Wednesday, May 17, 2017

May2017: The divided vote bank!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین اِمام
رائیگاں رائیگاں!
پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنانے کی ترغیب اور اِس مملکت خداداد کو قابل فخر بنانے کی سوچ ابوالاثر حفیظ جالندھری کے قلم سے بصورت ’قومی ترانہ‘ سامنے آئی‘ جس کے بعد سے ہر اعلیٰ و ادنی انتظامی ذمہ داریوں (عہدوں) کا حلف اٹھانے والے درحقیقت ’پاک سرزمین کو شاد باد‘ کرنے کا عہد کر رہے ہوتے ہیں لیکن اِس ہدف کے حصول کے لئے ہر شعبۂ ہائے زندگی میں درکار اتحادواتفاق کی شدت سے کمی محسوس ہو رہی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو عام انتخابات میں رجسٹرڈ ووٹرز کی بڑی تعداد گھروں میں بیٹھ کر اپنی ہی تباہی و بربادی کا ’تماشا‘ دیکھنے پر اکتفا نہ کرتی۔ جس ملک میں تیس سے چالیس فیصد رجسٹرڈ ووٹرز ہی زحمت گوارہ کرتے ہوں‘ وہاں کسی نئی سیاسی جماعت کے قیام کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے اور ایسا کیوں نہیں ہوسکتا کہ قومی مفادات سے متعلق ترجیحات کا تعین کرنے کے بعد ’تبدیلی‘ کی خواہاں سبھی قوتوں (کرداروں) کی سیاسی جدوجہد کا پلیٹ فارم ایک ہو؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کوئی درپردہ قوت ایسی بھی گھات لگائے بیٹھی ہو جو ملک میں تبدیلی کی راہ ہموار کرنے کی صلاحیت رکھنے والوں کی توانائیاں اور وسائل ’یکجا‘ ہونے نہ دے رہی ہو! اُور اُن تمام افراد کو اپنی الگ شناخت ظاہر کرنے پر اکسایا جا رہا ہو‘ جو قومی ترقی‘ سلامتی اور خوشحالی کا ایک جیسا تصور تو رکھنے کے باوجود سیاسی تگ و دو اُور منزل تک پہنچنے کے لئے سفر کی سمتیں الگ الگ متعین کر بیٹھے ہیں! پاکستان سے بڑھ کر کوئی دوسری شناخت بھلا کیا ہو سکتی ہے‘ اور اگر کسی ایک نکتے سے آغاز ہی کرنا ہے تو وہ ’انصاف‘ کے سوأ بھلا اُور کیا ہو سکتا ہے؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان سے حالیہ دنوں میں رجوع کرنے والوں میں معروف گلوکار جواد احمد بھی شامل ہیں جنہوں نے باقاعدہ طورپر انتخابی سیاست میں حصہ لینے کے لئے کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ ہونے کی بجائے اِس بات کو ضروری سمجھا ہے کہ وہ اپنی الگ سیاسی جماعت تشکیل دیں‘ جس کی منظوری کے لئے درخواست دیتے ہوئے اُنہوں نے جملہ کاغذی کاروائی پوری کر لی ہے۔ یوں تو پاکستان کی سبھی سیاسی جماعتیں شخصیات کے گرد گھومتی ہیں اور ہر سیاسی جماعت کے پیچھے ایک ’قدآور‘ شخصیت کا سحر دکھائی دیتا ہے لیکن آئندہ عام انتخابات سے قبل ایک ایسی نئی سیاسی جماعت کا اضافہ جس کے غیرمتنازعہ خالق نوجوان نسل میں مقبول بھی ہوں تو اِس سے ’تبدیلی‘ کا ووٹ بینک تقسیم ہوگا۔ روائتی سیاست کرنے والوں کا شروع دن سے ’طریقۂ واردات‘ یہی ہے کہ وہ کسی خاص انتخابی حلقے میں‘ کسی نومولود سیاسی جماعت یا سیاسی کارکنوں میں پھوٹ ڈال کر ’ووٹ بینک‘ تقسیم کر دیتے ہیں اور یوں انہیں انتخابی معرکے میں باآسانی جیت مل جاتی ہے۔ خیبرپختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد کے میدانی شہری اور پہاڑی بالائی علاقوں کی عمدہ مثال اِس سلسلے میں پیش کی جاسکتی ہے کہ جہاں گذشتہ نو عام انتخابات 1985‘ 1988‘ 1990‘ 1993‘ 1996‘ 1997‘ 1999‘ 2002 اور 2008 میں مسلم لیگ نواز قومی اسمبلی کی نشست پر صرف اِس وجہ سے کامیاب ہوتی رہی کیونکہ مخالف سیاسی جماعتیں نہ تو انتخابی اتحاد بنانے میں کامیاب ہو رہی تھیں اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کے قائدین اپنے کارکنوں کے تحفظات (داخلی اختلافات) ختم کرنے میں دلچسپی رکھتے تھے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں ایبٹ آباد سے قومی اسمبلی کی نشست جب اٹھائیس سال بعد کسی دوسری سیاسی جماعت کے حصے میں آئی تو معلوم ہوا کہ ترقیاتی منصوبوں سے لیکر انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں تک معاملات ناقابل یقین حد تک خراب ہو چکے ہیں۔ تبدیلی اور اصلاح کا مطالبہ کرنے والوں کا ’ووٹ بینک‘ تقسیم ہونے سے بچانا سب سے بڑی ضرورت ہے اور اگر سیاسی جماعتیں بالخصوص ’پاکستان تحریک انصاف‘ کی مرکزی و صوبائی قیادت اِس بات کا احساس کر لے تو کوئی وجہ نہیں کہ آئندہ (وقت مقررہ یا ممکنہ قبل ازیں) عام انتخابات کی صورت وہ خاطرخواہ (مطلوبہ) کامیابی مل سکتی ہے جو وفاق میں اُسے حکومت سازی کے قابل بنا سکے۔

’گوری کرت سنگھار‘ جیسے کئی مقبول نغموں سے شہرت پانے والے چھیالیس سالہ گلوکار جواد (پیدائش 29 ستمبر 1970ء) یونیورسٹی آف انجینرینگ لاہور سے تحصیل یافتہ ہیں اور خود بھی معلم ہیں جو شاید سیاست میں آنے کے بعد درس و تدریس کو جاری نہ رکھ سکیں۔ بہرکیف انہوں نے اپنی سیاسی جماعت کا نام ’پولیٹکل فرنٹ‘ رکھتے ہوئے اِس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اُن کی سیاسی جدوجہد ’’عوام کو ان کے حقوق دلانے کی کوشش‘‘ ہوگی۔ سیاست میں معروف لوگ انتخابی طور پر کامیاب ہوں یا نہ ہوں لیکن اُن کی وجہ سے سیاسی جماعتیں عوام کی توجہ حاصل کرنے میں ضرور کامیاب بھی رہتی ہیں اور انہیں دلی مرادیں بھی حاصل ہوتی ہیں۔ دوہزار تیرہ کے عام انتخابات کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے حصہ لینے والے محترم جواد کے ہم عصر گلوکار ابرارالحق اور عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جن کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جواد بھی پاکستانی سیاست میں داخل ہونے کی منصوبہ بندی کرتے رہے اور انہوں نے اپنی اِس خواہش کا باضابطہ اظہار بھی کیا لیکن بالآخر وہ گھڑی آ گئی ہے جب انہوں نے سوچ سمجھ کر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کی بجائے اپنی پارٹی کی رجسٹریشن کے لئے باقاعدہ درخواست دی ہے! چند برس فلاحی کام کرنے اور بالخصوص شعبۂ تعلیم میں بہتری لانے کے لئے سرگرم جواد کے منہ میں بھی ’عام آدمی‘ اور ’غریب‘ جیسے الفاظ سن کر قطعی حیرت نہیں ہو رہی کیونکہ اب کوئی یہ تو کہنے سے رہا کہ وہ ملک میں ایک ایسی سیاسی جماعت بنانے جا رہا ہے جو سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرے گی!

اندیشہ نہیں بلکہ یقین ہے کہ محترم جواد کی نئی سیاسی جماعت بھی گنتی کے چند انتخابی حلقوں تک ہی محدود رہے گی کیونکہ اُن کے پاس پورے پاکستان میں اپنا پیغام گھر گھر پہنچانے کے لئے درکار وقت اور وسائل یا تجربہ نہیں اور جن شہری علاقوں میں اُن کی جماعت کو اُمیدوار میسر آ بھی جائیں گے تو وہ اُن پیشہ ور سیاست دانوں اور عام انتخابات میں سرمایہ کاری کرنے والے ماہرین کا مقابلہ ڈٹ کر نہیں کر پائیں گے جو انتخابی سیاست اور ضروریات سے آگاہ ہیں۔ یوں پاکستان میں تبدیلی لانے کی یہ انفرادی کوشش ’رائیگاں نہیں بلکہ رائیگاں رائیگاں جائے گی اور نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک مرتبہ پھر وہ ’ووٹ بینک‘ تقسیم ہو جائے گا‘ جس کا متحد رہنا ضروری ہے‘ بصورت دیگر روائتی سیاست کرنے والوں کی فتح ہوگی اور پاکستان کے اُس عام آدمی (ہم عوام) کی آنکھوں سے شکست کے آنسو گریں گے جہاں خوابوں کے قبرستان آباد ہیں!

Tuesday, May 16, 2017

May2017: Political Mistakes after every take!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
سیاسی غلطیاں!

پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل میں ’سیاست‘ کی بجائے اگر ’انتظامی ضروریات (تقاضوں)‘ کو مدنظر رکھا جائے تو اِس سے عام آدمی (ہم عوام) کی مشکلات حل ہو سکتی ہیں‘ جمہوریت مضبوط و توانا اور جمہوری اداروں سے جڑی توقعات پوری ہونے کی بس یہی ایک صورت ہے لیکن کیا پاکستان میں کوئی مسئلہ بنا متنازعہ بنائے حل بھی ہوتا ہے؟

خیبرپختونخوا میں نئے صوبے کی تشکیل (اضافے) کا سب سے توانا مطالبہ ’صوبہ ہزارہ‘ کا قیام ہے‘ جو سات برس قبل ایک احتجاج اور اُس کے خونی انجام کے بعد تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے تو کیا اُمید کی جا سکتی ہے کہ ’تحریک صوبہ ہزارہ‘ کی قیادت اُس ایک مقصد سے ’’پرخلوص وابستگی‘‘ قائم رکھ پائے گی‘ جس کے لئے سات کارکنوں نے جام شہادت نوش کیا اور سینکڑوں زخمی آج بھی علیل یا معذور ہیں! یادش بخیر 12 اپریل 2010ء کے روز صوبہ ہزارہ کا مطالبہ کرنے والے نہتے مظاہرین پر باوردی اور بناء وردی تعینات پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کی۔ شہید ہونے والے مظاہرین کو پشت میں گولیاں لگیں لیکن ’عدالتی تحقیقاتی کمیشن‘ نے محض ایک صحافی کی یاداشت اور ’کراس فائرنگ‘ جیسے لفظ کے استعمال کو بنیاد بنا کر پورے مقدمے (حقائق) کی بساط لپیٹ دی! بناء سمجھے اور بناء احساس کئے انگریزی بولنے کے جنون میں کیا کسی ایک صحافی کا بیان کافی سمجھا جانا چاہئے تھا!؟ پاکستان میں اعلیٰ تحقیقاتی کوششوں کا انجام بخیر ایسا ہی ہوتا ہے کہ حکومت وقت پر دباؤ اور خون کے دھبے اُن ہاتھوں پر نہیں ہوتے جو درحقیقت اِس میں ملوث ہوتے ہیں۔

سات شہداء کے خون (سانحۂ اَیبٹ آباد) کی ابتدائی تفتیشی رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی جس میں تحریک صوبہ ہزارہ کے قائد بابا حیدر زمان سمیت موجودہ صوبائی حکومت سے تعلق رکھنے والے صوبائی و قومی اسمبلی کے اراکین و دیگر کئی رہنماؤں کے نام بھی اُسی ایف آئی آر میں شامل ہیں‘ جو اُس وقت کی صوبائی حکومت (عوامی نیشنل پارٹی) نے عصبیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’سربمہر (سیل)‘ کر دیا۔ ظاہر تھا کہ کوئی بھی حکومت اپنے ہی اقدام اور سرزد ہونے والی دانستہ یا غیردانستہ غلطی پر خود کو موردالزام نہیں ٹھہرائے گی۔ عجب ہے کہ ایف آئی آر میں احتجاج کرنے والوں کو نامزد تو کیا گیا لیکن اُس وقت کی ضلعی انتظامیہ بشمول اُن پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں فائرنگ ہوئی اُن کے نام ایف آئی آر کا حصہ نہیں۔ جب کمیشن کی جانب سے دونوں فریقین کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا تو پھر ’ایف آئی آر‘ صرف ایک فریق (تحریک صوبہ ہزارہ کے قائدین) کے خلاف کیوں درج کی گئی۔ کون بھول سکتا ہے کہ اُس وقت کے ڈی آئی جی ہزارہ امتیاز الطاف‘ ڈی پی اُو اقبال خان اُور ڈی سی اُو جو عینی شاہدین بھی ہیں لیکن اُن کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی! اِس سانحے کے بعد ضلعی انتظامیہ تبدیل کی گئی‘ جس نے درپردہ ایسی سازشیں کیں کہ تحریک صوبہ ہزارہ تقسیم در تقسیم ہوتی چلی گئی اور وہ قوت جو ہزارہ ڈویژن تو کیا نئے صوبوں کی تشکیل کی راہ ہموار کرتے ہوئے پورے پاکستان کی تقدیر بدل سکتی تھی ’ہائی جیک‘ کر لی گئی! صوبہ ہزارہ کے خلاف سازشیں کامیاب ہوئیں اور آج بھی کامیاب ہو رہی ہیں!

چودہ مئی کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایبٹ آباد میں جلسۂ عام کا اعلان کیاتو ’تحریک صوبہ ہزارہ‘ نے ’8 نکات‘ پیش کئے اور کہا کہ وہ عمران خان کو کسی بھی صورت جلسۂ عام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور اِس موقع پر داخلی و خارجی راستوں سمیت شہر کو ’’لاک ڈاؤن‘‘ کیا جائے گا۔ صوبائی حکومت جانتی تھی کہ ’صوبہ ہزارہ‘ کا مطالبہ اگرچہ راکھ ہے لیکن اِس کے اندر چنگاڑی موجود ہے جو سب کچھ جلا کر خاکستر کر سکتی ہے۔ راتوں رات اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ وہ تحریک ہزارہ سے مذاکرات کریں اور تیرہ مئی کی رات گئے ’10نکاتی معاہدہ‘ طے پایا جسے اگر ’لالی پاپ‘ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ کسی ایسے معاہدے کی قانونی حیثیت کیا ہو سکتی ہے جو سفید کاغذ پر تحریر ہو اور جس پر نہ تو سرکاری مہر ثبت ہو اور نہ ہی وہ حکومتی لیٹرپیڈ پر ہو اور اُس پر گواہوں کے نام درج ہوں!؟

ایک مرتبہ پھر ہاتھ ہو گیا ہے!؟
صوبائی حکومت عمران خان کا جلسہ منعقد کرانے میں کامیاب ہو چکی ہے لیکن یہ کامیابی درحقیقت تحریک صوبہ ہزارہ کی ایک ایسی ناکامی ہے‘ جو اِس کا پیچھا کرتی رہے گی! تحریک صوبہ ہزارہ اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان مذکورہ معاہدے میں ’صوبہ ہزارہ کے قیام‘ اور شہدائے بارہ اپریل کی ’ایف آئی آر‘ کی دو اہم شقیں جو کہ تحریک صوبہ ہزارہ (نامی سیاسی جماعت) کے منشور کا حصہ ہے کو اِس طرح منہا کر دیا گیا اور اس کی جگہ غیرمتعلقہ و ایسے غیرضروری امور شامل کر دیئے گئے جن کا تعلق صوبے کی بجائے وفاق سے ہے اُن پر دونوں فریقین نے زیادہ زور دیا۔

دونوں فریقین رضامند ہوئے اور ایک تحریری معاہدے کی صورت میں ضبط کر لیا گیا تاہم تحریک صوبہ ہزارہ کے بزرگ (معمر) قائد اِس مذاکراتی عمل میں شریک نہیں تھے اور جب اُن کے سامنے انگریزی زبان میں تحریر کردہ یہ معاہدہ پیش کیا گیا تو اُنہوں نے اصل منشور کے دو بنیادی نکات کو پس پشت ڈالنے پر اظہار برہمی کیا لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی! اگلی صبح ’ہزارہ ہاؤس‘ میں پرتکلف ناشتے کا اہتمام خبر نہیں تھی کیونکہ ہزارہ ہاؤس کی مہمان نوازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ناشتے میں سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر‘ ترجمان خیبرپختونخوا حکومت مشتاق غنی‘ رکن صوبائی اسمبلی سردار ادریس‘ ڈویژنل و ضلعی قیادت اور ضلعی انتظامیہ کے اہم کردار بھی اِس موقع پر موجود تھے جنہیں رخصت کے وقت تحائف بھی دیئے گئے اور مسکراہٹوں کے تبادلوں پر بات ختم ہوگئی! جب صبح کا ناشتہ گیارہ بجے تک اپنی خوشبوئیں (مہک) پھیلاتا رہے تو دماغ کسی ایسے ضمنی موضوع کی طرف کیونکر مرتکز ہو سکتا ہے جو بنیادی اہمیت کا ہو۔ بہرکیف ایک سوال کا جواب بذات خود دینے کی بجائے اسپیکر صوبائی اسمبلی نے نہایت ہی ذہانت سے ’گیند‘ جنرل سیکرٹری تحریک صوبہ ہزارہ سردار فدا کی طرف اچھال دی‘ جو پہلے ہی تنقید کا نشانہ بن رہے تھے اور ابھی اُس معاہدے پر روشنائی خشک بھی نہیں ہوئی تھی کہ تحریک صوبہ ہزارہ کے داخلی حلقوں میں چہ مگوئیاں جاری تھیں!

صوبہ ہزارہ سے متعلق سانحۂ ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کو اُس وقت ’سپرئم کورٹ‘ میں چیلنجز نہ کرنا ایک ایسی غلطی ہے جس کا خمیازہ آج ’ہزارے وال قوم‘ بھگت رہی ہے۔ کسی ایسی تحریک کا مستقبل بھلا کیا ہو سکتا ہے جس کے قائدین کی سیاسی بصیرت ’طفلانہ‘ ہو اور جسے سات برس گزرنے کے باوجود بھی معلوم نہ ہو کہ اُنہیں صوبائی یا وفاقی حکومتوں سے کس چیز کا مطالبہ کیوں اور کس شدت (بنیاد) سے کرنا چاہئے۔