Friday, July 21, 2023

Muharram ul Harram 2023 - 1445 Hijri - Security Plan

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی : محرم سیکورٹی : خطرات و خدشات

حالیہ چند روز یعنی محرم الحرام (1445 ہجری) کے آغاز سے قبل اُور بالخصوص یکم محرم الحرام (بیس جولائی کے روز) پیش آئے واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگرچہ ’پشاور پولیس‘ سیکورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مستعد و چوکنا اُور پہلے سے زیادہ پرعزم دکھائی دیتی ہے لیکن غیرمعمولی حالات‘ غیرمعمولی اقدامات و انتظامات کے متقاضی ہیں۔ اِس سلسلے میں ’امامیہ کونسل‘ نے تجویز دی ہے کہ دو اُور گیارہ محرم الحرام (جمعة المبارک) کے ایام میں نماز جمعة المبارک کے اجتماعات کی سیکورٹی کے لئے صرف پولیس کے افرادی وسائل پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ عبادت گاہوں کے لئے متبادل سیکورٹی انتظامات بھی ہونی چاہئے جبکہ کونسل کی جانب سے پشاور پولیس کے فیصلہ سازوں کو متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ ’حفاظتی حکمت عملی (محرم کنٹیجینسی پلان)‘ پر نظرثانی کریں کیونکہ سیکورٹی خطرات و خدشات حقیقی ہیں تاہم حفاظتی انتظامات خوف و دہشت پھیلانے کا باعث نہیں ہونے چاہیئں۔ قابل ذکر ہے کہ پشاور پولیس نے مختلف مسالک کی عبادتگاہوں‘ اجتماعات اُور جلوسوں کو حفاظت فراہم کرنے کے لئے ’تین سطحی حفاظتی انتظامات‘ کر رکھے ہیں جس کے لئے ساڑھے تیرہ ہزار پولیس اہلکاروں‘ دو سو کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن کیمروں‘ خفیہ اطلاعات کے مربوط نظام اُور کرائے کے گھروں و ہوٹلوں‘ سرائے خانوں میں مقیم افراد پر بھی نظر رکھی گئی ہے جبکہ افغان مہاجرین کے پشاور میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے تاہم پشاور شہر اُور اِس کے مضافات میں افغان مہاجرین مستقل مقیم ہیں یعنی وہ پہلے ہی شہر کی حدود میں داخل ہیں جبکہ ایسے افغان مہاجرین بھی ہیں جنہوں نے جعل سازی سے پاکستان کی شہریت حاصل کر رکھی ہے اُور اُنہیں صرف بول چال و رہن سہن کی عادات سے پہچانا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی شناختی دستاویزات کسی بھی غلط طریقے (بذریعہ رشوت اُور قبائلی اضلاع سے دستاویزات بنوا کر حاصل کرنا) جرم ہے لیکن چونکہ اِس جرم میں ’افغان مہاجرین‘ کی معاونت کرنے میں پاکستان کے اپنے سرکاری اہلکار ملوث پائے گئے ہیں‘ اِس لئے دوسروں سے گلہ کرنے کی بجائے اپنے گھر (داخلی امور) کی اصلاح کی جانی چاہئے۔ افغان مہاجرین چاہے قانونی ہوں یا غیرقانونی اُن کی باعزت اُور رضاکارانہ وطن واپسی کے لئے دی جانے والی رعایت و سہولت کا خاطرخواہ ہمدردی سے جواب نہیں دیا گیا۔ 

افغان مہاجرین یہ بات سمجھنے کے باوجود نہیں سمجھ رہے کہ اُن کی آڑ میں منظم جرائم پیشہ عناصر اُور پاکستان دشمن کاروائیاں کر رہے ہیں اُور اِس مسئلے کے صرف دو ہی حل ہیں۔ ایک تو یہ کہ افغان مہاجرین کو پاک افغان سرحد سے متصل (شہروں سے دور) خیمہ بستیاں قائم کر کے اِن کی نقل و حرکت محدود کر دی جائے لیکن ظاہر ہے کہ اِس کے لئے پاکستان کے پاس نہ تو درکار مالی و افرادی وسائل ہیں اُور نہ ہی وقت۔ دوسرا حل اِن مہاجرین کی رضاکارانہ یا غیررضاکارانہ وطن واپسی کا ہے جو قابل عمل حل ہے اُور اِس میں افغان مہاجرین کی بھی بہبود شامل ہے کیونکہ کم آبادی اُور قومی ترجیحات کے درست تعین کی وجہ سے افغانستان کے معاشی حالات میں ہر دن بہتری آ رہی ہے‘ جس کا افغان مہاجرین اُور افغان امور کے تجزیہ کار اکثر پاکستان کی معاشی صورتحال کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو اگر واقعی ایسا ہی ہے تو افغان مہاجرین کو فوراً سے پہلے اپنے ملک واپس چلے جانا چاہئے اُور اِس سے بڑھ کر کوئی دوسری خوش قسمتی اُور کیا ہوگی کہ اگر کسی شخص کو اپنے ملک کی تعمیر و ترقی میں ہاتھ بٹانے کا موقع مل جائے؟

پشاور کو لاحق امن و امان کے خطرات اُور اِن خطرات سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے شہر کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہیں‘ جو پہلے ہی مختلف وجوہات کی بنا پر بحران سے گزر رہی تھیں لیکن ظاہر ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی پہلی (at-most) ذمہ داری ہوتی اِس لئے سوچ بچار سے لیکر عملی اقدامات تک ہر پہلو سے غور و خوض اُور اِس سلسلے میں ہر فریق (اسٹیک ہولڈر) سے مشاورت کی گئی ہے اُور گیارہ اضلاع (پشاور‘ کوہاٹ‘ ہنگو‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ کرم‘ اورکزئی‘ ٹانک‘ مردان‘ نوشہرہ‘ ہری پور اُور ایبٹ آباد) کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ ضلع پشاور کی بات کریں تو محرم الحرام کا آغاز ہونے سے قبل ’دفعہ 144‘ نافذ کر کے افغان مہاجرین کے پشاور میں داخلے‘ اسلحے کی نمائش اُور موٹرسائیکل پر ایک سے زیادہ (ڈبل سواری) پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ موٹرسائیکل کم آمدنی رکھنے والوں کی سواری ہے اُور پشاور شہر کے گنجان آباد (پرہجوم) قدیمی حصوں میں آمدورفت کے لئے موٹرسائیکل سواری کا واحد ذریعہ بھی ہے تو ایسی صورت میں اُن علاقوں سے رعایت ہونی چاہئے جہاں محرم الحرام کی مناسبت سے اجتماعات یا جلوس نہیں ہوتے۔ پشاور میں لگائی گئی ’دفعہ 144‘ کے تحت موٹرگاڑی اُور موٹرسائیکل کے کرائے پر دینے یا حاصل کرنے‘ بغیر نمبرپلیٹ موٹرگاڑی یا موٹرسائیکل اُور دیگر گاڑیوں کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ اِسی طرح اُن علاقوں میں چھت پر کھڑے ہونے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے جہاں محرم الحرام کی مناسبت سے مذہبی اجتماعات یا جلوس گزرتے ہیں۔ پشاور شہر و مضافات اُور چھاؤنی کی حدود میں آتش بازی کے سامان کی خرید و فروخت بھی اِس پابندی کا حصہ ہے۔ 

مجموعی طور پر 25 پابندیاں 15 روز کے لئے نافذ کی گئی ہیں لیکن اِن میں کئی ایسی پابندیاں بھی شامل ہیں جو مستقل ہونی چاہیئں جیسا کہ آتش گیر مادے کی خریدوفروخت‘ جو بچوں اُور بڑوں کے لئے یکساں خطرہ اُور مالی وسائل کا ضیاع بھی ہے۔

 توجہ طلب ہے کہ محرم الحرام کے موقع پر جبکہ صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی حرکت میں نہیں آتے بلکہ ضلعی انتظامیہ اُور بنام مقامی حکومتوں عوام کے منتخب (بلدیاتی) نمائندے بھی حرکت میں آ جاتے ہیں تو اِس نادر موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے پشاور شہر کے بازاروں کا سروے کر لیا جائے کہ کن کن بازاروں میں دکانداروں نے اپنی اپنی حدود سے تجاوز کر رکھا ہے اُور تجاوزات کے لئے استعمال ہونے والی اشیا دکانوں کے باہر ہی ڈھانپ کر رکھی جاتی ہیں یا ایک ایسی صورتحال میں جبکہ بازاروں میں آمدورفت کم ہو اُور کاروباری سرگرمیاں بھی بند کروا دی گئی ہوں تو دکانوں کے پختہ تعمیر شدہ یا غیرپختہ (مستقل و عارضی) اضافی حصے باآسانی شناخت اُور ہٹائے جا سکتے ہیں اُور اگر حکام کی جانب سے اپیل کی جائے تو محب الوطن تاجر از خود ’انسداد تجاوزات‘ کے سلسلے میں تعاون کریں گے کیونکہ دہشت گردی کا خطرہ کسی ایک مذہب و مسلک کو لاحق نہیں اُور نہ ہی اِس کے خاتمے کی ذمہ داری صرف اُور صرف حکومت اُور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے بلکہ یہ پورے پشاور کو لاحق خطرہ اُور ایک اجتماعی مسئلہ ہے جسے حل کرنے کے لئے ’اجتماعی (مربوط) محنت و کوشش کی پہلے سے زیادہ آج ضرورت ہے۔‘

....

Editorial Page Daily Aaj 21 July 2023

Clipping from Editorial Page Daily Aaj 21 July 2023


Monday, July 17, 2023

Paigham e Karbala Conference (Zarf e Nigha English Version)

Paigham e Karbala Conference : 

Strengthens Unity and Promotes Peace.


Shabbir Hussain Imam

(Peshawar - 16 July 2023)

Under the joint efforts of the Imamia Council for the Unity of the Muslims (Rejection of Sectarianism) Khyber Pakhtunkhwa and the Qoumi Aman Jirga, a significant event called the "Paigham e Karbala Conference" took place in Peshawar on Saturday night. The conference aimed to foster unity and harmony among Muslims, with a specific focus on the importance of prayer and early prayer as the core message of Karbala.


The effort saw the presence of esteemed individuals, including Director General of Iranian Culture Centre in Peshawar Mr. Asghar Khosrow'abadi, who emphasized the significance of prayer and its place in both ceremonies and daily life. Iqbal Haidari, Chairman of the Qoumi Aman Jirga, highlighted significant events in Muharram ul Harram and other Islamic months, underlining their importance in Islamic history.


Hajjat-ul-Islam wa Muslimeen Khatib Allama Syed Zafar Naqvi emphasized the responsibility of mosques and pulpits in accurately representing the true essence of Muharram. Allama Abid Hussain Shakri, the Principal of Madrasa Arif Hussain Al-Hussaini Shaheed, shed light on the unwavering commitment of Imam Al-Maqam, emphasizing the visible and hidden aspects of martyrdom.


The ceremony witnessed the participation of numerous custodians of Imam Bargahs, Taiziadars, founders of Majlis, Salars of Matami Sangats, and their representatives from Peshawar District. Notably, this unique event successfully brought together Shia and Sunni Muslims under one roof, promoting unity, understanding, and brotherhood.


Speakers at the conference highlighted commonalities, values, tolerance, and brotherhood, with a particular focus on strengthening the bonds of Islamic brotherhood through a deeper understanding of Karbala. By emphasizing shared aspects rather than differences, the aim was to thwart the ambitions of those who perpetuate sectarian tensions and conspiracies against Islam.


The choice of venue, the "Waheed Banquet (Wedding) Hall near Yakatoot Gate," instead of a mosque or an Imambargah, was a symbolic representation of inclusivity. It signified the unity of purpose and the participation of a predominantly youthful audience. However, it is regrettable that decision-makers from the provincial and district governments, district administration, and law enforcement agencies did not participated in the event. Their involvement could have led to better peace and order arrangements, eliminating the need for separate meetings with different sects every year and dispelling the notion of religious monopoly over Muharram.


Worth knowing that in anticipation of upcoming Muharram-e-Haram, extensive security measures have been put in place, with the Provincial Department of Home Affairs designating 4,500 locations in 11 districts of Khyber Pakhtunkhwa as highly sensitive. As necessary, mobile phone services may be temporarily suspended in certain areas of the said districts. However, it is crucial to recognize that terrorists can target any location, not just those designated as sensitive. Therefore, comprehensive security measures are essential.


The representative body "Qoumi Muharram Committee (QMC)" has expressed some concerns over unjust restrictions imposed on Imambargahs and interference in mourning rituals. Such actions infringe upon constitutional and human rights, contradicting decisions made at higher levels. It is imperative for the police to implement security arrangements seriously, taking into account the suggestions and concerns of all stakeholders, to ensure peace and order prevail. Overall, the Paigham e Karbala Conference served as an important platform for promoting unity, harmony, and mutual understanding among Muslims. It aimed to alleviate sectarian tensions and create an atmosphere of cooperation and respect. By fostering a deeper understanding of Karbala and embracing shared values, not only Muharram but also the remaining eleven months can be characterized by peace and order.


Ends.

Paigham e Karbala Conference by Imamia Council & Qoumi Aman Jirga to Strengthens Unity and Promotes Peace.

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

استقبال محرم الحرام

اِمامیہ کونسل برائے اتحاد بین المسلمین (رد ِفرقہ واریت) خیبرپختونخوا اُور ’قومی امن جرگہ‘ کے زیراہتمام ’استقبال محرم الحرام‘ کے حوالے سے خصوصی نشست بعنوان ”پیغام کربلا کانفرنس“ کا اہتمام کیا گیا جس سے خانہ فرہنگ جمہوری اِسلامی ایران کے پشاور میں تعینات ڈائریکٹر جنرل اصغر خسرو آبادی نے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”کربلا کا پیغام‘ نماز کی پابندی اُور اوّل وقت میں نماز کی ادائیگی ہے‘ جسے مراسم و معمولات اُور مصروفیات میں فراموش (گم) نہیں کرنا چاہئے۔“ تقریب کے دیگر مقررین میں قومی امن جرگہ کے چیئرمین اقبال حیدری نے محرم الحرام اُور دیگر اسلامی مہینوں میں پیش آئے اہم واقعات کا تذکرہ کیا اُور کہا کہ اسلامی سال کی اہمیت اُور اِن میں پیش آئے واقعات خاص اہمیت کے حامل ہیں اُور اسلامی تاریخ کے اِن تمام درخشاں ابواب کا ذکر ہونا چاہئے۔ اُنہوں نے اِس بات پر بھی زور دیا کہ اسلامی مہینوں کے بارے میں نوجوان نسل کو بالخصوص آگاہ کیا جائے۔

حجة الاسلام و المسلمین خطیب علامہ سیّد ظفر نقوی نے محرم الحرام کے حقیقی تشخص کو اُجاگر کرنے سے متعلق ’مسجد و منبر کی ذمہ داریوں‘ پر روشنی ڈالی جبکہ مدرسہ عارف حسین الحسینی شہید کے پرنسپل علامہ عابد حسین شاکری نے اِمام عالی مقامؓ کی استقامت و شہادت کے ظاہری و پوشیدہ پہلوؤں کو اُجاگر کیا اُور اپنے مدلل خطاب کے آغاز پر یہ شعر پڑھا کہ ”آنکھوں کے ساحلوں پہ ہے اشکوں کا اِک ہجوم .... شاید غم ِحسین (ع) کا موسم قریب ہے۔“ پروقار تقریب میں ضلع پشاور کی امام بارگاہوں کے متولیان‘ تعزیہ دار‘ بانیان مجالس اُور ماتمی سنگتوں کے سالار یا اُن کی نمائندگی کرنے والوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

 پہلی مرتبہ محرم الحرام کے آغاز پر اپنی نوعیت کی اِس منفرد تقریب کی خاص بات یہ نہیں تھی کہ اہل تشیع اُور اہل سنت والجماعت (مختلف مسالک) سے تعلق رکھنے والے ایک چھت کے تلے ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہوئے بلکہ بظاہر الگ الگ مسالک کے طور پر نشاندہی ہونے والے اِن مسالک نے محرم الحرام کے حوالے سے جو نکات پیش کئے اُن میں مشترکات‘ اقدار‘ رواداری‘ بھائی چارے اُور اخوت پر زور دیا گیا اُور یہی وہ خاص نکات تھے جس کا تمام مقررین نے احاطہ کیا۔ بطور خاص علامہ سیّد ظفر نقوی نے کہا کہ رواں برس ’رہبر معظم آیت اللہ سیّد خامنہ ای حفظہ اللہ‘ کی جانب سے جاری ہونے والے محرم الحرام کے حوالے سے پیغام میں علمائے کرام و ذاکرین اُور نوحہ خوانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ محرم الحرام کے دوران اسلام کے حقیقی تشخص اُور توحید کو اُجاگر کریں اُور فروعی مسائل اُور اختلافات کا تذکرہ کرنے کی بجائے مشترکات کا ذکر کریں تاکہ ’کربلا شناسی‘ کے ساتھ اسلامی اخوت میں اضافہ ہو اُور یہی ’کربلا کا پیغام‘ بھی ہے کہ عالم اسلام اِس ایک نکتہ حریت پر متفق ہو جائے کہ امام عالی مقام اُور کربلا میں اِمام عالی مقام اُور آپ کے جانثار ساتھیوں (رضوان اللہ اجمعین) کی استقامت و قربانی کا مقصد یہی تھا کہ اسلام کا حقیقی تشخص اُجاگر ہو اُور اسلام کے اِس حقیقی تشخص کو اُجاگر کر کے شیعہ سنی اختلافات کو ہوا دینے والوں کے عزائم خاک میں ملائے جا سکتے ہیں اُور بالخصوص اِسلام کے خلاف جاری منظم و مربوط سازشوں کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔“

 اِستقبال ِمحرم الحرام کے حوالے سے منعقدہ مذکورہ نشست کا عنوان ”پیغام کربلا کانفرنس“ رکھا گیا جو انتہائی موزوں تھا اُور اِس سے بھی زیادہ موزوں انتخاب تقریب کے لئے مقام کا انتخاب تھا جو کسی مسجد یا امام بارگاہ کی بجائے ’وحید بینکویٹ (شادی) ہال نزد یکہ توت گیٹ‘ تھا جہاں شرکا میں شیعہ و سنی مسالک سے تعلق رکھنے والوں کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل تھی۔ قریب دو گھنٹے جاری رہنے والے اِس تقریب کے اختتام (عشایئے) تک حاضرین نشستوں پر جمے رہے اُور بلند آواز میں درود شریف پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہوئے مقررین کے مو¿قف کی تائید بھی کی جاتی رہی‘ جس سے روحانی محفل کی رونق میں مزید اضافہ ہوا۔

اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے اِس غیرمعمولی تقریب میں اگر صوبائی حکومت‘ ضلعی حکومت‘ ضلعی اِنتظامیہ اُور بالخصوص قانون نافذ کرنے والے اِداروں کے فیصلہ سازوں بھی شریک ہوتے تو امن و امان کے انتظامات و تیاریاں (محرم کنٹی جینسی پلان) کے تحت الگ الگ مسالک سے الگ الگ ملاقاتیں کرنے جیسی حسب روایت سالانہ مشق کی محتاج نہ رہتیں اُور نہ ہی محرم الحرام پر کسی مسلک کی اجارہ داری اُور چھاپ کا تاثر پیدا ہوتا۔ متعلقہ تھانے کو اطلاع دے دی گئی تھی لیکن اِس کے باوجود خاطرخواہ توجہ نہیں دی گئی۔ بہرحال احساس کر لیا گیا ہے کہ بنیادی ضرورت ’کربلا شناسی‘ کے فروغ اُور استقامت و قربانیوں کے مقاصد عالیہ کو مدنظر رکھنے کی ہے‘ جس کے لئے مسالک کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتا ہے اُور اگر اِس ’بابرکت اتفاق رائے (مشترکات)‘ کو فروغ دیا جائے تو صرف محرم الحرام ہی نہیں بلکہ دیگر گیارہ مہینے بھی امن و امان سے گزر سکتے ہیں جن کے لئے عمومی حفاظتی انتظامات کے علاؤہ خصوصی انتظامات (محرم کانٹی جَینسی (سیکورٹی) پلان) کی ضرورت نہیں پڑے گی اُور نہ ہی کسی ایک مسلک کے ہاتھوں دوسرے کی دل شکنی ہو گی جس سے اختلافات بڑھتے ہیں اُور مسالک ایک دوسرے کو اپنے لئے خطرہ سمجھنے لگتے ہیں حالانکہ مشترکات موجود ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ محرم الحرام کے لئے رواں برس سال گزشتہ کے مقابلے زیادہ بڑے پیمانے پر حفاظتی انتظامات وضع کئے گئے ہیں۔

صوبائی محکمہ داخلہ (ہوم ڈیپارٹمنٹ) نے خیبرپختونخوا کے 11 اضلاع میں 4500 مقامات کو انتہائی حساس قرار دیا ہے تاہم ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری ہوئے اعلامیہ کے مطابق پشاور‘ کوہاٹ‘ ہنگو‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ کرم‘ اورکزئی‘ ٹانک‘ بنوں‘ لکی مروت‘ مردان‘ ہری پور‘ ایبٹ آباد اُور مانسہرہ میں موبائل فونز سروسیز حسب ضرورت (اجتماعات کے موقع پر) بند رکھی جائیں گی لیکن اِس طرح کے انتظام کو مسئلے کا پائیدار حل سمجھنا خام خیالی ہو گی اُور دوسری اہم بات یہ ہے کہ دہشت گردوں کے نشانے پر صرف وہی ساڑھے چار ہزار مقامات ہونا بھی درست اندازہ نہیں بلکہ کوئی بھی دوسرا مقام (جسے فی الوقت غیرحساس سمجھ لیا گیا ہے) وہ بھی دہشت گردی کا نشانہ بن سکتا ہے اِسی لئے وسیع اُور غیرلچکدار حفاظتی انتظامات کئے جاتے ہیں اُور ہر سال کی طرح اِس مرتبہ بھی مذکورہ شہروں میں شہری زندگی کے معمولات شدید متاثر ہوں گے لیکن اگر فرقہ ورانہ ہم آہنگی اُور مسالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں میں قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی شامل ہو جائیں تو اِس سے مالی و افرادی وسائل کی بچت کے علاؤہ معمولات ِزندگی کے متاثر ہونے کے امکانات بھی کم اُور مرحلہ وار ختم ہوتے چلے جائیں گے اُور یہی حفاظتی انتظامات کا بنیادی نکتہ ہونا چاہئے۔ فکرانگیز ہے کہ ایک طرف امن کوششیں ہو رہی ہیں اُور دوسری طرف پولیس ایسے اقدامات کر رہی ہے جس کے بارے میں قومی محرم کمیٹی کو تحفظات ہیں۔

سولہ جولائی دوہزارتیئس کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں قومی محرم کمیٹی نے اِس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ رواں برس محرم الحرام کے آغاز سے قبل ’عزاداری سیّد الشہدا‘ بلاجواز پابندی اُور قدغن لگانے کے لئے امام بارگاہوں کے متولیان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے اُور متولیان سے ایسے نوٹسیز پر دستخط لینے کی کوشش کی جا رہی ہے جن کے مطابق وہ پولیس کی مرضی سے اپنے ہاں عزاداری کا آغاز و اختتام کریں گے جو انتہائی غیرمناسب رویہ ہے اُور اِس کوشش کو محرم کمیٹی نے مسترد کیا ہے کیونکہ یہ بنیادی آئینی و انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ پولیس کے اعلیٰ حکام کی جانب سے یقین دہانی کے باوجود بھی اگر تھانہ جات کی سطح پر قدغنیں لگانے کی کوشش ہو رہی ہے تو اِس کا مطلب یہی ہے کہ پولیس کے اعلیٰ سطحی فیصلے‘ جو جملہ فریقین (مختلف مسالک) کی آرا و تجاویز اُور تحفظات و شکایات سننے کے بعد کئے گئے اگر اِن پر سنجیدگی سے عمل درآمد نہیں کیا جاتا تو اِس سے حفاظتی انتظامات کی کامیاب بھی ممکن نہیں ہوگی اُور خدانخواستہ ایسا ہونے کی صورت میں امن و امان کو نقصان پہنچانے کے لئے تاک میں بیٹھے ’دشمن (دہشت گردوں)‘ کو وار (حملہ) کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ 

....

Imamia Council organizes Paigham-e-Karbala Conference (app.com.pk)

Imamia Council organizes Paigham-e-Karbala Conference

Sun, 16 Jul 2023, 4:33 PM

PESHAWAR, Jul 16 (APP):Imamia Council for the Unity of the Muslims (Rejection of Sectarianism) Khyber Pakhtunkhwa in collaboration with Qoumi Aman Jirga organized ‘Paigham e Karbala Conference’ here the other day, said a press release issued here on Sunday.

Director General (DG), Iranian Cultural Centre, Peshawar Asghar Khusro Abadi attended the conference as the chief guest.

Addressing the participants of the conference, Asghar Khusro Abadi said that the message of Karbala was offering timely and early prayers, which could not be forgotten due to engagements relating to customs, traditions and other routine matters.

Chairman, Qoumi Aman Jirga, Iqbal Haidri highlighted the significant events organized in Muharram ul Harram and other holy Islamic months underlining their importance in Islamic history and stressed for highlighting these golden chapters. He further stressed for creation of awareness amongst the youth about Islamic calendar.

Allama Syed Zafar Naqvi highlighted the responsibility of masajid and emphasized presentation of the importance of Muharram-ul-Haram in true sense.

Allama Abid Hussain Shakri, the Principal of Madrasa Arif Hussain Al-Hussaini Shaheed, shed light on the unwavering commitment of Imam Aali-e-Maqam, emphasizing the visible and hidden aspects of martyrdom.

Custodians of numerous Imam Bargahs, Taiziadars, founders of Majalis, Salars of Matami Sangats and their representatives from Peshawar turned over to the conference.

The unique event successfully brought together Shia and Sunni Muslims under one roof, promoting unity, understanding, and brotherhood.

The speakers at the conference highlighted commonalities, values, tolerance and brotherhood, with a particular focus on strengthening the bonds of Islamic brotherhood through a deeper understanding of Karbala. By emphasizing shared aspects rather than differences, the aim was to thwart the ambitions of those who perpetuate sectarian tensions and conspiracies against Islam.

APP/aqk


Editorial Page - Daily Aaj - 17th July 2023.

Clipping from Daily Aaj - 17th July 2023







Saturday, July 15, 2023

Gandhara dreams by Dr Ramesh Kumar Vankwani

 Gandhara dreams

گندھارا تہذیب: خواب اُور حقیقت

پاکستان میں گندھارا تہذیب کے آثار اُور منسوب مقامات کی سیر کے لئے دنیا بھر سے سیاح آ رہے ہیں۔ حال ہی میں اِس سلسلے میں ایک ’عالمی کانفرنس‘ کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں بالخصوص بدھ مت کے پجاری اُور اُن ممالک کے نمائندہ وفود نے شرکت کی جہاں ’بدھ مت‘ سرکاری مذہب کے طور پر رائج ہے۔ گندھارا تہذیب کو مقدس اُور تاریخی اہمیت کی حامل سمجھنے والے جو ممالک دلچسپی لے رہے ہیں اُن میں تھائی لینڈ‘ نیپال‘ ویت نام‘ چین‘ ملائیشیا‘ کوریا‘ سری لنکا‘ میانمار‘ کمبوڈیا‘ انڈونیشیا اور دیگر بودھی اکثریتی ممالک شامل ہیں۔ حال ہی میں معزز بودھی بھکشو نے پاکستان کا دورہ کیا اُور چند دنوں روز یہاں مقیم رہے۔ اِن کی پاکستان یاترا (آمد) کا مقصد وزیر اعظم کی ’خصوصی ٹاسک فورس برائے گندھارا ٹورازم‘ اُور ہم خیال ’تھنک ٹینک نجی اداروں‘ کے تعاون سے منعقد ہونے والے پہلے بین الاقوامی گندھارا سمپوزیم میں شرکت تھی جس کے لئے وفود اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ پر اُترے اُور اُنہوں نے مذکورہ سمپوزیم میں شرکت کے علاؤہ گندھارا تہذیب کے مقامات پر حاضری بھی کی اُور وہاں عبادت و مختصر قیام کے دوران تاریخ کے اُن رشتوں کو زندہ بھی کیا جن پر دہائیوں سے مٹی پڑی ہوئی ہے۔

بین الاقوامی بودھی راہبوں کے ہمراہ تخت باہی مردان کے قدیم گندھارا مقام کا دورہ کرتے ہوئے راقم الحروف کو ایسا لگا کہ جیسے کوئی شخص جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھ رہا ہو اور جب آنکھیں کھلیں گی تو یہ ویران کھنڈرات اپنے شاندار ماضی پر ماتم کرتے نظر آئیں گے۔ بین الاقوامی برادری کے سامنے ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کے لئے ’مذہبی سیاحت‘ کو فروغ دینے کا خواب بالآخر حقیقت بن رہا ہے۔ اِس سمپوزیم سے قبل‘ بدھ بھکشوؤں‘ مختلف ممالک کے سفیروں اور ذرائع ابلاغ کے وفود کے ہمراہ جدید ٹیکسلا اور گندھارا دور کے عظیم تعلیمی مرکز‘ تکششیلا (Takshashila)کے قدیم شہر میں واقع قدیم دھرم راجیکا (Dharmarajika) عبادتگاہ (سٹوپا) کا دورہ کیا۔ معلوم انسانی تاریخ کی یہ پہلی یونیورسٹی تھی اور اِس جامعہ میں عظیم فلسفی کوٹلیہ چانکیہ ڈھائی ہزار سال پہلے حکمت پڑھاتے تھے۔ ’ارتھ شاستر‘ اور ’چانکیہ نیتی‘ کے عنوان سے اُن کی کتابیں اکیسویں صدی میں بھی یکساں مقبول ہیں۔ قدیم شہر ٹیکسلا کی اہمیت کے پیش نظر گندھارا ٹورازم سے متعلق وزیراعظم پاکستان کی بنائی ہوئی ’ٹاسک فورس‘ نے ایک اعلامیہ بھی تیار کیا ہے جسے کانفرنس کے مندوبین اور سفیروں کے ساتھ شیئر کیا گیا۔ راقم الحروف کو یقین ہے کہ اِس عاجزانہ کوشش کو تاریخ میں ’تکششیلا اعلامیہ‘ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

بین الاقوامی مندوبین نے ٹیکسلا اور پشاور کے عجائب گھروں کا دورہ بھی کیا۔ اِس موقع پر راہبوں سے ہوئی بات چیت میں اِس بات کا خصوصی طور پر اظہار کیا گیا کہ گندھارا کے بارے میں بہت کچھ پڑھنے اُور سننے والوں کو جب اِس سے متعلقہ مقامات اُور آثار کو قریب سے دیکھنے کا پہلا اُور نادر موقع خاص اہمیت کا حامل ہے۔ وہ اپنے آبائی ممالک واپس جانے کے بعد پاکستان اور پاکستان کے عوام کے بارے میں اچھی باتیں اُور یادیں بطور سوغات لیکر جائیں گے۔ ذہن نشین رہے کہ گندھارا سیاحت کے فروغ کے لئے جب وزیر اعظم کی ٹاسک فورس نے منصوبے کو عملی جامہ پہنایا اُور بدھ مت زائرین نے تخت بھائی کا دورہ کیا تو راقم الحروف نے اُس وفد کی قیادت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا اُور اُس وقت یہ بالکل ناممکن دکھائی دے رہا تھا کہ دنیا کے مختلف ممالک سے بدھ بھکشو پاکستان کا دورہ کر سکیں گے تاہم جہاں ارادہ موجود ہو اُور جہاں نیک نیتی کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تو راستے نکل ہی آتے ہیں۔ ذاتی طور پر راقم الحروف کا ماننا ہے کہ ہر قوم اور ملک کا کوئی نہ کوئی خواب ہوتا ہے کہ وہ آگے بڑھے۔ امریکہ کے 16ویں صدر ’ابراہم لنکن‘ نے اپنی قوم کو سپر پاور بننے کا خواب دیا۔ اسی طرح چین کے صدر شی جن پنگ نے بھی اپنی قوم کو عالمی سطح پر متعارف کرایا اُور چین کی صنعتی و سفارتی طاقت کو منوایا۔ 

ہمارے بزرگوں نے بھی ایک خودمختار اور آزاد ریاست کا خواب دیکھا تھا جو بانیئ پاکستان قائد اعظم کی دور اندیش قیادت میں پورا ہوا۔ جناح صاحب نے ’11 اگست 1947ء‘ کے روز اپنی تقریر میں اِس خواب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”وہ پاکستان کو ’مثالی رول ماڈل ریاست‘ میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر کسی کو مسجد یا مندر یا کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کی آزادی ہو۔“ ایک محب وطن پاکستانی شہری ہونے کے ناطے راقم الحروف کا بھی خواب ہے کہ پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر ہو اُور پاکستان کا تعارف ترقی یافتہ‘ پرامن اُور خوشحال ملک کے طور پر کیا جائے۔ ’گندھارا ڈریم‘ کے ساتھ پاکستان نے مذہبی سیاحت کے فروغ سے متعلق ’واضح اہداف‘ مقرر کئے ہیں اُور اِس کوشش میں بڑی کامیابی بھی حاصل کی ہے۔ مجھے اِس بات کا یقین ہے کہ سینکڑوں سال پہلے ہماری سرزمین پر پھلنے پھولنے والی عظیم گندھارا تہذیب دنیا کی ’اَنوکھی قدیم‘ تہذیب ہے۔ اِس تہذیب کے باقی ماندہ آثار میں ہر پتھر‘ ہر کھنڈر‘ ہر کونا کوئی نہ کوئی کہانی بیان کر رہا ہے۔ 

گندھارا ورثہ پراسرار ہے اُور اِس کی پراسراریت جدید دور میں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ گندھارا کے مقدس مقامات کی زیارت دنیا کے ہر بدھ مت پیروکار کا خواب ہے لہٰذا ہمیں اِس جانب راغب کرنے کے لئے غیرملکی سیاحوں کے لئے سہولیات کی فراہمی کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ 

(مضمون نگار رکن قومی اسمبلی اور پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلیٰ ہیں۔ بشکریہ: ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)


Development in Peshawar - At a glance

 ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی .... شہری منصوبہ بندی

صوبائی دارالحکومت پشاور کا کوئی ایک بھی رہائشی یا کاروباری علاقہ ایسا نہیں جہاں بنیادی سہولیات کا نظام مثالی شکل و صورت میں موجود ہو اگرچہ عوامی اجتماعی مسائل کے حل کے لئے فیصلہ سازی کا عمل وسیع کر دیا گیا ہے اُور مقامی حکومتیں (بلدیاتی نظام) اِسی لئے وضع کیا گیا ہے کہ اِس کے ذریعے علاقائی سطح پر عوام کی نمائندگی ہو اُور علاقائی سطح پر ہی بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ اِس مقصد کے لئے ضلع پشاور میں 216 تحصیل کونسلز‘ 1438 ویلیج کونسلز‘ 1076 نیبرہڈ کونسلیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اِس نظام میں ویلیج کونسلوں کے علاؤہ نیبرہڈ کونسلیں اُور اِن سے منتخب خواتین‘ مزدور کسان‘ یوتھ اُور اقلیتی اراکین خصوصی اضافی نمائندگی رکھتے ہیں۔ اِن بلدیاتی نمائندوں کی کل تعداد ’4 ہزار 244‘ بنتی ہے جن میں جنرل نشستوں پر (ویلیج اُور نیبرہڈ کونسلوں کی صورت متعلقہ علاقوں کی) نمائندگی کرنے والوں کی تعداد 2 ہزار 514 کونسلر بھی شامل ہیں اُور یہی ڈھائی ہزار سے زیادہ منتخب بلدیاتی نمائندے وہ ہیں جنہیں کی منظوری سے پشاور کی ترقیاتی فیصلہ سازی کا تعین ہوتا ہے۔ اِس نتیجہ خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئے پشاور کے مشرق میں واقع 4 نیبرہڈ کونسلوں (این سیز) کا جائزہ لیں جنہیں سرکاری دستاویزات میں ’گل بہار نمبر ون‘ گل بہار نمبر ٹو‘ رشید ٹاؤن اُور گل بہار نمبر فور‘ کا نام دیا گیا ہے اُور اِن چار نیبرہڈ‘ ویلیج کونسلوں سے منتخب ہونے والے جنرل کونسلروں کی کل تعداد 58 ہے جن میں 16خواتین کے لئے‘ آٹھ مزدور کسان نمائندوں کے لئے‘ آٹھ یوتھ (نوجوانوں) کے لئے اُور آٹھ نشستیں اقلیتوں کے لئے مختص کی گئی ہیں۔ غور ہونا چاہئے کہ بلدیاتی نظام کی صورت اِس پوری کوشش (مشق) کا مقصد کیا ہے اُور کیا وہ بنیادی مقصد حاصل ہو رہا ہے؟ گل بہار نمبر ون کے 25‘ گل بہار نمبر ٹو کے 24‘ رشید ٹاؤن کے 25 اُور ’گل بہار نمبر فور‘ کے 24 بلدیاتی نمائندوں کا انتخاب و تقرری کیوں کی گئی اُور اگرچہ اِن میں سے اکثر سیٹوں پر انتخاب بھی مکمل ہو چکا ہے تو کیا وجہ ہے کہ پھر بھی ’شہری مسائل‘ جوں کے توں برقرار ہیں اُور ترقیاتی ترجیحات کا تعین کرنے میں وہی ’دانستہ غلطیاں‘ آج بھی دُہرائی جا رہی ہیں جو ماضی میں کی جاتی تھیں جبکہ بلدیاتی نمائندے نہیں ہوتے تھے؟

پشاور کو سیاست دیمک کی طرح صرف اندر ہی اندر سے نہیں بلکہ باہر سے بھی کھا گئی ہے! مقامی حکومتوں کے نام سے وہ بلدیاتی نظام جو ’بلاامتیاز و تفرقہ خدمت‘ کے لئے وضع کیا گیا تھا اُسے سیاسی جماعتوں نے یرغمال (ہائی جیک) کر لیا ہے اُور ’جس کی لاٹھی اُس کی بھینس‘ یعنی ’جس سیاسی جماعت کی حکومت اُس کی من مانی‘ کے اصول پر پشاور کے ترقیاتی فیصلے ہو رہے ہیں‘ جو سیاست سے بالاتر نہیں بلکہ سیاست پشاور کے ہر فیصلے پر حاوی ہو چکی ہے۔ اگر پشاور اُور اِس کے موجودہ مسائل پر غور کیا جائے تو یکساں توجہ طلب امر (یہ پہلو) بھی سامنے آتا ہے کہ بنیادی طور پر پشاور کے مسائل کی وجہ اُور اِس کے وسائل پر ’2 قسم‘ کے بوجھ ہیں۔ ایک اِس کی بڑھتی ہوئی آبادی ہے کہ خیبرپختونخوا کے دور دراز دیگر اضلاع سے بہتر معاشی مستقبل (روزگار و ملازمت)‘ حفاظت‘ تعلیم اُور حتیٰ کہ علاج معالجے کے لئے بھی پشاور کا رخ کیا جاتا ہے اُور یہ بھی پشاور کی تاریخ رہی ہے کہ یہاں جب بھی کوئی ’وارد‘ ہوا تو اُن کی ایک تعداد پشاور ہی کی ہو کر رہ گئی۔ شاید اِسی لئے تاریخ کی کتب میں ”پشاور“ کی وجہ تسمیہ ’پیش آورد‘ بھی ملتی ہے۔ بہرحال پشاور کا انتخاب کرنے والوں کی نظر میں فوری طور پر یہاں کی سہولیات جم جاتی ہیں اُور اِس کا محرک سرسری و فطری بھی ہے جس کا ایک تعلق پشاور کی آب و ہوا سے ہے اُور اگرچہ اب ماضی کی طرح مثالی نہیں رہی لیکن دیگر اضلاع سے پھر بھی نسبتاً بہتر ہے۔ جب ہم سہولیات کے تناظر میں پشاور کا جائزہ لیتے ہوئے موازنہ خیبرپختونخوا کے دیگر اضلاع سے کرتے ہیں تو پشاور کی صورتحال نسبتاً زیادہ بہتر دکھائی دیتی ہے اُور یہی کشش یہاں کے مسائل میں اضافے کا ’کلیدی محرک‘ ہے جس کا ”بوجھ“ پشاور کی زرخیز زرعی (قابل کاشت) اراضی پر رہائشی کالونیاں بننے کی صورت دیکھا جا سکتا ہے۔ پشاور کا نہری نظام گندگی و غلاظت کا مجموعہ بن چکا ہے۔ شاہی کٹھہ اُور بازار تجاوزات سے بھر گئے ہیں۔ اکثر علاقوں میں نہری نظام نکاسی آب کا بنیادی ذریعہ ہے جس میں گھریلو و کاروباری اُور صنعتی کوڑا کرکٹ‘ فضلہ اُور کیمیائی مادے بنا روک ٹوک اُور بنا تطہیر بہائے جا رہے ہیں۔ پوچھنے والے تو ہیں اُور پوچھنے والوں کا عوام نے بلدیاتی نمائندوں کی صورت انتخاب بھی کر دیا ہے لیکن پشاور سے دلی تعلق کی بجائے سیاسی تعلق نے صورتحال کو اجتماعی مفاد سے ذاتی و جماعتی مفاد کا اسیر بنا دیا ہے۔ 

توجہ طلب ہے کہ پشاور کا وہ نہری نظام جو کبھی آبنوشی کے لئے استعمال ہوتا تھا چند دہائیوں میں نکاسی آب کا ذریعہ بن گیا ہے اُور یہی ’آلودہ پانی‘ ضلع و تحصیل پشاور کی باقی ماندہ زراعت و باغبانی کے لئے استعمال ہونے کی وجہ سے نت نئی اُور پیچیدہ بیماریوں کو جنم دے رہا ہے۔ پشاور کا اِسی آلودہ پانی میں ’پولیو‘ و دیگر خطرناک بیماریوں کے جرثومے بھی پائے گئے ہیں! ایک ایسا صدر مقام‘ جو پھولوں کا شہر کہلاتا ہو اُور اُس کی مثالی آب و ہوا‘ اگر مثالی نہیں رہی تو قصور وار کون ہے؟جہاں رہائشی و تجارتی علاقوں کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہو چکا ہے اُور جہاں دانستہ و غیردانستہ سرزد ہونے والی غلطیوں سے سبق سیکھنے یعنی اصلاح احوال کا جذبہ بھی نہیں پایا جاتا تو اُس طول و عرض میں پھیلتے شہر کے ساتھ بڑھتے مسائل اگر مربوط و جامع حکمت عملی کے ساتھ حل نہیں کئے جاتے تو مبینہ ترقیاتی عمل کی صورت مالی وسائل کا ضیاع جاری رہے گا۔

منتخب نمائندوں پر مبنی مقامی حکومتوں کے نظام اُور پشاور کے مسائل کی عمومی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے توجہات ’گل بہار‘ کی جانب مبذول کرتے ہیں جس کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اُور یہ تقسیم وقت کے ساتھ ’گل بہار‘ کی آبادی بڑھنے کی وجہ سے خودبخود ہوتی چلی گئی اُور ’گل بہار‘ کی ابتدائی آبادی (پہلے حصے یعنی گل بہار نمبر ون) کے بعد کسی بھی دوسرے حصے (گل بہار نمبر دو‘ رشید ٹاؤن اُور گل بہار نمبر چار) میں خاطرخواہ شہری منصوبہ بندی کا عمل دخل نظر نہیں آتا بلکہ کھیتی باڑی کے لئے استعمال ہونے والی یہ اراضی ٹکڑوں میں فروخت ہوتی رہی اُور یوں راستے (گلیاں اُور سڑکیں) تخلیق پاتے رہے‘ جن پر تعمیر ہونے والے بے ترتیب گھروں کی اکثریت اُن تعمیراتی نقشوں کے مطابق نہیں جن کی متعلقہ میونسپلٹی (بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی) سے منظوری لی گئی تھی۔ بہرحال ’گل بہار‘ پشاور شہر کا پہلا توسیعی منصوبہ بصورت رہائشی بستی قرار دی جا سکتی ہے جس کے اکثر حصوں میں شہری منصوبہ بندی کا فقدان نظر آتا ہے اُور چار سے پانچ دہائیوں میں ’گل بہار‘ کا کوئی ایک بھی حصہ ایسا نہیں رہا‘ جہاں اینٹ رکھنے (نئی آبادی) کی گنجائش باقی رہی ہو اُور یہ وہ وقت ہے جب گل بہار کے رہنے والے ’نیند سے بیدار‘ ہوئے ہیں اُور آنکھیں مل کر اپنے گردوپیش کو دیکھنے پر اُنہیں معلوم ہوتا ہے کہ فٹ پاتھ تجاوزات سے بڑھ چکے ہیں۔ فٹ پاتھ کے ساتھ بنی ہوئی نالے نالیوں پر بھی قبضہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے اُن کی صفائی پندرہ بیس برس سے نہیں ہوئی اُور معمولی سی بارش بھی گل بہار کے نشینی و نسبتاً بالائی حصوں کے لئے طغیانی کا باعث بنتی ہے یا سڑکوں پر کئی کئی دن تک بارش کا پانی کھڑا رہتا ہے جس سے تعلیمی اداروں‘ دفاتر اُور مساجد کو باقاعدگی سے جانے والوں کو مشکلات رہتی ہیں! میئر پشاور نے حال ہی میں انم صنم چوک سے عشرت سینما چوک اُور عشرت سینما چوک سے آفریدی گڑھی تک سڑک کی تعمیر و مرمت کے لئے فراخ دلی سے مالی وسائل فراہم کئے ہیں لیکن یہ مالی وسائل اگر سڑک کے اُن چند حصوں کی مرمت پر خرچ کئے جاتے جو توڑ پھوڑ کا شکار تھے۔ گل بہار کے 3 مسائل انتہائی ضروری ہیں۔ نکاسی آب کا نظام گلیوں سے متصل نہیں۔ گلیاں نیچے اُور سڑک کی سطح ہر ترقیاتی کام کے بعد بلند ہو رہی ہے۔ کئی گلیوں کی فرش بندی چاہئے جو عرصہ بیس سال پہلے بنائی گئی تھیں اُور بجلی کی فراہمی کا بوسیدہ (ناکافی) نظام کی اصلاح و توسیع ہونی چاہئے کیونکہ گل بہار کی آبادی میں اضافہ تو ہوا ہے لیکن اِس کے ساتھ بجلی پانی و گیس جیسی سہولیات کی فراہمی کو مربوط توسیع نہیں دی گئی! 

اگر ’مکھی پر مکھی مارنا‘ مقصود نہیں اُور گل بہار کی ترقی سے کوئی سیاسی‘ جماعتی و سیاسی فائدہ بھی نہیں جڑا ہوا تو نمائشی اقدامات پر ’مالی وسائل‘ ضائع کرنے کی بجائے حسب ِحال (حسب ِضرورت) ترقیاتی حکمت عملی وضع کی جانی چاہئے۔

....

Editorial Page - Daily Aaj - 15th July 2023

Clipping from Editorial Page - Daily Aaj - 15th July 2023


Wednesday, June 28, 2023

Preserving Peshawar's Cultural Legacy

ژرف نگاہ .... شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی : غروب ِآفتاب 

گنجان آباد پشاور کے اندرونی علاقوں (مرکزی شہر) کی پہچان و شناخت خطرے میں ہیں۔ دوسری طرف شہر کے رہنے والوں کو جن انواع و اقسام کے مسائل و مشکلات کا سامنا ہے اُن کی ’بحرانی شکل و صورت‘ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ”رہائشی و کاروباری علاقوں“ میں تمیز نہیں رہی۔ 

گلی کوچوں میں دکانیں اُور کثیرالمنزلہ تجارتی مراکز تعمیر ہونے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے رہائشی مکانات کے منہ مانگے دام مل رہے ہیں اُور یہی سبب ہے کہ اندرون شہر سے نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ لمحہ¿ فکریہ ہے کہ وہ محلے جن کی رونقیں اُور خصوصیت ’ایک خاندان‘ کی طرح رہنے والوں کی مشترک زبان و ثقافت ہوا کرتی تھی‘ آج اُن کی در و دیوار سے ’اَجنبیت‘ سے چھلک و جھلک رہی ہیں۔ پشاور کا سورج تو ابھی غروب نہیں ہوا لیکن اِس کے رہنے والوں نے منہ موڑ لیا ہے اُور کم رقبے کے مکانات زیادہ قیمت کے عوض فروخت کر کے نئی بستیاں آباد کر رہے ہیں۔ وہ ہستیاں اُور گھرانے جن میں پشاور آباد (مزین) تھا‘ جن سے پشاور آباد (معطر) تھا اُنہوں نے گمنامی کا انتخاب بہ امر مجبوری کیا ہے تو اِس کے ذمہ دار صرف معاشی مسائل نہیں بلکہ وہ سوچی سمجھی حکمت عملی ہے جس کے تحت پشاور کو ایک ایک کر کے اِس کی خوبیوں سے الگ کیا جا رہا ہے جیسا کہ پشاور کا تعارف آج بھی ’پھولوں کے شہر‘ کے طور پر کیا جاتا ہے جبکہ اِس کے سبھی چھوٹے بڑے باغات اُور سبزہ زاروں کی اراضی یا تو قبضہ ہو چکی ہے یا پھر تجاوزات کی زد میں ہے اُور کئی ایسی بدنما مثالیں بھی موجود ہیں جن میں باغات کی اراضی پر سرکاری دفاتر قائم کئے گئے ہیں اُور باغات کی اراضی کو ’لامتناہی عرصے کے لئے‘ اجارے (لیز) پر دیدیا گیا ہے! 

پشاور سے دشمنی (مفاد پرستی) کا یہ طویل سلسلہ باغات سے قبرستانوں (شہر ِخاموشاں) تک پھیلنے کے بعد اُن تعمیراتی نشانیوں کو بھی مٹانے پر تُلا ہوا ہے جو پشاور کی مرحلہ وار تعمیروترقی (ارتقائی مراحل) کے گواہ اُور ثبوت ہیں۔ صدیوں پر محیط پشاور کے اِس سفر میں ’ماضی کی یادگاروں‘ کو قانونی تحفظ بھی حاصل ہے‘ جس کے لئے خصوصی اِدارہ (محکمہ آثار قدیمہ اُور عجائب گھر) اُور سیاحت و ضلعی انتظامیہ و مقامی حکومت شامل ہیں اُور اِن سبھی الگ الگ ناموں سے حکومتی اداروں کے قیام کا مقصد پشاور کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں جیسی طاقت اُور حاصل قانونی اختیارات کے باوجود ’پشاور کے مفادات‘ کا خاطرخواہ تحفظ نہیں ہو رہا جس کی وجہ سے ہر دن پشاور کے نقشے سے کسی ایک عمارت کے منہدم ہونے کی صورت کسی ایک تاریخی باب کا اختتام ہو رہا ہے! 

جس رفتار سے پشاور کے نقوش مٹ رہے ہیں‘ اُنہیں مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ چند دہائیوں بعد پشاور شہر کی شکل و صورت یکسر مختلف ہوگی۔ اِس کی آب و ہوا پر آبادی کا بڑھتا ہوا بوجھ اُور اِس کے وسائل کے دیدہ دلیرانہ استحصال کی وجہ سے ’وادی پشاور‘ کی شناختی علامت تبدیل ہو جائیں گی۔ اِس ظالمانہ سلوک کو روکنے کی ضرورت ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پشاور کی تاریخ و ثقافت سے جڑی‘ باقی ماندہ نشانیوں کی حفاظت اُور بالخصوص تھانے اُور پٹوارخانے کی ملی بھگت سے قبضہ مافیا کا ہر قانونی و سماجی محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کرنے پر اِتفاق رائے سامنے آیا ہے۔ ’پشاور شہر‘ کے حقیقی (فطری) وارثوں میں شامل 2 معروف خاندانوں (سیٹھی اُور خواجگان) کے نمائندوں نے تنظیم سازی کے ذریعے ضلعی انتظامیہ‘ مقامی و صوبائی حکومت‘ پشاور سے قومی و صوبائی اسمبلی اُور سینیٹ اراکین و دیگر بااثر افراد سے بالمشافہ اُور بذریعہ سوشل میڈیا رابطے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پشاور کے بارے میں اِس منفی تاثر کو زائل کیا جا سکے کہ ”پشاور کا کوئی بھی والی وارث نہیں رہا۔“

’پشاور جاگ اُٹھا‘ تو اِس کے سیاسی اثرات (و مضمرات) بھی ہوں گے اُور وہ انتخابی سیاست جو پشاور کے چودہ صوبائی اُور پانچ قومی اسمبلی کے حلقوں سے ہوتی ہوئی 92 یونین کونسلوں میں تقسیم ہے اُس کے نتائج سیاسی‘ خاندانی و گروہی وابستگیوں سے بالاتر‘ توقعات سے قطعی مختلف (اندازوں سے برخلاف) برآمد ہوں گے اُور یہ نکتہ بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ سیٹھی و خواجہ خاندان کی جانب سے پشاور کے لئے دردمند مؤقف کی وجہ سے سیاسی دباؤ بھی آئے گا جو اِس خاندان کے نمائندوں کے لئے ایک امتحان ثابت ہوگا کہ وہ یہ دامے درہمے سخنے خود کو پشاور کے کس حد تک وقف کرتے ہیں۔ 

پیش نظر رہنا چاہئے کہ مدمقابل ’پشاور کو غروب‘ دیکھنے کی خواہش رکھنے والے اُور ’پشاور شناسی‘ کی صورت ’نئی سحر‘ کے متلاشی ہیں جو فی الوقت اگرچہ تعداد میں کم ہیں لیکن اہل پشاور کا اتحاد ناممکن نہیں اُور اِس اتفاق میں برکت کے وسیع (لامحدود) امکانات موجود ہیں۔ یہ پہلو بھی لائق توجہ ہے کہ پشاور صرف مقامی لوگوں کے ’قابل فخر ورثہ‘ اُور ’اثاثہ‘ نہیں بلکہ پشاوری دنیا کے ہر ملک میں آباد ہیں اُور پھر پاکستان کا وہ کونسا بڑا شہر ہو گا جہاں ’پیشوری‘ آباد نہ ہوں۔ 

’ستائیس جون دوہزارتیئس‘ کے روز شروع ہونے والی مجوزہ ’تحفظ ِپشاور تحریک (ٹی پی ٹی)‘ کے دور رس نتائج و اثرات پہلا قدم اُٹھاتے ہی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں اُور ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ اِس میں صرف سیٹھی و خواجگان ہی نہیں بلکہ پشاور کی دیگر اقوام (برادریوں) کو بھی رنگ‘ نسل اُور مذہب و مسلک جیسے حوالوں سے بالاتر ہو کر ’شریک ِسفر‘ کیا جائے بالخصوص اُس نوجوان نسل کو پشاور شناس بنایا جائے جس کے ہاتھ میں ’سوشل میڈیا‘ کے ہتھیار ہیں اُور جو سماجی رابطہ کاری کے وسائل کا استعمال کرتے ہوئے پشاور کے مسائل اُور اِس کے ماضی و حال کو زیادہ بہتر و مربوط انداز میں مقامی اُور عالمی سطح پر اُجاگر کر سکتے ہیں۔

....




Sunday, June 25, 2023

With each step at dawn, nature's secrets unfold

ژرف نگاہ        شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: چہل قدمی

تندرستی ہزار نعمت ہے۔ طب کے نکتہئ نظر سے ہفتے کے زیادہ تر دنوں میں یعنی ہر دن کم سے کم ’تیس منٹ‘ یا اِس سے زیادہ ’چہل قدمی‘ جسمانی اعضا کی فعالیت‘ خون کی گردش‘ جسم سے فاسد مادوں کے اخراج‘ بھوک پیاس کے احساس کو بڑھانے‘ نظام ہضم کی درستگی‘ ذہنی تناؤ اُور دباؤ (ڈپریشن) سے نجات الغرض مجموعی صحت کی بہتری یا اِسے برقرار رکھنے کا ایک بہترین طریقہ (ذریعہ) ہے‘ جسے ’تیر بہ ہدف نسخہ‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ مصروفیات کی صورت ہر دن کم سے کم نصف گھنٹہ ’واک‘ اگر کسی جانے انجانے شخص کے ہمراہ کی جائے تو یہ ’آسان کسرت (ورزش)‘ ایک خوشگوار اُور حیرت انگیز اثرات رکھنے والی سماجی سرگرمی میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے کیونکہ اِس (چلتے چلتے) مختلف موضوعات پر تبادلہئ خیال سے بہت کچھ سیکھا اُور گردوپیش میں مشاہدہ کے بارے میں ہم عصروں کی رائے معلوم کی جا سکتی ہے۔ 

پیدل چلنے کی کم سے کم حد ’4 سے 6 ہزار قدم‘ مقرر ہے جبکہ معالجین تجویز کرتے ہیں کہ تیز اُور ہلکے قدموں سے ہر روز ’10 ہزار‘ قدم چلنے والے نسبتاً زیادہ صحت مند زندگی بسر کرتے ہیں۔ 

پیدل چلنے کے لئے بہترین مقام سبزہ زار‘ باغ یا ایسی ہموار سطحیں ہوتی ہیں جو پُرپیچ اُور اُونچی نیچی ہوں‘ جہاں علی الصبح تازہ ہوا میں گہرے سانس لینے سے حاصل ہونے والے خوشگوار احساس کا نعم البدل ممکن نہیں۔

 ’اہل پشاور‘ کے لئے پیدل چلنے کے تلخ و شریں تجربات پر شہری زندگی کے کچھ اِس انداز سے مسائل حاوی ہو چکے ہیں کہ ہر قدم ایک الگ کوفت سے واسطہ پڑتا ہے اُور یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ صبح ہو یا شام‘ ماسوائے چند ایک علاقوں کے‘ خواتین کے لئے پیدل چلنے کے مواقع انتہائی محدود اُور پُرخطر ہیں۔ ایک ایسا شخص (مرد یا عورت) جو اپنے گھر اُور کام کاج کی جگہ (دفتر یا دکان) کے درمیان روزانہ تیس سے چالیس منٹ پیدل چلتا ہے اُسے تندرست رہنے کے لئے کسی اضافی مشقت کی ضرورت نہیں رہتی لیکن اِس دوران وہ جن حقائق کا براہ راست مشاہدہ کرتا ہے اُنہیں باآسانی خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔

 ’صبح کی سیر کا پہلا نظارہ‘ جا بجا ڈھیروں ڈھیر گندگی (کوڑا کرکٹ) نظرانداز کرنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ کوڑاکرکٹ سے اُٹھنے والا تعفن اُور مکھیاں مچھر ہر راہ گیر کا پیچھا کرتی ہیں! پشاور کی کل 92 یونین کونسلوں میں سے بمشکل نصف میں گندگی اُٹھانے کا باقاعدہ انتظام موجود ہے جس میں اندرون شہر کے گنجان آباد علاقے بھی شامل ہیں لیکن ہر صبح گلی کوچوں میں گھر گھر سے گندگی اکٹھا کرنے اُور جھاڑو لگانے کے چند گھنٹے بعد صفائی برقرار نہیں رہتی اُور مقررہ مقامات اُور مقررہ اوقات کے علاؤہ کوڑا کرکٹ پھینکنے کا سلسلہ دن کے آغاز سے رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ ایک ایسی صورتحال جس میں گندگی پھینکنے‘ گندگی اُٹھانے اُور گندگی تلف کرنے جیسے تینوں طریق و فریق مربوط و منظم نہیں اُور یہی وجہ ہے کہ شہری زندگی کا نظارہ ”گندگی و تعفن“ کی وجہ سے ناخوشگوار تجربہ ثابت ہوتا ہے۔ صبح کا دوسرا نظارہ بے ہنگم ٹریفک کا نظام ہے جو شہر کے جاگنے کے ساتھ ہی گرد اُڑاتے فعال ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے پشاور کی سڑکوں پر 1960 اُور 1970ء کی دہائیوں میں ساختہ بسیں فراٹے بھرتی نظر آتی ہیں‘ جن کے اِنجنوں سے اُگلتا ہوا کثیف دھواں مٹی اُور گردوغبار کے بادلوں کو یہاں سے وہاں اُور وہاں سے یہاں لئے پھرتا ہے اُور اِس آلودگی بھری ہوا میں سانس لینا‘ کسی بھی طرح صحت مند قرار نہیں دیا جا سکتا۔ توجہ طلب ہے کہ پیدل چلنے کا رجحان دن بہ دن کم ہو رہا ہے اُور اِس کی وجوہات میں تیسری بڑی وجہ ’سٹریٹ کرائمز‘ ہیں۔

پشاور کی صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ الصبح سے رات گئے تک کوئی ایک بھی وقت اُور کوئی ایک بھی علاقہ ایسا نہیں رہا جہاں کے رہنے والے گھروں سے باہر خود کو محفوظ سمجھتے ہوں! پشاور پولیس کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق سال 2023ء کے پہلے دو ماہ کے دوران پشاور میں 74 راہزنی کی وارداتیں ہوئیں جن میں 41 وارداتوں کے دوران راہزنوں نے فائرنگ بھی کی۔ اِس دوران 34 موٹرسائیکل چھینی گئیں اُور 25 موٹرسائیکل چوری ہوئے۔“ چہل قدمی کسی بھی طرح مفلسی کی علامت نہیں البتہ بچت کا ذریعہ ہے اُور اِس بامقصد سرگرمی کے فرد‘ افراد اور سماج کے لئے متعدد فوائد کو مدنظر رکھتے ہوئے اُن سبھی محرکات کی اِصلاح ضروری ہے جو پیدل چلنے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ چہل قدمی کے لئے مناسب ماحول فراہم کرنے کے لئے پشاور کے اُن سبھی باغات کو تجاوزات سے واگزار کرنا ضروری ہے جنہیں بنام ترقی غصب کیا گیا ہے اُور پشاور سے دشمنی رکھنے والی ’ایک خاص سوچ‘ اُور ’نظریئے‘ نے یہاں کے تاریخی و ثقافتی اَثاثوں اُور سماجی خوبیوں کے نقوش ایک ایک کر کے مٹانے شروع کر رکھے ہیں۔

چہل قدمی کے ذریعے ’پشاور شناسی‘ کو اِس صورت فروغ دیا جا سکتا ہے کہ اِس سے وہ خودغرضی اُور لاتعلقی پر مبنی رویئے عیاں ہو جائیں گے جن کی اِصلاح ضروری ہے۔ پشاور کے حقوق اَدا کرنے سے متعلق اِتفاق رائے اُور خوداِحتسابی ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہئ خیال میں بڑھتی چلی جائے گی‘ جو وقت کی ضرورت ہے۔ 

چہل قدمی کی وجہ سے ٹریفک کے دباؤ میں نمایاں کمی اضافی ثمر اُور باآسانی ممکن ہے جس سے پشاور کے ’کاربن فٹ پرنٹ (فضائی آلودگی)‘ میں خاطرخواہ کمی آ سکتی ہے اُور جس کا نتیجہ صاف آب و ہوا کی صورت برآمد ہو سکتا ہے۔ پشاور جو کبھی پھولوں کا شہر کہلاتا تھا لیکن اِس کے کچھ حصوں میں فضائی آلودگی کی شرح‘ اُس خطرناک سطح کو بھی عبور کر چکی ہے جو انسانی صحت کے لئے خطرناک و برداشت کی آخری حد ہے۔ ضروری ہے کہ کم فاصلے کے لئے گاڑی یا کسی سواری کا انتخاب کرنے کی بجائے پیدل چلنے کا انتخاب کیا جائے‘ اِسی میں صحت کی صورت انفرادی اُور پشاور کے مسائل پر غور کرنے جیسی اجتماعی بھلائی پوشیدہ ہے۔ 

  • With each step at dawn, nature's secrets unfold
  • Morning walk's embrace, a tranquil story untold



Thursday, June 15, 2023

Sethi Houses vanishing, like memories, with each curtain's fall

ناقابل اشاعت ……  شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: خاموش اِحتجاج

زوال اُور تبدیلی مستقل عمل ہے لیکن اِس کے منفی اثرات کم کرنے کے لئے حساس معاشروں میں ’آثار قدیمہ‘ کے تحفظ پر توجہ دی جاتی ہے جبکہ ’پشاور کہانی‘ مختلف ہے کہ یہاں تاریخ و ثقافت سے جڑی ہر نشانی زوال پذیر ہے اُور انتہائی مخدوش حالت میں دیکھی جا سکتی ہے جبکہ متعلقہ حکومتی ادارے (محکمۂ آثار قدیمہ) اُور قانون نافذ کرنے والے ادارے (متعلقہ تھانہ جات) کی کارکردگی سب کے سامنے ہے کہ ایک ایک کر کے پشاور کی نشانیاں مٹ رہی ہیں! بقول ’یحییٰ سیٹھی‘ پشاور کا یہ منظرنامہ‘ یہ حال احوال‘ یہ اجنبیت‘ جو آج نظر آ رہی ہے‘ پہلے کبھی بھی نہیں دیکھی گئی اُور اِس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ پشاور کے آباؤاجداد کی نشانیاں ایک ایک کر کے مٹ رہی ہیں!“ پشاور کے مٹتے نقوش میں ’سیٹھی خاندان‘ کے گھر‘ سیٹھی خاندان کا قبرستان اُور سیٹھی خاندان کے نمایاں ترین فلاحی منصوبے کی اراضی بھی زیادہ دنوں کی مہمان دکھائی نہیں دے رہی!

تازہ ترین  واردات میں ’بازار کلاں‘ سے متصل ’محلہ سیٹھیان‘ کا قدیمی مکان راتوں رات منہدم کر دیا گیا ہے۔
 گھر کے مالک سیٹھی خاندان کے باقی ماندہ بزرگ یا تو انتہائی ضعیف ہیں یا پھر اِس خوف سے سامنے نہیں آ رہے کیونکہ قبضہ مافیا مسلح اُور سینہ زو رہے‘ جسے قانون یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا خوف نہیں۔ یہ مافیا ،اپنے سامنے کھڑے ہونے والے کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ گالیاں بکتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ’معزز و برتر‘ شریف سیٹھی گھرانے کے بزرگ اُور نوجوان تھانہ کچہری نہیں کریں گے۔ یہ شریف اُور شرفا کی ایک نشانی اُن کی کمزوری سمجھی جاتی ہے حالانکہ یہ کام صوبائی حکومت اُور پشاور کی ضلعی انتظامیہ کا ہے کہ وہ سیٹھی خاندان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو اُور اِس بات کو یقینی بنائے کہ پشاور میں اگر کوئی کمزور و ناتواں ہے تو وہ ’قانون شکن‘ ہونا چاہئے۔ 

محلہ سیٹھیان کا تازہ ترین نشانہ بننے والا مکان افتخار سیٹھی (مرحوم) اُور اُن کی ہمشیرہ مسماۃ شمیم (ریٹائرڈ ڈاکٹر) کے نام پر مکان ہے۔
افتخار سیٹھی کے بھائیوں کو اِس سے دلچسپی نہیں۔ دونوں عمر کے اُس حصے میں ہیں جہاں وہ تھانہ کچہری نہیں کرنا چاہتے اُور نہ ہی ایک مکان کے لئے اپنے بال بچوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ اِسی محلے کا دوسرا مکان لب سڑک (قریب دو کنال) جو ’اقبال سیٹھی‘ کی عدالت سے تسلیم شدہ ملکیت ہے لیکن وہ بھی قبضہ ہے‘ اگرچہ سیٹھی خاندان اِس مکان کی ملکیت کا مقدمہ جیت چکا ہے لیکن گھر کا قبضہ حاصل نہیں کر سکا۔

سیٹھی ہاؤس ہو یا کوئی بھی تاریخی و ثقافتی اہمیت کی حامل عمارت ، اِس راتوں رات ملبے کا ڈھیر بنانے والے عموماً ہفتہ و اتوار کی درمیان شب واردات کرتے ہیں جب سرکاری دفاتر میں تعطیل ہوتی ہے اُور اِس تعطیل کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس مسرت ہلالی سے درخواست ہے کہ وہ اِس جاری بے قاعدگی اُور لاقانونیت کا نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر آرکیالوجی اُور اُ ن کے عملے کو طلب کریں اُور اِس بات کی بھی الگ سے تحقیقات ہونی چاہئیں کہ جن اہلکاروں کو پشاور کی تاریخ و ثقافت کے نایاب نقوش بطور امانت سونپے گئے تھے اُنہوں نے اپنی ذمہ داریاں (فرائض منصبی) کس حد تک ایمانداری سے ادا کئے ہیں اُور یہ بھی دیکھا جائے کہ اِن اہلکاروں کے مالی اثاثے کہیں اِن کی آمدنی کے جائز و معلوم ذرائع سے زیادہ تو نہیں ہیں۔

تازہ ترین واردات میں  پشاور کے 2 تعمیراتی فن پاروں (سیٹھی ہاؤسیز) کے نقوش مٹا دیئے گئے ہیں لیکن  کوئی روکنے یا بچانے یا اِس نقصان پر مگرمچھ کے آنسو تک بہانے نہیں آیا! (انا للہ و انا علیہ راجعون)۔

سیٹھی ہاؤسیز کے ظاہری شان و شوکت (لکڑی کے ستون ، دروازے اُور کھڑکیاں، روشن دان، فرش اُور قیمتی پتھروں سے سجی چھتیں) مسمار ہونے کے بعد متعلقہ تھانہ اُور علاقے کی سیاسی نمائندگی کرنے والے بلدیاتی نمائندے حرکت میں آئے۔ موقع پر کام کرنے والے چند مزدوروں کو پکڑ لیا گیا جبکہ قریب ہی بازار کلاں میں بیٹھے اِس پورے منصوبے کے ’ماسٹر مائنڈ‘ پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا۔

توجہ طلب ہے کہ صرف ’محلہ سیٹھیان‘ ہی نہیں بلکہ پشاور میں سیٹھی خاندان کا قبرستان جس کا کل رقبہ 20 کنال سے زیادہ ہے اُور اِس کی ملکیت کے کاغذات بھی موجود ہیں لیکن اِس کا رقبہ بھی قبضہ ہو چکا ہے یا قبضہ کرنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ یہ معاملہ ماضی میں جب عدالت تک پہنچا تو سیٹھی خاندان کے حق میں فیصلہ ہوا تھا اُور چار سال تک سماعتیں ہوتی رہیں جس کے بعد عدالت نے فیصلہ سیٹھی خاندان کے حق میں دیا لیکن سیٹھی خاندان کو اپنا حق آج تک نہیں مل سکا۔ یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ قبضہ مافیا نے ایک اُور چال چلتے ہوئے ’سیٹھی قبرستان‘ کو بدھ مت کا قدیمی مرکز قرار دینے کی مہم ’سوشل میڈیا‘ پر شروع کر رکھی ہے اُور اِس حوالے سے جس درخت اُور چبوترے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ سیٹھی خاندان کے بزرگ قرآن کریم کی تلاوت‘ درس قرآن اُور فاتحہ خوانی کی اجتماعی محافل کے اِنعقاد کے لئے کیا کرتے تھے! پاکستان بننے کے وقت یہاں ’سرخ پوشوں‘ نے پناہ بھی لی تھی‘ جنہیں بطور مہمان رکھا گیا تھا اُور اُن کی میزبانی کی گئی تھی۔ سیٹھی خاندان اِس علاقے میں خیرات و زکوۃ بھی دیا کرتا تھا اُور یہی خاندان صرف پشاور ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے کئی ممالک کی مدد کیا کرتا تھا۔

المیہ نہیں تو کیا ہے کہ ہے کہ پشاور کی تاریخ پر آج اُن لوگوں کو زیادہ عبور ہونے کا دعویٰ ہے جن کی اپنی کوئی تاریخ نہیں!

سیٹھی قبرستان (کم و بیش بیس کنال) کے گردچاردیواری بنانے کی ہر کوشش اب تک ناکام رہی ہے! ماضی میں قبرستان چاردیواری کے تعمیراتی منصوبے پر لاگت کا تخمینہ ’40 لاکھ‘ روپے تھا جو بڑھ کر ’ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے‘ ہو چکا ہے اُور اب اِس قدر خطیر رقم کہاں سے آئے گی‘ یہ سوال اپنی جگہ حکومت کو متوجہ کر رہا ہے کہ اگر سیٹھی قبرستان کے گرد چاردیواری نہ بنائی گئی تو شاید چند مرلے زمین بھی باقی نہ رہے اُور سیٹھی خاندان کے اجداد کی قبروں پر رہائشی بستی آباد ہو جائے جسے حکومتی فنڈ سے ٹیوب ویل‘ جنازہ گاہ‘ مسجد اُور سکول تعمیر کر کے قانونی شکل دیدی جائے گی اُور یہی طریقۂ واردات پشاور کی دیگر اقوام کے قبرستانوں کے ساتھ بھی ہو چکا ہے!

کیا یہ بات قابل مذمت نہیں کہ سیٹھی قبرستان کے ساتھ ملحقہ خواجہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا مزار بھی قبضہ ہو چکا ہے! 

اَلمیہ نہیں تو کیا ہے کہ سیٹھی خاندان عدالت میں تو ہر مقدمہ جیت جاتا ہے لیکن عدالتی احکامات کو عملی جامہ پہنانے والوں کی دلی ہمدردیاں سیٹھی خاندان کے ساتھ نہیں! وہ کہ جنہیں حقیقی محافظ ہونا چاہئے لیکن بدقسمتی سے اِس پورے معاملے سے لاتعلق ہیں۔ سیٹھی خاندان کے لوگ انتہائی شریف النفس ہیں وہ قبضہ مافیا کا مقابلہ اُور اُن کا تن تنہا سامنا نہیں کر سکتے اُور ایسی صورت میں صوبائی و ضلعی حکومت کو سیٹھی خاندان کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا چاہئے۔

سیٹھی خاندان کی پشاور میں ’تیسری نشانی‘ اندرون یکہ توت گیٹ (محلہ جٹان) کا ’دارالمساکین‘ ہے جو آج بھی اِسی (سیٹھی) خاندان کی ملکیت ہے اُور جسے ماضی و حال میں کئی مرتبہ قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ خاص نکتہ یہ ہے کہ ’دارالمساکین‘ وقف اراضی نہیں تو پھر اِس کا انتظام و ملکیت سیٹھی خاندان کے پاس کیوں نہیں اُور اِس میں حکومتی تعمیرات کس قانون یا اخلاقی جواز کے تحت کی گئی ہیں؟ دارالمساکین سیٹھی خاندان کے آباؤاجداد کی ملکیت تھی اُور ہے اُور صرف ملکیت نہیں بلکہ دارالمساکین پشاور اُور اہل پشاور سے سیٹھی خاندان کی ’دلی محبت‘ کا منہ بولتا ثبوت بھی ہے۔ افسوس کہ سیٹھی خاندان کے گھر‘ سیٹھی خاندان کا قبرستان اُور سیٹھی خاندان کی طرف سے اہل پشاور کی فلاح و بہبود کا مرکز (دارالمساکین) پر ایک ایسی سوچ رکھنے والے قابض ہیں جن کے لئے پشاور کی تاریخ و ثقافت‘ یہاں کے شریف و محسن خاندانوں کی کوئی اہمیت نہیں!

پشاور کبھی بھی اِس قدر ’بے سروسامان‘ اُور ’بے آسرا‘ نہیں تھا کہ دیگر خیبرپختونخوا کے قبائلی و بندوبستی اضلاع اُور جعلی شناختی دستاویز کے ذریعے پاکستان کی شہریت حاصل کرنے والے افغان جرائم پیشہ گروہوں کے اراکین جنہوں نے پشاور میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں یہاں کی ہر نشانی اُور ہر خوبی کو ایک ایک کر مٹا رہے ہیں اُور پشاور تماشا دیکھ رہا ہے۔

صرف سیٹھی ہاؤسیز ہی نہیں بلکہ کئی دیگر نایاب گھر جو فن تعمیر کا نمونہ تھے‘ پشاور کی تاریخ و ثقافت کے گواہ تھے لیکن ملبے کی صورت راتوں رات ’لوٹ‘ لئے گئے ہیں! قبضہ مافیا کے ہاتھ لمبے ہیں جبکہ اہل پشاور بے بس ہیں کیونکہ وہ حقیقی سیاسی و سماجی نمائندگی سے محروم ہیں۔ اِن کی آنکھوں میں آنسوؤں اُور دل غم سے نڈھال ہیں۔ دُکھ بھرے بوجھل وجود کے ساتھ‘ آنسوؤں کی برسات ’خاموش احتجاج‘ کی صورت جاری ہے۔
پشاور کو کون سمجھے گا؟
اہل پشاور کے دُکھ کو کون سمجھے گا؟
پشاور کی مسیحائی کون کرے گا؟

 ”فکر مجھے گلزاروں کی ہے مولا خیر …… بارش تو انگاروں کی ہے مولا خیر
 اُلجھ رہے ہیں سارے مسیحا آپس میں …… فکر کسے بیماروں کی ہے مولا خیر (شمیم فرحت)۔“

……



SethiHouse
In Peshawar's embrace, Sethi House stands tall
Yet vanishing, like memories, with each curtain's fall

Monday, May 1, 2023

Mahsa Act

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

ایران: سروری بمقابلہ خودی کی موت

جمہوری اسلامی ایران کے دارالحکومت تہران میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکاروں نے ’22 سالہ‘ خاتون ’مہسا ایمنی (Mahsa Amini)‘ کو حجاب (پردہ) درست انداز میں نہ اُوڑھنے پر گرفتار کیا اُور گرفتاری کے تین دن بعد (16 ستمبر 2022ء) کے روز ’مہسا ایمینی‘ کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ ورثا کے مطابق اُس پر شدید تشدد کیا گیا جس کی وجہ سے وہ ’قوما‘ میں چلی گئی اُور تشدد کے باعث زخموں کی وجہ سے اُس کی موت ہو گئی۔ ’مہسا ایمینی‘ کی موت کے بعد ایران میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جو آج بھی اکا دکا رپورٹ ہو رہا ہے اُور اِس ایک واقعے سے ایران میں خواتین کے خلاف قوانین پر ’سخت گیر‘ عمل درآمد عالمی سطح پر بھی اِس شدت سے زیرغور آیا کہ ایران حکومت کو حجاب پر پابندی کے حوالے سے عوامی حمایت کے مظاہرے کرنا پڑے اُور حجاب کی اہمیت کے حوالے سے قرآنی و شرعی احکامات و ہدایات کو بیان کرنے کے لئے باقاعدہ مہمات چلائی جا رہی ہیں لیکن یہ معاملہ کسی بھی صورت ’ٹھنڈا (رفع دفع)‘ نہیں ہو رہا۔ بیرون ملک بالخصوص امریکہ میں مقیم ایرانیوں اُور ایرانی نژاد امریکیوں کی جانب سے امریکی حکومت پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ایران کے خلاف عائد مزید عالمی پابندیاں عائد کرے تاکہ ایران کی حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکے اُور وہ اپنے خواتین کو امریکہ کی مرضی اُور تسلی و تشفی کے مطابق ”آزادی“ دے۔ ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا ایک مسودہ قانون تیار کر کے امریکی ایوان نمائندگان (کانگریس) کی ذیلی کمیٹی کو ارسال کیا گیا جس کے کسی بھی رکن کو اِس کی کسی بھی شق پر اختلاف نہیں ہوا اُور یوں یہ مسودہئ قانون متفقہ طور پر درست تسلیم کر لیا گیا جس کا لب لباب یہ ہے کہ جمہوری اسلامی ایران کے سربراہ (سپریم لیڈر) سیّد علی خامنہ ای اور انقلاب اسلامی ایران کے حامی اعلیٰ حکومتی شخصیات پر پابندیاں عائد ہونی چاہئے۔ بل کو ”انسانی حقوق“ کے زمرے میں شمار کرتے ہوئے ”مہسا ایکٹ (Mahsa Act)“ کا نام دیا گیا جس کی رواں ہفتے (چھبیس اپریل) خارجہ امور سے متعلق کانگریس کی ذیلی کمیٹی نے منظوری دی اُور اب یہ قانون کانگریس ایوان (فل ہاؤس) میں پیش کیا جائے گا جہاں سے اِس کی ممکنہ طور پر باآسانی منظوری ہو جائے گی کیونکہ کانگریس میں موجود ’یہودی یا اسرائیل کی حمایت کرنے والے اراکین‘ پہلے ہی اِس بل کی تیاری اُور منظوری کے لئے حوالے سے سرگرم کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اِس نئے قانون کی منظوری سے ایران حکومت کے سربراہ اُور دیگر اہم شخصیات (بشمول صدر رئیسی‘ اُن کے کابینہ اراکین اُور سپرئم لیڈر کے ساتھ کام کرنے والے اعلیٰ عہدیداروں) پر پہلے سے موجود عالمی پابندیاں مزید سخت کر دی جائیں گی تاہم اِس سے ایران کو زیادہ فرق نہیں پڑے گا کیونکہ جنوری 1978ء سے فروری 1979ء کے درمیان برپا ہونے والے ’انقلاب ِاسلامی ایران‘ کا مرکزی نکتہ ہی امریکہ اُور مغرب کی ثقافت و سیاست اُور غلامی سے آزادی اُور ’اسلامی تشخص‘ کو اپنانا تھا اُور ایران کی قیادت اُور عوام کی اکثریت آج بھی اپنے اِس مقصد سے جڑے ہوئے ہیں۔ 

مہسا ایمینی کی زیرحراست موت کے بارے میں ایرانی حکومت نے ایک وضاحتی بیان ہمراہ شواہد (کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن کیمرے سے حاصل کردہ ویڈیو) کے ہمراہ جاری کیا جس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ’مہسا ایمینی‘ حراست میں لینے سے پہلے گرتی ہے اُور اُسے طبی امداد کے لئے اسٹریچر پر ڈال کر ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے جہاں اُس کی موت ہوئی تھی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایران میں خواتین کے لئے لازمی ملبوسات کا حصہ ’حجاب‘ ہے جس کی عموماً خلاف ورزی دیکھنے میں آتی ہے لیکن اِسے اتفاقی و غیردانستہ غلطی سمجھا جاتا ہے اُور حجاب درست طریقے سے نہ لینے والی خواتین جو اپنا سر اُور بال مکمل طور پر نہیں ڈھانپتیں اُنہیں ’متنبہ (وارننگ)‘ دی جاتی ہے تشدد نہیں کیا جاتا لیکن امریکہ ایران پر پہلے سے موجود پابندیوں کو ”مشترکہ جامع ایکشن پلان“ کے تحت دوبارہ نافذ کرنا چاہتا ہے جس کا ایک تعلق دہشت گردی سے بھی جڑا ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ امریکہ اُور یورپ کی نظروں میں اِیران صرف اِس لئے کھٹک رہا ہے کیونکہ وہ قابض اِسرائیل کے ناجائز اُور غیرقانونی قبضے اُور فلسطینی مسلمانوں کے خلاف اِسرائیلی مظالم کی مذمت سے لیکر ’اِنہدم ِجنت البقیع‘ تک کے مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے اُور اِس پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لئے تیار نہیں۔

مہسا (ایمینی) ایکٹ جس کا اصطلاحی نام ”ایچ آر 589“ ہے جن انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اُور مبینہ دہشت گردی کا احاطہ کرتا ہے اُس کا مرتکب صرف ایران ہی نہیں بلکہ امریکہ اِس سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اُور جنگی جرائم کا مرتکب ہے لیکن چونکہ مسلمان ممالک (مسلم اُمہ) اپنے مفادات کے لئے متحد نہیں اِس لئے امریکہ یک طرفہ طور پر اسلامی ممالک پر جنگیں مسلط کرنے اُور اسرائیل کے فلسطین جبکہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں مظالم و انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ امریکہ ’عالمی تھانیدار‘ بن کر من چاہی قانون سازی کے ذریعے دنیا پر اپنا تسلط دھونس‘ جنگ اُور معاشی و اِقتصادی پابندیاں عائد کرتے ہوئے جو ایک حقیقت فراموش کر رہا ہے وہ اسلام پر عملاً استقامت کے مظاہرے سے حاصل ہونے والی طاقت اُور یقین ہے جو ہر دور میں آمریت و ملوکیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے ہمیشہ فاتح و سرخرو رہی ہے۔ ایران کی قیادت اُور عوام کی سوچ میں اشتراک یہ ہے کہ یہ اپنی خودی اُور خود داری کے ساتھ جینا اُور مرنا چاہتے ہیں۔ اِنہیں معاشی آسانیوں کے لئے عالمی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کی تمنا تو ہے لیکن بقول علامہ اقبالؒ یہ اِس سروری کے لئے اپنی خودی کی موت ہونے نہیں دیں گے۔ ”کسے نہیں ہے تمنائے سروری لیکن …… خودی کی موت ہو جس میں وہ ’سروری‘ کیا ہے (علامہ اقبالؒ)۔“

……

Women Rights are Human Rights


Monday, April 17, 2023

Peshawar Kahani: Ramadan Memories

 ژرف نگاہ …… شبیرحسین اِمام

پشاور کہانی: اپنی یادوں سے کہو‘ اِک دن کی چھٹی دے مجھے 

رمضان کیسے گزر رہا ہے؟ آخری عشرے کے اِختتام سے قبل یہ سوال عموماً پوچھا جاتا ہے اُور جب ’پشوری‘ حلقہئ احباب میں تبادلہ خیال کا آغاز اِس گردان سے کرتے ہیں تو لامحالہ ذہن میں ماضی کی کھڑی کھل جاتی ہے اُور ایک تازہ ہوا کا جھونکا یادوں کو معطر و مسرور کرتے ہوئے ایک ایسے ماضی کی یاد دلاتا ہے جسے گزرے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا لیکن وقت کو جیسے پر لگ گئے ہیں اُور یہ ہاتھوں سے نکلنے کی صورت اُڑے جا رہا ہے! کیا وقت تھا کہ جب وقت کا احساس ہوا کرتا تھا۔ رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی چابی والی گھڑی (ٹائم پیس جسے عرف عام میں ٹئیم پیس کہا جاتا تھا) کی مرمت کروائی جاتی تاکہ گھر کی خواتین سحری کے لئے بروقت اُٹھ سکیں۔ یہ وہ وقت تھا جب رمضان المبارک گرمی کے ہوں یا سردی کے رات کو چند گھنٹے نیند ضرور کی جاتی تھی اُور سحری کے لئے اُٹھنے کے مقررہ اوقات میں جگانے والوں کے الگ الگ انداز تھے۔ کوئی ڈھول بجاتے بجاتے گزر جاتا‘ تو کوئی خوش الحانی کے ساتھ نعتیہ کلام پڑھتا۔ گلے میں ڈھولکی اُور باجا لٹکائے دو افراد پر مشتمل سحری جگانے والوں کی قوال ٹیمیں بھی ہوا کرتی تھیں جبکہ اندرون شہر کے یکہ توت سے کریم پورہ اُور ہشتنگری تک علاقے میں سحری جگانے والے (سالار) خادم حسین اعوان مرحوم کو بھلا کیسے بُھلایا جا سکتا ہے۔ سحری جگانے کے لئے پشاور چھاؤنی اُور تھانہ جات کی حدود میں وہ سائرن بھی بجائے جاتے جنہیں جنگ کے دوران شہریوں کو دشمن کے فضائی حملے سے خبردار کرنے کے نصب کیا گیا تھا لیکن رفتہ رفتہ اِن سائرنز کی مخصوص آواز مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز میں نصب کر دی گئی اُور اب گلی گلی سائرن سحری کے آغاز اُور اِس کے محتاط اختتام کی حد پر بجائے جاتے ہیں جس کے چند لمحے بعد فجر کی آذانیں ہوتی ہیں لیکن دوسری مرتبہ سائرن کی آواز کھانا پینا ترک کرنے کے لئے کیا جاتا ہے اُور اگرچہ یہ بندوبست اعلانیہ نہیں لیکن روایت کے طور پر ایک دوسرے کے دیکھا دیکھی رواج پا گیا ہے۔ سحری سے قبل چند گھنٹے کی نیند کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا کہ ’تہجد کی نماز (جسے نماز شب بھی کہا جاتا ہے)‘ کی ایک مستحب شرط پوری ہو جاتی کہ تھوڑی نیند کے بعد اُٹھ کر تہجد کے نوافل ادا کرنا بھی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے البتہ سارا سال عبادت کرنے والے جب عشا سے فجر کی نماز ادا کرنے کی سکت و عادت رکھتے ہوں تو اُن کے لئے ’نماز ِشب‘ میں نیند نہ کرنے کی رعایت موجود ہے۔ پشاور کے کیا دن اُور کیا راتیں ہوا کرتی تھیں کہ جب ریڈیو‘ ٹیپ ریکارڈرز اُور ٹیلی ویژن کے آنے سے پہلے گھر گھر سے قرآن مجید کی تلاوت کرنے کی آوازیں آتی تھیں۔ گلی محلوں سے سر جھکائے گزرنے والے جانتے تھے کہ تلاوت قرآن مجید کس کے گھر سے ہو رہی ہے۔ تب ’سٹریٹ کرائمز‘ کا نام و نشان نہیں تھا۔ ہر دوسرا شخص ایک دوسرے سے مانوس یا کسی نہ کسی رشتے اُور تعلق کا عکس لئے گھوم رہا ہوتا۔ اہل پشاور کی پہچان اُن کے لباس کی تراش خراش‘ سر پر پہنی ہوئی ٹوپی‘ کندھے پر رکھے ہوئے رومال‘ پاؤں میں پہنی ہوئی جوتی حتیٰ کہ قیمیض اُور آستینوں کے بٹن کھلے یا بند رکھنے سے بھی ہو جاتی تھی۔ اِسی طرح سحری کے جگانے والے بھی اجنبی نہ ہوتے۔ اندرون شہر کے چند علاقوں میں ’دعوت اسلامی‘ کی جانب سے ’صدائے مدینہ‘ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی اتباع اُور بزرگوں کے طرزعمل کی پیروی کرتے ہوئے لگائی جاتی ہے لیکن اَب پشاور بدل گیا ہے اُور اِس کے سحری و افطار سے لیکر رمضان المبارک میں کھانے پینے کے معمولات اُور دسترخوانوں پر سجی وہ مخصوص اشیائے خوردونوش بھی نہیں رہیں جو خاصا ہوا کرتی تھیں اُور جن بودوباش کے معمولات کے ساتھ کئی ایک حکمتیں اُور سب سے بڑھ کر ایک خاص قسم کی سادگی و انکساری جڑی ہوتی تھی۔

پشاور خاموش ہوا کرتا تھا۔ شہر میں بیٹھ کر چھاؤنی کے ریلوے اسٹیشن سے گاڑی کی آمدورفت کو سنا جاتا تھا۔ گھنٹہ گھر سے وقت کے بارے میں اعلان شہر سے صدر تک سُنا جاتا۔ بجلی کی سٹریٹ لائٹس آئیں تو آسمان کی تاریکی دھندلی اُور دودھیا ہو گئی ہے ورنہ سیاہ و تاریک آسمان پر ستاروں کو شمار کرتے نیند آ جایا کرتی تھی۔ سحری کے لئے جگانے والوں کے منفرد لیکن روائتی انداز اُور روائتی کلام ہوا کرتے تھے۔ نماز تراویح کی ادائیگی کے دوران اعلیٰ حضرت بریلوی کا نعتیہ کلام پڑھنے والے ایک نابینا شخص کی آواز کان پڑتی جو آج بھی سماعتوں میں محفوظ ہے کہ ”اہلِ سُنت کا ہے بیڑا پار اصحابِ ِحضور (رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین) …… نجم ہیں اُور ناؤ ہے عترت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی۔“ غلام اُستاد کی برق رفتار تراویح کی بیس رکعتیں اُور پوری نماز عشا بمعہ تراویح اُور وتر زیادہ سے زیادہ پینتیس منٹ میں ادا کرنے کے بعد صرف اُتنی ہی مٹرگشت ہوتی جو بستر تک لے جائے۔ ریڈیو‘ ٹیپ ریکارڈر‘ ٹیلی ویژن‘ وی سی آر‘ کیبل نیٹ ورک اُور انٹرنیٹ سے جڑے موبائل فونز نے جن نئے معمولات و مصروفیات کو جنم دیا ہے اُن کا ماضی سے کوئی تعلق نہیں اُور نہ ہی اُن کا کوئی مستقبل دکھائی دیتا ہے کیونکہ جس انداز سے برق رفتار انٹرنیٹ (فائیو جی) اُور پاؤں پھیلاتے ’مصنوعی ذہانت‘ کا انتظار کیا جا رہا ہے تو وہ وقت بھی زیادہ دور نہیں جب انٹرنیٹ ہی کے اوقات استعمال ہوں گے جن کی ایجاد ہو چکی ہے۔ اگر کسی کے ذہن میں یہ ضمنی سوال ہو کہ ’انٹرنیٹ ٹائم کیا چیز ہے؟‘ تو جان لیجئے کہ وقت کے موجودہ نظام جسے مجازی حقیقی دن کہا جاتا ہے اُور یہ چوبیس گھنٹے اور ساٹھ منٹ فی گھنٹہ کے حساب سے وقت کا تعین کرتا ہے جبکہ انٹرنیٹ ٹائم میں وقت کی گھنٹے اُور منٹوں میں تقسیم کی بجائے‘ ٹائم سسٹم کے تحت ہر دن ”ایک ہزار بیٹس beats“ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر بیٹ کے پیمانے کو دل کی دھڑکن سے تشبیہ دی جا سکتی ہے اُور بیٹ کا مطلب ’ایک منٹ 26.4 سیکنڈ ہوتا ہے۔“

پشاور ’وقت کے شور‘ میں گم ہو گیا ہے جبکہ وقت کی جمع ’اُوقات‘ ہے۔ باغات کی سیر نہیں رہی تو ہر محلے میں کوئی نہ کوئی بیھٹک (مرکزی جگہ) بھی نہیں رہی جہاں ہم خیال اکٹھا ہوں۔ زمیندار (اعوان برادری) گھرانے فصیل شہر کے باہر فصلیں‘ باغات اُور مال مویشیوں کی مصروفیات رکھتے۔ اِن کے پاس ٹانگے (یکہ) بھی ہوتے جن پر عمومی ایام میں ہفتہ وار جبکہ رمضان المبارک میں عصر سے بعداز عصر تک سیروتفریح کے لئے پورے اہتمام یعنی بن سنور کر جایا جاتا اُور یہ سب کچھ ایک ایسی رفتار سے ہو رہا ہوتا کہ رمضان المبارک کے گزرنے کا پتہ ہی نہ چلتا کہ کب سحری ہوئی‘ دن چڑھا اُور دن ڈھلا کہ جس کے آخری پہر میں تندور پر دیسی گھی والا برتن اُور روغنی و پراٹھوں کی تعداد کے بارے ایک پرچی لکھ کر مطلع کرنا ہوتا تھا۔ ٹیلی ویژن اپنے ساتھ رمضان ٹرانسمیشنز لایا جس کی وجہ سے ہر دن ’متنازعہ موضوعات‘ پر مختصر دورانیئے کی ’وائرل ویڈیوز‘ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ چلتے پھرتے‘ سوتے جاگتے‘ کھاتے پیتے اُور بولتے سنتے مواصلاتی وسائل کا استعمال حیران کن ہے جس نے ہر خوبی کمال اُور ہر روایت کو ’تفریح‘ بنا دیا ہے۔ پشاور کے معمولات رمضان میں تغیرات کے جملہ اسباب میں مہنگائی‘ سٹریٹ کرائمز میں اضافہ اُور چھوٹے بڑوں میں ہر وقت ’آن لائن‘ رہنے کا شوق بھی شامل ہے۔ پشاور کی یادیں اُور پشاور کا عشق تاریخ کے نہیں بلکہ نسلوں کو منتقل کرنے کے لئے اُنہی وسائل اُور ذرائع کا استعمال کرنا پڑے گا‘ جو رفتہ رفتہ ہر خوبی پر حاوی ہوتے چلے جا رہے ہیں بقول منور رانا ”اپنی یادوں سے کہو اِک دن کی چھٹی دے مجھے …… عشق کے حصے میں بھی اتوار ہونا چاہئے۔“

……




Friday, April 14, 2023

Social Media: neediness and weakness

 ژرف نگاہ  …… شبیرحسین اِمام

اظہار ِرائے: محتاجی اُور ضعف

پہلا مرحلۂ فکر: ٹیکنالوجی کی دنیا پر ’حکمرانی‘ کا تعلق اہلیت سے نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ نظام سے ہے اُور شاید یہی وہ وقت کا ’دجال‘ ہے جس نے معیشت سے دفاع اُور دفاع سے اظہار رائے تک ’عالمی اجارہ داری‘ قائم کر رکھی ہے۔ دنیا کی سات بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں 5 کا تعلق امریکہ سے ہے۔ امریکی ایپل (apple) 380 ارب ڈالر سالانہ آمدنی کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ دیگر کمپنیوں میں امریکہ کی ایلفابیٹ (Alphabet) 260 ارب ڈالر سالانہ‘ جنوبی کوریا کی سام سنگ (Samsung) 245 ارب ڈالر سالانہ‘ تائیوان کی ہان ہائی پریسیشن (Hon Hai Precision) 215 ارب ڈالر سالانہ‘ امریکہ کی مائیکرو سافٹ 185 ارب ڈالر سالانہ‘ امریکہ ہی کے میٹا پلیٹ فارم (فیس بک) 120 ارب ڈالر سالانہ اُور امریکی ڈیل (Dell) 110 ارب ڈالر سالانہ آمدنی رکھتی ہے۔ جب معلوم ہے کہ دنیا پر ٹیکنالوجی کی حکمرانی ہے تو اِس شعبے میں عصری اُور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے خاطرخواہ تعلیم و تحقیق میں سرمایہ کاری نہ کرنا ’مجرمانہ غفلت‘ ہے اُور بہتری اِسی میں ہے کہ جلد از جلد غفلت کو ترک کر کے حقائق کا ادراک کیا جائے کیونکہ یہی ٹیکنالوجی معاشی بہتری و آزادی کے علاؤہ قومی سلامتی و دفاع کے لئے بھی ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔

دوسرا مرحلۂ فکر: امریکہ کی معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک (Elon Musk) ہر سیکنڈ ’پانچ سو ڈالر‘ یعنی ہر منٹ ’تیس ہزار ڈالر‘ یعنی ’بیس لاکھ ڈالر‘ فی گھنٹہ‘ یعنی ’چار کروڑ ڈالر‘ یومیہ یعنی ’تیس کروڑ ڈالر‘ ہر ہفتے یعنی ’ایک ارب ڈالر‘ ہر مہینے یعنی سالانہ ’پندرہ ارب ڈالر‘ آمدنی رکھتے ہیں۔ ایک ایسے ’کھرب پتی‘ شخص جس کی آمدنی میں ہر سال اربوں ڈالرز کا اِضافہ ہو رہا ہے‘ جب اُس نے سال 2022ء کے دوران سماجی رابطہ کاری کی معروف ویب سائٹ ’ٹوئیٹر (twitter)‘ بمعہ ادارے 44 ارب ڈالر کے عوض خریدی تو اُمید یہ تھی کہ اِس اقدام سے ’ٹوئیٹر‘ میں مزید سرمایہ کاری کی جائے گی۔ ٹوئیٹر نئی خدمات متعارف کروائے گا اُور بالخصوص یہ کہ اِس کی مفت فراہم کی جانے والی سہولیات کو زیادہ وسیع اُور معیاری بنایا جائے گا لیکن ٹوئیٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) بننے کے بعد ’51 سالہ‘ ایلون مسک نے نہ صرف ٹوئیٹر کمپنی کے اخراجات کم کرنے کے لئے ملازمین کی بڑی تعداد کو فارغ کیا بلکہ ایک اُور نہایت ہی متنازع فیصلہ کرتے ہوئے ٹوئیٹر کی خصوصی تصدیقی خدمت (بلیو چیک مارک Blue Checkmark) جو پہلے مفت فراہم کی جاتی تھی اُس کی قیمت ’8 امریکی ڈالر‘ مہینہ مقرر کر دی اُور کہا کہ ”ٹوئیٹر خریدنے کے وقت یہ اِدارہ ’3 ارب ڈالر سالانہ خسارہ‘ کر رہا تھا جسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اُور منافع بخش بنانے کے لئے ملازمین کا بوجھ کم کیا گیا ہے جبکہ ’مصدقہ خدمات‘ کی قیمت (آٹھ ڈالر ماہانہ) مقرر کی گئیں ہیں اُور اُمید ہے کہ ٹوئیٹر صارفین تعاون کریں گے۔“ ذہن نشین رہے کہ ایلون مسک کے اثاثوں کی کل مالیت 200 ارب ڈالر سے زیادہ ہے! رواں ہفتے جب ٹوئیٹر کی جانب سے باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ تصدیق شدہ ٹوئیٹر اُن کھاتوں (اکاؤنٹس) سے ’بلیو چیک مارک‘ کو ہٹا دیا جائے گا جو ماضی میں مفت فراہم کئے گئے تھے اُور اِس سلسلے میں ’20 اپریل 2023ء‘ کی آخری تاریخ (ڈیڈ لائن) مقرر کر دی گئی ہے جس کے بعد صرف وہی ٹوئیٹر اکاؤنٹ تصدیق شدہ ہونے کا اعزاز رکھیں گے جو اِس کی مقررہ قیمت اَدا کرنے کی مالی سکت رکھیں گے۔ اندازہ ہے کہ ’2 لاکھ 94 ہزار‘ ٹوئیٹر صارفین کے اکاؤنٹس ’تصدیق شدہ‘ ہیں اُور اِن میں سے اگر نصف بھی آٹھ ڈالر ماہانہ کے عوض اپنے اکاؤنٹ کی دوبارہ تصدیق خریدتے ہیں تو اِس سے ٹوئیٹر کو ماہانہ 7 لاکھ 76 ہزار ڈالر ماہانہ ہو گی جبکہ کمپنی کو اِس اقدام سے کم سے کم ’10 لاکھ (ایک ملین) ڈالر ماہانہ‘ آمدنی متوقع ہے۔ سال دوہزاربائیس کے اختتام پر ٹوئیٹر کے پوری دنیا میں فعال صارفین کی تعداد 45 کروڑ (450ملین) سے زیادہ تھی جن میں پاکستان کے 30 لاکھ (تین ملین) سے زیادہ صارفین بھی شامل ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ ’8 امریکی ڈالر‘ پاکستانی کرنسی (PKR) میں 2300 روپے ہوتے ہیں۔

تیسرا مرحلۂ فکر: ٹوئیٹر کی جانب سے صارفین کے کھاتوں (اکاؤنٹس) کی قیمت مقرر کرنے کا ”نقصان“ یہ ہوا ہے کہ 8 امریکی ڈالر ادا کر کے اب کوئی بھی شخص تصدیق شدہ ٹوئیٹر اکاؤنٹ حاصل کر سکتا ہے جو اِس سے قبل صرف معروف کاروباری‘ سیاسی‘ فلمی شخصیات یا پیشہ وروں جیسا کہ صحافیوں کو ایک مرحلہ وار تصدیقی عمل کی تکمیل کے بعد جاری کیا جاتا تھا تاکہ اُن کے نام سے ملتا جلتا اکاؤنٹ بنا کر کوئی غلط معلومات نہ پھیلائے یا معروف شخصیات سے منسوب فرضی (جعلی) پیغامات نہ پھیلائے جائیں۔ سوشل میڈیا پر معلومات کی تصدیق کا یہ طریقہ متعارف کرانے کے بعد ’ٹوئیٹر‘ کی پیروی کئی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے بھی کی لیکن جب سے ’آٹھ ڈالر کے عوض تصدیق شدہ اکاؤنٹ فروخت کیا جا رہا ہے‘ تو ٹوئیٹر کی آمدنی میں تو اضافہ ہوا ہے لیکن سوشل میڈیا کا ایک انتہائی معتبر ذریعہ اپنی وقعت و انفرادیت کھو گیا ہے۔ تصور کریں کہ کئی سربراہان مملکت کے علاؤہ قومی سلامتی اُور خارجہ امور کے اہم ادارے ٹوئیٹر ہی کے ذریعے اپنا مؤقف بیان کرنے کے عادی ہو چکے ہیں اُور اگر پاکستان کو دیکھا جائے تو تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ٹوئیٹر کے سب سے مقبول رہنما ہیں جنہیں 1 کروڑ 90 لاکھ (19 ملین) سے زیادہ ٹوئیٹر صارفین ’فالو‘ کر رہے ہیں۔ نواز شریف کے ٹوئیٹر فالوورز کی تعداد دس لاکھ (ایک ملین)‘ بلاول بھٹو زرداری پچاس لاکھ (پانچ ملین) اُور شہباز شریف کے 66 لاکھ (چھ اعشاریہ چھ ملین) فالوورز ہیں۔ اِسی طرح پاکستان کے اہم قومی ادارے جیسا کہ دفتر خارجہ کے چار لاکھ اکسٹھ ہزار سے زیادہ‘ الیکشن کمیشن کے ستانوے ہزار سے زیادہ‘ نادرا (تین لاکھ سے زیادہ)‘ اسٹیٹ بینک آف پاکستان چار لاکھ پینسٹھ ہزار سے زیادہ  اُور پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے ویریفائیڈ اکاؤنٹ کے باسٹھ لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔

چوتھامرحلۂ فکر : ٹوئیٹر کی تصدیق شدہ اُور غیر تصدیق شدہ اکاؤنٹس کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کے بعد کیا قومی اداروں کو ’ٹوئیٹر‘ استعمال کرنا چاہئے اُور اگر پاکستان کی سیاسی شخصیات اُور اداروں کے بیانات اُور سرگرمیوں سے فوری آگاہ ہونے کے لئے (مجموعی طور پر) 2 کروڑ سے زیادہ ٹوئیٹر کا استعمال کر رہے ہیں تو وقت ہے کہ ایک الگ ’سوشل میڈیا پلیٹ فارم‘ کا آغاز ہونا چاہئے اُور مسلم ممالک کے لئے یہی وہ مناسب وقت ہے کہ وہ ’ٹوئیٹر‘ کی طرز پر سماجی رابطہ کاری کا آغاز کریں جیسا کہ کامسیٹس کی صورت ایک مشترکہ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق کا ادارہ بنایا گیا تھا یہ الگ بات ہے کہ اُس ادارے کا قیام پاکستان میں کیا گیا لیکن اِس نے اُمت مسلمہ کے لئے ٹیکنالوجی کے شعبے میں تحقیق جیسی ضرورت کو پورا نہیں کیا ہے ورنہ آج مسلم دنیا کسی ٹوئیٹر‘ فیس بک‘ یوٹیوب یا گوگل جیسے اداروں کی محتاج نہ ہوتی!

اے مرغک ِبیچارہ! ذرا یہ تو بتا تو

تیرا وہ گنہ کیا تھا‘ یہ ہے جس کی مکافات؟

افسوس‘ صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تو

دیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات

تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے

ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ ِمفاجات!

……




Quds Day 2023

 تحریک …… آل یاسین

یوم القدس: جو ہو ذوقِ یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں 

اسرائیل کی جانب سے فلسطینی مسلمانوں کے خلاف یک طرفہ کاروائیاں جیسی جرأت درحقیقت اُس ’اجتماعی بے حسی‘ کا نتیجہ ہے جو مسلم اُمہ پر طاری ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو اسرائیل کے ناجائز وجود اُور انسانی جرائم پر مسلم ممالک کا تجاہل عارفانہ دیکھنے میں نہ آتا اُور اسرائیل کے ہاتھ نہتے مسلمان عورتوں اُور بچوں کے خون سے رنگین نہ ہوتے۔ توجہ طلب ہے کہ اسرائیل نے اُنیس اکتوبر دوہزاراکیس کے روز ’انسداد دہشت گردی کے قانون 2016ء‘ کے تحت چھ سرکردہ فلسطینی سول سوسائٹی تنظیموں کو دہشت گرد تنظیموں کے طور پر نامزد کیا۔ جس کے بعد اِن تنظیموں کا پیچھا کرنے کی منظوری دی گئی اُور ایک فوجی حکم نامے کے ذریعے ’مغربی کنارے‘ میں اسرائیلی فوج نے کاروائیاں کا آغاز کیا۔ سال دوہزاراکیس سے جاری اسرائیل کی فوجی کاروائیوں میں رمضان المبارک کے دوران تیزی دیکھنے میں آتی ہے اُور شاید اِس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل مسلم اُمہ کی غیرت‘ مصلحت اُور صبر کو اُس حد تک پہنچانا چاہتا ہے جہاں اِنہیں فلسطینی مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و زیادتی پر دکھ یا غم و غصہ محسوس نہ ہو۔ اسرائیل کے کھلے عام ظلم و بربریت کی دوسری وجہ جمہوری اسلامی ایران کی جانب سے ہر سال رمضان المبارک کا آخری جمعۃ المبارک ’یوم القدس‘ کے طور پر پوری دنیا میں منایا جاتا ہے اُور اِس مرتبہ جمعۃ الوداع کل (چودہ اپریل دوہزارتیئس) کے دن نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد اسرائیل اُور اسرائیل کی پشت پناہی کرنے والی عالمی طاقتوں کرنے والوں کے خلاف دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی احتجاج کئے جائیں گے اُور اِن میں شمولیت جذبہئ ایمانی اُور فلسطین سے اظہار یک جہتی کے طور پر ہونا چاہئے کیونکہ فلسطینی مسلمان صرف اپنے حقوق ہی کا نہیں بلکہ امت مسلمہ اُور بالخصوص پاکستان کے دفاع کی جنگ بھی تن تنہا لڑ رہے ہیں اُور اگر اہل پاکستان اُن کے حق میں ایک احتجاجی مظاہرے میں بھی شریک نہ ہو سکیں تو اِس سے زیادہ بے حسی کی بات کوئی دوسری نہیں ہوگی۔

سرزمین فسلطین نے ظہور اسلام سے قبل اور ظہور اسلام کے بعد نشیب و فراز دیکھے لیکن یہ بات حقیقت رہی کہ فلسطین ہمیشہ ہی سے دعوت الٰہی کا مرکز رہا اُور آسمانی کتب میں بھی ’ارض قدس (فلسطین)‘ کی مرتبت ومنزلت بیان ہوئی ہے۔ قرآن پاک کے مطابق خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر ِمعراج کے دوران اِسی مقام (مسجد) میں رکے اُور اِس واقعہ کی تفصیل سورہئ مبارکہ اسرأ میں محفوظ ہے (ترجمہ) ”پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو راتوں رات مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ تک کی سیر کرائی“ اُور یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف مسجد اقصیٰ کی سیر ہی نہیں کی بلکہ تبدیلی قبلہ کا حکم آنے سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد الاقصیٰ شریف ہی کی جانب رخ کرکے نماز ادا کیا کرتے تھے۔ تحویل قبلہ کے بعد مسلمانوں کا قبلہ موجودہ ’کعبہ شریف‘ بنا اِس لحاظ سے مسلمانوں کی دلی وابستگی مسجد اقصیٰ سے قائم ہونا ایک فطری ردعمل ہے۔

پہلی جنگ عظیم سے قبل مٹھی بھریہودی یہاں آ کر آباد ہوئے جبکہ اِن سے قبل موجود یہودی آباد کار اپنے ازلی حریف عیسائیوں کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے سینکڑوں سال سے مسلمانوں کے زیر سایہ بنا کسی خوف و خطر زندگی بسر کر رہے تھے اُور اُنہیں ہر قسم کے مذہبی امور ادا کرنے کی اجازت حاصل تھی۔ سن 1800ء سے قبل فلسطین میں یہودیوں کی آبادی ’چھ ہزار سات سو‘ تھی لیکن برطانیہ اُور امریکہ کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی (سازش) کے تحت دنیا بھر سے یہودیوں کو فلسطین میں اکٹھا کیا گیا جس کے بعد 1915ء میں فلسطین میں آباد یہودیوں کا تعداد ستاسی ہزار پانچ سو تک پہنچ گئی اُور یہ تعداد بتدریج بڑھتی گئی یہاں تک کہ 1947ء تک فلسطین میں چھ لاکھ تیس ہزار یہودی آباد کر دیئے گئے تھے۔ اِس قدر بڑی آبادی کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کے بعد 1948ء میں برطانیہ اُور امریکہ کی اِس ناجائز و غاصب اولاد نے صیہونی ریاست ”اسرائیل“ کے قیام کا اعلان کیا۔ ذہن نشین رہے کہ پہلی جنگ عظیم ہی تاریخ کا وہ منحوس ترین دور تھا جب اسلام دشمن قوتوں نے ارض مقدس فلسطین پر یہودی ریاست کی تشکیل کا منصوبہ بنایا۔ اِس منصوبہ کا ماسٹر مائنڈ برطانیہ اور امریکہ تھا‘ جنہیں انقلاب اسلامی ایران کے بانی آیت اللہ خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے ’شیطان بزرگ‘ کا نام دے رکھا ہے۔ اِس شیطان بزرگ کی سازشوں سے 14 مئی 1948ء کے روز ’صیہونی ریاست‘ کے قیام کو عملی جامہ پہنایا گیا اور مسلمانوں کے قلب میں اسرائیل نام کی غاصب اور غیر قانونی ریاست کے وجود کا اعلان کر دیا گیا اُور امریکہ وہ پہلا ملک تھا جس نے 14 مئی 1948ء ہی کے روز اسرائیل کی حکومت کو تسلیم کیا جسے بعدازاں اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کیا اُور یوں فلسطین کو تقسیم کرنے کا منصوبہ منظور کرکے مسلمانان عالم کو اقوام متحدہ نے اپنا حقیقی چہرہ دکھایا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اپنے قیام سے آج تک‘ اسرائیل کا وجود حقوق بشر کے تابوت میں آخری کیل اور انسانیت کے چہرے پر بدنما داغ ثابت ہوا۔

انقلاب اسلامی ایران (الفجر) کی کامیابی کے چند ماہ بعد‘ اگست 1979ء میں امام خمینیؒ نے فتویٰ دیتے ہوئے ”ملکی و عالمی سطح پر یوم القدس“ منانے کا اعلان کیا اُور اِس پرامن دن کے منانے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ فلسطینی عوام کی حمایت اُور مسلمانوں کے مقدس مقامات میں قبلہ کا درجہ رکھنے والی مسجد اقصیٰ کی بازیابی ممکن بنائی جا سکے۔ یوم القدس کے اِس تاریخ ساز فتوے کی پاداش میں جمہوری اسلامی ایران کے خلاف مختلف حیلوں بہانوں سے عالمی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں جو آج بھی جاری ہیں اُور اِن اقتصادی پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے لیکن اِمام خمینیؒ اُور انقلاب اسلامی کے بعد امام راحل کی مدبرانہ اور ولولہ انگیز قیادت نے فلسطینی آزادی کے مشن کو جاری رکھا۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ امام راحل نے حسینی کردار نبھاتے ہوئے اپنے وطن عزیز سے عالمی سامراج کو بے دخل اور مشرق وسطیٰ سے اس کے اثر و رسوخ کا خاتمہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا اُور صرف یہی نہیں بلکہ ’اسلام ِنعب (خالص اسلام)‘ کا تصور بھی پیش کیا جو انقلاب اسلامی ایران کے نظریاتی محافظ ثابت ہوا اُور اِسی کی بدولت اِمام خمینیؒ کی تعلیمات کی روشنی میں لائحہ عمل مرتب کیا گیا۔ ذہن نشین رہے کہ اسلام ِنعب ہر قسم کے طاغوت‘ انتہا پسندی‘ تکفیریت اور ہر شکل و صورت میں دہشت گردی کے خلاف ایک منظم و فعال تحریک ہے جس میں دیگر مذاہب اُور تمام فرقوں کا احترام واجب ہے اُور اِسی کے تحت اہل تشیع کے ہاں مرجعیت کو بطور خاص مرکزی اہمیت دی گئی اُور یہی ’یوم القدس‘ کا محافظ و نگران تصور بھی ہے۔ یوم القدس مسلمانوں کو یاد دلاتا ہے کہ اُن کے لئے آزادی کا مفہوم اُور مطلب ”فلسطین کی آزادی اُور مسجد الاقصیٰ (قبلے) کی بازیابی اسلام کا مقدس مشن اُور اِس کے حصول کا عزم (نعرہ) ہے۔“ انقلاب اسلامی کے اِس پروردہ نعرے نے شرق و غرب کے مظلوم عوام کو ظلم و جور کے آگے سر اٹھا کے چلنے کا سلیقہ سکھایا ہے اُور اِسی نعرے کی بدولت مظلوم کو ظالم کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت اور حوصلہ عطا کیا ہے۔ اسی نعرے کے برکات سے قائدمقاومت و مزاحمت حسن نصر اللہ کی قیادت والے ’حزب اللہ‘ متحرک دکھائی دیتی ہے جبکہ حماس نامی تحریک کے جانباز وسائل کی قلت کے باوجود اسرائیل اُور اِس کی پشت پناہی کرنے والوں کو ذہنی تناؤ میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔

 امام خمینیؒ نے کہا تھا (ترجمہ) ”میری دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل ہیں کہ وہ ماہئ رمضان المبارک کے آخری جمعۃ المبارک بطور ”یوم القدس“ منائیں اور اِس دن فلسطین کے مسلمانوں کے قانونی حقوق کی حمایت میں اتحاد و یک جہتی کا عملی مظاہرہ کریں۔“

……