Sunday, March 8, 2015

TRANSLATION: Billion-rupee questions!

Billion-rupee questions
سیاست و منفعت
ڈاکٹر فرخ سلیم
سینیٹ انتخابات: حال ہی میں مکمل ہوئے پاکستان کے قانون ساز ایوان بالا (سینیٹ) کے لئے اراکین کا چناؤ عمل میں لایا گیا جس سے متعلق مجھ سمیت بہت سے تجزیہ کاروں نے پیشنگوئی کی تھی کہ اِن کے نتائج پر ماضی کی طرح مالی وسائل کے کرشمے اپنا اثر کریں گے لیکن ایسا بڑے پیمانے پر نہ ہوسکا۔

 درحقیقت سینیٹ کے انتخابات میں اراکین اسمبلیوں کے ووٹوں کی خریداری ووٹوں کے مجموعی حجم سے ہوتی ہے جیسا کہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے گیارہ اراکین قومی اسمبلی کو چار سینیٹرز کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ دوسرے درجے پر سب سے زیادہ مانگ بلوچستان اسمبلی کے رکن 65 اراکین اسمبلی کی ہوتی ہے جنہیں مجموعی طورپر گیارہ سینیٹرز کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ تیسری اور ووٹوں کی خریداری کے لحاظ سے کم ترجیح خیبرپختونخوا اسمبلی کی ہوتی ہے جس کے اراکین کی کل تعداد ایک سو چوبیس ہے اور نہ ہونے کے برابر ترجیح سندھ اسمبلی کی ہوتی ہے جس کے اراکین کی تعداد 168 ہے۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی کی تعداد 371جبکہ وفاقی دارالحکومت کے لئے مختص دو سینیٹ کی نشستوں کے لئے 342 اراکین اسمبلی کو صرف دو سینیٹرز کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ جس قدر ووٹ دینے والوں کی تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے‘ اُسی قدر ووٹوں کی خریداری کرنے والوں کے امکان ختم ہوتے چلے جاتے ہیں لیکن بلوچستان اسمبلی میں ووٹوں کی خریدوفروخت ہوئی ہو گی کیونکہ آزاد حیثیت سے سینیٹ کے لئے اُمیدوار وہاں سے کامیاب ہوئے جبکہ ایوان میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) سے تعلق رکھنے والے بائیس اراکین اسمبلی موجود تھے لیکن اُن کے نامزد اُمیدوار ہار گئے۔ سینیٹ کے لئے اراکین اسمبلی کے ووٹوں کی خریدوفروخت (ہارس ٹریڈنگ) اس وجہ سے بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ نواز لیگ کی بلوچستان اسمبلی میں 22 اراکین ہیں جن کی بنیاد پر اُنہیں صرف تین سینیٹ کی نشستیں ملی ہیں جبکہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے 14 اور نیشنل پارٹی کے 11اراکین اسمبلی ہیں لیکن اِن دونوں جماعتوں کو مسلم لیگ نواز سے کم اراکین ہونے کے باوجود سینیٹ میں تین تین نشستیں ملی ہیں۔ جو اِس بات کو تقویت دیتی ہیں کہ کم اراکین کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود اگر پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کو اپنے حصے سے زیادہ نشستیں ملی ہیں تو اس کے پیچھے یقیناًکچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوگا‘ جس کی وجہ سے یہ بظاہر ناممکن انتخاب ممکن ہو پایا۔

قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے چھ اراکین قومی اسمبلی نے بھی سینیٹرز کے لئے اراکین کے چناؤ کے عوض پیپلزپارٹی اور نواز لیگ سے کچھ نہ کچھ ضرور حاصل کیا ہوگا کہ حکومت قبائلی سینیٹرز سے متعلق جو قانون سازی لانا چاہتی تھی جو آخری وقت میں معطل کر دی گئی۔

حیرت انگیز طور پر خیبرپختونخوا کی حکمراں جماعت ’پاکستان تحریک انصاف‘ نے نواز لیگ کی مکمل حمایت کی۔ صوبہ پنجاب میں مختلف نوعیت کی ’ہارس ٹریڈنگ‘ ہوئی جہاں سینیٹ انتخابات سے قبل اراکین اسمبلی کو ترقیاتی منصوبوں کے لئے خطیر مالی وسائل فراہم کرنے کے وعدے کئے گئے جو فی رکن اسمبلی 2 کروڑ روپے کے مساوی ہوں گے۔

سینیٹ انتخابات کے بعد کا منظرنامہ: پاکستان پیپلزپارٹی کے پاس سینیٹ کی 27 نشستیں اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے پاس 26 نشستیں ہیں اور دونوں جماعتیں اِس بات کے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گی کہ آئندہ سینیٹ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کا تعلق اُن کی جماعت سے ہو۔ اگر پیپلزپارٹی متحدہ قومی موومنٹ‘ عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) کے ساتھ مل بھی جائے تو بھی اُسے اکثریت پانے کے لئے پانچ مزید ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔ اگر نواز لیگ پاکستان تحریک انصاف‘ پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی جیسے اتحادیوں پر انحصار کرتی ہے تو اُسے مزید 14 ووٹوں کی ضرورت ہوگی تاکہ سینیٹ میں اپنی اکثریت ثابت کر سکے۔یہی وجہ ہے کہ زرداری اور نواز شریف بجائے ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کے لئے مقابلہ کرنے کے چاہیں گے کہ اتفاق رائے سے بٹوارہ کر لیں‘ جس سے زیادہ تماشا (جگ ہنسائی) نہ ہو اور جملہ معاملات بھی خوش اسلوبی (رازداری) سے طے بھی ہوجائیں۔ یہی سبب ہے کہ آنے والے دنوں میں اُن سینیٹرز کی قیمت میں اضافہ ہوجائے گا‘ جو آزاد حیثیت سے ایوان بالا میں پہنچے ہیں۔

انتہائی اہم (اربوں روپے کا) سوال ہے کہ ’’آئندہ چیئرمین سینیٹ کون ہوگا؟‘‘ پاکستان میں مخلوط قسم کا جمہوری طرز حکمرانی رائج ہے جس میں فوج کلیدی فیصلوں کا اختیار رکھتی ہے۔ اس پوری کوشش کا مقصد سیاست اور جرائم کو الگ الگ درجات میں رکھنا ہے۔ سندھ میں نواز لیگ فوج کے مؤقف اور طرز فکر و عمل سے اتفاق کرتی ہے۔ پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ حالات کو جوں کا توں برقرار رکھنے کی سوچ رکھتی ہیں اور جہاں تک پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی بات ہے تو اُن کی کوشش ہے کہ وہ پاک فوج سے اپنے تعلقات بہتر بنائیں اور جو تعطل دونوں کے درمیان آ چکا ہے‘ اُسے ختم کریں۔

دوسرا انتہائی اہم سوال دہشت گردی کے خلاف قومی حکمت عملی (نیشنل ایکشن پلان) سے متعلق ہے۔ اب تک ہوئی پیش رفت میں دہشت گردی کرنے والوں تک پہنچنے والے مالی وسائل کو مکمل طور پر نہیں روکا جا سکا۔ اس سلسلے میں بہت کم یا تھوڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے کہ فرقہ واریت اور نفرت پر مبنی مواد کی اشاعت و تقسیم پر پابندی کا مکمل اطلاق عملاً کیا جاسکے۔ قبائلی علاقہ جات میں ترقیاتی یا انتظامی اصلاحات کے نفاذ کے سلسلے میں بھی بہت کم پیش رفت ہوئی ہے۔ جرائم کے خاتمے کے لئے انصاف کے نظام میں بھی اصلاحات ابھی ہونا باقی ہیں۔ یہ کہنا بیجا نہیں ہوگا کہ ہماری سیاسی حکومتیں دہشت گردی جیسی پیچیدہ سوچ و عمل کا محض جذبات و بیانات سے مقابلہ چاہتی ہے اور یہ بات ہم سب یقین کی حد تک جانتے ہیں کہ جنگ چاہے کوئی بھی ہو‘ اُس میں فتح بناء عمل محض جذبات سے ممکن نہیں ہوتی۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔تلخیص و ترجمہ: شبیرحسین اِمام)
Billion Rupee questions by Dr Farrukh Saleem from The News March 08, 2015

1 comment:

  1. Billion-rupee questions
    Dr Farrukh Saleem
    Sunday, March 08, 2015

    Capital suggestion

    Senate election: There hasn’t been as much horse-trading as some of us (including myself) had forecasted. To be certain, horse-trading has always had an inverse correlation with the size of the constituency-highest in Fata (11 MNAs to elect four senators), high in Balochistan (65 MPAs to elect 11 senator), low in Khyber Pakhtunkhwa (124 MPAs) and low to none in Sindh (168 MPAs), Punjab (371 MPAs) and the Federal Capital (342 MNAs to elect just two senators).

    But there must have been some horse-trading as an independent candidate in Balochistan won and a PML-N candidate with 22 MPAs in the same house somehow lost. More proof of horse-trading: the PML-N with 22 MPAs won three senatorial seats while PkMAP with just 14 MPAs and NP with just 11 MPAs also won three senatorial seats each.

    And there must have been mega horse-trading of at least six Fata MNAs whereby the PPP and its allies had struck some sort of a deal with Fata MNAs and then the PML-N struck back with a midnight presidential ordinance.

    Amazingly, the PTI fully supported the PML-N in KP. And yes, there was horse-trading in Punjab but of a different type. In Punjab, just before the senate election, MPAs were promised development funds in the amount of Rs20 million each.

    Post-election: The PPP at 27 seats and the PML-N at 26; there’s bound to be coalition-building plus horse-trading for the coveted posts of chairman and deputy chairman. The PPP and PML-N could divide up the pie between the two of them but if there is competition between the two than it will be fierce. Zardari, master coalition builder-cum-horse trader, along with the MQM, ANP and JUI, will still be short by five votes from a majority.

    Sharif, ex-horse trader, along with its new-found ally the PTI and old ones PkMAP and NP, will still be short by fourteen seats from a majority. Naturally, Sharif has more of Pakistan under his belt than does Zardari and Sharif thus has more to offer to potential coalition partners. As a consequence, the price of independent horses is bound to go through the roof.

    The billion-rupee question is: Who will be chairman senate?

    Apex rule: Once the senate dust settles we will be back to the GHQ-crafted ‘rule via apex committee’. It is not a military coup but it is a civil-military hybrid (a hybrid is the offspring of two plants or animals of different species). The GHQ-crafted hybrid aims to separate politics from crime. As far as Sindh is concerned, the GHQ has managed to haul the PML-N on to their page. As far as Sindh is concerned, the PPP-MQM combine is a status quo player – and they will resist change. As far as Zardari is concerned, he is desirous of re-establishing a communication link with the GHQ.

    The other billion-rupee question is: Is the GHQ-crafted hybrid sustainable?

    National Action Plan: There is little or no progress on the choking of terrorist funding sources. There is little or no progress on discouraging the publication and circulation of hate literature. There haven’t been any administrative or development reforms in Fata. There is little or no progress on action against elements spreading sectarianism. There is little or no progress on reforming the criminal justice system. To be sure, our civilian government is fighting the war against terror via rhetoric. And here there is no question. We know that the war cannot be won via rhetoric.
    The writer is a columnist based in Islamabad. Email: farrukh15@hotmail.com
    Twitter: @saleemfarrukh

    ReplyDelete