Friday, January 6, 2017

Jan2017: Clean Drinking Water for Peshawar!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
۔۔۔ تاثیر مسیحائی کی!
’’پشاور پر رحم‘‘ کرنے جیسی عاجزی کا اِظہار کرتے ہوئے اِصلاح اَحوال کی تجاویز دینے والے ’دانشور‘ لکھاری تحریک انصاف کی قیادت میں خیبرپختونخوا حکومت پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے حالانکہ اگر اہل پشاور کی 80فیصد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں تو اِس کے لئے کلی طور پر ذمہ دار ’مئی دو ہزار تیرہ‘ کے بعد سے برسراقتدار آئی موجودہ صوبائی حکومت نہیں۔ کچھ ذمہ داری اُور تنقید تو پاکستان مسلم لیگ (نواز)‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ پیپلزپارٹی‘ متحدہ مجلس عمل‘ قومی وطن پارٹی‘ جماعت اسلامی‘ جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمن) سمیت اُن تمام اقتدار یا شریک رہی جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے جو ماضی میں کسی نہ کسی طور حکومتی فیصلہ سازی کا حصہ رہے اور جن کے اَدوار میں ترقی کا عمل نہ تو ’’پائیدار‘‘ ثابت ہوا اُور نہ ہی وہ ایسی ترجیحات کے تابع تھا کہ اُس کی بدولت بنیادی سہولیات کا ڈھانچہ مضبوط ہوتا یا پھر کم سے کم آج پورے خیبرپختونخوا کو پینے کا صاف پانی ہی میسر ہوتا۔ قوم پرستی اور مذہب کا لبادہ اُوڑھ کر حکومت کرنے والوں نے خیبرپختونخوا کو سوائے اداروں میں بیجا سیاسی مداخلت‘ سفارش‘ بدعنوانی‘ غربت‘ پسماندگی‘ انتہاء پسندی اُور بحرانوں کی صورت مسائل کی دلدل کے سوأ کچھ نہیں دیا‘ جس کی اِصلاح کے لئے کوششوں کی راہ میں آج بھی ماضی کے وہی حکمراں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں جو درپردہ نہ صرف تحریک انصاف کو اپنے انتخابی ایجنڈے پر عمل درآمد سے روکنے کے لئے مختلف حربے استعمال کر رہے ہیں بلکہ اپنے ہم خیال لکھنے والوں کی ’داد شجاعت‘ کو سراہتے ہیں کہ جن کے الفاظ ’تحریک انصاف‘ کے خلاف عام آدمی (ہم عوام) کے دلوں میں شکوک و شبہات کاشت کر رہے ہیں! صوبائی حکومت کے دفاع اور برسرزمین حقائق و صورتحال کی وضاحت کس کی ذمہ داری ہے؟ 

خیبرپختونخوا حکومت کی ترجمانی جس قدر کم پیمانے پر آج ہو رہی ہے‘ اِس کی ماضی میں مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی! آج پورے پاکستان کو باور کرایا جا رہا ہے کہ دیکھو ۔۔۔ ’’خیبرپختونخوا کی حکمراں جماعت اپنی بنیادی ذمہ داری سے عہدہ برآء نہیں ہو رہی تو کیوں نہ اِسے ناکام قرار دے کر آئندہ عام انتخابات میں مسترد کر دیا جائے!‘‘

خیبرپختونخوا میں حکومت سازی کے پہلے دن سے تحریک انصاف میں ’دوسرے عمران خان‘ کی کمی محسوس ہونے لگی! تحریک کی بدقسمتی یہ بھی رہی کہ اِسے قومی سیاست یعنی وفاقی پارلیمانی سطح پر خاطرخواہ کردار ادا کرنے کی عددی برتری حاصل نہ ہو سکی‘ جس کی بنیادی وجہ یہ نہیں تھی کہ بدعنوانی سے پاک طرزحکمرانی کے قیام کا وعدہ کرنے والوں کا پیغام ملک کے کونے کونے میں نہیں پہنچ سکا بلکہ صوبوں کے ضروری طور پر بڑے حجم ہونے کے سبب ’انقلاب کی آواز‘ نسلی لسانی اور قبائلی گروہ بندیوں کے مخصوص ووٹ بینک تلے کہیں دب کر رہ گئی۔ بحث کے اِس زوایئے اور موضوع کی تہہ داریاں متقاضی ہیں کہ اِس کا احاطہ کسی دوسرے مرحلۂ فکر پر کیا جائے۔ سردست قضیہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اُس بیان سے متعلق ہے جو انہوں نے عوامی جمہوریہ چین کے دورے سے واپسی کے بعد‘ 2 جنوری کے روز ورسک روڈ پر منعقدہ پہلی عوامی تقریب کے موقع پر دیا اُور ذرائع ابلاغ کے ہاتھ ایک ایسا نکتہ آ گیا‘ جس کی وضاحت ہر کسی نے اپنے اپنے تعصب کی عینک لگا کر کی۔ 

وزیراعلیٰ محترم اگر بات ’’موقع محل‘‘ دیکھ کر کرتے تو اُن کی وجہ سے پوری تحریک انصاف کو اِس قدر تنقید کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ ’’گلونہ پیخور‘‘ نامی ’صفائی مہم‘ کے موقع پر بے محل یہ کہنا کہ ’’پشاور کی 80فیصد آبادی کو پینے کے لئے صاف پانی دستیاب نہیں‘‘ بڑی حد تک حقیقت تو ہے‘ لیکن اِس کا حوالہ اُور بیان غیرسائنسی طور پر دیا گیا ہے۔ دیکھا جائے تو پورے پاکستان کا کوئی ایک بھی ایسا شہر نہیں جہاں کی اکثریتی آبادی کو پینے کا صاف پانی دستیاب ہو لیکن یہ اِس بات کا جواز نہیں ہوسکتا کہ کوئی حکومت اپنی ذمہ داریاں دوسروں کے سر ڈال دے۔ توجہات مبذول رہیں کہ حکومت کا کام سنسنی خیزی اور تعجب خیزی میں اضافہ نہیں بلکہ صورتحال کی وضاحت کرنا ہوتی ہے۔ 

فیصلہ سازی کے منصب پر مراعات یافتگان کی یہ بھی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کیونکہ وہ کسی بھی مسئلے کے بارے اظہار خیال کرتے ہوئے اُس کے سیاق و سباق (ماضی و حال) اور اصلاحی پہلوؤں کے بیان سے اختتام کریں۔ کیا وزیراعلیٰ کو پشاور کے پانی کے بارے ایسا بیان دینا چاہئے تھا‘ جس سے اہل پشاور میں تشویش سے زیادہ یہ تاثر پھیل جاتا کہ اگر صوبائی حکومت جانتی ہے کہ پشاور کی اکثریت کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں تو پھر پینے کا صاف پانی فراہم کرنا کس کی ذمہ داری ہے اور موجودہ حکومت نے اِس سلسلے میں کیا عمومی و خصوصی اقدامات کر رہی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا صوبائی حکومت نے پشاور کے طول و عرض میں کوئی ایسا سروے (جائزہ) اپنی نگرانی اور سرکاری اداروں کی معاونت سے مکمل کیا ہے جس سے یہ نتیجہ اَخذ کیا جاسکے کہ پشاور کی کم و بیش نہیں بلکہ پوری 80فیصد آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے؟ 

وزیراعلیٰ کو اِس بارے میں بھی اہل پشاور کی رہنمائی کرتے ہوئے بیان کرنا چاہئے تھا کہ امریکہ کا امدادی ادارہ (یو ایس ایڈ) کوڑا کرکٹ تلف کرنے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی جیسے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہا ہے اور اِس سلسلے میں پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں جاری کام کی رفتار یا حاصل شدہ نتائج کی تفصیلات بمعہ اعدادوشمار کا تبادلہ اگر ذرائع ابلاغ کے ساتھ کر دیا جاتا تو ’بار ذمہ داری‘ کچھ ہلکا ہو جاتا۔ تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا اُور بالخصوص صوبائی دارالحکومت پشاور میں کارکردگی پر تنقید کرنے والوں کی پہلے ہی کمی نہیں تھی لیکن وزیراعلیٰ کے غیرمحتاط اُور سرسری بیان نے ’’جلتی پر تیل‘‘ جیسا کام کرتے ہوئے اُس بحث کو مزید اُلجھا دیا ہے‘ جس میں حکومت کی ذمہ داریاں‘ جنون پر منبی انقلابی اصلاحات اور جملہ انتخابی وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر زور دینے والے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا اُور بالخصوص پشاور کو ہنوز ایک مسیحا کا انتظار ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Clean drinking water for Peshawar,  without scientific survey and need assessment not practically possible

Sunday, January 1, 2017

Jan2017: Politics & Tolerance

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
۔۔۔ سب کچھ داؤ پر!
ایک دفعہ کا ذکر ہے جب خیبرپختونخوا کا ’ایبٹ آباد‘ صحت مند آب و ہوا کی وجہ سے شہرت رکھتا تھا لیکن آج سطح سمندر سے ’چارہزار ایک سو بیس فٹ‘ بلند بیس لاکھ سے زائد دیہی وشہری علاقوں پر مشتمل یہاں کی آبادی کو جہاں ماحولیاتی عدم توازن کی وجہ سے موسمی تغیرات کا سامنا ہے وہیں قبائلی شناخت‘ لسانی تشخص‘ روایات اور ثقافت کو درپیش چیلنجز یہاں کے فہم و فراست رکھنے والے دانشور طبقات کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔ 

مختلف وجوہات کی بناء پر اَیبٹ آباد کے میدانی و پہاڑی علاقوں کی جانب نقل مکانی کے رجحان کی وجہ سے دستیاب وسائل اور شہری و دیہی علاقوں میں فراہم کی جانے والی بنیادی سہولیات کا ڈھانچہ بھی یکساں متاثر دکھائی دیتا ہے۔ اگر درست وقت پر درست ترجیحات کا متعلقہ شعبوں کے تکنیکی ماہرین سے مشاورت کے ذریعے تعین کر لیا جاتا تو آج ایبٹ آباد کے ہر رہنے والے کے لئے ’’کم سے کم‘‘ پینے کا صاف پانی ہی دستیاب ہوتا۔ ماضی میں ایبٹ آباد کو محروم اور یہاں کے رہنے والوں کی سوچ کو اگر محکوم رکھا گیا تو اِس کے درپردہ محرکات سیاسی بھی تھے اور فیصلہ سازوں کے پیش نظر ذاتی مفادات بھی یکساں کارفرما رہے جنہیں دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں شکست دینے کے باوجود ’سیاست برائے ذاتی منفعت‘ کرنے والوں نے تاحال ’’ہار نہیں مانی۔‘‘ سازشی ذہنیت آج بھی وجود رکھتی ہے اُور یہی وجہ ہے کہ ضلع ایبٹ آباد میں طرز حکمرانی کی اصلاح اُور بلدیاتی نظام کی فعالیت کے خلاف جاری سازشیں کسی سے ڈھکا چھپا موضوع نہیں! اَیبٹ آباد کے لئے ’سال دوہزار سولہ‘ کسی سے بھی طرح ماضی سے مختلف نہیں رہا اُور اِس دوران ضلع بھر میں اِنتظامی اِصلاحات اُور ترقیاتی اَمور کی راہ میں رکاوٹیں ’بدستور‘ حائل رہیں لیکن ہجری سال کا میزانیہ جاتے جاتے ایک ایسی بدمزگی چھوڑ گیا‘ جس کی ایبٹ آباد کی تاریخ و ثقافت اور ادب و احترام سے جڑی سیاسی روایات سے مطابقت نہیں رکھتی۔



اُنتیس دسمبر کی صبح ’صحت انصاف کارڈ‘ کی تقسیم کے موقع پر ’جلال بابا آڈیٹوریم‘ مدعو کئے گئے خاص مہمانوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا۔ اسٹیج پر پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیرصحت‘ صوبائی وزیر خوراک‘ وزیراعلیٰ کے خصوصی مشیر اُور ایک رکن صوبائی اسمبلی کے شانہ بشانہ رکن قومی اسمبلی (این اے سترہ) ڈاکٹر محمد اظہر خان جدون کے علاؤہ محکمۂ صحت و انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکار تشریف فرما تھے‘ جن کی حفاظت کے لئے سفید کپڑوں میں ملبوس اسٹیج کے اطراف میں یقیناًموجود ہوں گے۔ 

تقریب کی باقاعدہ کاروائی شروع ہوئے ابھی کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ ایک نوجوان خراما خراما اسٹیج پر بیٹھے رکن قومی اسمبلی کے پاس پہنچتا ہے اور پشت سے حملہ کرکے اُنہیں زدوکوب کرنے کی کوشش میں بدتہذیبی کی انتہاء کرتے ہوئے باآواز بلند ایسے الفاظ سے اُنہیں مخاطب کرتا ہے جو بھری تقریب تو کیا تنہائی میں بھی بات چیت کے دوران کسی معزز و بزرگ شخص کے لئے استعمال نہیں کئے جا سکتے۔ 

یہ منظر نہایت ہی اَفسوسناک تھا‘ جسے تقریب میں موجود خواتین اُور بچوں سمیت چھ سو سے زائد افراد نے دیکھا اُور سر جھکا لئے! 

اَیبٹ آباد کی سیاست میں اِس قدر ’عدم برداشت کا عنصر‘ اُور ’خاندانی جھگڑوں‘ کی بنیاد پر سرعام لعن طعن کے پے در پے واقعات اَگر جاری رہتے ہیں تو پھر کوئی بھی سر اُور کوئی بھی پگڑی محفوظ نہیں رہے گی! ڈاکٹر اظہر پر ہوئے حملے کی تفتیش کئی پہلوؤں سے ہونی چاہئے تھی۔ 1: تقریب کے لئے حفاظتی انتظامات ناکافی کیوں تھے اور غفلت کے ذمے داروں کا تعین ہونا چاہئے۔ 2: حملہ آور اگر مسلح یا خودکش ہوتا تو بیک وقت خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے پانچ اراکین اسمبلی کو جانی نقصان پہنچا سکتا تھا‘ اِس لئے دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے پس پردہ کرداروں کو منظرعام پر لایا جائے۔ 3: رکن قومی اسمبلی پر حملہ جس خاندانی جھگڑے کو بظاہر بنیاد بنا کر کیا گیا‘ اُس کا تصفیہ اور صلح صفائی علاقائی روایات کے مطابق بذریعہ جرگہ (بات چیت) ہونا ضروری ہے کیونکہ کوئی تیسرا فریق خاندانی جھگڑے کی آڑ میں فائدہ اُٹھانے کی باردیگر کوشش کر سکتا ہے۔ 4: خیبرپختونخوا میں محکمۂ پولیس کو ’غیرسیاسی‘ کرنے کے عمل کو ’تحریک انصاف‘ کی کمزوری نہیں بلکہ اِس کی طاقت سمجھا جانا چاہئے۔ ماضی میں اگر کسی ’رکن قومی اسمبلی‘ پر حملہ صوبائی وزراء کی موجودگی میں ہوتا تو حملہ آور اُور اُس کے سہولت کاروں کا نام و نشان صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہوتا اُور ساتھ ہی ضلعی پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے ہو چکے ہوتے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر‘ ڈی آئی جی‘ ڈی ایس پی‘ ایس ایچ اُوز لائن حاضر اور ضلع بدر ہو چکے ہوتے لیکن یہاں اگر ایسا نہیں ہوا تو پولیس حکام کو اپنے اختیارات‘ حاصل آزادی اور کارکردگی کا ازخود احتساب کرنا چاہئے۔ پشاور میں بیٹھے پولیس کے اعلیٰ حکام کو ڈاکٹر اظہر جدون پر حملے میں نچلے درجے کے پولیس اہلکاروں کے ’منفی کردار‘ پر غور کرنا چاہئے‘ جو صرف قابل افسوس و مذمت ہی نہیں بلکہ لمحۂ فکریہ بھی ہے کیونکہ ’پولیس کے اختیارات میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہر خاص و عام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اُور دوئم پولیس بناء دباؤ قانون کی بالادستی عملاً ممکن بنائے۔ کیا ایسا ہی ہو رہا ہے؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کے رُکن قومی اسمبلی کو اپنی ہی جماعت کی صوبائی حکومت کے دور میں اِنصاف مل پاتا ہے یا نہیں!؟ 

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اِن دنوں بیرون ملک دورے پر ہیں‘ جن کی واپسی پر توقع ہے کہ وہ پہلی فرصت سے بھی پہلے ’ڈاکٹر اظہر جدون‘ پر ہوئے حملے اور اِس سلسلے میں پولیس کی ’جانبدار تفتیشی کارکردگی‘ کا نوٹس لیں گے کیونکہ اِس سے نہ صرف پارٹی کارکنوں میں ’بے چینی و تشویش‘ پائی جاتی ہے بلکہ ضلع ایبٹ آباد میں تحریک اِنصاف کی سیاسی ساکھ‘ سماجی اَدب و اِحترام پر مبنی ثقافت‘ جدون اُور غیرجدون قبائل (جنبوں) کا باہمی تعلق و سلوک اُور سیاسی برداشت جیسے اثاثے بھی داؤ پر لگے ہوئے ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔