Showing posts with label School. Show all posts
Showing posts with label School. Show all posts

Friday, March 3, 2017

Mar2017: Revolution for Literacy

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
خواندگی: ایک تحریک‘ ایک جنون!؟
کیا اِس حقیقت کی سچائی سمجھ لینا ہی کافی ہے کہ ’نصابی تعلیم‘ سے ایک قدم آگے نصاب میں پوشیدہ اسباق کے ذریعے نئی نسل کی شخصیت اور کردار سازی پر توجہ اور مالی وسائل مرکوز کئے جائیں؟ تعلیم کی اہمیت سمجھتے ہوئے خیبرپختونخوا حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ علاقائی زبانوں میں تحریر کردہ کتب نصاب کا حصہ بنائی جائیں گی تاکہ سرکاری تعلیمی اداروں میں رٹے رٹاے جملوں کی بجائے تعلیم کے حقیقی مقصد و ہدف کا حصول ممکن ہو سکے۔ پہلے مرحلے میں رواں برس ’نئے تعلیمی سال‘ کے آغاز (ماہ اپریل) سے سرکاری تعلیمی اداروں میں سرائیکی‘ ہندکو اور خوار (تین علاقائی و مادری) زبانیں متعارف کرائی جائیں گی۔ علاؤہ ازیں تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت اِس بات کے لئے ’شاباشی کی مستحق‘ ہے کہ اِس نے پہلی سے پانچویں جماعت کے لئے انگریزی‘ حساب اور سائنس کے مضامین کی درسی کتب پر نظرثانی کرتے ہوئے انہیں اُس کم سے کم ’قومی معیار‘ کے مطابق ڈھال دیا ہے جو سال دوہزار سولہ میں مقرر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مختلف صوبوں میں حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے تعلیمی اداروں کی کارکردگی اور نصاب سے استفادے کو ایک کسوٹی پر پرکھا جا سکے۔ ’معیار تعلیم‘ کی بلندی ایک ایسا ہدف ہے جس کے بارے مسلسل سوچ بچار کا عمل صرف متعلقہ وزارت اور اِس کام کے لئے مراعات و تنخواہیں پانے والوں ہی کی حد تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ معاشرے کے ہر ذی شعور کا فرض بنتا ہے کہ وہ تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لئے اپنا فکروعمل مرکوز (وقف پاکستان) کرے!

خیبرپختونخوا میں سرکاری تعلیمی ادارے ہم عصر نجی سکولوں سے کوسوں نہیں بلکہ ہزاروں میل کی مسافت پر ہیں! نجی سکولوں میں بچوں کو ذہنی و جسمانی سرگرمیوں (ایکٹویٹی بیسڈ لرننگ) کے ذریعے اسباق کے نتائج حتیٰ کہ امتحان دینے کے طور طریقوں کی تعلیم (رہنمائی) بھی دی جاتی ہے لیکن کسی سرکاری سکول میں ’امتحان دینے کا طریقہ‘ نہیں سکھایا جاتا۔ طالب علموں کی اکثریت امتحانی پرچہ جات میں سوالات سمجھنے اور سب سے بڑھ کر ’ٹائم منیجمنٹ‘ سے قاصر رہتی ہے‘ جس کا منفی اثر یہ ہوتا ہے کہ اکثر سوالات کے جوابات معلوم ہونے کے باوجود بھی خاطرخواہ نمبر حاصل نہیں کرتے اور نجی سکول کی نمائندگی کرنے والے بورڈ امتحانات میں نمایاں پوزیشنیں لوٹ لے جاتے ہیں! 

پاکستان میں ہر شعبہ زوال پذیر ہے۔ سیاست سے عملی زندگی تک اگر قابل تقلید ہستیاں دکھائی نہیں دیتیں تو دوسری طرف ہمارے طالب علموں کے لئے بھی اُن کے اساتذہ ’’رول ماڈل‘‘ نہیں رہے تو کیا یہ المیہ کم ہے! آج کی تاریخ میں شعبۂ تعلیم میں کامیابی کے لئے جس قدر وقت اور وسائل سے ’سرمایہ کاری‘ نجی اداروں نے کر رکھی ہے حکومت کے ہاں اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی وہ کم سے کم معیار حاصل نہیں ہو پا رہا کیونکہ اصل مسئلہ صرف حاضری پر مبنی نظم و ضبط ہی نہیں بلکہ ہر دقیقے کا استعمال ہے۔ علاقائی یا مادری زبانوں میں درس و تدریس کے عمل سے بچوں میں اسباق کی سمجھ بوجھ بڑھے گی۔ وہ اپنے تصورات کو زیادہ بہتر انداز میں بول سکیں گے لیکن اگر مادری زبانوں پر اِنحصار کا سلسلہ ابتدائی جماعتوں سے آگے نہ بڑھ سکا تو اِس کا منفی اثر یہ نکلے گا کہ بچوں کا جو بھی قیمتی وقت ابتدائی جماعتوں میں مادری زبانوں کے ساتھ ’میل جول‘ میں خرچ ہوگا‘ اُس کا استعمال کرتے ہوئے نجی ادارے آگے نکل جائیں گے جن کے زیرتعلیم طلباء و طالبات اعلیٰ درجات میں اُس وقت بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے جبکہ اِس کی اشد ضرورت ہوگی!

اعلیٰ و ادنیٰ یا ثانوی و بنیادی سرکاری تعلیمی اِداروں کو ’’نصاب کی قید‘‘ سے معنوی طور پر آزاد کرنا ہوگا تاکہ طلباء و طالبات کی شخصیت و کردار سازی کی جانب راغب ہوا جا سکے۔ بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں اُبھارنے کے لئے خیبرپختونخوا کے سرکاری سکولوں میں ڈرائنگ اور آرٹس (فنون لطیفہ) کے مضامین کا اجرأ ابتدائی (پرائمری) کلاسیز سے کرنا خوش آئند تو ہے لیکن حسب حال کافی نہیں جبکہ خیبرپختونخوا کے ’انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ‘ کی تکنیکی مشاورت و عمل سے سرکاری سکولوں میں ہفتم سے نہم جماعت (درجات) تک ’کمپیوٹر لیبارٹریز‘ پر سرسری نظر ڈالی جائے تو یہ نجی شعبے کے مقابلے واجبی ہیں کیونکہ وہاں تو ہر کلاس روم کو ’کمپیوٹر لیب‘ بنایا جا رہا ہے جہاں ملٹی میڈیا پراجیکٹرز نصب ہو رہے ہیں۔ جہاں سمارٹ بورڈ اور ٹیبلٹس کے علاؤہ ویڈیوز کے ذریعے طلباء و طالبات کے اندر مضامین کے بارے تحقیق اور جستجو پیدا کی جارہی ہے۔ عجب ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت سرکاری سکولوں میں کمپیوٹر فراہم کرتے ہوئے وہمی سہمی دکھائی دے رہی ہے اور یہ کام مرحلہ وار کرنے کے لئے چودہ اضلاع کا انتخاب کیا گیا ہے جن کے ساٹھ سکولوں کی قسمت جاگے گی! 

مئی دوہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل خیبرپختونخوا کے طول و عرض کے تمام سرکاری سکولوں میں ’کمپیوٹرلیبز‘ کی تعداد صرف ’ایک سو ستر‘ تھی‘ جنہیں (گذشتہ تین برس کے دوران) بڑھا کر ’ایک ہزار تین سو چالیس‘ کر دیا گیا ہے اور رواں مالی سال (دوہزار سولہ سترہ) کے دوران مزید ایسی پانچ سو کمپیوٹر لیبز قائم کی جائیں گی! منتخب سیاسی حکمران اور افسرشاہی پر مشتمل فیصلہ ساز بخوبی جانتے ہیں کہ کمپیوٹرز کے بغیر تعلیم کا عمل کسی بھی صورت نہ تو مکمل قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اِس سے اُمیدیں وابستہ کرنا دانشمندی ہوگی کیونکہ مستقبل کی ضروریات کے ساتھ کچھ عملی تقاضے بھی جڑے ہوئے ہیں! بالخصوص یہ تناظر ذہن نشین (پیش نظر) رہنا چاہئے کہ ’چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک)‘ سے وہی صوبے یا آبادی کے گروہ زیادہ فائدہ اٹھا سکیں گے جو اپنے ہاں نظام تعلیم اور فنی تربیت کے مواقعوں میں اضافہ کرتے چلے جائیں لیکن افسوس کہ اِس بارے میں نہ تو زیادہ غوروخوض ہو رہا ہے اور نہ ہی یہ موضوع اُن حکومتی ترجیحات کا حصہ ہے جس میں متعلقہ شعبوں کے ماہرین اور بالخصوص نجی اداروں کے ارادوں اور حکمت عملی سے راہیں متعین کی جائیں۔ 

زبانی دعوے‘ مسلط فیصلوں کی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتے اور نہ ہی غلط فیصلوں (بشمول غلط فہمیوں)کو مزید (بے دریغ) مالی وسائل سے درست کرنا ممکن ہو سکے گا۔ کامیابی درست وقت پر درست فیصلے کرنے سے حاصل ہوتی ہے جبکہ تیاری و آمادگی پہلے سے موجود ہو۔ شعبۂ تعلیم میں مقبول عام فیصلے کرنے کی بجائے ’’حقیقی تبدیلی‘‘ کا حصول ہدف ہونا چاہئے‘ تعلیم کے وہ شعبے بطور خاص توجہ کے مستحق ہیں‘ جن کی روشنی میں تعلیم کے درپردہ مقاصد (خواندگی کا جنون) ’’شعور کے تابع‘‘ نظر آئے!

Thursday, September 10, 2015

Sep2015: Grey shades of Governance

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
طرزحکمرانی: ظاہری تقاضے
کسی دانا سے جب یہ پوچھا گیا کہ ’’آپ نے عقل کہاں سے حاصل کی؟‘‘ تو اُنہوں نے اپنے مشاہدے کا ذکر کیا۔ دوسروں کے وہ سبھی کام جن کے نتائج اچھے نہیں ہوتے‘ انہیں ترک اور جن تجربات کے نتائج حوصلہ افزأ تھے اُنہیں اختیار کرتا چلا گیا۔ فہم و فراست میں اضافے کے لئے ’مشاہدے کی صلاحیت‘ تیزدھار ہونی چاہئے۔ سندھ کی صوبائی حکومت نے جب ’سی این جی‘ کی طاقت سے چلنے والی ایسی تمام مسافر گاڑیوں کو نوٹسیز جاری کئے جو بالخصوص تعلیمی اداروں سے منسلک تھیں اور طلباء و طالبات کی حفاظت کے پیش نظر ’سی این جی ایندھن‘ کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا حکمنامہ جاری کیا گیا تو خیبرپختونخوا حکومت کو بھی چاہئے تھا کہ وہ اِس سلسلے میں جاری بے قاعدگی کا نوٹس لیتی اور تعلیمی اِداروں کے زیراستعمال ’ٹرانسپورٹ‘ کو محفوظ بنانے کے علاؤہ گنجائش سے زیادہ بچوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح سوار کرنے کا فوری نوٹس لیا جاتا۔ اِنہی سطور میں اِس سے قبل بھی ’بچوں کو سکول لانے لیجانے والی زیراستعمال نجی گاڑیوں‘ کے حوالے سے گزارشات پیش کرتے ہوئے والدین سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ ’باوجود دیکھنے اور سننے‘ کے خود کو لاتعلق بنائے ہوئے ہیں تو اِس تجاہل عارفانہ کی روش بھی ترک ہونی چاہئے۔

خوش خبری ہے کہ ضلع پشاور کے ٹریفک حکام کو (بالآخر) اِحساس ہوگیا ہے کہ ’’سکول بسیں‘ ویگنیں‘ سوزوکی وینز اور چھوٹی بڑی دیگر گاڑیوں کو نظم وضبط کا پابند ہونا چاہئے!‘‘ اِس سلسلے میں پشاور کے کم اَز کم 60 بڑے تعلیمی اِداروں کو ٹریفک پولیس کی جانب سے نرم لب و لہجے میں ہدایات ارسال کی گئیں ہیں جو آئندہ چند روز میں وصول ہونا بھی شروع ہو جائیں گی جن میں تحریر ملے گا کہ 1: سکول وینز کے ڈرائیور (ڈرائیونگ) لائسینس یافتہ ہونے چاہیءں۔ 2: سکول وینز کے اِنجن دھواں دھار ماحولیاتی آلودگی میں اِضافے کا سبب نہیں ہونے چاہیءں۔ 3: سکول وینز کو کھڑا (پارک) کرنے کے لئے مقررہ مقامات اور نجی ملکیت کی جگہیں ہونی چاہیءں اور چوتھا حکم یہ ہے کہ گنجائش سے زیادہ بچوں کو سکول وینز میں سوار نہ کیا جائے۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے اگرچہ ’سی این جی ایندھن‘ کے استعمال کی جانب توجہ نہیں کی گئی جس کی وجہ سے ہر گاڑی ایک چلتا پھرتا ’بم‘ جیسی ہے جس پر بچے ہر روز سوار ہوتے ہیں! خدا نہ کرے کسی حادثے کی صورت میں ناقابل تلافی جانی نقصان ہونے کا اندیشہ موجود ہے‘ اِس لئے ٹریفک حکام سے دست بستہ عرض ہے کہ وہ ’سی این جی سلینڈرز‘ کے استعمال کو نہ صرف تعلیمی اداروں کے لئے گاڑیوں میں ممنوع قرار دیں بلکہ جملہ پبلک ٹرانسپورٹ کو پابند کریں کہ اگر وہ کرائے پیٹرول اُور ڈیزل (ایندھن) کے فی لیٹر نرخوں کے مطابق وصول کرتے ہیں تو پھر ’سی این جی‘ استعمال نہیں کرسکتے۔ یہی حکمنامہ تین سواریوں والے آٹورکشاؤں اور چھ سواریوں والے چنگ چئی و دیگر چھوٹی سواریوں کے لئے بھی ہونا چاہئے۔ گنجان آباد‘ تنگ شاہراؤں والے شہر کے اندرونی علاقوں میں بڑی بسوں کے داخلے پر پابندی اور دس سے بارہ سواریوں کی گنجائش والی ’موڈیفائیڈ سوزوکی وینز‘ کا استعمال متعارف ہونا چاہئے۔ سکولوں کے لئے بارہ سے پندرہ سال سے پرانے ماڈل کی بسیں استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے تاکہ پشاور میں فضائی آلودگی اُور شورکم سے کم کیا جا سکے۔

پشاور ٹریفک پولیس کے اعلیٰ اہلکار سے ہوئی بات چیت میں معلوم ہوا کہ حکام کو سب سے زیادہ تشویش فی گاڑی گنجائش سے زیادہ بچوں کو سوار کرنے کے بارے میں ہے۔ حالانکہ مسئلہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ و سنجیدہ ہے۔ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی جانب سے بین الاضلاعی و بین الصوبائی کرائے ناموں کا اجرأ باقاعدگی سے کیا جاتا ہے جس پر عمل درآمد نہ ہونا ایک الگ موضوع ہے لیکن سکول وینز کے کرائے طے کرنے کے لئے کوئی اتھارٹی (سرکاری نگران ادارہ) موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فیسوں کی مد میں من چاہے اضافے کے ساتھ بالخصوص نجی تعلیمی ادارے متوسط گھرانوں کی ہر اُس کمزوری کا بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہیں‘ جو خاطرخواہ مالی وسائل نہیں رکھتے یا جن کے پاس سرکاری گاڑیاں اور سرکاری اہلکار بطور ذاتی ڈرائیور نہیں ہوتے۔ مقام افسوس ہے کہ اگر ٹرانسپورٹ اتھارٹی‘ ٹریفک پولیس اُور نگران ایجوکیشن بورڈ ’جانوروں کی طرح انسانی بچوں کو ہانکتے ہوئے سکول لانے لیجانے کا نوٹس نہیں لیتے‘ تو اِس بارے میں ہائی کورٹ بھی خاموش ہے اور وہ ’مفاد عامہ‘ میں ’سوموٹو (ازخود) نوٹس‘ نہیں لے رہی۔ ایک سے بڑھ کر ایک معزز دانشور وکیل موجود ہے لیکن فرصت نہیں کہ ایک آدھ کیس ہی دائر کرکے ’ثواب دارین‘ حاصل کیا جائے! صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ’’پشاور شہر کی حدود میں 20ایسے تعلیمی ادارے ہیں جن کی گاڑیوں سے بچے لٹک کر سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں اور جس گاڑی میں دس بچوں کو بٹھانے کی گنجائش ہوتی ہے وہاں (دھرلے سے) بیس سے تیس بچوں کو سوار کرایا جاتا ہے۔‘‘ اِس سلسلے میں حکام کی توجہ ایک باریک نکتے کی جانب بھی مبذول کرانے کا یہی نادر موقع ہے۔ ڈرائیوروں کے ساتھ اگلی سیٹ پر بچوں (طلباء و طالبات‘ چاہے وہ کسی بھی عمر کی ہوں) کے بیٹھنے پر پابندی عائد ہونی چاہئے‘ اس کی کئی ایک اخلاقی وجوہات ہیں‘ اصولی طور پر ڈرائیور اور بچوں کے درمیان اس قدر قربت درست نہیں کہ وہ ایک معمول کے مطابق جڑ کر سفر کریں۔ دوسری بات سکولوں کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو اِس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ نہ تو ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال کریں اور نہ ہی گاڑیوں میں ’ایف ایم ریڈیو‘ یا ’یو ایس بی‘ ایل سی ڈی‘ ڈی وی ڈی (ڈسپلے سکرین) سے من پسند موسیقی (فلمی ٹوٹوں یا رقص) سے محظوظ ہوں۔ سکول کی گاڑیوں میں ذومعنی اشعار‘ فلمی ستاروں کی تصاویر‘ اسٹیکرز اور ڈیکوریشن کے نام پر لگائے گئے درجنوں آئینے بھی ہٹائے جائیں تاکہ ڈرائیورز کی توجہ اُن کے اصل کام (ذمہ داری) پر مرکوز رہے۔

سکول وینز کا الگ رنگ‘ الگ کٹیگری کا لائسینس‘ ڈرائیوروں کی کسی ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت‘ ڈرائیورز کے کوائف کی ڈیٹابیس‘ ہر گاڑی میں سی سی ٹی وی کیمرہ (جس میں گاڑی کی رفتار اور وقت خودکار انداز سے محفوظ ہو) اور ’جی پی ایس‘ آلہ کی تنصیب ضروری ہے تاکہ اگر کوئی سکول وین کسی ضلع کی مقررہ حدود اور مقررہ راستے کے علاؤہ کسی اُور طرف گامزن ہو تو متعلقہ حکام کو بروقت اطلاع ہوسکے۔ سکول وینز کے لئے ڈرائیور بننے والوں کی اپنے متعلقہ تھانے سے کلیئرنس ضروری قرار دی جائے تاکہ منشیات کے عادی یا نفسیاتی اُلجھنوں اور جرائم میں ملوث اَفراد اِس شعبے میں طبع آزمائی کرتے ہوئے اپنے شوق پورے نہ کریں۔ یہ صرف حساس نہیں بلکہ انتہائی حساس معاملہ ہے‘ بہتر طرز حکمرانی کلی طور پر پوشیدہ عمل نہیں بلکہ اِس کے کچھ ظاہری تقاضے بھی ہیں۔

درحقیقت یہ ذمہ داری خالصتاً ضلعی حکومت (بلدیاتی نمائندوں) پر عائد ہوتی ہے کہ وہ فوری طور پر عملی اقدامات کریں اور اگر ’نجی تعلیمی اِداروں‘ کا قبلہ راتوں رات درست نہیں ہوسکتا تو کم از کم ماہانہ فیسیں مقرر کرنے کا فارمولہ اُور بچوں کی آمدورفت کے معاملات طے کرتے ہوئے والدین (بطور صارفین) کی راحت اور انہیں اِس بات کا لطیف احساس دلایا جائے کہ ’’فیصلہ ساز اپنے اہل و عیال کی طرح عام آدمی (ہم عوام) کے بچوں کی سہولت اُور حفاظت کے بارے میں بھی زیادہ نہیں تو یکساں فکرمند ضرور ہیں!‘‘

Tuesday, August 11, 2015

Aug2015: Transport & schooling tension!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
تشویشناک تشویش
نجی تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم بچوں کے والدین کے لئے تفکرات کی کمی نہیں۔ ٹیوشن فیسوں میں بناء کسی تناسب سالانہ اضافہ ہی باعث تشویش نہیں‘ بلکہ کلر ڈے‘ سپورٹس ڈے‘ یہ ڈے‘ وہ ڈے اور نجانے کون کون سے ڈے والدین کو کتنے بھاری پڑتے ہیں‘ اِس کا اندازہ و بیان الفاظ میں ممکن نہیں۔ اگرچہ تعلیم کا معیار روز بہ روز گر رہا ہے لیکن اس کے اخراجات بڑھ رہے ہیں۔

 ماضی میں آٹھویں جماعت پاس بچوں کی ذہانت و قابلیت دیدنی ہوا کرتی تھی اور اگر کوئی بی اے یا ایم اے کر لیتا تھا تو وہ سند کو اپنے نام کے ساتھ بطور سابقہ استعمال کرتا۔ گھر پر تختی لگائی جاتی کہ فلاں بن فلاں۔ ایم اے۔ آج بھی پشاور کی گلی کوچوں میں اکا دکا ایسی تختیاں نصب مل ہی جاتی ہیں‘ جنہیں اگرچہ موسمی اثرات نے کھرچ دیا ہے لیکن الفاظ کا تسلسل باقی ہے۔ تعلیم و تربیت کا وہ بلند معیار‘ اَخلاق‘ اَقدار اور اِنسانیت پر مبنی رویئے اگر تبدیل ہوئے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ ہمارے درس و تدریس کا طریقہ ہے‘ جس میں رٹے رٹائے جملوں کی اہمیت نصاب سے حاصل ہونے والے اسباق پر مقدم کر دی گئی ہے۔ اپنا پیٹ کاٹ پر بچوں کے تعلیمی اَخراجات پورا کرنے والے والدین اگر ایک طرف معیار تعلیم سے مطمئن نہیں تو دوسری جانب اُنہوں اپنے بچوں کی درسگاہوں تک آمدورفت کے لئے ناقابل بھروسہ وسائل پر بھروسہ کرنے جیسی مجبوری لاحق ہے‘ جس نے اُن کا خون خشک کر رکھا ہے!

فیصلہ سازوں کو دیکھنا چاہئے کہ جن نجی تعلیمی اداروں کی جانب سے بچوں کی تعداد کے تناسب سے ٹرانسپورٹ کا انتظام نہیں کیا جاتا‘ اُنہیں اِس ’کاروبار‘ سے الگ کردیا جائے۔ سرکاری سکولوں کو بھی اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ طلباء و طالبات کی تعداد کے تناسب سے ٹرانسپورٹ کا بندوبست کریں کیونکہ تعلیم کی طرح ٹرانسپورٹ کا شعبہ جس نجی شعبے کے حوالے کر دیا گیا ہے‘ وہ کسی ’ریگولیٹری اتھارٹی‘ کے تابع فرمان نہیں۔

بطور مثال ایبٹ آباد کی وسطی اور گنجان آباد شہری یونین کونسل کیہال کے رہائشی طاہر شکیل کے ساتھ پیش آنے والے واقعات ملاحظہ کیجئے جن کے بارہ سالہ بیٹے کو دو دیگر ساتھیوں سمیت سوزوکی ڈرائیور نے اغوأ کر لیا‘ اُور اگرچہ اِس اغوأ کی اطلاع متعلقہ پولیس تھانے اور حکام بالا تک پہنچا دی گئی لیکن بچوں کا سراغ نہیں ملا۔ غم زدہ خاندان کی خوش قسمتی تھی کہ فیض آباد روالپنڈی کے مقام پر بچے موقع ملتے ہی فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جنہوں نے بعدازاں ایک ٹریفک کانسٹیبل کی مدد سے گھر رابطہ کیا اور یوں ایک ایسا سانحہ رونما ہوتے ہوتے رہ گیا‘ جس کے کئی ایک پہلو ہیں۔ کیا بچوں کو دہشت گردی (خودکش حملوں) میں استعمال کرنے کے لئے اغوأ کیا گیا؟ کیا انہیں انسانی اسمگلنگ کے کسی گروہ کے ہاتھوں فروخت کردینا تھا جو بعدازاں جبری مشقت یا بیرون ملک انہیں غلام بنا کر بیچ دیتا یا یہ اغوأ برائے تاوان کی واردات تھی۔ جن متوسط خاندانوں سے بچوں کا تعلق ہے‘ اُسے دیکھتے ہوئے زیادہ تاوان ملنے کی اُمید نہیں تھی لیکن یقیناًاغوأکار نہ تو اکیلے تھے اور نہ ہی گردوپیش سے بے نیاز۔ یہی وجہ تھی کہ وہ دن دیہاڑے واردات کرنے کے باوجود نصف درجن پولیس ناکوں سے گزرتے ہوئے ایبٹ آباد سے روالپنڈی جا پہنچے اور پھر بھی گرفتار نہیں ہوئے!

تعلیمی اداروں کے شہر ’ایبٹ آباد‘ میں رونما ہونے والا اپنی نوعیت کا یہ منفرد واقعہ ہے لیکن پہلا نہیں۔ پولیس کے اعلیٰ حکام سخت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں لیکن اپنی ناکامی ماننے کے لئے تیار نہیں کہ کس طرح ایک نامعلوم و غیرمقامی ڈرائیور ’سکول وین‘ چلانے لگا۔ پھر وہ کہاں رہائش پذیر رہا اور واردات کے بعد مصروف چوراہوں سے ہوتا ہوا صرف ضلع ایبٹ آباد ہی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کی حدود سے ہی باہر جا پہنچا۔ اس سلسلے میں تفتیش کا دائرہ کار روائتی راستوں کی بجائے اُن غیرروائتی راستوں تک بھی وسیع ہونا چاہئے‘ جن پر سفر کرنے والوں کو پولیس چیک پوسٹوں سے واسطہ نہیں پڑتا۔ اگر پولیس کے پاس افرادی قوت کی کمی ہے تو ایسے راستوں کی نگرانی ’سی سی ٹی وی کیمروں‘ سے باآسانی ممکن ہے۔

والدین کی تو مجبوری ہے کہ وہ بچوں کی سکولنگ کے ساتھ اُس ٹرانسپورٹ پر بھی بھروسہ کریں جس کی شناخت و اجازت کے مراحل میں وہ شریک نہیں اور نہ ہی متعلقہ سکولوں کو اس بات سے کوئی غرض ہے کہ سکول گیٹ کے باہر بچوں کو لانے لیجانے والے ڈرائیور یا ٹرانسپورٹ کا نظام کس قدر سنجیدہ توجہ چاہتا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم سکولوں کے لئے استعمال ہونے والی ٹرانسپورٹ کو ریگولیٹ کرنے کے لئے الگ سے نظام مرتب نہیں کرسکتے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ سکولوں کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیوں کا رنگ الگ ہو‘ اُن کی رجسٹریشن‘ فٹنس سرٹیفکیٹ اور ڈرائیور کے کوائف کا ریکارڈ رکھا جائے۔ ایسی گاڑیاں مقررہ راستوں یا ضلع کی حدود سے اگر باہر جائیں تو اس کی اطلاع خودکار نظام کے تحت متعلقہ تھانے کو مل جائے۔ ڈرائیور کی بودوباش اور عادات پر نظر رکھی جائے۔ گاڑی میں موسیقی یا دوران سفر بچوں کے ساتھ ڈرائیور کے ہنسی مذاق کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ ڈرائیور کے ساتھ اگلی نشست پر بیٹھ کر طلباء یا طالبات کے سفر پر پابندی عائد کی جائے اور گاڑی میں نشست کے تناسب سے بچوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد مقرر کی جائے۔ حال ہی میں سندھ حکومت نے ایسی تمام پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیوں پر پابندی عائد کر دی ہے جو ’سی این جی‘ یا ایل پی جی (مائع گیس)‘ سے چلتی ہیں۔ خیبرپختونخوا کی موٹروہیکل اتھارٹی اور محکمۂ تعلیم کے حکام بھی ایسی تمام چھوٹی بڑی بسوں‘ ویگنوں اور سوزوکی وینز بالخصوص تعلیمی اداروں کے لئے استعمال ہونے گاڑیوں پر پابندی عائد کر سکتی ہے جن میں بطور ایندھن گیس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ گیس کے یہ سلنڈر مسافروں کی نشستوں کے نیچے نصب کئے جاتے ہیں‘ جو کسی ٹائم بم ہی طرح انتہائی خطرناک ہیں۔ کیا ہم کسی جان لیوا حادثے کے رونما ہونے کا انتظار کر رہے ہیں؟

بچوں کے لئے باسہولت اور باحفاظت ذرائع آمدورفت کی دستیابی ممکن بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے‘ یوں یکے بعد دیگرے ہر کام نجی شعبے کے حوالے کرنے اور ساکت و جامد ’ریگولیٹری اتھارٹیز‘ کے چال چلن سے بظاہر جو کام چل رہا ہے‘ جس سے چونکہ صرف عام آدمی کو تشویش لاحق ہے اس لئے سیاسی و مبینہ غیرسیاسی فیصلہ ساز اپنی اپنی دنیا میں مگن ہیں۔ جن کے بچوں کے لئے سرکاری گاڑیاں‘ سرکاری ملازم بطور ڈرائیور اور قومی خزانے سے وافر ایندھن دستیاب ہو‘ اُن کے والدین کو بھلا کیا تشویش ہوگی‘ مسئلہ تو اُس عام آدمی (ہم عوام) کا ہے‘ جنہیں کسی پل چین نہیں۔ بلاامتیاز احتساب اور سرکاری وسائل کا ضیاع روکنے پر یقین رکھنے والی خیبرپختونخوا حکومت کیا سرکاری گاڑیوں کے دفتری اوقات کے بعد استعمال پر پابندی عائد کر سکتی ہے؟

 اگر فیصلہ سازوں کو اس بات راغب نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں تعلیم دلوائیں تاکہ اِن اداروں کی حالت بہتر بنائی جا سکے تو کیا یہ بھی ممکن نہیں کہ آمدورفت کے لئے سرکاری گاڑیاں استعمال کرنے کی ممانعت ہونی چاہئے۔ عین ممکن ہے کہ جب فیصلہ سازوں کے اپنے بچے نجی ٹرانسپورٹ میں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونس کر سفر کریں تو کسی کو اِس ’بظاہر معمولی مسئلے‘ کی جانب توجہ کرنے کی بھی ضرورت محسوس ہو!
Concerns of parents regarding the safety of their kids & public transport using for schools