالاتر ہے کہ شیخ الحدیث مولانا شیر علی شاہ نہایت ہی معزز انسان تھے۔ وہ غیرمعمولی حافظہ اور علوم اسلامیہ سے بہرہ مند تھے۔ انہوں نے جامعۃ المدینہ (مدینہ منورہ یونیورسٹی‘ سعودی عرب) سے پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) کی سند حاصل کی اور اُن کا شمار پاکستان کے اُن چند عالم دین افراد میں ہوتا تھا جنہوں نے دینی علوم کے ساتھ منطق (فلاسفی کے مضمون) میں بھی سند حاصل کررکھی تھی۔ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں رہنے والا ہر شخص اُن سے واقف نہیں تھا لیکن جس کسی کو بھی اُن سے ملاقات کا شرف ملا اور اُن کے خیالات اور شریں بیان سننے کا کبھی اتفاق ہوا تو وہ اُن کا گرویدا ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور پھر یہ تعلق ہمیشہ کے لئے قائم رہا۔ اُن کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرنے والوں کی بڑی تعداد پاکستانی و افغانی طالبعلموں کی ہے جن کی بڑی تعداد اُن کے جنازے میں شرکت اور اُنہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے نماز جنازہ میں شریک ہوئے۔

مولانا شیر علی شاہ کا مذہبی حلقوں کے ساتھ سیاسی حلقوں پر بھی کافی اثرورسوخ تھا۔ ایسے علماء کی تعداد بہت کم ہے جنہیں افغان طالبان اور کچھ حد تک پاکستانی طالبان عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے رہے اور اِس فہرست میں وہ علماء تو بالکل بھی شامل نہیں جو سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔ مولانا شیر علی شاہ کا نام سرفہرست رہا جس میں کراچی کے مرحوم مفتی رشید احمد اور مفتی نظام الدین شموزئی اور چمن (بلوچستان) سے تعلق رکھنے والے مولانا عبدالغنی شامل تھے جو اب اِس دنیا میں نہیں رہے۔ مولانا شیر علی شاہ نے 38 برس تک دارالعلوم حقانیہ کے مدرسے میں علوم اسلامیہ کی تعلیم دی۔ اُن کے شاگرد آج اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ اُنہیں مولانا شیر علی شاہ جیسے معلم نصیب ہوئے۔ اُن کے شاگردوں کا شمار ہزاروں میں ہے اور یہی وجہ تھی کہ اُن کے جنازے میں شریک افراد اُن کے ساتھ کسی نہ کسی دور میں اپنے قریبی تعلق کا بیان کرکے غمزدہ پائے گئے۔

مولانا شیر علی شاہ کے بہت سے مشہور شاگرد تھے۔ جن میں ایک مولانا فضل الرحمن (جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن کے سربراہ) اور مولانا جلال الدین حقانی (افغان مجاہدین کے رہنما جنہوں نے ’حقانی نیٹ ورک‘ کے نام سے روس اور امریکی افواج کے خلاف مسلح مزاحمت کی قیادت کی) شامل ہیں۔ مولانا شیر علی شاہ نے روس اور بعدازاں امریکہ کی افغانستان پر فوج کشی کی نہ صرف مذمت کی تھی بلکہ اُنہوں نے اِس کے خلاف مزاحمت (جہاد) کرنے کو اسلامی نکتۂ نظر سے جائز بھی قراردیا تھا۔

پاکستانی حکام اکثر مولانا شیر علی شاہ کے طالبان پر اثرورسوخ ہونے کی وجہ سے اُن سے مشاورت کیا کرتے تھے اور اُن کی مدد ایسے مواقعوں پر بالخصوص لی جاتی تھی جبکہ کہیں مغویوں کو بازیاب کرانا ہوتا یا جب کبھی عسکریت پسندوں کے ساتھ جنگ بندی پر عمل درآمد ممکن بنانے میں رکاوٹیں حائل ہوا کرتیں تھیں۔ وہ ہمیشہ کامیاب بھی نہیں رہے کیونکہ عسکریت پسند اکثر کسی کی بھی سننے سے انکار کر دیتے لیکن اس کے باوجود وہ امن دوست تھے اور ہمیشہ ہی سے قیام امن کے لئے کوششوں کا حصہ رہتے۔

مولانا شیر علی شاہ کے قول و فعل میں تضاد نہیں تھا۔ اُن کی دینی تعلیمات اور عمل ایک دوسرے سے مطابقت رکھتے تھے۔ مذہبی رہنما ہونے کی حیثیت سے انہوں نے پیسہ کمانے کو متمع نظر نہیں رکھا اور یہی وجہ تھی کہ حق شناس شخص حق کے بیان میں کبھی مصلحتوں کا شکار نہیں رہا۔ انہوں نے 1990ء کے عام انتخابات میں حصہ بھی لیا تھا لیکن ناکامی کے بعد انتخابی سیاست سے ہمیشہ کے لئے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنی تمام زندگی مذہبی تعلیمات کے وقف کر دی جس کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں بلند درجے کی عزت و تکریم حاصل ہوئی‘ جس کی ایک جھلک اُن کے جنازے کے موقع پر دیکھی گئی جبکہ جنازے کے شرکاء کی غیرمعمولی تعداد کی وجہ سے گرینڈ ٹرنک روڈ (جی ٹی روڈ) اکوڑہ خٹک کے مقام پر کئی گھنٹوں تک بند رہا۔ اُن کا آخری دیدار کرنے کے لئے ہر سمت سے اُمنڈ آنے والے ایک ایسے شخص کی رحلت پر غمگین تھے جس نے پوری زندگی بناء کسی لالچ و طمع اُن کی رہنمائی کی تاکہ وہ عملی و شعوری زندگی میں زیادہ بہتر (محتاط) انسان اور (متقی) مسلمان کے منصب جلیلہ پر فائز ہوسکیں۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ ترجمہ:شبیر حسین اِمام)