Sunday, October 4, 2015

Oct2015: TRANSLATION: Rs8,500,000,000,000

Rs8,500,000,000,000
ساڑھے آٹھ کھرب روپے!
پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں خردبرد کئے جانے والے سرکاری مالی وسائل کا حجم ساڑھے آٹھ کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ یہ اندازہ کم سے کم مالی بدعنوانی جاننے کے لئے ایک عالمی فارمولے سے اخذ کیا گیا ہے۔ اِس فارمولے کے خالق ڈاکٹر رابرٹ کلٹگارڈ (Dr. Robert Klitgaad) ہیں جس کے مطابق اختیارات کے عوض برسرحکومت سیاسی شخصیات فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ ڈاکٹر رابرٹ دنیا بھر میں مالی بدعنوانیوں کی کھوج لگانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اُن کے وضع کردہ طریقۂ کار سائنسی اعتبار سے مستند تسلیم کئے جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں بھی منتخب عوامی نمائندے یا چنیدہ افراد کو فیصلہ سازی یا حکومت کا منصب دیا جاتا ہے اور اُنہیں صوابدیدی اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں تو اس کا نتیجہ بدعنوانی کی صورت ہی برآمد ہوتا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ یہ نظریہ بھی پیش کرتے ہیں کہ جہاں کہیں احتساب کا ادارہ تو موجود ہو لیکن اس کے ذریعے احتساب کا عمل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کیا جائے وہاں مالی بدعنوانیاں کرنے والے ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ طاقتور اور حکومتی معاملات پر حاوی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس عالمی درجہ بندی میں امریکہ‘ جاپان‘ جنوبی کوریا اُور پاکستان کا شمار کیا گیا ہے جہاں اختیارات کے ذریعے سیاسی و غیرسیاسی حکمران اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ اور ذاتی مالی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہیں! نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک اور عوام کی اکثریت غریب جبکہ گنتی کے چند خاندان امیر ہو جاتے ہیں!

پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں پاکستان میں کل 100کھرب روپے کے مساوی پیداوار ہوئی اور اگر اِس کا صرف 8.5 فیصد ہی کے حصے میں خردبرد کی گئی تو یہ کم سے کم اور محتاط اندازے کے مطابق 8.5کھرب روپے کی بدعنوانی بنتی ہے۔ بظاہر دیکھنے میں لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے آٹھ کھرب سے زیادہ کی مالی بدعنوانی کیسے کی ہو گی لیکن پانچ برس کا عرصہ اور کم سے کم ساڑھے آٹھ فیصد کے تناسب سے اوسط بدعنوانی کی گئی ہے۔ اِس ساڑھے آٹھ کھرب روپے سے زائد کی مالی بدعنوانی کو مزید آسان بنا کر بھی سمجھایا جاسکتا ہے اور وہ کچھ یوں ہے کہ پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی مردوعورت‘ بوڑھے و جوان اور بچے سے 50 ہزار روپے چھینے گئے۔ اعدادوشمار کو مزید آسان کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ ہر پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی خاندان سے 3لاکھ 50 ہزار روپے جیسی خطیر رقم لوٹی گئی ہے!

پاکستان میں نہ تو انسداد بدعنوانی اور احتساب کے قوانین و قواعد کی کمی ہے اور نہ ہی اِن قوانین پر عمل درآمد ممکن بنانے کے لئے مخصوص ادارے ہی تعداد میں کم ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک بڑا ادارہ موجود ہے لیکن اگر آپ اِن اداروں کی سالانہ کارکردگی پر نظر ڈالیں تو مایوسی ہوگی کہ انہوں نے نہایت ہی کم شرح سے مالی بدعنوانوں کو انجام تک پہنچایا ہے اور لوٹا ہوا سرکاری مال واپس خزانے میں جمع کرایا ہے۔ ہمارے سامنے مغربی ممالک کی کئی ایک ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے احتساب و انسداد بدعنوانی کے سخت قوانین بنانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد بھی کیا گیا جس کے نتائج اُن کی ترقی کی صورت پوری دنیا دیکھ بھی رہی ہے اور اُن معاشروں میں ہونے والی علمی و فکری ترقی سے فائدہ بھی اُٹھا رہی ہے۔

سال 2014ء کے دوران پاکستان کے ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کو مالی بدعنوانیوں کی 18 ہزار 818 شکایات موصول ہوئیں جن کی جانچ کے بعد 887 درخواستوں پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور سال 2014ء میں نیب نے بدعنوانوں کے خلاف 819 مقدمات درج کرائے جن میں سے صرف 44 مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف بدعنوانی کا جرم ثابت کیا جاسکا! اگر ہم سنگاپور کی مثال لیں تو وہاں کا ’نیب‘ ہر سال موصول ہونے والی شکایات پر کاروائی کرتا ہے اور 95فیصد کی شرح سے ملوث ملزمان کو سزائیں ہوتی ہیں۔ ہانگ کانگ میں یہی شرح 85فیصد ہے۔ ملائیشیا میں 80فیصد جبکہ بھارت کی ایک ریاست مہاراشٹر میں نیب حکام نے مالی بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں سالانہ 30فیصد کے تناسب سے کامیابی حاصل کی ہے!

میرے یہ الفاظ یاد رکھئے گا کہ ہمارے ہاں انسداد بدعنوانی اور قومی احتساب بیورو سمیت جملہ انتظامی ڈھانچہ ’بدعنوان عناصر‘ کو ختم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اُنہیں تحفظ دینے کے لئے تشکیل و مرتب کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے ڈاکٹر عاصم حسین سے بھی کچھ حاصل وصول ہونے کی توقع نہیں!

سال 2008ء میں جب آصف علی زرداری کا دورِ اقتدار شروع ہوا تو اُس وقت حکومت کا قرض 6 کھرب روپے تھا۔ 2013ء میں جب اُن کا دور حکومت ختم ہوا تو حکومت کا قرض 8 کھرب روپے یعنی اس میں 2 کھرب روپے کا اضافہ ہوچکا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ مالی نظم و ضبط اور احتساب و انسداد بدعنوانی نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں قرض لیکر پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کو کھڑا رکھنا پڑتا ہے۔ اگر مالی نظم و ضبط نافذ ہو جائے‘ مالی بدعنوانی کے امکانات تک باقی نہ ہوں اور بدعنوانوں کو قرار واقعی سزائیں دے کر نشان عبرت بنایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنے ہی وسائل کو ترقی کے ذریعے اقتصادی طور پر مستحکم ہوتا چلا جائے اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں سال بہ سال اضافے کی بجائے کمی ہوتی چلی جائے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)Rs8,500,000,000,000
ساڑھے آٹھ کھرب روپے!

پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں خردبرد کئے جانے والے سرکاری مالی وسائل کا حجم ساڑھے آٹھ کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ یہ اندازہ کم سے کم مالی بدعنوانی جاننے کے لئے ایک عالمی فارمولے سے اخذ کیا گیا ہے۔ اِس فارمولے کے خالق ڈاکٹر رابرٹ کلٹگارڈ (Dr. Robert Klitgaad) ہیں جس کے مطابق اختیارات کے عوض برسرحکومت سیاسی شخصیات فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ ڈاکٹر رابرٹ دنیا بھر میں مالی بدعنوانیوں کی کھوج لگانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اُن کے وضع کردہ طریقۂ کار سائنسی اعتبار سے مستند تسلیم کئے جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں بھی منتخب عوامی نمائندے یا چنیدہ افراد کو فیصلہ سازی یا حکومت کا منصب دیا جاتا ہے اور اُنہیں صوابدیدی اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں تو اس کا نتیجہ بدعنوانی کی صورت ہی برآمد ہوتا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ یہ نظریہ بھی پیش کرتے ہیں کہ جہاں کہیں احتساب کا ادارہ تو موجود ہو لیکن اس کے ذریعے احتساب کا عمل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کیا جائے وہاں مالی بدعنوانیاں کرنے والے ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ طاقتور اور حکومتی معاملات پر حاوی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس عالمی درجہ بندی میں امریکہ‘ جاپان‘ جنوبی کوریا اُور پاکستان کا شمار کیا گیا ہے جہاں اختیارات کے ذریعے سیاسی و غیرسیاسی حکمران اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ اور ذاتی مالی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہیں! نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک اور عوام کی اکثریت غریب جبکہ گنتی کے چند خاندان امیر ہو جاتے ہیں!

پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں پاکستان میں کل 100کھرب روپے کے مساوی پیداوار ہوئی اور اگر اِس کا صرف 8.5 فیصد ہی کے حصے میں خردبرد کی گئی تو یہ کم سے کم اور محتاط اندازے کے مطابق 8.5کھرب روپے کی بدعنوانی بنتی ہے۔ بظاہر دیکھنے میں لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے آٹھ کھرب سے زیادہ کی مالی بدعنوانی کیسے کی ہو گی لیکن پانچ برس کا عرصہ اور کم سے کم ساڑھے آٹھ فیصد کے تناسب سے اوسط بدعنوانی کی گئی ہے۔ اِس ساڑھے آٹھ کھرب روپے سے زائد کی مالی بدعنوانی کو مزید آسان بنا کر بھی سمجھایا جاسکتا ہے اور وہ کچھ یوں ہے کہ پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی مردوعورت‘ بوڑھے و جوان اور بچے سے 50 ہزار روپے چھینے گئے۔ اعدادوشمار کو مزید آسان کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ ہر پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی خاندان سے 3لاکھ 50 ہزار روپے جیسی خطیر رقم لوٹی گئی ہے!
پاکستان میں نہ تو انسداد بدعنوانی اور احتساب کے قوانین و قواعد کی کمی ہے اور نہ ہی اِن قوانین پر عمل درآمد ممکن بنانے کے لئے مخصوص ادارے ہی تعداد میں کم ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک بڑا ادارہ موجود ہے لیکن اگر آپ اِن اداروں کی سالانہ کارکردگی پر نظر ڈالیں تو مایوسی ہوگی کہ انہوں نے نہایت ہی کم شرح سے مالی بدعنوانوں کو انجام تک پہنچایا ہے اور لوٹا ہوا سرکاری مال واپس خزانے میں جمع کرایا ہے۔ ہمارے سامنے مغربی ممالک کی کئی ایک ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے احتساب و انسداد بدعنوانی کے سخت قوانین بنانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد بھی کیا گیا جس کے نتائج اُن کی ترقی کی صورت پوری دنیا دیکھ بھی رہی ہے اور اُن معاشروں میں ہونے والی علمی و فکری ترقی سے فائدہ بھی اُٹھا رہی ہے۔

سال 2014ء کے دوران پاکستان کے ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کو مالی بدعنوانیوں کی 18 ہزار 818 شکایات موصول ہوئیں جن کی جانچ کے بعد 887 درخواستوں پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور سال 2014ء میں نیب نے بدعنوانوں کے خلاف 819 مقدمات درج کرائے جن میں سے صرف 44 مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف بدعنوانی کا جرم ثابت کیا جاسکا! اگر ہم سنگاپور کی مثال لیں تو وہاں کا ’نیب‘ ہر سال موصول ہونے والی شکایات پر کاروائی کرتا ہے اور 95فیصد کی شرح سے ملوث ملزمان کو سزائیں ہوتی ہیں۔ ہانگ کانگ میں یہی شرح 85فیصد ہے۔ ملائیشیا میں 80فیصد جبکہ بھارت کی ایک ریاست مہاراشٹر میں نیب حکام نے مالی بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں سالانہ 30فیصد کے تناسب سے کامیابی حاصل کی ہے!

میرے یہ الفاظ یاد رکھئے گا کہ ہمارے ہاں انسداد بدعنوانی اور قومی احتساب بیورو سمیت جملہ انتظامی ڈھانچہ ’بدعنوان عناصر‘ کو ختم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اُنہیں تحفظ دینے کے لئے تشکیل و مرتب کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے ڈاکٹر عاصم حسین سے بھی کچھ حاصل وصول ہونے کی توقع نہیں!

سال 2008ء میں جب آصف علی زرداری کا دورِ اقتدار شروع ہوا تو اُس وقت حکومت کا قرض 6 کھرب روپے تھا۔ 2013ء میں جب اُن کا دور حکومت ختم ہوا تو حکومت کا قرض 8 کھرب روپے یعنی اس میں 2 کھرب روپے کا اضافہ ہوچکا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ مالی نظم و ضبط اور احتساب و انسداد بدعنوانی نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں قرض لیکر پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کو کھڑا رکھنا پڑتا ہے۔ اگر مالی نظم و ضبط نافذ ہو جائے‘ مالی بدعنوانی کے امکانات تک باقی نہ ہوں اور بدعنوانوں کو قرار واقعی سزائیں دے کر نشان عبرت بنایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنے ہی وسائل کو ترقی کے ذریعے اقتصادی طور پر مستحکم ہوتا چلا جائے اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں سال بہ سال اضافے کی بجائے کمی ہوتی چلی جائے۔

(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین  اِمام)

Saturday, October 3, 2015

Oct2015: LG System: The tussle of powers!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
کوئی سنے گا تو کیا کہے گا؟
بلدیاتی (مقامی) حکومتوں کے قیام میں اَگر غیرضروری اُور طویل تعطل پیش نہ آیا ہوتا تو خیبرپختونخوا کی تین انتظامی اکائیوں (حکومت‘ نومنتخب بلدیاتی نمائندوں اور افسرشاہی) کے درمیان اپنے اپنے دائرہ کار بالخصوص مالی و انتظامی اختیارات کے حوالے سے پائی جانے والی موجودہ بداعتمادی اُور ایک دوسرے سے سنگین نوعیت کے گلے شکوے‘ تشکر کے محل کو یوں بدمزا نہ کرتے لیکن موجودہ صورتحال انتہائی سنگین ہے جس میں صوبائی حکومت کے وزرأ کو شکایت ہے کہ ناظمین‘ نائب ناظمین اور دیگر نمائندے ہلڑبازی اور جلدبازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور اُنہوں نے اپنے ذمہ داریوں سے متعلق آئین میں لکھی ہدایات پڑھنے اور سمجھنے سے قبل ہی معاملات ہاتھ میں لینا شروع کر دیئے ہیں۔ دوسری طرف ’اقتدار کی نچلی سطح تک منتقلی‘ کا حوالہ دیتے ہوئے نومنتخب بلدیاتی نمائندے صوبائی اسمبلی کے اراکین کو یاد دلاتے ہیں کہ جناب آپ تو قانون ساز ایوان کے رکن ہیں اور آپ کا کام تو صرف اور صرف قانون سازی ہونا چاہئے‘ یہ ترقیاتی فنڈز آپ کے اختیار میں کیوں ہیں؟‘‘ تصادم و ٹکڑاؤ کے اِس ماحول میں دیوار سے لگی افسرشاہی مسکرا رہی ہے اُور جمہوری اکائیوں کے آپسی ٹکڑاؤ سے بھرپور فائدہ اُٹھا رہی ہے! ’’باہر آتے ہیں آنسو اَندر سے۔۔۔ جانے اَندر کہاں سے آتے ہیں!‘‘

نومنتخب بلدیاتی نمائندوں اُور سرکاری ملازمین کے درمیان ’تو تو میں میں (بحث وتکرار)‘ کے واقعات خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں پیش آ رہے ہیں‘ جس کا ایک سبب تو یہ ہے کہ اعلیٰ و ادنی عہدوں پر فائز ’سرکاری ملازمین کے دستے‘ خود کو کسی کے سامنے جوابدہ نہیں سمجھتے اور بالخصوص اُنہوں نے طے کر لیا ہے کہ کسی بھی صورت نومنتخب بلدیاتی نمائندوں کو اپنے اُوپر حاوی نہیں ہونے دیں گے اور شروع دن سے اپنی ’آزادی و خودمختاری‘ کا ہرممکن نہیں بلکہ مکمل دفاع کریں گے۔ دوسری طرح بلدیاتی نمائندے ہیں جن کی اکثریت کا تعلق اُس پسے ہوئے طبقے سے ہے جو سرکاری ملازمین کی چال چلن سے بخوبی آگاہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ نئے انتظامی بلدیاتی نظام کے فعال ہوتے ہی سب سے پہلا کام خدمات (سروسیز) کے شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے ’سرکاری ملازمین کا قبلہ درست‘ کرنے کو ضروری سمجھا گیا‘ جس کی یقیناًضرورت ایک عرصے بلکہ انتہائی شدت سے محسوس کی جا رہی تھی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اعلیٰ ہوں یا اَدنی‘ سرکاری ملازمین متحد ہیں۔گذشتہ ہفتے نومنتخب بلدیاتی نمائندوں نے جب ایک ’کلاس فور ملازم‘ کی کھڑے کھڑے طبیعت صاف کی تو اگلے ہی روز وہاں کے ڈپٹی کمشنر نے نومنتخب نمائندوں کو اپنے دفتر تواضع کے بہانے طلب کیا اور باتوں باتوں میں کہا کہ ’’اگر آپ لوگ سرکاری ملازمین کی عزت و احترام نہیں کریں گے‘ تو تلخ کلامی‘ ہاتھا پائی یا کسی قسم کی بدمزگی پیش آنے کی صورت انتظامیہ آپ کی مدد نہیں کر سکے گی‘ لہٰذا باعزت بننے کے لئے آپ کو بہرصورت سرکاری ملازمین کی عزت کرنا ہوگی!‘‘
اختیارات کی یہ جنگ صرف کسی ایک ضلع تک ہی محدود نہیں بلکہ اس کی شدت و گہرائی کا اندازہ اِس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2 اکتوبر کو ہوئے صوبائی اسمبلی اجلاس کے دوران جب ’قومی وطن پارٹی‘ کے اَراکین حزب اختلاف کی بجائے حزب اقتدار کے ساتھ براجمان ہوئے تو انہوں نے ’صبر یا مصلحت‘سے کام لینے کی بجائے بلدیاتی نظام کے حوالے سے اپنے خدشات ایوان میں بیان کرڈالے۔ رکن صوبائی اسمبلی بخت بیدار خان نے ’’ناظمین بننے کے لئے اہلیت کے کسی معیار سے متعلق سوال اٹھایا‘ جو اس بات کا بین ثبوت تھا کہ اراکین اسمبلی کو بلدیاتی نمائندے ایک آنکھ نہیں بھا رہے! ابھی اجلاس کا آغاز ہوا ہی تھا کہ بخت بیدار کے علاؤہ منور خان (جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمن)‘ شاہ حسین (عوامی نیشنل پارٹی) بھی بحث میں کود پڑے اور اُنہوں نے ضلع وتحصیل کی سطح پر انتظامی مسائل کا ذکر کرنا شروع کردیا۔ ایک موقع پر تو اراکین اسمبلی نے اسپیکر اسد قیصر کو مخاطب کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ جناب ۔۔۔ ’’صوبائی اسمبلی ہال میں بلدیاتی نمائندوں کے لئے بھی نشستوں کا اضافہ کردیا جائے!‘‘

نظام حکومت جو بھی ہو اُور چاہے جتنا بھی پرانا یا نیا ہو‘ حقیقت حال تو یہ ہے کہ عام آدمی (ہم عوام) کی اِس تہہ در تہہ حکمرانی کرنے والوں سے وابستہ توقعات پوری نہیں ہو رہیں! وہ کون سی آئینی ذمہ داریاں ہیں‘ جنہیں پورا کیا جارہا ہو؟ پینے کے صاف پانی‘ علاج معالجے اُور معیاری تعلیم کی فراہمی‘ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ‘ ذخیرہ اندوزی کے ذریعے مصنوعی مہنگائی‘ حتیٰ کہ جعلی اور زائدالمعیاد ادویات کی کھلے عام فروخت روکنا تو دُور کی بات سرکاری وسائل کا اسراف اُور ملازمین کی کارکردگی تک تسلی بخش بنانے کے لئے سنجیدہ عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آ رہے۔

 اَراکین صوبائی اسمبلی کا اِنتخاب کیا گیا کہ وہ عام آدمی (ہم عوام) کے مفادات کا تحفظ کریں گے لیکن سب کچھ انتخابی سیاست کی نذر ہو گیا۔ مختلف النظریات سیاسی جماعتوں نے حکومت کرنے کے لئے وزارتوں کو مل بانٹ کر دائرے بنا لئے گئے اور غیرتحریری طور پر طے کر لیا گیا کہ کوئی ایک دوسرے کی کارکردگی کے بارے سوال (اعتراض) نہیں کرے گا! ضلعی نظام آیا تو پشاور جیسے مرکزی شہر کے پہلے بجٹ میں 7 ارب روپے سے زائد کے مالی وسائل غیرترقیاتی اخراجات کے لئے مختص کر دیئے گئے! کیا پہلے ہی صوبائی حکومت کی صورت ’غیرترقیاتی اخراجات‘ کرنے والے نفوس و اذہان عالیہ کم تھے کہ ’’بلدیاتی نمائندوں نے بھی ’مال مفت دل بے رحم‘ کی روش برقرار رکھی!‘‘ پشاور کی ’سٹی ڈسٹرکٹ حکومت‘ کے 24 شعبہ جات ہیں۔ رواں مالی سال کے باقی ماندہ عرصہ کے دوران ان چوبیس شعبوں کے ملازمین کی تنخواہوں کے لئے کم وبیش 70 لاکھ روپے جبکہ ’’دیگر جاری اخراجات‘‘کی مد میں (ماشاء اللہ) 38 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں! عجب ہے کہ برسرزمین ترقی سے زیادہ اخراجات صرف اور صرف انتظامی مصروفیات (حیلوں بہانوں)کی نذر کرنے کی روایت ماضی کی طرح جوں کی توں برقرار ہے۔ آخری خبریں آنے تک صوبائی اسمبلی ہو یا ضلعی و تحصیل کے ایوان نمائندگان‘ زیادہ سے زیادہ مالی و انتظامی اختیارات حاصل کرنے کی کوششیں‘ جدوجہد‘ سردجنگ‘ رسہ کشی اُور چھینا چھپٹی کا سلسلہ جاری ہے! ’’بھنور میں مجھ کو جو ڈال آتے تو بات تم پر کبھی نہ آتی ۔۔۔ یوں مجھ کو ساحل پہ لا ڈبونا‘ کوئی سنے گا تو کیا کہے گا!‘‘