Saturday, June 13, 2020

Agricultre sector ignored once again in Budget (FY2020-21)

بجٹ: کورونا ہنگام
قومی آمدن اُور اخراجات میں عدم توازن (مالی خسارہ) کسی ایک بجٹ کی ”داستان خصوصی“ نہیں بلکہ سال ہا سال سے معمول ہے کہ وفاقی اُور صوبائی حکومتیں خسارے کا بجٹ پیش کرتی ہیں‘ جو ’ٹیکس فری‘ بھی ہوتا ہے یعنی اُس میں نئے محصولات عائد نہیں کئے جاتے اُور مختلف شعبوں پر عائد ٹیکسوں کی شرح میں کمی کی جاتی ہے جیسا کہ جائیداد کی خریداری پر عائد 5 فیصد اسٹمپ ڈیوٹی کو کم کر کے 1 فیصد کر دیا گیا ہے اُور زیادہ بڑے تناظر میں دیکھا جائے تو وفاقی حکومت نے صنعتکاروں کے مطالبے پر ’سیلز ٹیکس‘ کی شرح میں بھی کمی کی ہے۔ جب ایک طرف آمدنی کم ہو اُور دوسری طرف محصولات میں اضافے کی بجائے اِن کی شرح میں کمی کی جا رہی ہو تو اِس مالی عدم توازن (خسارے) کو پورا کرنے کے لئے حکومت کو (نہ چاہتے ہوئے بھی) قرض لینا پڑتا ہے اُور یہیں سے پاکستان کی مالی مشکلات کا آغاز ہوتا ہے۔ 

بارہ جون کو پیش کردہ ’قومی اقتصادی جائزے‘ کے مطابق ”جولائی 2019ءسے مارچ 2020ءکے درمیانی عرصے میں پاکستان کے ذمے مجموعی قرض اور مالی واجبات 20کھرب 59ارب 70کروڑ روپے تک جا پہنچے ہیں جبکہ قرض و واجبات بڑھتے بڑھتے قومی آمدنی سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں اُور صورتحال یہ ہے کہ قرض پاکستان کی مجموعی خام ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 102.6فیصد تک پہنچ چکی ہے یعنی پاکستان کی قومی آمدنی کے ہر 100 روپے میں سے 102روپے 60 ساٹھ پیسے قرضوں (مالی ذمہ داریوں) کی ادائیگی پر خرچ ہوتے ہیں اُور ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ مالی سال 2020-21ءکا بجٹ ایک ایسی صورتحال میں پیش کیا گیا ہے جبکہ ہر طرف ’کورونا کہرام‘ برپا ہے! حکومت کے شاہانہ اَخراجات میں غیرمعمولی کمی کی ضرورت ہے تاکہ قرضوں پر منحصر معیشت بہتری کی جانب گامزن ہو۔ اِقتصادی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ قومی قرضوں میں سب سے زیادہ اضافہ مقامی قرضوں کی وجہ سے ہوا‘ جو بڑھتے ہوئے 10کھرب 74ارب 60کروڑ روپے تک جا پہنچے ہیں جبکہ بقیہ اِضافہ حکومت کے غیرملکی قرض سے ہوا جو ”6کھرب 3ارب“ روپے تک جا پہنچے ہیں۔ سروے کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2020ءتک سرکاری قرض ’جی ڈی پی‘ کے 84.4 فیصد تھا۔

تحریک اِنصاف کی شروع دن سے کوشش و خواہش ہے کہ قومی قرضوں کے حجم میں کمی یعنی قومی مالیاتی ذمہ داریوں ادا ہوں لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اِس کوشش و خواہش میں مزید قرض لئے گئے۔ وزیراعظم نے مال مویشیوں (لائیو سٹاک) پر توجہ دینے کا اعلان کیا تھا۔ ’مرغ بانی‘ کی بات ہوئی لیکن اُسے بھی مذاق میں اُڑایا گیا۔ سوشل میڈیا پر طنز عام ہوا۔ اَب وزیراعظم نے کہا ہے کہ ”حکومت نے چھوٹے کاروبار کی سرپرستی کا اعلان کیا ہے لیکن اِس اعلان کو بھی خاطرخواہ سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔“ لیکن بہتری (تبدیلی) اُسی صورت آئے گی جب وزیراعظم چھوٹے کاروبار کے لئے قرض دیتے ہوئے یہ شرط عائد کریں نئے کاروبار اُور صنعتوں کے لئے پچانوے فیصد (بیشتر) مشینری مقامی طور پر خریدی جائے گی۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اگر کسی ادارے کو چند سو سلنڈرز کی بھی ضرورت ہوتی ہے تو وہ چین یا دیگر ممالک سے درآمد کر لیتے ہیں لیکن گوجرانوالہ‘ لاہور اُور دیگر صنعتی مراکز سے رجوع نہیں کرتے۔ ’میڈ اِن پاکستان‘ اُور ’میڈ فار پاکستان‘ کی حکمت عملیاں وضع ہونی چاہیئں۔ کورونا وبا کی صورتحال میں بجٹ اگر خصوصی طور پر پیش کیا جا سکتا ہے تو خصوصی صنعتی و کاروباری حکمت عملیاں کیوں نہیں ترتیب دی جا سکتیں۔ 

کورونا وبا کی وجہ سے آکسیجن سلنڈرز کی ضرورت (مانگ) بڑھ گئی ہے اُور حیرت انگیز طور پر ہر سرکاری و نجی ہسپتال کی پہلی کوشش و ترجیح سلنڈرز درآمد کرنے کی ہے! حکومت جہاں نجی شعبے کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کا فروغ چاہتی ہے لیکن حکومتی اِداروں کا قبلہ اُور ترجیحات درست کرنے جیسی ’کم محنت‘ کی جانب توجہ مبذول نہیں ہے۔

وفاقی بجٹ کا ’2فیصد سے کچھ زیادہ حصہ‘ بڑی فصلوں کی ترقی کے لئے مختص کیا گیا ہے حالانکہ ضرورت اِس سے کہیں گنا زیادہ مالی وسائل مختص کرنے کی ہے اُور بحیثیت مجموعی زرعی شعبے کو سب سے زیادہ توجہ دی جانی چاہئے کیونکہ زراعت کا شعبہ ہی پاکستان کو ’کورونا وبا‘ سے بچا سکتا ہے۔ یکم جولائی سے شروع ہونے والے پہلے بجٹ کے پہلے چھ ماہ کورونا وائرس سے متاثر رہے گی۔ 

صنعتیں اُور کاروبار پھل پھول نہیں سکیں گے۔ نئی ملازمتوں کے مواقع نہیں پیدا ہوں گے۔ زمینیں پڑی ہیں۔ کم سے کم آبادی کے تناسب سے فصلیں ہونی چاہیئں۔ ٹماٹر آلو جیسی چیزیں کم ہوجاتی ہیں اُور اس سے نہ صرف غذائی خودکفالت ہو گی بلکہ زرعی شعبہ روزگار کی فراہمی کے ساتھ ’ایس اُو پیز‘ کے ساتھ روزگار فراہم کر سکتا ہے۔ دیگر شعبے بھی اِہم اُور ضروری ہیں لیکن وہاں کی ترقی کے ساتھ جو ملازمتی مواقع پیدا ہوتے ہیں لیکن اُن میں ’ایس اُو پیز‘ پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ زرعی شعبے کو ’ٹڈی دل‘ سے خطرات لاحق ہیں۔ ماضی میں بھی ’ٹڈی دل‘ آتا رہا۔ اَفریقہ میں زیادہ بارشیں ہونے کی وجہ سے ٹڈی دل اتنی بڑھی کہ وہ ہوا کے ساتھ ایران کے ساتھ پاکستان میں داخل ہوئے۔ پاکستان پہنچنے سے پہلے مغربی ذرائع ابلاغ خبر دے رہے تھے کہ اِس سال 400 گنا بڑا ٹڈی دل آگے بڑھ رہا ہے جسے پاکستان کے فیصلہ سازوں نے خاطرخواہ اہمیت نہیں دی۔

ایک سیاسی قیادت ہوتی ہے۔ وزیر ٹیکنوکریٹ ہوتا ہے جس سے توقع نہیں ہونی چاہئے۔ اِس وزیر کے نیچے بیوروکریٹ (افسرشاہی) ہوتا ہے جو کئی وزارتوں کا خانہ خراب کرنے کے بعد کسی نئی وزارت کے معاملات دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اِس طرح 2 لائق اکٹھا ہو کر قومی فیصلہ سازی کرتے ہیں۔ سیکرٹری کے نیچے ڈپٹی سیکرٹری اُور ڈپٹی سیکرٹری کے نیچے ایڈیشنل سیکرٹری اُور اُن کے نیچے درجہ بہ درجہ فوج ظفر موج نالائقوں کی جمع ہے اُور اِن کے غلط فیصلے عملاً ثابت ہیں۔ 

ٹڈی دل اَفریقہ سے چل کر پاکستان پہنچنے میں ایک مہینہ لگا لیکن ہمارے سیاسی اُور غیرسیاسی فیصلہ ساز نہ تو بھانپ سکے اُور نہ ہی اُنہیں معلوم ہو سکا کہ یہ کب پہنچے گا۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین ٹڈی دل چاروں صوبوں کو کہیں کم تو کہیں زیادہ متاثر کر رہا ہے اُور ہمارے پاس فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کے اعدادوشمار بھی دستیاب نہیں کہ کل کتنا نقصان ہو چکا ہے اُور کس قدر (ممکنہ طور پر) مزید ہو گا۔ اِقتصادی حالات یہ ہیں کہ بیروزگاری (کم سے کم) آئندہ مالی سال کے ’پہلی شش ماہی‘ تک برقرار رہے گی اُور یہی وہ سخت ترین عرصہ (اِمتحان) ہے جسے حکومت اُور عوام دونوں کے لئے گزرنا آسان نہیں!
....
Editorial Page Daily Aaj June 13, 2020 
Clipping from Daily Aaj, 13 June 2020 Saturday

Covid19 and Public Transport

سچائی کا سفر
پبلک ٹرانسپورٹ مستقل مسئلہ (دردِ سر) ہے اُور اِس درد کا مستقل بنیادوں پر حل (علاج) ہونا چاہئے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ’حسب توقع‘ نہ تو کرایوں میں عملاً کمی ہوئی اُور نہ ہی بسوں میں گنجائش سے زیادہ مسافروں کو سوار کرنے جیسے عمومی طرزعمل (قانون شکنی) سے رجوع کیا گیا جو کورونا وبا کے ممکنہ پھیلاو ¿ کم کرنے کے لئے (حتی الوسع) ’سماجی فاصلے (social distancing)‘ سے متعلق حکومتی قواعد و ضوابط (SOPs) کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی لیکن رواں ہفتے پبلک ٹرانسپورٹ مالکان کی جانب سے 2 اعلانات سامنے آئے کہ ایک تو بین الاضلاعی راستوں (روٹس) پر مقررہ کرائے کی شرح میں مزید کمی کر دی گئی ہے اُور دوسرا ’ایس اُو پیز‘ پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ یہ دونوں باتیں ذرائع ابلاغ نے فوری خبر (Breaking News) اُور شہ سرخیوں (Headlines) کے ساتھ بالکل اُسی اہتمام کے ساتھ شائع کیں‘ جس طرح پیٹرولیم مصنوعات اُور آٹے کی قیمتیں کم ہونے کے بارے میں عوام کو روزانہ ’خوش خبریاں‘ دی جاتی ہیں لیکن اِن خبروں کا زمینی حقائق سے تعلق نہیں ہوتا اُور نہ ہی خبر دینے سے پہلے اُس کے مندرجات کے بارے خاطرخواہ تحقیق کے عمل کو خاطرخواہ اہمیت دی جا رہی ہے جو صحافت کا پہلا اُور بنیادی اصول ہے۔ اِس سلسلے میں اُردو اُور انگریزی صحافت دو الگ الگ سمتوں اُور دو الگ الگ بلندیوں پر بھی اِس لئے دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ دونوں کے ہاں حقائق کی تصدیق و جانچ کے لئے محنت کا معیار ایک جیسا نہیں۔

بنیادی طور پر کسی بھی آمدہ اطلاع کو خبر اُور بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اُور ذمہ داری کی ساتھ اَدا (شائع) کرنے سے قبل‘ اُس کی آزاد ذرائع یا اپنے طور پر تصدیق ہونی چاہئے۔ اِس بات کو عملاً اُور باآسانی ممکن بنایا جا سکتا ہے کہ 1: کوئی بھی خبر تصدیقی مراحل سے گزرے بغیر شائع یا نشر نہ ہو۔ 2: خبر ضروری ہوتی ہے اُس کو پیش کرنے کا انداز ضمنی اہمیت رکھتا ہے۔ بالخصوص صفحے کی خوبصورتی کے لئے خبروں کو دو‘ تین یا چار کالموں میں مزین و سجاوٹ کے لئے منتخب اُور نمایاں کرنے کا بھی کوئی نہ کوئی تو اصول بھی ہونا چاہئے کیونکہ صرف خبر کا ہونا ہی اہم اُور کافی نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اِس میں سچ جھوٹ یا جھوٹ سچ کی آمیزش کا تناسب جاننے کا بھی پیمانہ ہونا چاہئے کیونکہ خبر کے ساتھ صحافتی اِدارے کی ساکھ اُور کاروباری مستقبل بھی جڑا ہوتا ہے۔

’سچائی‘ کا وہ سفر جو اِنفردی حیثیت سے جتماعی قالب میں ڈھل کر اپنی انتہائی (ترقی یافتہ) شکل (وجاہت) میں ”صحافت“ کہلاتا ہے اُور یہ لفظ اصطلاحاً صحیفے سے بھی ماخوذ ہے یعنی ایک ایسی دستاویز (صحیفہ) جو خالق کائنات کے مقدس کلام کی ترسیل سے منسوب ہے تو اِس بات میں کوئی حرج نہیں کہ اگر کسی خبر کی فوری تصدیق ممکن نہ ہو تو اُسے (تا دم تصدیق) روک کر شائع کر لیا جائے۔ درحقیقت صحافت کسی بھی شکل میں ہو لیکن اگر یہ ذمہ داری اُور اِحساس ذمہ داری کے ساتھ اَدا نہیں ہوتی تو پھر یہ ایک ایسا معمول بن جائے گی جس سے معاشرے میں نہ تو خیر اُور بہتری کی صورتیں برآمد ہوں گی اُور نہ ہی حکومتی سطح پر فیصلہ ساز اپنی ترجیحات کے تعین میں درست رہنمائی حاصل کر پائیں گے بلکہ عوام اُور حکمران دونوں ہی گمراہ ہوں گے کیونکہ اگر کسی نے اُن کی آنکھوں کی دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے تو اُس کوشش (جھوٹ) کو کامیاب بنانے میں ذرائع ابلاغ بھی شریک ہو گئے ہیں اُور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے‘ جس سے صحافتی ذمہ داریاں ترتیب و تشکیل پاتی ہیں۔

عام آدمی (ہم عوام) کے نکتہ نظر سے عندیہ (خوش خبری) اگر صرف سماعتوں اُور بصارتوں ہی کی آسودگی کے لئے شائع کی جاتی ہے‘ تب تو ٹھیک (قابل فہم) ہے لیکن اگر ذرائع ابلاغ ”اَزرائے طنز و مذاق“ قیمتوں اُور نرخناموں میں کمی سے متعلق ایسی خبریں شائع کرتے ہیں کہ جن میں عوام کے لئے کسی ریلیف کا ذکر ہوتا ہے اُور برسرزمین حقیقت یا حقائق یکسر مختلف (برعکس) ہوتے ہیں تو یہ طرزِعمل اَمانت و دیانت کے اَصولوں کے منافی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ ایسی خبریں (بالخصوص پرنٹ میڈیا جب شہ سرخیوں کے ساتھ) شائع کرتے ہیں تو اِس سے عوام کی نظروں میں بطور اِدارہ اِن کی اہمیت‘ فرض شناسی‘ ذمہ داری‘ صحافتی اَخلاقیات و اَقدار اُور سماجی کردار قابل اِعتبار و بھروسہ نہیں رہتا یقینا کوئی بھی شخص (قاری‘ ناظر و سامع) نہیں چاہے گا کہ جن حقائق سے اُسے عملی زندگی میں ہر روز واسطہ پڑ رہا ہے اُن سے متعلق خبرنگاری مصدقہ نہیں۔ اِس پورے تناظر کا تیسرا پہلو اُور ضرورت یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کی توجہ (جملہ وسائل‘ رائے اُور جھکاو ¿) عوام کی طرفداری جانب مائل ہونی چاہئے۔ وہ کاروباری گروہ اُور طبقات جو اَجناس کی فروخت یا خدمات کی فراہمی جیسے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں اگر اُنہیں یقین ہو کہ حکومت اُور ذرائع ابلاغ عوام کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں تو یوں کھلم کھلا لاقانونیت دیکھنے میں نہ آئے کہ اجناس میں ملاوٹ سے لیکر کم وزن‘ گرانفروشی اُور ذخیرہ اندوزی قانونی و اخلاقی و سماجی طور پر جرائم ہی تصور نہ ہوں۔

عوامی مفاد کیا ہوتا ہے؟
اِس کی حفاظت کس کی ذمہ داری اُور کیسے کی جائے؟
اِن تینوں امور سے متعلق سوچ بچار اُور لائحہ عمل ’طرزحکمرانی‘ کہلاتا ہے۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ کرائے ناموں کی شرح میں کمی تو بہت دور کی بات لیکن اگر ’پبلک ٹرانسپورٹ‘ کے کرایوں پر صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی مقررہ کردہ شرح کے مطابق عمل درآمد اُور کورونا وبا سے متعلق حکومتی ہدایات کا احترام ضروری سمجھا جا رہا ہوتا تو صرف پشاور میں گزشتہ چند دنوں کے دوران ’1200ٹرانسپورٹرز‘ کو جرمانے اُور 4 بس اڈے سربمہر نہ کئے گئے ہوتے! لائق توجہ یہ بھی ہے کہ اگر نجی شعبے کی اجارہ داری سے چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے امور صوبائی دارالحکومت ہی میں تسلی بخش نہیں تو صوبائی حکمرانوں اُور متعلقہ فیصلہ سازوں نے کس بنیاد (جواز) پر یقین کر لیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے دور دراز اضلاع اُور علاقوں پبلک ٹرانسپورٹرز مسافروں (صارفین) کو لوٹ نہیں رہی اُور سب سے بڑھ کر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے کورونا وبا کے پھیلانے کا باعث بن رہی ہے۔ ’صوبائی ٹرانسپورٹ اٹھارٹی‘ اُور ’پبلک ٹرانسپورٹ اُونرز ایسوسی ایشن‘ گٹھ جوڑ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانے کے لئے ضلعی انتظامیہ (کمشنری نظام) کام آ رہا ہے‘ جنہیں جرمانہ اُور سزائیں دیتے ہوئے صرف خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ صوبائی ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مرکزی اُور ضلعی دفاتر میں تنخواہیں اُور مراعات باقاعدگی سے وصول کرنے والوں کے خلاف بھی کاروائی کرنی چاہئے جو مسافروں کی جان و مال کے تحفظ‘ سہولیات کی فراہمی اُور مقررہ شرح سے زائد کرایوں کی وصولی سے متعلق قوانین اُور قواعد شکنی میں برابر (یکساں) شریک جرم (ملوث) ہیں۔
مرا نصیب ہوئیں تلخیاں زمانے کی
کسی نے خوب سزا دی ہے مسکرانے کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی (اَزہر درانی)
....
Clipping from Editorial Page of Daily Aaj - June 13, 2020 Saturday
Editorial Page of  Daily Aaj - June 13, 2020 Saturday