Wednesday, April 15, 2015

Apr2015: CB LG Polls & goals!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیر حسین اِمام
ترغیبِ تفکر
ایبٹ آباد کی یونین کونسل نواں شہر سے براستہ الیاسی مسجد‘ ٹھنڈا چوا‘ پی ایم اے روڈ‘ جناح آباد اور منڈیاں تک کی پٹی شاہراہ قراقرم سے بل کھاتی ہوئی سپلائی‘ جھگیاں اور دھمتوڑ کو ایک مالا کی صورت ایک دوسرے سے ملاتی ہے اور ایبٹ آباد چھاؤنی کے انہیں علاقوں پر مشتمل 5 وارڈوں پر مشتمل کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کی تیاریاں زوروشور سے جاری ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے نامزد‘ حمایت یافتہ اُمیدواروں کے مرکزی دفاتر کی رونقیں سرشام بڑھ جاتی ہیں‘ جہاں رنگ برنگے پوسٹروں اور آس پاس درجنوں درجن گاڑیاں کھڑی دیکھ کر یقین ہو جاتا ہے کہ ہمارے ہاں ہر کام اور بالخصوص مالی وانتظامی اختیارات والے انتخابی عمل کو کس قدر اہمیت دی جاتی ہے! یاد رہے کہ ’’کنٹونمنٹ بورڈ ابیٹ آباد‘‘ کی پانچ نشستوں کے لئے 48 افراد نے بطور اُمیدوار خود کو انتخابی احتساب کے لئے پیش کیا جن میں سے دو اُمیدواروں کے کاغذات تکنیکی بنیادوں پر مسترد کر دیئے گئے۔ 18 اُمیدواروں نے اپنے کاغذات واپس لے لئے اُور اَب 28 اُمیدوار پانچ نشستوں کے لئے ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ وارڈ نمبرایک میں دو اُمیدوار آزاد جبکہ ایک ایک تحریک انصاف اُور مسلم لیگ نواز کی جانب سے نامزد کردہ ہیں۔ وارڈ نمبر دو میں ایک آزاد جبکہ یہاں بھی مسلم لیگ (نواز) اور تحریک انصاف کے نامز اُمیدوار مدمقابل ہیں۔ وارڈ نمبر تین میں چھ اُمیدوار آزاد جبکہ پیپلزپارٹی‘ تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز کا ایک ایک اُمیدوار اہل علاقہ سے ووٹ کا طلبگار ہے۔ وارڈ نمبر چار سے ایک آزاد جبکہ تین جماعتیں تحریک انصاف‘ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کا ایک ایک نامزد اُمیدوار کامیابی کا خواہشمند ہے اور وارڈ نمبر پانچ سے چار آزاد جبکہ تین تحریک انصاف‘ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ سے تعلق رکھتے ہیں۔ کنٹونمنٹ بورڈ ایبٹ آباد کے انتخابات میں 22ہزار 80 مرد جبکہ 18 ہزار 229 خواتین 45 پولنگ اسٹیشنوں میں 25اپریل کے روز ووٹ ڈالیں گے۔

ایبٹ آباد کنٹونمنٹ کی کارکردگی کا جائزہ لیاجائے تو اِس ادارے کی جانب سے سہولیات کی فراہمی حیرت انگیز طور پر محدود جبکہ کنٹونمنٹ کی حدود ایک وسیع علاقے کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ لمحۂ فکریہ ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے مقرر کردہ ٹیکسوں کی شرح ضلعی انتظامیہ (میونسپل اتھارٹی) کے مقابلے زیادہ ہے لیکن دونوں ادارے اپنی اپنی حیثیت میں محدود مالی وسائل کے سبب وہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے جو ایبٹ آباد کے شایان شان ہے۔ کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں ایسی سڑکیں‘ گلیاں اور نالیاں دکھائی دیتی ہیں جو خستہ حال ہیں۔ نکاسی آب کا پانی جابجا کھڑا نظر آتا ہے۔ گندگی و غلاظت کے انبار کا حجم اگرچہ گذشتہ چند ہفتوں میں کچھ کم ہوا ہے لیکن ایبٹ آباد میں صفائی کی صورتحال بہتر بنانے اور تعمیر و ترقی کے عمل میں حسب ضرورت توسیع کے لئے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے لیکن جس انداز میں ’کنٹونمنٹ بورڈ‘ کی 5وارڈوں کے لئے اراکین سیاسی وابستگیوں سے جڑے ہیں اور جس انداز میں ایبٹ آباد کی سیاسی قیادت درپردہ‘ پس پردہ اور باپردہ اپنے اپنے ہم خیالوں کی حمایت کررہی ہے اُسے دیکھتے ہوئے اِس بات کی اُمید بہت کم دکھائی دیتی ہے کہ کامیاب ہونے کے اُمیدوار چھاؤنی کی حدود میں بہتری کے لئے خاطرخواہ کردار ادا کر سکیں گے۔ سیدھی سادی بات کوسیاسی اور اَنا کا مسئلہ بنا دیا گیا ہے۔

کنٹونمنٹ بورڈ ہوں یا بلدیاتی انتخابات‘ سیاسی نامزدگی کسی اُمیدوار کا تعارف تو ہو سکتی ہے لیکن ووٹ دینے کا فیصلہ سیاسی بنیاد پر نہیں بلکہ خدمت کے جذبے اور بالخصوص اُس نئی قیادت کے حق میں ہونا چاہئے جو اپنے اپنے علاقے کی حدود میں رہنے والے ’ہر خاص و عام‘ خدمت کا جذبہ (ظرف) رکھتی ہو‘ یقیناًایسے افراد کی تلاش آسان نہیں جو کسی نہ کسی سیاسی جماعت یا سیاسی فکر و نظریئے سے وابستگی نہ رکھتے ہوں لیکن بلدیاتی سطح پر انتخابات کی گلی محلے کی تعمیر و ترقی اُور صفائی کی صورتحال سے کہیں زیادہ اہمیت ہے۔ منتخب نمائندوں کو ٹیکسوں کی شرح منصفانہ بنانی ہے۔ انہیں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کا جائزہ لینا ہوگا۔ اُنہیں تجاوزات اور قبضہ مافیا کے خلاف سینہ سپر ہونا پڑے گا‘ جن کی پشت پناہی اور سرپرستی کرنے والے سیاسی کرداروں کی وجہ سے انتظامیہ مستقل دردسر کا شکار ہے۔ منتخب نمائندوں کو شہری زندگی سے متعلق شعور اُجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنا ہو گا۔ اُنہیں تعلیم وصحت کے حوالے سے آگہی کا حصہ بننا ہوگا۔ گردوپیش پر نظر رکھنا ہوگی کہ منظم جرائم پیشہ یا عسکریت پسند اپنے قدم نہ جما سکیں‘اگرچہ ایبٹ آباد میں کوئی ’نوگو ایریا‘ نہیں لیکن ایسے علاقے ضرور ہیں جہاں دن ڈھلے پولیس اہلکار جانے سے کتراتے ہیں۔ جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے ذمہ دار دامے ‘درہمے‘سخنے اِن انتخابات میں بالواسطہ یا بلاواسطہ حصہ لے رہے ہیں‘ اپنے اپنے قومی و صوبائی حلقوں میں زیادہ سے زیادہ حمایت برقرار رکھنے کے لئے سیاسی قائدین بھی خطرے کی علامات سے نظریں چُرا رہے ہیں!

عسکریت پسندوں سے دلی ہمدردیاں‘ اخلاقی حمایت اور پشت پناہی کرنے والے بھی اِن دنوں فارغ نہیں اُور مذہبی بنیادوں پر منافرت پھیلانے والے اپنے اپنے ’ووٹ بینک‘ کی قیمت پر اہمیت جتلاتے دکھائی دیتے ہیں تو کیا یہ پورا عمل ’ہم عوام‘ کے لئے معنی خیز اور نتیجہ خیز قرار دیا جاسکتا ہے؟بات صرف ایبٹ آباد تک محدود نہیں رکھنی چاہئے بلکہ خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں 10 کنٹونمنٹ بورڈ کی 30 وارڈوں کے لئے برپا انتخابی گہماگہمیوں میں جیت اور ہار پر مبنی نتائج کی حد سے آگے سوچنے اور بڑھنے کی ضرورت ہے اُور ایک طویل تعطل کے بعد ہونے والے کنٹونمنٹ بورڈ بشمول بلدیاتی انتخابی (ہمہ جہت) عمل کو ’سیاسی وابستگیوں‘ سے بالاتر ہو کر زیادہ سنجیدگی و تفکر سے دیکھنے سمجھنے اُور سمجھانے کی ضرورت ہے۔

Cantonment Board elections and our political objectives

Tuesday, April 14, 2015

Apr2015: TRANSLATION How Pakistan should respond

How Pakistan should respond
پاکستان کا ردعمل؟
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ پاکستان ایک غلط وقت میں غلط مقام پر کھڑا ہے‘ جہاں اُسے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ عرب ممالک کے اُس عسکری اتحاد کا حصہ بنے یا اِس سے الگ رہے اور چونکہ پاکستان نے غیرجانبدار رہنے کا اصولی فیصلہ جمہوری انداز میں کر لیا ہے تو اس کے منفی اثرات یہ مرتب ہوسکتے ہیں کہ اہم اتحادی عرب ممالک کی حمایت اور مشکل کی کسی گھڑی میں اُن کا تعاون ہمارے شامل حال نہ ہو۔ درحقیقت چند عرب ممالک کی جانب سے یمن کی داخلی صورتحال میں فریق بننے کا فیصلہ ہی غلطی پر مبنی تھا اور پھر وہ یہ خواہش کرنے لگے کہ پاکستان بھی اُن کی غلطی میں حصہ دار بن جائے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات رہے ہیں اور پاکستان اِن تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اہمیت بھی دیتا ہے لیکن اِس دلی و مذہبی لگاؤ کا یہ مطلب ہرگز نہیں بنتا کہ اگر کوئی عرب ملک غلطی کرے گا تو پاکستان بھی اُس کی تائید و حمایت کرنے اندھوں جیسی تقلید کرنے لگے گا۔ عرب ممالک کو پاکستان کے داخلی حالات کا ادراک کرنا چاہئے۔ دوست وہ ہوتا ہے جو اپنے دوست کی مجبوریوں کو سمجھے۔ پاکستان داخلی طورپر بیک وقت ایک سے زیادہ فوجی کاروائیاں کر رہا ہے جیسا کہ آپریشن ضرب عضب اور آپریشن خیبرٹو سے ہم سب واقف ہیں لیکن اِن کاروائیوں کا دائرہ صرف قبائلی علاقوں ہی تک محدود نہیں بلکہ ملک گیر سطح پر خوف و دہشت کی علامت بننے والوں کے خلاف بھرپور کاروائی جاری ہے‘ جس میں پاک فوج کو یکسوئی اور مزید وسائل کی بھی ضرورت ہے کیونکہ دشمن اِس حد تک معاشرے میں سرایت کر چکا ہے کہ ایک تو اُس کی ظاہری وفوری شناخت ممکن نہیں اور دوسرا وہ گوریلا طرز جنگ اختیار کئے ہوئے ہے‘ جس کا مقابلہ کرتے ہوئے اگر فوج احتیاط سے کام نہیں لیتی تو اندیشہ ہے کہ بے گناہ افراد اِس کی زد میں آ جائیں گے۔ پھر قومی سطح پر دہشت گردی کے خلاف ایک ’ایکشن پلان‘ کی بھی منظوری دی جاچکی ہے‘ جسے مکمل کرنا بھی فوج ہی کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے اب اگر کسی ملک کی فوج ایک سے زیادہ داخلی محاذوں پر مصروف ہو اور اُسے اپنی افرادی قوت اُور وسائل میں اضافے پر بھی توجہ دینی ہو‘ تو یہ بات ناممکن حد تک دشوار ہو سکتی ہے کہ وہ کسی تیسرے اور بیرون ملک محاذ کی جانب پیشقدمی کرنا شروع کردے۔ پاکستان کی فوجی و سیاسی قیادت کے لئے یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ اس کی پہلی‘ دوسری اور تیسری ترجیح پاکستان ہی ہونی چاہئے۔

عرب ممالک یمن کے تنازعہ کو مختلف نظر سے دیکھ رہے ہیں اور پاکستان کی دفاعی اور سیاسی قیادت اِس مسئلے کو الگ زوایئے سے دیکھ رہی ہے۔ پاکستان کا نکتۂ نظر یہ ہے کہ یمن کی داخلی صورتحال سے سعودی عرب میں مقامات مقدسہ سمیت وہاں کے شاہی خاندان کی حکومت کو بھی کوئی خطرہ نہیں۔ پاکستان سمیت کئی مسلمان ممالک یہ بھی سمجھتے ہیں کہ یمن کا تنازعہ شیعہ سنی نہیں بلکہ یہ خالصتاً دو گروہوں کے درمیان خانہ جنگی ہے‘ جو کلمہ گو مسلمان ہیں اور عرب ممالک کو اُمت کے درمیان اختلاف ختم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ناکہ اُس آگ کو بھڑکایا جائے جو محض اقتدار و اختیارات پر دسترس حاصل کرنے کے لئے لگائی گئی ہے اگر مسلمان ممالک اسی طرح داخلی طورپر کمزور ہوتے رہے اور اُن کے ہمسایہ ممالک بالخصوص مسلم امہ کی قیادت کا زعم رکھنے والے عرب حکمرانوں کو چاہئے کہ وہ بڑے بھائی جیسا کردار اَدا کریں اور اپنا اثرورسوخ یا رعب و دبدبے کا اِستعمال کرتے ہوئے متحارب گروہوں کو ایک دوسرے سے بات چیت پر آمادہ کریں اور تنازعات باہم مل بیٹھ کر حل کریں تاکہ مسلم دنیا کے بارے میں اِس منفی تاثر کی نفی ہو سکے کہ یہ لوگ برداشت نہیں رکھتے حالانکہ اسلام کا لغوی مطلب ہی سلامتی اور امن سے ماخوذ ہے۔ ہمیں اپنوں اور غیروں پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اسلام کے ماننے والے امن پسند ہیں‘ وہ دوسروں کی جان ومال کے تحفظ کو فرض عین سمجھتے ہیں اور کسی ایک انسان کا قتل اُن کے نزدیک پوری انسانیت کے قتل کے مترادف فعل ہے۔

اصولی طور پر پاکستان کو اپنی معیشت و اقتصادیات کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہئے تاکہ وہ دوسروں کی مالی مدد اور معاونت پر انحصار ہی نہ کرے۔ یہ عمل اگر فوری طورپر ممکن نہیں تو ہمارے حکمرانوں کو چاہئے کہ اِس ہدف کو بتدریج حاصل کریں کیونکہ جب تک ہمارے ہاتھ میں کشکول رہے گا‘ ہم دوسروں کی خواہشات کے سامنے نہ صرف ہتھیار ڈالتے رہیں گے بلکہ اپنے ملکی وسائل کی ترقی اور ضروریات کے لئے بھی دوسروں کی منظوری کے محتاج بنے رہیں گے جیسا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ ہے‘ جو سالہا سال سے التوأ کا شکار ہے کیونکہ مبینہ طور پر امریکہ نہیں چاہتا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان قربت و معاشی و اقتصادی تعلقات میں اضافہ ہو۔ اِس مرحلے پر پاکستان یہ بھی کر سکتا ہے کہ عرب ممالک کی تنظیم سے اپنے تعلقات بہتر بنائے۔ پاکستان اِس پوزیشن میں ہے کہ وہ عرب ممالک اور یمن کی متحارب قیادت کے درمیان اختلافات بذریعہ بات چیت ختم کرا سکتا ہے۔ دوسرا پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے خدوخال ازسرنو تشکیل دے سکتا ہے بالخصوص عرب ممالک اور مشرق وسطی کے حالات کے تناظر میں بھی خارجہ پالیسی واضح ہونی چاہئے جسے دیکھتے ہوئے دوست و دشمن ممالک پاکستان سے کسی بھی بات کا مطالبہ کرنے سے پہلے جان لیں کہ ہماری سوچ کیا ہے اور ہم کس حد تک تعاون کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تیسرا وزیر اعظم ملک کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو طلب کر کے سنجیدہ اور جامع بات چیت کرسکتے ہیں تاکہ پاکستان کو آمدن کے پائیدار اور مستقل وسائل میں اضافہ کیا جاسکے۔ یہ کام سال 2019 ء یا 2024ء میں بننے والی جمہوری حکومتوں کے لئے نہیں چھوڑنا چاہئے بلکہ یہ انتہائی اہم ہے اور اِسے آج کے آج ہی ہوناچاہئے۔
پاکستان کا بجٹ آئندہ دو ماہ میں متوقع ہے اور اس کا بیشتر حصہ تو تیار بھی ہوچکا ہے۔ ہماری افسرشاہی اِس بات کی ماہر ہے کہ وہ غیرترقیاتی اخراجات کی روایت کو برقرار رکھے جبکہ پاکستان کی ضرورت ہر ایک پائی کا دانشمندانہ استعمال ہے۔ اپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے کی ضرورت ہے اور بیرونی امداد پر کم سے کم انحصار کرتے ہوئے قرضہ جات کی ادائیگی کے لئے مالی وسائل مختص کرنا ہوں گے۔ چوتھا اقدام یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ پاکستان عرب دنیا میں اپنی ساکھ اور اہمیت بڑھانے کے لئے سفارتکاری میں سرمایہ کاری کرے۔

 پاکستان کو قائم ہوئے 70 برس ہونے لگے ہیں اور اب تک ہمیں عرب ممالک کی تجارتی و افرادی قوت کی منڈیوں میں حسب ضرورت یا خاطرخواہ مقام نہیں مل سکا۔ پانچویں ضرورت ایران کے ساتھ تعلقات میں گرمجوشی لانی ہے۔ اِس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ ہم ایران کے انتہائی قریب چلے جائیں یا اُس کی ہر بات کی تائید کرنا شروع کردیں بلکہ ایران میں موجود توانائی کے وسائل سے استفادہ کرکے پاکستان توانائی بحران سے نکل بھی سکتا ہے اور اپنے توانائی کے وسائل کو ترقی بھی دے سکتا ہے جو اِس بحران کا ایک پائیدار حل ثابت ہوگا۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ پاکستان کا وسیع تر مفاد دوسروں کو سمجھانے کی بجائے ہمارے حکمران اور فیصلہ ساز اِس حقیقت کا ادراک کریں کہ پاکستان کی بقاء داخلی امن و سلامتی سے جڑی ہے۔ ہمارا استحکام اور بحرانوں سے نجات صرف اور صرف قیام امن کی محتاج ہے‘ جس کے لئے جاری جدوجہد ایک فیصلہ کن اور نازک مراحل سے گزر رہی ہے اور اِس وقت اگر توجہ کسی دوسری طرف مبذول کی گئی تو اِس سے انتشار بڑھے گا‘ بحرانوں کی شدت میں اضافہ ہوگا اور ملک میں پہلے ہی سے بلند سطحوں کو چھونے والی بیروزگاری‘ غربت و افلاس اور اقتصادی پیداواری سرگرمیوں میں کمی آئے گی۔ ہمیں جوش کی نہیں ہوش سے کام لینے کی ضرورت‘ کل سے زیادہ آج ہے!

 (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: مشرف زیدی۔ ترجمہ: شبیر حسین اِمام)
How Pakistan should respond