Rs8,500,000,000,000
ساڑھے آٹھ کھرب روپے!
ساڑھے آٹھ کھرب روپے!
پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں خردبرد کئے جانے والے سرکاری مالی
وسائل کا حجم ساڑھے آٹھ کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ یہ اندازہ کم سے کم مالی
بدعنوانی جاننے کے لئے ایک عالمی فارمولے سے اخذ کیا گیا ہے۔ اِس فارمولے
کے خالق ڈاکٹر رابرٹ کلٹگارڈ (Dr. Robert Klitgaad) ہیں جس کے مطابق
اختیارات کے عوض برسرحکومت سیاسی شخصیات فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یہ امر بھی ذہن
نشین رہے کہ ڈاکٹر رابرٹ دنیا بھر میں مالی بدعنوانیوں کی کھوج لگانے کے
ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اُن کے وضع کردہ طریقۂ کار سائنسی اعتبار سے مستند
تسلیم کئے جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں بھی منتخب عوامی نمائندے
یا چنیدہ افراد کو فیصلہ سازی یا حکومت کا منصب دیا جاتا ہے اور اُنہیں
صوابدیدی اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں تو اس کا نتیجہ بدعنوانی کی صورت ہی
برآمد ہوتا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ یہ نظریہ بھی پیش کرتے ہیں کہ جہاں کہیں احتساب
کا ادارہ تو موجود ہو لیکن اس کے ذریعے احتساب کا عمل عوام کی آنکھوں میں
دھول جھونکنے کے لئے کیا جائے وہاں مالی بدعنوانیاں کرنے والے ہر گزرتے دن
کے ساتھ زیادہ طاقتور اور حکومتی معاملات پر حاوی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس
عالمی درجہ بندی میں امریکہ‘ جاپان‘ جنوبی کوریا اُور پاکستان کا شمار کیا
گیا ہے جہاں اختیارات کے ذریعے سیاسی و غیرسیاسی حکمران اپنے ذاتی مفادات
کا تحفظ اور ذاتی مالی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہیں! نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک
اور عوام کی اکثریت غریب جبکہ گنتی کے چند خاندان امیر ہو جاتے ہیں!
پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں پاکستان میں کل 100کھرب روپے کے مساوی پیداوار ہوئی اور اگر اِس کا صرف 8.5 فیصد ہی کے حصے میں خردبرد کی گئی تو یہ کم سے کم اور محتاط اندازے کے مطابق 8.5کھرب روپے کی بدعنوانی بنتی ہے۔ بظاہر دیکھنے میں لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے آٹھ کھرب سے زیادہ کی مالی بدعنوانی کیسے کی ہو گی لیکن پانچ برس کا عرصہ اور کم سے کم ساڑھے آٹھ فیصد کے تناسب سے اوسط بدعنوانی کی گئی ہے۔ اِس ساڑھے آٹھ کھرب روپے سے زائد کی مالی بدعنوانی کو مزید آسان بنا کر بھی سمجھایا جاسکتا ہے اور وہ کچھ یوں ہے کہ پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی مردوعورت‘ بوڑھے و جوان اور بچے سے 50 ہزار روپے چھینے گئے۔ اعدادوشمار کو مزید آسان کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ ہر پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی خاندان سے 3لاکھ 50 ہزار روپے جیسی خطیر رقم لوٹی گئی ہے!
پاکستان میں نہ تو انسداد بدعنوانی اور احتساب کے قوانین و قواعد کی کمی ہے اور نہ ہی اِن قوانین پر عمل درآمد ممکن بنانے کے لئے مخصوص ادارے ہی تعداد میں کم ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک بڑا ادارہ موجود ہے لیکن اگر آپ اِن اداروں کی سالانہ کارکردگی پر نظر ڈالیں تو مایوسی ہوگی کہ انہوں نے نہایت ہی کم شرح سے مالی بدعنوانوں کو انجام تک پہنچایا ہے اور لوٹا ہوا سرکاری مال واپس خزانے میں جمع کرایا ہے۔ ہمارے سامنے مغربی ممالک کی کئی ایک ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے احتساب و انسداد بدعنوانی کے سخت قوانین بنانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد بھی کیا گیا جس کے نتائج اُن کی ترقی کی صورت پوری دنیا دیکھ بھی رہی ہے اور اُن معاشروں میں ہونے والی علمی و فکری ترقی سے فائدہ بھی اُٹھا رہی ہے۔
سال 2014ء کے دوران پاکستان کے ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کو مالی بدعنوانیوں کی 18 ہزار 818 شکایات موصول ہوئیں جن کی جانچ کے بعد 887 درخواستوں پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور سال 2014ء میں نیب نے بدعنوانوں کے خلاف 819 مقدمات درج کرائے جن میں سے صرف 44 مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف بدعنوانی کا جرم ثابت کیا جاسکا! اگر ہم سنگاپور کی مثال لیں تو وہاں کا ’نیب‘ ہر سال موصول ہونے والی شکایات پر کاروائی کرتا ہے اور 95فیصد کی شرح سے ملوث ملزمان کو سزائیں ہوتی ہیں۔ ہانگ کانگ میں یہی شرح 85فیصد ہے۔ ملائیشیا میں 80فیصد جبکہ بھارت کی ایک ریاست مہاراشٹر میں نیب حکام نے مالی بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں سالانہ 30فیصد کے تناسب سے کامیابی حاصل کی ہے!
میرے یہ الفاظ یاد رکھئے گا کہ ہمارے ہاں انسداد بدعنوانی اور قومی احتساب بیورو سمیت جملہ انتظامی ڈھانچہ ’بدعنوان عناصر‘ کو ختم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اُنہیں تحفظ دینے کے لئے تشکیل و مرتب کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے ڈاکٹر عاصم حسین سے بھی کچھ حاصل وصول ہونے کی توقع نہیں!
سال 2008ء میں جب آصف علی زرداری کا دورِ اقتدار شروع ہوا تو اُس وقت حکومت کا قرض 6 کھرب روپے تھا۔ 2013ء میں جب اُن کا دور حکومت ختم ہوا تو حکومت کا قرض 8 کھرب روپے یعنی اس میں 2 کھرب روپے کا اضافہ ہوچکا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ مالی نظم و ضبط اور احتساب و انسداد بدعنوانی نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں قرض لیکر پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کو کھڑا رکھنا پڑتا ہے۔ اگر مالی نظم و ضبط نافذ ہو جائے‘ مالی بدعنوانی کے امکانات تک باقی نہ ہوں اور بدعنوانوں کو قرار واقعی سزائیں دے کر نشان عبرت بنایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنے ہی وسائل کو ترقی کے ذریعے اقتصادی طور پر مستحکم ہوتا چلا جائے اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں سال بہ سال اضافے کی بجائے کمی ہوتی چلی جائے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)Rs8,500,000,000,000
ساڑھے آٹھ کھرب روپے!
پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں خردبرد کئے جانے والے سرکاری مالی وسائل کا حجم ساڑھے آٹھ کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ یہ اندازہ کم سے کم مالی بدعنوانی جاننے کے لئے ایک عالمی فارمولے سے اخذ کیا گیا ہے۔ اِس فارمولے کے خالق ڈاکٹر رابرٹ کلٹگارڈ (Dr. Robert Klitgaad) ہیں جس کے مطابق اختیارات کے عوض برسرحکومت سیاسی شخصیات فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ ڈاکٹر رابرٹ دنیا بھر میں مالی بدعنوانیوں کی کھوج لگانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اُن کے وضع کردہ طریقۂ کار سائنسی اعتبار سے مستند تسلیم کئے جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں بھی منتخب عوامی نمائندے یا چنیدہ افراد کو فیصلہ سازی یا حکومت کا منصب دیا جاتا ہے اور اُنہیں صوابدیدی اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں تو اس کا نتیجہ بدعنوانی کی صورت ہی برآمد ہوتا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ یہ نظریہ بھی پیش کرتے ہیں کہ جہاں کہیں احتساب کا ادارہ تو موجود ہو لیکن اس کے ذریعے احتساب کا عمل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کیا جائے وہاں مالی بدعنوانیاں کرنے والے ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ طاقتور اور حکومتی معاملات پر حاوی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس عالمی درجہ بندی میں امریکہ‘ جاپان‘ جنوبی کوریا اُور پاکستان کا شمار کیا گیا ہے جہاں اختیارات کے ذریعے سیاسی و غیرسیاسی حکمران اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ اور ذاتی مالی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہیں! نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک اور عوام کی اکثریت غریب جبکہ گنتی کے چند خاندان امیر ہو جاتے ہیں!
پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں پاکستان میں کل 100کھرب روپے کے مساوی پیداوار ہوئی اور اگر اِس کا صرف 8.5 فیصد ہی کے حصے میں خردبرد کی گئی تو یہ کم سے کم اور محتاط اندازے کے مطابق 8.5کھرب روپے کی بدعنوانی بنتی ہے۔ بظاہر دیکھنے میں لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے آٹھ کھرب سے زیادہ کی مالی بدعنوانی کیسے کی ہو گی لیکن پانچ برس کا عرصہ اور کم سے کم ساڑھے آٹھ فیصد کے تناسب سے اوسط بدعنوانی کی گئی ہے۔ اِس ساڑھے آٹھ کھرب روپے سے زائد کی مالی بدعنوانی کو مزید آسان بنا کر بھی سمجھایا جاسکتا ہے اور وہ کچھ یوں ہے کہ پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی مردوعورت‘ بوڑھے و جوان اور بچے سے 50 ہزار روپے چھینے گئے۔ اعدادوشمار کو مزید آسان کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ ہر پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی خاندان سے 3لاکھ 50 ہزار روپے جیسی خطیر رقم لوٹی گئی ہے!
پاکستان میں نہ تو انسداد بدعنوانی اور احتساب کے قوانین و قواعد کی کمی ہے اور نہ ہی اِن قوانین پر عمل درآمد ممکن بنانے کے لئے مخصوص ادارے ہی تعداد میں کم ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک بڑا ادارہ موجود ہے لیکن اگر آپ اِن اداروں کی سالانہ کارکردگی پر نظر ڈالیں تو مایوسی ہوگی کہ انہوں نے نہایت ہی کم شرح سے مالی بدعنوانوں کو انجام تک پہنچایا ہے اور لوٹا ہوا سرکاری مال واپس خزانے میں جمع کرایا ہے۔ ہمارے سامنے مغربی ممالک کی کئی ایک ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے احتساب و انسداد بدعنوانی کے سخت قوانین بنانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد بھی کیا گیا جس کے نتائج اُن کی ترقی کی صورت پوری دنیا دیکھ بھی رہی ہے اور اُن معاشروں میں ہونے والی علمی و فکری ترقی سے فائدہ بھی اُٹھا رہی ہے۔
سال 2014ء کے دوران پاکستان کے ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کو مالی بدعنوانیوں کی 18 ہزار 818 شکایات موصول ہوئیں جن کی جانچ کے بعد 887 درخواستوں پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور سال 2014ء میں نیب نے بدعنوانوں کے خلاف 819 مقدمات درج کرائے جن میں سے صرف 44 مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف بدعنوانی کا جرم ثابت کیا جاسکا! اگر ہم سنگاپور کی مثال لیں تو وہاں کا ’نیب‘ ہر سال موصول ہونے والی شکایات پر کاروائی کرتا ہے اور 95فیصد کی شرح سے ملوث ملزمان کو سزائیں ہوتی ہیں۔ ہانگ کانگ میں یہی شرح 85فیصد ہے۔ ملائیشیا میں 80فیصد جبکہ بھارت کی ایک ریاست مہاراشٹر میں نیب حکام نے مالی بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں سالانہ 30فیصد کے تناسب سے کامیابی حاصل کی ہے!
میرے یہ الفاظ یاد رکھئے گا کہ ہمارے ہاں انسداد بدعنوانی اور قومی احتساب بیورو سمیت جملہ انتظامی ڈھانچہ ’بدعنوان عناصر‘ کو ختم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اُنہیں تحفظ دینے کے لئے تشکیل و مرتب کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے ڈاکٹر عاصم حسین سے بھی کچھ حاصل وصول ہونے کی توقع نہیں!
سال 2008ء میں جب آصف علی زرداری کا دورِ اقتدار شروع ہوا تو اُس وقت حکومت کا قرض 6 کھرب روپے تھا۔ 2013ء میں جب اُن کا دور حکومت ختم ہوا تو حکومت کا قرض 8 کھرب روپے یعنی اس میں 2 کھرب روپے کا اضافہ ہوچکا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ مالی نظم و ضبط اور احتساب و انسداد بدعنوانی نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں قرض لیکر پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کو کھڑا رکھنا پڑتا ہے۔ اگر مالی نظم و ضبط نافذ ہو جائے‘ مالی بدعنوانی کے امکانات تک باقی نہ ہوں اور بدعنوانوں کو قرار واقعی سزائیں دے کر نشان عبرت بنایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنے ہی وسائل کو ترقی کے ذریعے اقتصادی طور پر مستحکم ہوتا چلا جائے اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں سال بہ سال اضافے کی بجائے کمی ہوتی چلی جائے۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں پاکستان میں کل 100کھرب روپے کے مساوی پیداوار ہوئی اور اگر اِس کا صرف 8.5 فیصد ہی کے حصے میں خردبرد کی گئی تو یہ کم سے کم اور محتاط اندازے کے مطابق 8.5کھرب روپے کی بدعنوانی بنتی ہے۔ بظاہر دیکھنے میں لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے آٹھ کھرب سے زیادہ کی مالی بدعنوانی کیسے کی ہو گی لیکن پانچ برس کا عرصہ اور کم سے کم ساڑھے آٹھ فیصد کے تناسب سے اوسط بدعنوانی کی گئی ہے۔ اِس ساڑھے آٹھ کھرب روپے سے زائد کی مالی بدعنوانی کو مزید آسان بنا کر بھی سمجھایا جاسکتا ہے اور وہ کچھ یوں ہے کہ پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی مردوعورت‘ بوڑھے و جوان اور بچے سے 50 ہزار روپے چھینے گئے۔ اعدادوشمار کو مزید آسان کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ ہر پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی خاندان سے 3لاکھ 50 ہزار روپے جیسی خطیر رقم لوٹی گئی ہے!
پاکستان میں نہ تو انسداد بدعنوانی اور احتساب کے قوانین و قواعد کی کمی ہے اور نہ ہی اِن قوانین پر عمل درآمد ممکن بنانے کے لئے مخصوص ادارے ہی تعداد میں کم ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک بڑا ادارہ موجود ہے لیکن اگر آپ اِن اداروں کی سالانہ کارکردگی پر نظر ڈالیں تو مایوسی ہوگی کہ انہوں نے نہایت ہی کم شرح سے مالی بدعنوانوں کو انجام تک پہنچایا ہے اور لوٹا ہوا سرکاری مال واپس خزانے میں جمع کرایا ہے۔ ہمارے سامنے مغربی ممالک کی کئی ایک ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے احتساب و انسداد بدعنوانی کے سخت قوانین بنانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد بھی کیا گیا جس کے نتائج اُن کی ترقی کی صورت پوری دنیا دیکھ بھی رہی ہے اور اُن معاشروں میں ہونے والی علمی و فکری ترقی سے فائدہ بھی اُٹھا رہی ہے۔
سال 2014ء کے دوران پاکستان کے ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کو مالی بدعنوانیوں کی 18 ہزار 818 شکایات موصول ہوئیں جن کی جانچ کے بعد 887 درخواستوں پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور سال 2014ء میں نیب نے بدعنوانوں کے خلاف 819 مقدمات درج کرائے جن میں سے صرف 44 مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف بدعنوانی کا جرم ثابت کیا جاسکا! اگر ہم سنگاپور کی مثال لیں تو وہاں کا ’نیب‘ ہر سال موصول ہونے والی شکایات پر کاروائی کرتا ہے اور 95فیصد کی شرح سے ملوث ملزمان کو سزائیں ہوتی ہیں۔ ہانگ کانگ میں یہی شرح 85فیصد ہے۔ ملائیشیا میں 80فیصد جبکہ بھارت کی ایک ریاست مہاراشٹر میں نیب حکام نے مالی بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں سالانہ 30فیصد کے تناسب سے کامیابی حاصل کی ہے!
میرے یہ الفاظ یاد رکھئے گا کہ ہمارے ہاں انسداد بدعنوانی اور قومی احتساب بیورو سمیت جملہ انتظامی ڈھانچہ ’بدعنوان عناصر‘ کو ختم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اُنہیں تحفظ دینے کے لئے تشکیل و مرتب کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے ڈاکٹر عاصم حسین سے بھی کچھ حاصل وصول ہونے کی توقع نہیں!
سال 2008ء میں جب آصف علی زرداری کا دورِ اقتدار شروع ہوا تو اُس وقت حکومت کا قرض 6 کھرب روپے تھا۔ 2013ء میں جب اُن کا دور حکومت ختم ہوا تو حکومت کا قرض 8 کھرب روپے یعنی اس میں 2 کھرب روپے کا اضافہ ہوچکا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ مالی نظم و ضبط اور احتساب و انسداد بدعنوانی نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں قرض لیکر پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کو کھڑا رکھنا پڑتا ہے۔ اگر مالی نظم و ضبط نافذ ہو جائے‘ مالی بدعنوانی کے امکانات تک باقی نہ ہوں اور بدعنوانوں کو قرار واقعی سزائیں دے کر نشان عبرت بنایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنے ہی وسائل کو ترقی کے ذریعے اقتصادی طور پر مستحکم ہوتا چلا جائے اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں سال بہ سال اضافے کی بجائے کمی ہوتی چلی جائے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)Rs8,500,000,000,000
ساڑھے آٹھ کھرب روپے!
پاکستان پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں خردبرد کئے جانے والے سرکاری مالی وسائل کا حجم ساڑھے آٹھ کھرب روپے لگایا گیا ہے۔ یہ اندازہ کم سے کم مالی بدعنوانی جاننے کے لئے ایک عالمی فارمولے سے اخذ کیا گیا ہے۔ اِس فارمولے کے خالق ڈاکٹر رابرٹ کلٹگارڈ (Dr. Robert Klitgaad) ہیں جس کے مطابق اختیارات کے عوض برسرحکومت سیاسی شخصیات فائدہ اٹھاتی ہیں۔ یہ امر بھی ذہن نشین رہے کہ ڈاکٹر رابرٹ دنیا بھر میں مالی بدعنوانیوں کی کھوج لگانے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اُن کے وضع کردہ طریقۂ کار سائنسی اعتبار سے مستند تسلیم کئے جاتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ جہاں کہیں بھی منتخب عوامی نمائندے یا چنیدہ افراد کو فیصلہ سازی یا حکومت کا منصب دیا جاتا ہے اور اُنہیں صوابدیدی اختیارات بھی حاصل ہوتے ہیں تو اس کا نتیجہ بدعنوانی کی صورت ہی برآمد ہوتا ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ یہ نظریہ بھی پیش کرتے ہیں کہ جہاں کہیں احتساب کا ادارہ تو موجود ہو لیکن اس کے ذریعے احتساب کا عمل عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کیا جائے وہاں مالی بدعنوانیاں کرنے والے ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ طاقتور اور حکومتی معاملات پر حاوی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس عالمی درجہ بندی میں امریکہ‘ جاپان‘ جنوبی کوریا اُور پاکستان کا شمار کیا گیا ہے جہاں اختیارات کے ذریعے سیاسی و غیرسیاسی حکمران اپنے ذاتی مفادات کا تحفظ اور ذاتی مالی اثاثوں میں اضافہ کرتے ہیں! نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملک اور عوام کی اکثریت غریب جبکہ گنتی کے چند خاندان امیر ہو جاتے ہیں!
پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں پاکستان میں کل 100کھرب روپے کے مساوی پیداوار ہوئی اور اگر اِس کا صرف 8.5 فیصد ہی کے حصے میں خردبرد کی گئی تو یہ کم سے کم اور محتاط اندازے کے مطابق 8.5کھرب روپے کی بدعنوانی بنتی ہے۔ بظاہر دیکھنے میں لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی نے آٹھ کھرب سے زیادہ کی مالی بدعنوانی کیسے کی ہو گی لیکن پانچ برس کا عرصہ اور کم سے کم ساڑھے آٹھ فیصد کے تناسب سے اوسط بدعنوانی کی گئی ہے۔ اِس ساڑھے آٹھ کھرب روپے سے زائد کی مالی بدعنوانی کو مزید آسان بنا کر بھی سمجھایا جاسکتا ہے اور وہ کچھ یوں ہے کہ پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی مردوعورت‘ بوڑھے و جوان اور بچے سے 50 ہزار روپے چھینے گئے۔ اعدادوشمار کو مزید آسان کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ ہر پیپلزپارٹی دور حکومت میں ہر پاکستانی خاندان سے 3لاکھ 50 ہزار روپے جیسی خطیر رقم لوٹی گئی ہے!
پاکستان میں نہ تو انسداد بدعنوانی اور احتساب کے قوانین و قواعد کی کمی ہے اور نہ ہی اِن قوانین پر عمل درآمد ممکن بنانے کے لئے مخصوص ادارے ہی تعداد میں کم ہیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک بڑا ادارہ موجود ہے لیکن اگر آپ اِن اداروں کی سالانہ کارکردگی پر نظر ڈالیں تو مایوسی ہوگی کہ انہوں نے نہایت ہی کم شرح سے مالی بدعنوانوں کو انجام تک پہنچایا ہے اور لوٹا ہوا سرکاری مال واپس خزانے میں جمع کرایا ہے۔ ہمارے سامنے مغربی ممالک کی کئی ایک ایسی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے احتساب و انسداد بدعنوانی کے سخت قوانین بنانے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ قوانین پر بلاامتیاز عمل درآمد بھی کیا گیا جس کے نتائج اُن کی ترقی کی صورت پوری دنیا دیکھ بھی رہی ہے اور اُن معاشروں میں ہونے والی علمی و فکری ترقی سے فائدہ بھی اُٹھا رہی ہے۔
سال 2014ء کے دوران پاکستان کے ’قومی احتساب بیورو (نیب)‘ کو مالی بدعنوانیوں کی 18 ہزار 818 شکایات موصول ہوئیں جن کی جانچ کے بعد 887 درخواستوں پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور سال 2014ء میں نیب نے بدعنوانوں کے خلاف 819 مقدمات درج کرائے جن میں سے صرف 44 مقدمات میں نامزد ملزمان کے خلاف بدعنوانی کا جرم ثابت کیا جاسکا! اگر ہم سنگاپور کی مثال لیں تو وہاں کا ’نیب‘ ہر سال موصول ہونے والی شکایات پر کاروائی کرتا ہے اور 95فیصد کی شرح سے ملوث ملزمان کو سزائیں ہوتی ہیں۔ ہانگ کانگ میں یہی شرح 85فیصد ہے۔ ملائیشیا میں 80فیصد جبکہ بھارت کی ایک ریاست مہاراشٹر میں نیب حکام نے مالی بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو کیفرکردار تک پہنچانے میں سالانہ 30فیصد کے تناسب سے کامیابی حاصل کی ہے!
میرے یہ الفاظ یاد رکھئے گا کہ ہمارے ہاں انسداد بدعنوانی اور قومی احتساب بیورو سمیت جملہ انتظامی ڈھانچہ ’بدعنوان عناصر‘ کو ختم کرنے کے لئے نہیں بلکہ اُنہیں تحفظ دینے کے لئے تشکیل و مرتب کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مجھے ڈاکٹر عاصم حسین سے بھی کچھ حاصل وصول ہونے کی توقع نہیں!
سال 2008ء میں جب آصف علی زرداری کا دورِ اقتدار شروع ہوا تو اُس وقت حکومت کا قرض 6 کھرب روپے تھا۔ 2013ء میں جب اُن کا دور حکومت ختم ہوا تو حکومت کا قرض 8 کھرب روپے یعنی اس میں 2 کھرب روپے کا اضافہ ہوچکا تھا۔ مطلب یہ ہے کہ مالی نظم و ضبط اور احتساب و انسداد بدعنوانی نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں قرض لیکر پاکستان کے اقتصادی ڈھانچے کو کھڑا رکھنا پڑتا ہے۔ اگر مالی نظم و ضبط نافذ ہو جائے‘ مالی بدعنوانی کے امکانات تک باقی نہ ہوں اور بدعنوانوں کو قرار واقعی سزائیں دے کر نشان عبرت بنایا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنے ہی وسائل کو ترقی کے ذریعے اقتصادی طور پر مستحکم ہوتا چلا جائے اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں سال بہ سال اضافے کی بجائے کمی ہوتی چلی جائے۔
(بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: ڈاکٹر فرخ سلیم۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)